قیامت کی نشانی : سود اور حرام مال بکثرت کھایا جائے گا
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليأتين على الناس زمان لا يبالي المرء بما أخذ المال أمن حلال أم من حرام
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں پر ضرور ایسا وقت آنے والا ہے کہ آدمی اس بات کی بالکل فکر نہیں کرے گا کہ جو مال اس نے حاصل کیا ہے وہ حلال ہے یا حرام ہے۔“
[بخاری (2083) نسائی (4459) احمد (574/2 – 597 – 669) دارمی (2536) الحلیۃ (93/7) الترغیب والترہیب (9/3)]
وعن ابن مسعود رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم أنه قال: بين يدي الساعة يظهر الربا
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت سے پہلے سود پھیل جائے گا۔“
[بخاری (2083) نسائی (4459) احمد]
فوائد
(1) سود اور حرام کا استعمال قیامت کی ایک نشانی (Sign) ہے۔
(2) قیامت کی مذکورہ علامت ایک عرصہ سے عمل پذیر ہے۔
(3) سود اور حرام مال دین اسلام کی نظر میں ممنوع (Forbidden) ہیں۔
❀ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا ﴾
”اے اہل ایمان! سود نہ کھاؤ۔“
(آل عمران: 130)
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿ وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ ﴾
”ایک دوسرے کا مال ناحق (Unlawful) طریقے سے نہ کھاؤ۔“
(البقرة: 188)
(4) موجودہ دور میں کثرت مال و زر کی بیماری کینسر کی طرح سارے مسلم معاشرے میں سرایت کر چکی ہے۔ اہل علم بھی حلال و حرام کی تمیز کے لیے بغیر حصول مال و زر کی دوڑ میں بھاگے چلے جا رہے ہیں اور اس قبیح مقصد کی تکمیل میں دین بیچنا بھی عیب نہیں سمجھا جاتا۔ جبکہ اسلامی ممالک کا سارا اقتصادی نظام I.M.F اور ورلڈ بنک جیسے سودی اداروں کا مرہون منت ہے حالانکہ اگر سب اسلامی ممالک باہمی تعاون سے سود سے پاک خالص اسلامی اقتصادی نظام اپنے ممالک میں رائج کرنا چاہیں تو کچھ دشواری نہیں اگر قلب و روح میں ایمان ہو۔ لیکن نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ سود سے پاک اقتصادی نظام محض زبانی دعوں سے آگے نہیں بڑھ سکا۔ بہر حال یہ قیامت کی ایک بری نشانی ہے جسے پورا ہو کر رہنا ہی مقدر ہے۔
(5) ہمیں اپنے مکمل درد دل سے سود خوری اور حرام خوری سے مکمل اجتناب کی مثال مہیا کرنی چاہیے۔