یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنے کا اجر: احادیث کی روشنی میں
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال:

کیا یہ حدیث صحیح ہے: ”جو آدمی کسی یتیم کے سر پر اللہ کی رضا کے لیے ہاتھ رکھتا ہے تو اس کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آتے ہیں اللہ ہر بال کے بدلے ایک نیکی عطا کرتا ہے؟“

جواب:

یتیم بچوں کے سر پر دست شفقت رکھنا اجر کا باعث ہے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف شقاوت قلبی کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”مسكين کو کھانا کھلاؤ اور یتیم کے سر پر ہاتھ رکھو۔“
(مسند أحمد 387، 263/2 ح: 9006، 7566، فتح الباری 151/11)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی سند حسن ہے۔
البتہ مذکورہ بالا الفاظ کے ساتھ یہ روایت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مسند احمد (250/5، 265 ح: 32630، 22505)، طبرانی، حلیة الأولیاء اور شرح السنة میں موجود ہے، لیکن اس کی سند میں علی بن یزید البلخی منکر الحدیث ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی نے بھی فتح الباری (151/11) میں اس کی سند کو ضعیف کیا ہے۔ (واللہ اعلم بالصواب!)

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے