ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری
سوال:
جس کو بات بات پر قسم اٹھانے کی عادت ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب:
قسم جس کا تکیہ کلام ہو اس کی قسم کا اعتبار نہیں یہ لغو قسم ہے۔ اس پر کفارہ واجب نہیں ہوتا۔
❀ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ﴾
(البقرة: 225)
اللہ تعالیٰ لغو قسموں پر تمہارا مواخذہ نہیں کرتا۔
❀ اس آیت کے متعلق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
”یہ آیت لوگوں کے یوں کہنے کے متعلق اتری ہے: اللہ کی قسم! اللہ کی قسم! (یعنی گفتگو کے دوران تکیہ کلام کے طور پر غیر ارادی قسمیں کھانا یمین لغو ہے۔)“
(صحيح البخاري: 6663)