مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا کھڑے ہو کر پیشاب کرنا جائز ہے؟ حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

کیا کھڑے ہو کر پیشاب کرنا جائز ہے؟

جواب :

کھڑے ہو کر پیشاب کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، خصوصاً اس صورت میں جبکہ اس کی ضرورت ہو، جگہ ایسی ہو کہ کھڑے ہو کر پیشاب کرنے والے کی شرمگاہ دیکھی نہ جا سکتی ہو اور پیشاب کے چھینٹے پڑنے کا بھی خطرہ نہ ہو۔ اس لیے کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے کوڑا کرکٹ والی جگہ آئے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔
(مسند امام اعظم مترجم از دوست محمد شاکر ص 46، صحیح البخاري ح 119)
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی طرف منسوب اس سند میں حدیث حذیفہ رضی اللہ عنہ پر باب یہ باندھا گیا ہے کہ ”البول قائما“ کھڑے ہو کر پیشاب کرنا۔ یہ حدیث صحیح البخاري (224) وغیرہ میں بھی موجود ہے۔
لیکن بیٹھ کر پیشاب کرنا بہتر ہے، کیونکہ آپ کا معمول یہی تھا، نیز اس سے شرمگاہ زیادہ پوشیدہ رہتی ہے اور پیشاب کے چھینٹے پڑنے کا امکان بھی کم ہوتا ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔