ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری
سوال:
کیا کتابیہ حربیہ سے نکاح درست ہے یا نہیں؟
جواب:
اہل کتاب (یہود و نصارى) کی پاک دامن عورتیں، خواہ وہ ذمی ہوں یا حربی، سے نکاح جائز ہے۔
❀ الله تعالى کا فرمان ہے:
والمحصنات من الذين اوتوا الكتاب من قبلكم اذا اتيتموهن اجورهن محصنين غير مسافحين ولا متخذي اخدان
(سوره المائده: 5)
اہل کتاب کی پاک دامن عورتیں (تمہارے لیے حلال کر دی گئی ہیں)، بشرطیکہ تم ان کا مہر ادا کرو، تمہارا مقصد پاکدامنی حاصل کرنا ہو، اعلانیه زنا یا پوشیده طور پر آشنائی کی نیت نہ ہو۔
امام حکم بن عتیبه رحمه الله اہل کتاب کی حربی عورتوں سے نکاح ناجائز خیال کرتے تھے۔
(مصنف ابن ابي شيبه: 158/4، وسنده صحيح)
حربی یا غیر حربی کی کوئی قید نہ کتاب وسنت میں مذکور ہے، نہ صحابه کرام رضی الله عنهم نے بیان کی، اس لیے کتابیه حربیه سے بھی نکاح جائز ہے۔