کیا نوجوان لڑکی محرم کے بغیر ہوائی سفر کر سکتی ہے؟ حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

کیا ایک نوجوان لڑکی اپنی بھابھی کے ہمراہ لاہور سے کراچی کا سفر ہوائی جہاز میں محرم کے بغیر کر سکتی ہے؟ کیا کتاب و سنت میں اس کے جواز پر کوئی دلیل موجود ہے؟

جواب :

اللہ تبارک و تعالیٰ نے عورت کو خلقتاً کمزور نا تواں پیدا کیا ہے اور مرد کے مقابلے میں اس کی ساخت کمزوری اور ضعف پر رکھی ہے۔ اسی طرح عقل کے اعتبار سے بھی اسے ناقص بنایا ہے۔ یہ اپنے بہت سارے معاملات خود طے نہیں کر پاتی۔ اس کی حفاظت اور حکمرانی کے لیے مرد کو اس پر قوام اور حاکم بنایا ہے، تا کہ وہ اس کے امور کا مکمل دھیان رکھے۔ عورت جب اپنے گھر کی چار دیواری سے باہر قدم رکھتی ہے تو شیطان اس کو جھانکتا ہے اور یہ کئی ایک فتنوں کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔ اس سے جنم لینے والے مقاصد کو کنٹرول کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس پر کچھ پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ عورت کو جب سفر کے لیے نکلنا ہو تو اس کے ساتھ اس کا شوہر ہو یا کوئی محرم مرد، جیسے باپ، بیٹا، بھائی، بھتیجا، بھانجا، ماموں اور چچا وغیرہ۔ محرم کے بغیر سفر کرنا اس کے لیے حرام ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يخلون رجل بامرأة إلا ومعها ذو محرم ولا تسافر المرأة إلا مع ذي محرم فقام رجل فقال يا رسول الله إن امرأتي خرجت حاجة واكتتبت فى غزوة كذا وكذا قال انطلق فحج مع امرأتك
(صحیح البخاري، كتاب الجهاد والسير، باب من اكتسب في جيش…. الخ 3006، صحیح مسلم، كتاب الحج، باب سفر المرأة مع محرم إلى حج وغيره 1341)
”ہر گز کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ خلوت اختیار نہ کرے، سوائے اس کے محرم کے اور عورت محرم مرد کے سوا سفر نہ کرے۔“ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا: ”اے اللہ کے رسول! یقیناً میری بیوی حج کے لیے روانہ ہو چکی ہے اور میرا نام فلان غزوے میں لکھا گیا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اپنی بیوی کے ساتھ مل کر حج کر۔“
اس صحیح حدیث سے واضح ہو گیا کہ عورت اپنے محرم مرد کے بغیر کسی قسم کا سفر نہیں کر سکتی، خواہ وہ سفر تجارت کے لیے ہو یا عبادت کے لیے، سیر و تفریح کے لیے ہو یا عزیز و اقارب کی زیارت و ملاقات کے لیے، ہر طرح کا سفر عورت کو محرم مرد کے بغیر کرنا منع کر دیا گیا ہے۔ سفر کی صعوبتیں و مشقتیں، آفات و بلیات، طیارے و ٹرین کی خرابی و دیگر حادثات، اختلاط مرد و زن جیسے امور عورت اکیلی طے نہیں کر سکتی۔