مضمون کے اہم نکات
نماز عید کے بعد بایں الفاظ تقبل الله منا ومنك مبارک باد دینا جائز ہے:
نماز عید کے بعد ان الفاظ تقبل الله منا ومنك سے مبارک باد دینا اگرچہ عمل صحابہ سے ثابت ہے لیکن اس بارے مرفوع روایت ضعیف ہے۔
خالد بن معدان بیان کرتے ہیں کہ عید کے دن میری ملاقات واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے انہیں تہنیت کے کلمات تقبل الله منا ومنك کہے۔ جواب میں انہوں نے بھی تقبل الله منا ومنك کہا پھر واثلہ نے بیان کیا: لقيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم عيد فقلت: تقبل الله منا ومنك، قال: نعم! تقبل الله منا ومنك
روز عید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہوئی اور میں نے آپ کو یہ کلمات تقبل الله منا ومنك (اللہ تعالی ہمارے اور آپ کے نیک اعمال قبول فرمائے) کہے۔ آپ نے جواب میں فرمایا: ہاں! تقبل الله منا ومنك (اللہ تعالی ہمارے اور تمہارے اعمال قبول کرے)۔
[سنن بیہقی: 319/3، إسناده ضعيف]
اس حدیث میں محمد بن ابراہیم بن علاء دمشقی منکر الحدیث ہے اور بقیہ بن ولید کی تدلیس ہے۔
تعامل صحابہ:
عید کے دن صحابہ کرام آپس میں ملاقات کے وقت ان کلمات «تَقَبَّلَ اللَّهُ مِنَّا وَمِنْكَ» سے عید کی مبارک باد دیتے تھے، لہذا صحابہ کرام کا یہ فعل اس کے مشروع ہونے کی دلیل ہے۔
❀ چنانچہ جبیر بن نفیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
كان أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا التقوا يوم العيد، يقول بعضهم لبعض: تقبل الله منا ومنك
اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روز عید جب باہم ملاقات کرتے تو ایک دوسرے کو تقبل الله منا ومنك کہتے تھے۔
[كتاب صلاة العيدين للمحاملي: 2/129/2، تمام المنة: 355، فتح الباري: 575/2 ـ إسناده صحيح]
کیا ان کلمات کا تبادلہ مکروہ فعل ہے؟
مبارکباد کے طور پر تقبل الله منك کہنا صحابہ کرام میں ان نام کا فعل اور جائز عمل ہے نیز اس کی کراہت کے بارے منقول روایت ضعیف ہے، عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:
سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن قول الناس فى العيدين تقبل الله منا ومنكم، قال: ذلك فعل أهل الكتابين وكرهه.
میں نے عیدین میں لوگوں کے (ایک دوسرے کو) ”تقبل الله منا ومنكم“ کہنے کے بارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”یہ یہود و نصاریٰ کا فعل ہے اور آپ نے اس طریقہ کو نا پسند کیا۔“
[سنن بیهقی: 320/3 – إسناده ضعیف، عبد الخالق بن زید بن واقد دمشقی منکر الحدیث ہے]
کیا عید مبارک کہنا جائز ہے؟
عید کے دن مبارکباد کے طور پر تقبل الله منا و منك کے سوا کسی بھی قسم کے کلمات کا استعمال ناجائز ہے، کیونکہ ایسے کلمات کے جواز کی دلیل ثابت نہیں ہے، لہذا جو تہنیتی کلمات ثابت ہیں انہیں ہی زیر استعمال لایا جائے۔
نماز عید کے بعد عید ملن کے طور پر مصافحہ اور معانقہ کرنا بدعت ہے:
نماز عید کے بعد عید ملن کے طور پر مصافحہ یا معانقہ کرنا بدعت ہے کیونکہ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے عید کے بعد یہ طریقہ ثابت نہیں۔
فضیلۃ الشیخ، حافظ عبدالستار الحماد اللہ کا فتویٰ:
سوال : ٹھینگ موڑ الہ آباد سے محمد شفیع پوچھتے ہیں کہ ہمارے ہاں عام طور پر نماز عید کے بعد مصافحہ کرنے اور گلے ملنے کی عادت ہے اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
جواب: نماز عید کے بعد مصافحہ کرنے یا گلے ملنے کا ثبوت کتاب و سنت سے نہیں ملتا مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ سے کسی نے اس کے متعلق سوال کیا تو آپ نے بایں الفاظ بڑا جامع جواب دیا فرماتے ہیں: مصافحہ بعد از سلام آیا ہے عید کے روز بھی بحیثیت تکمیل سلام مصافحہ کریں تو جائز ہے، بحیثیت خصوص عید بدعت ہے کیونکہ زمانہ رسالت و خلافت میں مروج نہ تھا۔ [فتاویٰ ثنائیہ: 45/1 – فتاوی اصحاب الحدیث: 416]
نماز عید سے پہلے مطلق اور نماز عید کے بعد عیدگاہ میں نماز پڑھنا مکروہ ہے:
نماز عید سے قبل عید گاہ میں یا گھر پر اور نماز عید کے بعد عید گاہ میں نفل نماز پڑھنا مکروہ فعل ہے اس کے دلائل حسب ذیل ہیں۔
1۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
أن النبى صلى الله عليه وسلم خرج يوم الفطر فصلى ركعتين، لم يصل قبلها ولا بعدها
”یقیناً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن نماز عید کے لیے نکلے اور دو رکعت نماز ادا کی آپ نے نماز عید سے پہلے اور بعد میں (کوئی نفل) نماز نہ پڑھی۔“
[البقرة: 186 نهيں، درست حواله: صحيح بخاري، كتاب العيدين باب الصلاة قبل العيد وبعدها: 989 – مسلم، كتاب صلاة العيدين باب ترك الصلاة قبل العيد وبعدها فى المصلى 884 – أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب الصلاة بعد صلاة العيد: 1159 – جامع ترمذي، كتاب الصلاة، باب ما جاء لا صلاة قبل العيدين ولا بعدها: 537 – سنن نسائي، كتاب الصلاة، باب الصلاة قبل العيدين وبعدها: 1588 – سنن ابن ماجه، كتاب اقامة الصلوات، باب ماجاء فى الصلاة قبل العيد وبعدها: 1291]
2۔ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں:
أن النبى صلى الله عليه وسلم، لم يصل قبلها ولا بعدها فى عيد
”بلا شبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن نماز عید سے پہلے اور بعد میں (نفل) نماز نہیں پڑھی۔“
[سنن ابن ماجه، كتاب إقامة الصلوات باب ماجاء في الصلاة قبل صلاة العيد وبعدها: 1229 – مسند أحمد: 180/2 اسناده حسن]
عبد اللہ بن عبد الرحمن بن یعلی بن کعب طائفی صدوق راوی ہے۔ ابوبکر عبد اللہ بن حفص بن عمر بن سعد بن ابی وقاص المالکی بیان کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عید کے دن عید گاہ کی طرف نکلے اور نماز عید سے پہلے اور بعد میں (کوئی نفل) نماز نہ پڑھی وذكر أن النبى صلى الله عليه وسلم فعله اور انھوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی فعل اختیار کیا ہے۔
[جامع ترمذي، كتاب الصلاة، باب ماجاء لا صلاة قبل العيدين ولا بعدها: 538، مسند أحمد: 57/2 – مستدرك حاكم: 295/1 – إسناده حسن أبان بن عبد الله البجلي صدوق راوي هے۔]
فقه الحدیث:
یہ احادیث دلیل ہیں کہ نماز عید سے پہلے اور بعد میں مطلق نوافل پڑھنا غیر مشروع اور مکروہ ہے لیکن آئندہ حدیث کی رو سے نماز عید کے بعد گھر پہنچ کر دو رکعت نماز پڑھنا مسنون ہے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يصلي قبل العيد شيئا، فإذا رجع إلى منزله صلى ركعتين
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید سے قبل کوئی نفل نماز نہیں پڑھتے تھے، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر لوٹتے تو دو رکعت نماز ادا کرتے۔
[سنن ابن ماجه، كتاب إقامة الصلوات، باب ما جاء فى الصلاة قبل صلاة العيد وبعدها: 1293 – مسند احمد: 28/3 – مستدرك حاكم: 297/1، إسناده حسن عبدالله بن محمد بن عقیل صدوق راوی ہے]