کیا مرزائی اہل قبلہ ہیں یا نہیں؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

کیا مرزائی اہل قبلہ ہیں یا نہیں؟

جواب:

مرزائی کافر اور مرتد ہیں، انہوں نے اسلام کے کئی بنیادی عقائد سمیت عقیدہ ختم نبوت کا انکار کیا ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت جاری ہے اور غلام احمد قادیانی بھی نبی ہے، جبکہ قرآنی نصوص ، احادیث متواترہ اور اجماع امت کا تقاضا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت آخری امت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وحی کا سلسلہ منقطع ہے۔ عقیدہ ختم نبوت ضروریات دین میں سے ہے، اس کا منکر کافر ہے، لہذا جو لوگ مسلمانوں کے اجماعی عقیدہ کے منکر ہوں، جیسا کہ قادیانی ہیں، تو وہ کافر اور مرتد ہیں ، ان کو اہل قبلہ قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ ان کے کفر و ارتداد پر پوری امت نے اجماع کر لیا ہے۔
❀شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
”محمد صلی اللہ علیہ وسلم جن و انس اور عرب و عجم سب کے لیے رسول اور خاتم الانبیا بن کر تشریف لائے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں، یہ اللہ کا اپنے بندوں پر انعام ہے۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے دلائل و براہین بیان کر کے تمام مخلوق پر حجت تمام کر دی ہے۔“
(الجواب الصحيح : 405/5)
❀نیز فرماتے ہیں:
”مومن ہونے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ آپ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم الانبیا ہونے کا عقیدہ رکھیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام جنوں اور انسانوں کی طرف مبعوث فرمایا، تا کہ اس کے اوامر و نواہی ، وعد و وعید اور حلال و حرام ان تک پہنچا دیں۔ چنانچہ حلال وہی ہے، جسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال قرار دیا اور حرام وہی ہے، جسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا اور دین وہی ہے، جسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مشروع کیا ہو۔ جو شخص یہ عقیدہ رکھے کہ کسی ولی کے پاس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے بغیر بھی اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا کوئی راستہ ہے، وہ کافر ہے اور شیطان کا دوست ہے۔“
(الفرقان بين أولياء الرحمان وأولياء الشيطان، ص : 21)
❀مزید لکھتے ہیں:
”ظاہر ہے کہ مدعی نبوت یا تو مخلوق میں سب سے افضل اور اکمل ہو یا سب سے ناقص اور رذیل ہو۔ اسی لیے قبیلہ ثقیف کے ایک بزرگ کو جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پہنچی ، تو اس نے کہا تھا: ” میں آپ کے متعلق ایک بھی جملہ نہیں بولوں گا ، اگر آپ بچے ہیں، تو آپ اس سے بلند ہیں کہ میں آپ کی دعوت رد کروں اور اگر آپ جھوٹے ہیں ، تو آپ اس سے حقیر ہیں کہ میں آپ کا رد کروں۔“ تو مخلوق کا اکمل و افضل شخص مخلوق کے ناقص ترین اور رذیل ترین شخص جیسا کیسے ہو سکتا ہے؟ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی یہ بات کیا خوب ہے : ”اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں واضح نشانیاں نہ بھی ہوتیں، تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت نبوت کی خبر دینے کے لیے کافی تھی۔“ کذابین میں سے جس نے بھی نبوت کا دعوی کیا، اس پر جہالت، کذب، فجور اور شیطانی بہکاوے غالب آگئے ، اسی طرح جب کسی بچے آدمی نے نبوت کا دعوی کیا، اس پر علم، صدق، نیکی اور دوسری اچھائیاں غالب ہو گئیں، یہ باتیں ادنی تمیز دار آدمی بھی سمجھ سکتا ہے ۔“
(شرح العقيدة الأصفهانية، ص 138)