سوال:
کیا مذہبی جلسوں میں نعرہ بازی کیسا عمل ہے؟
جواب:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب وعظ و نصیحت فرماتے تو اس میں اللہ تعالیٰ کے کلام کو بیان کرتے تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کم توجہ سے سماعت فرماتے اور قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کو توجہ سے سننے کا حکم بھی دیا ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ﴾
(الأعراف: 204)
”جب قرآن پڑھا جاتا ہے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔“
اس آیت کریمہ کی رو سے قرآن مجید کے بیان کے وقت خاموشی کا حکم ہے اور دو ان وعظ نعرہ بازی کرنا، یہ شور و غل ہے، جو آداب قرآن کے منافی ہے اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بھی حدیث سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وعظ کے دوران صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس طرح نعرہ بازی کرتے تھے۔ لہٰذا ہمیں ان امور سے اجتناب کرنا چاہیے۔