سوال :
اسلام میں کنیز یا لونڈی اور اس کی اولاد کے بارے میں کیا حکم ہے؟ نیز لونڈی کے ساتھ جماع کرنے کے لیے کیا نکاح کی ضرورت ہے؟
جواب :
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن حکیم میں کنیز و باندی کے بارے کئی مقامات پر احکامات ذکر فرمائے ہیں۔ مندرجہ بالا مسئلہ کی تفصیل کے لیے درج ذیل آیات پر غور فرمائیں:
① ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَلَّا تَعُولُوا﴾
(النساء: 3)
”اور اگر یتیم لڑکیوں کے بارے میں تمھیں خطرہ ہو کہ تم ان سے انصاف نہ کر سکو گے تو پھر دوسری عورتوں سے جو تمھیں پسند آئیں دو دو، تین تین، چار چار تک نکاح کر لو، لیکن اگر تمھیں یہ اندیشہ ہو کہ ان میں انصاف نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی کافی ہے، یا پھر وہ کنیزیں اور باندیاں ہیں جو تمھارے قبضے میں ہوں، بے انصافی سے بچنے کے لیے یہ بات قریب صواب ہے۔“
② ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾
(النساء: 24)
”نیز تمام شوہروں والی عورتیں بھی تم پر حرام ہیں، سوائے ان باندیوں کے جو تمھارے قبضے میں آئیں۔“
③ ﴿وَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنكُمْ طَوْلًا أَن يَنكِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِن مَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم مِّن فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ۚ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِكُم ۚ بَعْضُكُم مِّن بَعْضٍ ۚ فَانكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ أَهْلِهِنَّ وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾
(النساء: 25)
”جو شخص کسی آزاد مومنہ عورت سے نکاح کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ کسی مومنہ باندی سے نکاح کر لے، لہذا ان کے مالکوں کی اجازت سے تم ان سے نکاح کر سکتے ہو۔“
④ ﴿وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ إِلَّا عَلَىٰ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ فَمَنِ ابْتَغَىٰ وَرَاءَ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْعَادُونَ﴾
(المؤمنون: 5 تا 7)
جو لوگ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں، سوائے اپنی بیویوں یا باندیوں کے، وہ قابل ملامت نہیں، البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں تو وہی زیادتی کرنے والے ہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات میں شرمگاہوں کی حفاظت کے عمومی حکم سے دو قسم کی عورتوں کو مستثنیٰ قرار دیا ہے، ایک ”ازواج “اور دوسری ﴿مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ ۔ ازواج کا اطلاق عربی زبان کے معروف استعمال اور قرآن حکیم کی تصریحات کے مطابق صرف ان عورتوں پر ہوتا ہے جو باقاعدہ نکاح میں لائی گئی ہوں اور معروف طریقے کے مطابق ان سے عقد قائم کیا گیا ہو، اس کے لیے اردو میں بیوی کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے اور ﴿مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ کے عربی محار وہ اور قرآن و سنت کے اعتبار سے لونڈی یا کنیز پر بولا جاتا ہے، یعنی وہ عورت جو آدمی کی ملکیت اور قبضہ میں ہو۔ اس طرح یہ آیات توضیح کرتی ہیں کہ مملوکہ باندی سے بھی مالک کو جنسی تعلقات قائم کرنا جائز ہیں۔ اس کے جواز کی بنیاد نکاح نہیں بلکہ ملکیت ہے، اگر اس کے لیے نکاح شرط ہوتا تو اسے ازواج سے علیحدہ بیان کرنے کی حاجت نہیں تھی، کیونکہ منکوحہ ہونے کی صورت میں وہ بھی ازواج میں داخل ہوتیں۔
عصر حاضر میں بعض مجتہدین اور مغرب زدہ طبقہ جنھیں باندی سے متمتع کا جواز تسلیم نہیں کرتے، وہ سورۂ نساء کی آیت ﴿وَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنكُمْ طَوْلًا أَن يَنكِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ﴾ سے استدلال کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ لونڈی سے بھی نکاح کر کے ہی تمتع کیا جا سکتا ہے، کیونکہ وہاں یہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر تمھاری مالی حالت کسی آزاد خاندانی عورت سے شادی کرنے کی متحمل نہ ہو تو کسی لونڈی ہی سے نکاح کر لو۔ لیکن ان لوگوں کی یہ عجیب خصوصیت ہے کہ ایک ہی آیت کے ایک ٹکڑے کو مفید مطلب پا کر اپنا مدعا اخذ کر لیتے ہیں اور اسی آیت کا دوسرا ٹکڑا جو ان کے مدعا کے خلاف پڑتا ہے، اسے ہضم کر جاتے ہیں حالانکہ اس آیت میں لونڈیوں سے نکاح کرنے کی ہدایت ان لفظوں میں کی گئی ہے: ﴿فَانكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ أَهْلِهِنَّ وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾ ان باندیوں سے نکاح تم ان کے مالکوں کی اجازت سے کرو اور ان کو معروف طریقہ کے مطابق ان کا مہر ادا کرو۔
یہ آیت کریمہ تو صاف بتلا رہی ہے کہ یہاں خود لونڈی کے مالک کا نہیں، بلکہ کسی ایسے شخص کا معاملہ زیر بحث ہے جو آزاد عورت سے شادی کے اخراجات کا بار نہیں اٹھا سکتا، جس کی بنا پر وہ دوسرے شخص کی مملوکہ باندی سے نکاح کا خواہش مند ہے، ورنہ ظاہر ہے کہ اپنی لونڈی سے نکاح کا مسئلہ ہو تو اس کے وہ سرپرت کون ہو سکتے ہیں جن سے اسے اجازت لینی پڑتی ہے مگر قرآن مجید سے کھیلنے والے صرف ﴿فَانْكِحُوْهُنَّ﴾ کو لیتے ہیں اور اس کے بعد ﴿بِإِذْنِ أَهْلِهِنَّ﴾ کو سرے سے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ (تفہیم القرآن مع بعض اضافہ)
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ثلاثة لهم أجران رجل من أهل الكتاب آمن بنبيه وآمن بمحمد صلى الله عليه وسلم والعبد المملوك إذا أدى حق الله تعالى وحق مواليه ورجل كانت عنده أمة كان يطؤها فأدبها فأحسن تأديبها وعلمها فأحسن تعليمها ثم أعتقها فتزوجها فله أجران
(صحیح البخاری، کتاب العلم، باب تعلیم الرجل أمته وأهله 97، صحیح مسلم، كتاب الإيمان، باب وجوب الإيمان برسالة … الخ 154)
”تین آدمیوں کے لیے دو گنا اجر ہے، ایک وہ شخص جو اہل کتاب میں سے اپنے نبی پر بھی ایمان لایا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان لایا اور دوسرا ایسا غلام جو کسی کی ملکیت میں ہے، جب وہ اللہ کا حق ادا کرے اور اپنے مالکوں کا حق بھی اور تیسرا ایسا آدمی جس کے پاس باندی ہے، وہ اس سے جماع کرتا ہے اور ادب سکھاتا ہے، اسے اچھا بناتا ہے اور اسے اچھے طریقہ سے تعلیم دیتا ہے، پھر اسے آزاد کر کے نکاح کر لیتا ہے تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔“
یہ صحیح حدیث بھی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ باندی کے ساتھ تمتع بوجہ ملکیت ہے، اسی لیے فرمایا: ”يطؤها“ کہ وہ اس سے جماع کرتا ہے، پھر آزاد کر کے نکاح کر لیتا ہے تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔ ظاہر ہے شادی سے قبل وہ اس سے تمتع بوجہ ملکیت کرتا ہے۔ بہر کیف سلف صالحین اور قدیم ائمہ مفسرین کا یہی موقف ہے کہ باندی سے تمتع بوجہ ملکیت ہے، اسی لیے اللہ نے انھیں ازواج سے علیحدہ ذکر کیا ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ نے السنن الکبریٰ (127/7) میں ایک باب یوں باندھا ہے:باب النكاح وملك اليمين لا يجتمعان ”نکاح اور ملک یمین دونوں جمع نہیں ہو سکتے۔“ اس باب کے تحت وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ایک اثر لائے ہیں کہ ان کے پاس ایک عورت لائی گئی جس نے اپنے غلام کے ساتھ جماع کر لیا تھا۔ عورت نے کہا کیا اللہ نے قرآن میں نہیں فرمایا ﴿اَوْمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ ”کہ تم اپنے ملک یمین سے فائدہ اٹھا سکتے ہو اور میرا غلام میرا ملک یمین ہے۔“ تو عمر رضی اللہ عنہ نے دونوں کو مارا اور ان کی جدائی کی اور دیگر شہروں کی جانب لکھ بھیجا کہ جو بھی عورت اپنے غلام سے تمتع کرے یا بغیر گواہ یا ولی کے شادی کرے اس پر حد لگاؤ۔ ابن کثیر اور طبری میں ایک منقطع اثر میں ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اس عورت نے قرآن کی بے جا تاویل کی ہے۔ اس اثر سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مرد کو اپنی باندی سے فائدہ اٹھانے کی اجازت ہے نہ کہ عورت کو اپنے غلام سے۔ اس کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن (225/3) وغیرہ۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک اور مقام پر فرمایا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكَ﴾
(الأحزاب: 50)
”اے نبی! ہم نے تمھارے لیے تمھاری بیویاں حلال کر دیں، جن کے مہر تم نے ادا کیے ہیں اور وہ عورتیں جو اللہ کی عطا کردہ لونڈیاں ہیں جن میں سے تمھاری ملکیت میں آئیں۔“
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بیویوں کے ساتھ باندیوں کو بھی حلال فرمایا ہے۔ اس اجازت کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا اور مقوقس کی بھیجی ہوئی باندی ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کو اپنے لیے مخصوص فرمایا۔ ان میں سے پہلی تین کو آپ نے آزاد کر کے ان سے نکاح کر لیا تھا، تاہم ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ کہیں بھی ثابت نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو آزاد کر کے اس سے نکاح کیا ہو، بلکہ ملکیت ہی کی بنا پر اس سے تمتع کرتے رہے۔ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے آپ کا بیٹا ابراہیم پیدا ہوا۔ باندی سے جو اولاد ہو گی وہ اس شخص کی جائز اولاد کہلائے گی۔ اس اولاد کے قانونی حقوق وہی ہوں گے جو شریعت میں مسلمی اولاد کے لیے مقرر ہیں۔ صاحب اولاد ہو جانے کے بعد وہ عورت فروخت نہیں کی جا سکے گی اور مالک کی وفات کے بعد وہ خود بخود آزاد ہو جائے گی۔ اس بات پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع ہے۔ باندیوں کے احکام کی تفصیل کے لیے دیکھیں سورۂ نساء کی تفسیر تیسیر القرآن از مولانا عبد الرحمن کیلانی اور تفہیم القرآن از سید مودودی رحمہ اللہ۔