کیا صفات باری تعالیٰ قیاس و آراء سے ثابت ہو سکتی ہیں؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

کیا صفات باری تعالیٰ قیاس و آراء سے ثابت ہو سکتی ہیں؟

جواب:

اللہ تعالیٰ کی صفات توقیفی ہیں۔ باری تعالیٰ کو اسی صفت سے متصف کیا جائے گا، جو اس نے اپنی صفت بیان کی ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اللہ تعالیٰ کی صفت قرار دیا ہے۔ بالفاظ دیگر، اللہ تعالیٰ کے لیے وہی صفات ثابت کی جائیں گی، جو کتاب و سنت میں وارد ہوئی ہیں۔ قیاس یا اپنی آراء سے باری تعالیٰ کی صفات نہیں بنائی جائیں گی، یہ الحاد کی ایک صورت ہے۔
❀ امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (311ھ) فرماتے ہیں:
لا نحتج أيضا فى صفات معبودنا بالآراء والمقائيس
ہم اپنے معبود کی صفات میں آراء اور قیاس سے حجت نہیں پکڑتے۔
(كتاب التوحيد: 136/1)