مضمون کے اہم نکات
سیدنا عمر بن خطابؓ پر روافض کی طرف جو بے بنیاد اعتراضات کیے جاتے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی بہت بڑا اعتراض کیا جاتا ہے کہ آپؓ نے سیدہ فاطمہؓ کا گھر جلایا، اور ان پر دروازہ گرا دیا جس سے ان کا حمل ساقط ہوگیا وغیرہ۔
حالانکہ اس واقعہ کی کوئی حقیقت نہیں یہ محض ایک منگھڑت قصہ ہے۔ یہاں تک کہ روافض کی اپنی معتبر کتب سے بھی یہ واقعہ ثابت نہیں ہے۔
پہلے ہم اہل سنت کی کتب سے ان روایات کا جائزہ لیتے ہیں جنہیں بنیاد بنا کر مذکورہ دعوی کیا جاتا ہے۔
📚 پہلی روایت:
اسلم مولی عمرؓ بیان کرتے ہیں:
حِينَ بُويِعَ لِأَبِي بَكْرٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، كَانَ عَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ يُدْخِلانِ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَيُشاوِرُونَها وَيَرْتَجِعُونَ في أَمْرِهِمْ. فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى فَاطِمَةَ، فَقَالَ: يَا بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، وَاللَّهِ مَا مِنْ أَحَدٍ أَحَبَّ إِلَيْنَا مِنْ أَبِيكِ، وَمَا مِنْ أَحَدٍ أَحَبَّ إِلَيْنَا بَعْدَ أَبِيكِ مِنْكِ، وَأَيْمُ اللَّهِ مَا ذَاكَ بِمَانِعِي إِنِ اجْتَمَعَ هَؤُلَاءِ النَّفَرُ عِنْدَكِ أَنْ آمُرَ بِهِمْ أَنْ يُحْرَقَ عَلَيْهِمُ الْبَيْتُ.فَلَمَّا خَرَجَ عُمَرُ جَاءَتْ فَاطِمَةُ فَقَالَتْ: أَتَعْلَمُ مَا قَالَ لِي عُمَرُ؟ قَالَ: قَالَ كَذَا وَكَذَا. قَالَتْ: وَاللَّهِ لَيَحْرِقَنَّ عَلَيْكُمُ الْبَيْتَ. وَأَيْمُ اللَّهِ مَا ذَاكَ بِمَانِعِهِ مِمَّا أَرَادَ.
”رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی گئی، سیدنا علی اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس مشورہ کے لیے آتے اور واپس چلے جاتے۔ یہ بات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تک پہنچی، تو انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آ کر کہا: ’’اے دخترِ رسولِ اللہ! اللہ کی قسم مخلوق میں سے آپ کے والد سے بڑھ کر ہمیں کوئی محبوب نہیں،اور ان کے بعد میں آپ سے بڑھ کر کوئی محبوب نہیں،اللہ کی قسم! اگر اب یہ لوگ آپ کے پاس جمع ہوئے تو مجھے یہ بات ان سے نہیں روکے گی کہ میں ان پر اس گھر کو آگ لگا دوں۔‘‘
سیدہ عمر رضی اللہ عنہ چلے گئے، تو وہ لوگ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے۔
انہوں نے کہا: ’’جانتے ہو کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے تھے؟‘‘
انہوں نے اللہ کی قسم اٹھائی ہے، اگر آپ دوبارہ آئے تو وہ گھر کو آگ لگا دیں گے۔‘‘
اللہ کی قسم! جو انہوں نے قسم اٹھائی ہے، وہ کر گزریں گے۔ لہذا بھلے طریقے سے واپس چلے جائیں،اپنی رائے پر غور کریں۔‘‘
چنانچہ وہ لوگ لوٹ گئے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی۔‘‘(مصنف ابن ابی شیبہ: حدیث نمبر39827 ,کنز العمال: 14138 , الاستیعاب:جلد3 ص975 ,مسند فاطمة الزھراء لسیوطی: صفحہ20 حدیث نمبر21 , ازالة الخفا عن خلافة الخلفاء: ص132 )
🔵 جواب:
اولاً: اس روایت میں نہ تو گھر کو جلا دینے کا ذکر ہے۔
نہ دروازہ گرانے کی بات ہے اور نہ ہی سیدہ کی وفات کا تذکرہ ہے۔
*ثانیا:ً* یہ منقطع روایت ہے۔
اس روایت کو بیان کرنے والا راوی اسلم مولی عمر ہے، جو اس وقت مدینہ میں موجود ہی نہیں تھا۔
اسلم کو سیدنا عمرؓ نے حج کے موقع پر خریدا تھا۔
جیسا کہ امام بخاریؒ لکھتے ہیں:
بَعَثَ أَبُو بَكْرٍ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سَنَةَ إِحْدَى عَشْرَةَ، فَأَقَامَ لِلنَّاسِ الْحَجَّ، وَابْتَاعَ فِيهَا أَسْلَمَ.
"حضرت ابوبکرؓ نے گیارہ ہجری کے سال حضرت عمر بن خطابؓ کو بھیجا، تو انہوں نے لوگوں کے لیے حج کرایا، اور وہاں سے اسلم غلام کو خریدا۔(تاریخ الکبیر للبخاری: رقم 1560 , معرفة الصحابة لابن ابی نعیم:868 وسندہ حسن)
اب سوال یہ ہے کہ سیدہ فاطمہؓ کی وفات کے بھی دو ماہ بعد مدینے میں آنے والا شخص یہ واقعہ بیان کر رہا ہے تو اس نے یہ کس سے سنا؟
جب درمیان والے راوی کا تذکرہ ہی نہیں تو روایت کیسے درست ہوسکتی ہے؟
📚دوسری روایت:
زیاد بن کلیب سے مروی ہے:
سیدنا عمرؓ سیدنا علیؓ کے گھر میں آۓ وہاں طلحہؓ و زبیرؓ اور بعض دوسرے مہاجرین موجود تھے۔ عمرؓ نے کہا چل کر بیعت کرو ورنہ میں اس گھر کو آگ لگا کر تم سب کو جلا دوں گا۔زبیرؓ تلوار نکال کر عمرؓ کی طرف بڑھے مگر فرش پر پاؤں الجھ جانے کی وجہ سے گر پڑے تب اور لوگوں نے فورا زبیرؓ کو قابو کر لیا۔(ضعیف تاریخ طبری: جلد 8 صفحہ15)
🔵جواب:
اب اس روایت کو بھی بنیاد بنا کر کہتے ہیں حضرت عمرؓ نے گھر جلا دیا۔حالنکہ اس روایت میں بھی گھر کو جلانے کی بات نہیں صرف دھمکی کی بات ہے اور روایت بھی ثابت نہیں ہے۔
اس روایت کے نیچے حاشیے میں محقق نے لکھا ہوا ہے "اسنادہ معضل وفی متنہ نکارة”
اس کی سند معضل(ضعیف) ہے اور اس کے متن میں نکارت ہے۔
پہلی وجہ:
اس روایت میں محمد بن حمید الرازی کذاب راوی ہے۔
(کتاب الخلافیات للبیھقی:صفحہ476,475)
دوسری وجہ:
مغیرہ بن مقسم مدلس ہیں جو صیغہ عن سے روایت کر رہے ہیں
جبکہ مدلس کی صیغہ عن والی روایت قابل قبول نہیں ہوتی۔(تھذیب الکمال: جلد9 صفحہ80)
تیسری وجہ:
جریر بن حازم ثقہ ہیں لیکن انہیں آخری عمر میں اختلاط ہوگیا تھا۔(تقریب التھذیب: روایت 923)
📚تیسری روایت:
الْمَدَائِنِيُّ، عَنْ مَسْلَمَةَ بْنِ مُحَارِبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التيمى، وعى ابْنِ عَوْنٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ أَرْسَلَ إِلَى عَلِيٍّ يُرِيدُ الْبَيْعَةَ، فَلَمْ يُبَايِعْ. فَجَاءَ عُمَرُ، ومعه فتيلة. فتلقته فاطمة على الباب، فقالت فاطمة: [يا ابن الْخَطَّابِ، أَتُرَاكَ مُحَرِّقًا عَلَيَّ بَابِي؟ قَالَ: نَعَمْ، وَذَلِكَ أَقْوَى فِيمَا جَاءَ بِهِ أَبُوكِ. وَجَاءَ عَلِيٌّ، فَبَايَعَ وَقَالَ:كُنْتُ عَزَمْتُ أَنْ لا أَخْرُجَ مِنْ مَنْزِلِي حَتَّى أَجْمَعَ الْقُرْآنَ] .
ترجمہ:
مدائنی نے مسلمہ بن محارب سے، انہوں نے سلیمان التیمی اور ابن عون سے روایت کی کہ:
ابو بکرؓ نے علیؓ کے پاس پیغام بھیجا تاکہ وہ بیعت کر لیں، مگر علیؓ نے بیعت نہ کی۔
پھر عمرؓ آئے، اور ان کے ساتھ ایک فتیلہ (آگ جلانے کا سامان) تھا۔
فاطمہؓ ان سے دروازے پر ملیں، اور کہا:
"اے ابنِ خطاب! کیا تم میرے دروازے کو آگ لگا دو گے؟”
عمرؓ نے کہا: "ہاں، اور یہ (عمل) اس چیز کے حق میں زیادہ مضبوط ہے جس کے ساتھ تمہارے والد (نبی ﷺ) آئے تھے۔”
پھر علیؓ تشریف لائے، اور بیعت کر لی، اور فرمایا:
"میں نے ارادہ کر رکھا تھا کہ اپنے گھر سے نہ نکلوں یہاں تک کہ قرآن کو جمع کر لوں۔”
(انساب الاشراف: روایت 1183)
🔵جواب:
اولاً:
"یہ روایت سخت ضعیف ہے”
اس روایت کو بیان کرنے والے ابن عون ہیں جوکہ 66ھ میں پیدا ہوۓ ہیں جبکہ یہ واقع 11ھ کا بتایا جاتا ہے یعنی اس وقت یہ موجود ہی نہیں تھے۔
تو انہوں نے کس سے یہ واقعہ سنا؟ اس کی کوئی صراحت نہیں ہے ۔
لہذا روایت منقطع ہے۔
*ثانیاً:*
اس ضعیف روایت سے بھی گھر کو جلانا یا دروزے کو آگ لگانا یا سیدہ فاطمہؓ پر دروازہ گرانا ثابت نہیں ہے۔
📚چوتھی روایت:
سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا اظہار افسوس۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنی وفات سے پہلے تین چیزوں کے کرنے پر افسوس کیا کہ کاش میں ایسا نہ کرتا، ان میں ایک یہ بھی تھی کہ آپؓ نے فرمایا:کہ کاش میں سیدہ فاطمہؓ کا گھر نہ کھولتا اگرچہ وہ لوگ اسے جنگ کرنے کے لیے اس کا دروازہ بند کرتے۔۔۔(المعجم الکبیر: جلد1،ص62،رقم43 , ضعیف تاریخ طبری: جلد8، ص152، رقم195, کتاب الاموال: لابی عبید قاسم بن سلام صفحہ217)
🔵جواب:
یہ روایت سخت ضعیف ہے۔
روایت کی سند میں علوان بن داؤد ضعیف اور منکر الحدیث ہے(لسان المیزان: جلد5، ص472)
نوٹ: مذکورہ روایت کے ضعیف ہونے پر مفصل بحث دیکھیے:
(ضعیف تاریخ طبری: جلد8، ص152، رقم195)
📚پانچویں روایت:
"ان عمر رفس فاطمة حتی اسقطت بمحسن”
حضرت عمرؓ نے بی بی فاطمةؓ کو مارا جس کی وجہ سے ان کے صاحبزادے محسن کا حمل ساقط ہوگیا۔(میزان الاعتدال مترجم: جلد1 ص205)
🔵جواب:
امام ذھبیؒ میزان الاعتدال میں ایک رافضی اور کذاب راوی احمد بن محمد بن السری کا تذکرہ کرتے ہوۓ لکھتے ہیں کہ اس نے ایسی روایات نقل کرنا شروع کردیں جن میں صحابہ کرام پر تنقید کی جاتی اور ایک شخص نے اس کے سامنے یہ(مذکورہ) روایت بیان کی تھی ۔(میزان الاعتدال مترجم: جلد1 ص205)
وہ آنے والا شخص کون تھا؟ اس کی کوئی وضاحت نہیں یعنی ایک مجھول شخص تھا اور جس کے سامنے بیان کر رہا ہے وہ بھی رافضی اور کذاب ہے تو روایت درست کیسے ہوسکتی ہے؟
♦️سوال:
سیدنا علیؓ تو شیر خدا تھے اور روافض کے عقیدے کے مطابق مشکل کشاء بھی تھے,ان کے سامنے اگر اتنا بڑا واقعہ پیش آگیا تو انہوں نے بی بی فاطمہؓ کی مدد کیوں نہ کی اور ان کا بدلہ کیوں نہ لیا؟؟
یقیناًاگر ایسا معاملہ ہوا ہوتا تو سیدنا علیؓ ضرور کوئی اقدام کرتے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔
📚چھٹی روایت:
سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا اظہار افسوس۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنی وفات سے پہلے تین چیزوں کے کرنے پر افسوس کیا کہ کاش میں ایسا نہ کرتا، ان میں ایک یہ بھی تھی کہ آپؓ نے فرمایا:کہ کاش میں سیدہ فاطمہؓ کا گھر نہ کھولتا اگرچہ وہ لوگ جنگ کرنے کے لیے اس کا دروازہ بند کرتے۔۔۔(لسان المیزان: جلد4ص177 , تاریخ الاسلام للذھبی:جلد3ص 117۔ الاحادیث المختارة صفحہ89)
🔵جواب:
مذکورہ تینوں کتب میں یہ روایت علوان بن داؤد سے مروی ہے جوکہ سخت ضعیف اور منکر راوی ہے۔
حافظ ابن حجرؒ نے اس روایت کو علوان بن داود کی منکر روایات میں شمار کیا ہے (لسان المیزان:جلد4ص177)
لہذا روایت درست نہیں ہے۔
📚ساتویں روایت
حضرت عمرؓ نے سیدہ فاطمہؓ کے پیٹ پر مارا جس کی وجہ سے ان کے پیٹ میں بچہ محسن فوت ہوگیا(کتاب الوافی بالفیات:جلد 6 ص15)
🔵جواب:
اس کتاب کے اسی صفحہ پر لکھا ہوا ہے اس روایت کو بیان کرنے والا راوی ابراہیم بن سیار رافضیت کی طرف مائل تھا اور صحابہ پر طعن کرتا تھا۔
لہذا ایسے راوی کی روایت قابل قبول کیسے ہوسکتی ہے؟
مزید اس روایت کی سند بھی موجود نہیں ہے۔
♦️اسی طرح یہ روایت تاریخ ابی الفداء میں بھی بغیر سند کے بیان کی گئی ہے۔ اور بغیر سند کے کوئی بھی روایت قابل قبول نہیں ہوتی۔
📚آٹھویں روایت:
فقال أبو بكر أجل لا آسى على شئ من الدنيا إلا على ثلاث فعلتهن وددت أني لو تركتهن وثلاث تركتهن وددت أني فعلتهن وثلاث وددت لو أني سألت عنهن رسول الله (ﷺ) فأما التي وددت أني تركتهن فوددت أني لم أكشف بيت فاطمة عن شئ ووددت أني لم أكن حرقت الفجاءة السلمي وقتلته سريحا أو خليته نجيحا ووددت لو أني يوم سقيفة بني ساعدة كنت قدمت الأمر في عنق أحد الرجلين يريد عمرا وأبا عبيدة فكان أحدهما أميرا وكنت وزيرا۔:
حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا:
"ہاں، مجھے دنیا کی کسی چیز پر افسوس نہیں، سوائے تین باتوں کے —
تین ایسے کام ہیں جو میں نے کیے، اور کاش میں وہ نہ کرتا؛
تین ایسے کام ہیں جو میں نے نہیں کیے، اور کاش میں وہ کر لیتا؛
اور تین ایسی باتیں ہیں جن کے بارے میں کاش میں رسول اللہ ﷺ سے سوال کر لیتا۔
پس ان (پہلی) تین باتوں میں سے جن کے بارے میں میں چاہتا ہوں کہ کاش میں وہ نہ کرتا:
کاش میں فاطمہؓ کے گھر کا دروازہ کسی چیز کے لیے نہ کھلواتا ۔
اور کاش میں فُجَاءَہ سُلَمی کو آگ میں جلا کر قتل نہ کرتا، بلکہ یا تو اُسے سیدھا (تلوار سے) قتل کر دیتا، یا پھر زندہ چھوڑ دیتا،
اور کاش میں سقيفہ بنی ساعدہ کے دن حکومت کا معاملہ اپنے کسی ایک ساتھی کی گردن میں ڈال دیتا — یعنی عمرؓ یا ابوعبیدہ بن الجراحؓ میں سے کسی ایک کے سپرد کر دیتا ۔
تاکہ وہ امیر ہوتا اور میں اس کا وزیر بنتا۔”
(تاریخ دمشق:جلد30 ص418)
🔵جواب:
اولاً:
اسی روایت کے آگے حافظ ابن عساکر لکھتے ہیں: خالد بن القاسم المدائنی نے سند میں لیث سے آگے علوان بن داؤد کو ساقط کردیا ہے یعنی روایت منقطع ہے۔
*ثانیاً:*
اس روایت کی سند میں ابو الھیثم خالد بن القاسم المدائنی راوی کو تمام محدثین نے جھوٹا , ضعیف اور منکر الحدیث قرار دیا ہے خصوصا لیث بن سعد سے اس کی روایات منکر ہیں۔(الکامل فی ضعفاء الرجال:جلد صفحہ422)
📚نویں روایت:
اسی مذکورہ روایت کا ایک طریق مجمع الزوائد میں بھی موجود ہیں۔(مجمع الزوائد:حدیث 9030)
🔵جواب:
اس کی سند میں بھی علوان بن داؤد منکر راوی ہے۔
♦️امام ہیثمیؒ یہ روایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: فيه علوان بن داود البجلي وهو ضعيف وهذا الأثر ممّا أنكر عليه۔
"اس روایت میں علوان بن داود البَجَلی ہے، اور وہ ضعیف (کمزور راوی) ہے، اور یہ اثر انہی روایات میں سے ہے جن پر اس سے انکار کیا گیا ہے (یعنی جو منکر شمار کی گئی ہیں)۔”
[مجمع الزوائد 5/203 رقم 930].
♦️وقال العقيلي: له حديث لا يتابع عليه، ولا يعرف إلاّ به. وقال أبو سعيد بن يونس: منكر الحديث۔
امام عقیلی نے فرمایا:
"اس (علوان بن داود) کی ایک ہی حدیث ہے، جس پر کوئی دوسرا راوی اس کی متابعت نہیں کرتا، اور وہ حدیث صرف اسی کے ذریعے معروف ہے (یعنی وہی اسے روایت کرتا ہے)
اور ابو سعید بن یونس نے کہا:
"وہ منکر الحدیث ہے (یعنی ایسی روایتیں بیان کرتا ہے جو قابلِ قبول نہیں)۔”
[ميزان الاعتدال 3/108].
📚 اہل السنة کی طرف منسوب چند کتب کی حقیقت:
اب ہم اختصار کے ساتھ چند ایسی کتب کا تذکرہ کرتے ہیں جن سے اہل رافضہ اسی مذکورہ روایت اور جھوٹے قصے کو ثابت کرنے کے لیے کچھ حوالہ جات پیش کرتے ہیں اور انہیں اہل سنت کے کھاتے ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ اہل سنت سے ان کتب کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
ان میں سے چند کتب کے نام درج ذیل ہیں:
کفایة الطالب:
اس کتاب کے مولف محمد بن یوسف بن محمد الکنجی کے متعلق امام ابن کثیر لکھتے ہیں:
یہ رافضی شیخ تھا اور خبیث طبیعت کا مالک تھا(البدایة والنھایة:جلد7ص221)
اس طرح اس کتاب کے مقدمے میں لکھا ہوا ہے:
"کتاب کے مصنف کا میل جول شیعہ مذہب سے تھا”۔
العقد الفرید:
اہل سنت کے ہاں یہ کتاب قابل قبول نہیں ہے اس میں بہت سی روافض کی گھڑی ہوئی روایات ہیں, اور شیعہ عالم آقابزرگ الطہرانی نے اسے اپنی تصانیف میں شمار کیا ہے۔ (الذریعہ الی تصانیف الشیعة از آقا بزرگ الطہرانی:جلد2 صفحہ286)
فرائد السمطین:
اس کتاب کا بھی اہل سنت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ شیعہ عالم آقا بزرگ الطہرانی نے اسے شیعہ تصانیف میں شمار کیا ہے۔ (الذریعہ الی تصانیف الشیعہ: جلد16ص135)
شرح نھج البلاغہ لابن ابی الحدید:
اولاً: شرح نھج البلاغہ کے مقدمے میں لکھا ہوا ہے ابن ابی الحدید نے پہلے مذھب کلامیہ پڑھا پھر وہ معتزلہ عقیدے پر چلا گیا اور آخر میں ایک غالی شیعہ بن گیا۔
ثانیاً: اس نے یہ شرح عباسی شیعہ وزیر ابن علقمی کے کہنے پر لکھی تھی(الکنی والالقاب لشیخ عباس القمی: ۔جلد1ص416)
الامامة والسیاسة:
یہ کتاب امام ابن قتیبہ دینوریؒ کی طرف منسوب کی جاتی ہے جبکہ حقیقت میں یہ ان کی کتاب نہیں ہے بلکہ روافض کی گھڑی ہوئی کتاب ہے۔
ڈاکٹر علی محمد الصلابی صاحب نے اس پر تفصیلی بحث کرتے ہوۓ بہت سے دلائل نقل کیے ہیں جس سے یہ بات واضح ہوجاتی کہ یہ کتاب امام ابن قتیبہؒ کی طرف غلط اور جھوٹ منسوب ہے۔
(دیکھیے! سیرت سیدنا علیؓ از ڈاکٹر علی محمد الصلابی: ص816)
لہذا اہل سنت کی کسی بھی معتبر کتاب سے یہ روایت صحیح سند کے ساتھ ثابت نہیں ہے یہ محض روافض کی طرف سے گھڑی ہوئی روایت اور جھوٹا افسانہ ہے۔
🟣روافض کی کتب سے :
یاد رہے! اس جھوٹے افسانے کا ثبوت روافض کی کتب میں سے ” کتاب سلیم بن قیس ” سے پہلے کسی بھی ماخذ سے نہیں ملتا۔
جبکہ کتاب سلیم کو خود روافض کے محققین نے من گھڑت قرار دیا ہے جس کی حقیقت ہم آگے واضح کرتے ہیں۔
📚الاحتجاج للطبرسی:
طبرسی نے الاحتجاج میں کتاب سلیم بن قیس کے حوالے سے ایک لمبی روایت نقل کی ہے جس میں یہ واقعہ بیان کیا ہے کہ عمرؓ ابوبکرؓ کے پاس آئے اور کہا: اگر علیؓ بیعت کے لیے باہر نہ نکلے تو میں ان کے گھر کو آگ لگا دوں گا۔
علیؓ اور فاطمہؓ گھر میں تھے۔
فاطمہؓ نے کہا: "کیا تم ایسے گھر میں آگ لگاؤ گے جس میں رسول اللہ ﷺ کی بیٹی ہے؟”
اس کے بعد گھر کو آگ لگائی گئی، پھر فاطمہؓ کو دھکا دیا گیا، ان کی پسلی ٹوٹ گئی، محسن ساقط ہو گئے، اور وہ اس کے بعد اسی زخم سے وفات پا گئیں۔ (الاحتجاج لطبرسی:جلد 1 ص106,107)
📚کتاب سلیم بن قیس الہلالی:
اس کتاب میں یہ قصہ مزید تفصیل کے ساتھ گھڑا گیا ہے اور اسی سے آگے دوسروں نے نقل کیا۔
لکھتے ہیں:
حضرت عمر نے بلند آواز سے کہا:
"اے علی! تم گھر سے ضرور باہر نکلو اور رسولِ خدا ﷺ کے خلیفہ ابوبکر کی بیعت کرو، ورنہ میں تم لوگوں کو جلا دوں گا۔”
حضرت فاطمہؓ نے فرمایا:
"اے عمر! کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ میرا گھر ہے؟”
حضرت عمر نے کہا:
"ہاں، مگر جو لوگ اندر ہیں، انہیں باہر آنا چاہیے۔”
حضرت فاطمہؓ نے فرمایا:
"اے عمر! کیا تمہیں خدا کا خوف نہیں کہ تم میرے گھر میں گھسنا چاہتے ہو؟”
پھر حضرت عمر واپس چلے گئے، مگر جب بیعت سے انکار برقرار رہا تو انہوں نے آگ منگوا کر گھر کے دروازے پر جلائی۔
دروازہ کھٹکھٹایا اور زور سے دھکا دے کر اندر داخل ہوئے۔ وغیرہ
♦️کتاب سلیم شیعہ محققین کی نظر میں :
شیعہ محقق ابن الغضائری لکھتے ہیں:
"وکان اصحابنا یقولون ان سلیماً لایعرف ولا ذکر فی خبر”
ہمارے ساتھی کہتے ہیں سلیم بن قیس مجھول ہے اور نہ کسی روایت میں اس کا ذکر کیا گیا ہے۔۔
اور آگے انہوں نے اس کی کتاب کو موضوع یعنی گھڑی ہوئی قرار دیا ہے(_الرجال لابن الغضائری:ص63)
شیعہ عالم علامہ حلی لکھتے ہیں:
یہ کتاب سلیم بن قیس کی طرف منسوب کی جاتی ہے جو کہ گھڑی ہوئی ہے(خلاصة القوال فی معرفة الرجال: صفحہ162)
علامہ خوئی لکھتے ہیں:
اس کتاب کی ساری سند ہی ضعیف ہے (معجم رجال الحدیث: جلد9 ص237)
♦️کتاب کا راوی ابان بن ابی عیاش شیعہ محققین کی نظر میں:
یہ کتاب صرف اسی راوی ابان بن ابی عیاش سے منقول ہے جسے خود شیعہ محققین نے ضعیف قرار دیا ہے۔
١۔شیعہ محقق عبداللہ علی احمد الدقاق لکھتے ہیں:
اس کتاب کا راوی ابان بن ابی عیاش ہے جسے متقدمین نے ضعیف قرار دیا ہے تو اس پر اور اس کی کتاب پر اعتماد نہیں کیا جاۓ گا۔
(حقیقة مصحف امام علی عندالفریقین: ص82)
شیخ علی النمازی لکھتے ہیں:
ابان تابعی ہے اور ضعیف ہے(مستدرکات علم رجال الحدیث: ص73)
علامہ تفرشی لکھتے ہیں:
ابان بن ابی عیاش ضعیف تھا اور اس نے کتاب سلیم بن قیس گھڑی(نقد الرجال : ص39)
شیخ عبداللہ علی احمد الدقاق لکھتے ہیں:
ابان بن ابی عیاش کو متقدمین نے ضعیف قرار دیا ہے(حقیقة مصحف امام علی عندالفریقین: ص82)
معلوم ہوا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کے گھر کو جلانے والا قصہ روافض کا گھڑا ہوا اور جھوٹ پر مبنی ہے حقیقت کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔