سواری پر خطبہ عید دینے کے جواز کی کوئی صحیح دلیل نہیں، البتہ ابن حبان اور ابن خزیمہ میں روایت منقول ہے جس سے سواری پر خطبہ عید کا جواز کشید کیا جاتا ہے، لیکن اس روایت میں تصحیف اور شذوذ ہے، جس کی وجہ سے یہ روایت نا قابل حجت ہے۔
❀ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
أن النبى صلى الله عليه وسلم خطب يوم عيد على راحلته
”یقیناً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن اپنی سواری پر خطبہ ارشاد فرمایا۔“
[صحيح ابن خزيمة : 1440 – صحيح ابن حبان : 2820 – مسند أبي يعلى : 1182]
باعتبار سند یہ روایت صحیح ہے، لیکن اس کے متن میں شذوذ اور تصحیف ہے، کیونکہ گزشتہ احادیث میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور انہی راویوں سے مروی احادیث میں کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد کرنے کا بیان ہے، حتیٰ کہ [مسند احمد : 31/3 اور ابن ماجه : 1288] میں تو ”راحلته“ کے بجائے واضح ”رجليه“ کے لفظ ہیں، لہذا یہ حدیث گزشتہ احادیث کے مخالف ہونے کی وجہ سے شاذ ہے اور اس میں تصحیف کا شائبہ بھی ہے کہ کاتب نے ”رجليه“ کے بجائے غلطی سے ”راحلته“ سمجھ لیا ہو۔
تصحیف کی امکانی دلیل یہ ہے کہ ابن خزیمہ کی یہی روایت ”اتحاف المهره“ میں منقول ہے اور اس میں ”راحلته“ کے بجائے ”رجليه“ کے لفظ ہیں۔ نیز ابن خزیمہ نے اس حدیث پر یہ باب باندھا ہے : ”باب الخطبة قائما على الأرض إذا لم يكن بالمصلى منبر“ (زمین پر کھڑے ہو کر خطبہ دینے کا بیان جب عید گاہ میں منبر نہ ہو)۔
پھر حدیث بیان کرنے کے بعد ابن خزیمہ لکھتے ہیں کہ اس حدیث میں دو معنوں کا احتمال ہے :
➊ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا، بیٹھ کر نہیں۔
➋ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر کھڑے ہو کر خطبہ دیا، جیسا کہ ابو سعید رضی اللہ عنہ نے مروان کے عید گاہ میں منبر لانے کا انکار کیا اور کہا تھا کہ عہد رسالت میں عید گاہ میں منبر نہیں لایا جاتا تھا۔
ابن خزیمہ کا مذکورہ عنوان باندھنا اور حدیث سے استدلال سے واضح ہوتا ہے کہ ان کے پیش نظر ”رجليه“ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قدموں پر خطبہ دیا) کے لفظ ہیں لہذا کاتب کی تصحیف سے ”رجليه“ کو ”راحلته“ سے بدلا گیا ہے اور ابن حبان اور ابو یعلیٰ وغیرہ اسی تصحیف پر قائم رہے ہیں۔ نیز علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسی روایت کو شاذ اور تصحیف زدہ قرار دیا ہے۔
[الصحيحه : 467/6 ، تحت حديث : 2928]
خطبہ عید کیلئے منبر کا استعمال بدعت ہے :
لہذا عید میں زمین پر کھڑے ہو کر خطبہ دینا مسنون ہے، اور خطبہ عید کیلئے منبر کا استعمال بدعت ہے، اس کے دلائل حسب ذیل ہیں۔
(1) ابو سعید رضی اللہ عنہ کا بیان ہے :
لم يزل الناس على ذلك حتى خرجت مع مروان وهو أمير المدينة فى أضحى أو فطر فلما أتينا المصلى إذا منبر بناه كثير بن الصلت
”لوگ ہمیشہ اس سنت (خطبہ عید سے قبل نماز ادا کرنا اور منبر کے بغیر زمین پر کھڑے ہو کر خطبہ عید ارشاد کرنا) پر قائم رہے، حتیٰ کہ میں عید الاضحیٰ یا عید الفطر میں امیر مدینہ مروان کے ساتھ نکلا اور جب ہم عید گاہ پہنچے تو نا گہاں وہاں منبر تھا، جسے کثیر بن صلت نے تعمیر کیا تھا۔“
[صحيح بخاري، كتاب العيدين، باب الخروج إلى المصلى بغير منبر : 956 – صحیح مسلم کتاب صلاة العيدين : 889]
فقه الحدیث :
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عہد نبوی میں عید گاہ میں منبر نہیں ہوتا تھا اور سب سے پہلے منبر کا استعمال مروان نے کیا تھا۔ [فتح الباري : 079/2 – نیل الأوطار : 321/3]
(2) ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
أخرج مروان المنبر يوم عيد ولم يكن يخرج به وبدأ بالخطبة قبل الصلاة ولم يكن يبدأ به قال فقام رجل فقال يا مروان خالفت السنة أخرجت المنبر يوم عيد ولم يكن يخرج به فى يوم عيد وبدأت بالخطبة قبل الصلاة ولم يكن يبدأ بها
”روز عید مروان نے (عید گاہ کی طرف) منبر نکالا حالانکہ (عید گاہ میں) منبر نہیں لے جایا جاتا تھا، اور اس نے نماز عید سے قبل خطبہ کی ابتدا کی، جب کہ خطبہ عید سے آغاز نہیں کیا جاتا تھا، اس پر ایک شخص نے اٹھ کر کہا: مروان! تم نے سنت کی مخالفت کی ہے، تم نے عید کے دن منبر نکالا ہے، حالانکہ روز عید (عید گاہ میں) منبر نہیں لے جایا جاتا تھا، اور تم نے نماز سے قبل خطبہ سے آغاز کیا ہے، جب کہ (عہد رسالت میں) خطبہ سے آغاز نہیں کیا جاتا تھا۔“
[صحيح مسلم کتاب الإيمان، باب بيان كون النهي عن المنكر من الإيمان : 49 – سنن أبو داؤد، کتاب الصلاة، باب الخطبة يوم العيد : 1140 – جامع ترمذی، کتاب الفتن، باب جاء في تغيير المنكر باليد : 2172 – سنن ابن ماجه، كتاب إقامة الصلوات، باب ماجاء في صلاة العيدين : 1275 – مسند احمد : 10/3]
فوائد :
➊ خطبہ عید کیلئے عید گاہ میں منبر کا انتظام کرنا بدعت اور خلاف شریعت ہے۔
➋ اس بدعت کا موجد اول مروان بن حکم تھا، لہذا فعل مروان کی اقتداء کے بجائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء مطلوب ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دائمی فعل منبر کے بغیر زمین پر کھڑے ہو کر خطبہ عید ارشاد کرنا ہے۔
➌ برائی دیکھ کر خاموش تماشائی بننے کے بجائے برائی کو حتی المقدور روکنا اور اس بارے ملامت گر کی ملامت کی پرواہ نہ کرنا افضل عمل ہے۔
دوران خطبہ تکبیرات کا اہتمام مسنون نہیں :
دوران خطبہ عید تکبیرات کا اہتمام درست نہیں، کیونکہ دوران خطبہ تکبیرات کے جواز کی کوئی صحیح حدیث ثابت نہیں، لہذا اس عمل سے گریز بہتر ہے۔ نیز دوران خطبہ تکبیرات کے جواز کے متعلق حدیث ضعیف ہے۔
(1) سعد مؤذن سے منقول ہے، وہ بیان کرتے ہیں :
كان النبى صلى الله عليه وسلم يكبر بين أضعاف الخطبة يكثر التكبير فى خطبة العيدين
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوران خطبہ بار ہا تکبیرات کہتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کے خطبہ میں بکثرت تکبیرات کہا کرتے تھے۔“
[سنن ابن ماجه كتاب إقامة الصلوات، باب ماجاء في الخطبة في العيدين : 1287 – بيهقي : 299/3 – إسناده ضعیف]
عبد الرحمن بن سعد بن عمار ضعیف اور اس کا والد سعد بن عمار اور دادا عمار بن سعد المؤذن مجہول راوی ہیں۔