سوال :
کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ پڑھی گئی تھی؟
جواب :
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ ادا کی گئی تھی۔ امام مالک رحمہ اللہ حدیث بیان کرتے ہیں:
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم توفي يوم الاثنين ودفن وصلى الناس عليه أفرادا
(الموطأ، كتاب الجنائز، باب ما جاء في دفن الميت 549)
”بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوموار کے دن فوت ہوئے اور منگل والے دن دفن کیے گئے اور لوگوں نے اکیلے اکیلے آپ پر نماز پڑھی۔“
شیخ سلیم الہلالی رحمہ اللہ نے اس روایت کو الموطأ کی تحقیق و تخریج میں صحیح قرار دیا ہے۔
(الموطأ بروایات الثمانية 203/2)
امام ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا الحديث لا أعلمه يروى على هذا النسق بوجه من الوجوه غير بلاغ مالك هذا ولكنه صحيح من وجوه مختلفة
(التمهيد 394/24)
”میں اس حدیث کو اس ترتیب سے مالک کی اس روایت کے سوا کسی بھی سند سے نہیں جانتا، لیکن یہ مختلف طریق سے صحیح ثابت ہے۔“
پھر آگے لکھتے ہیں:
وأما صلاة الناس عليه أفرادا فمجتمع عليه عند أهل السير وجماعة أهل النقل لا يختلفون فيه
(التمهيد 397/24)
”رہا لوگوں کا آپ پر اکیلے اکیلے نماز ادا کرنا تو یہ اہل السیر اور اہل النقل کی ایک جماعت کے ہاں اتفاقی ہے۔ اس میں وہ اختلاف نہیں کرتے۔“
لہذا یہ بات اجماعی و اتفاقی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جنازہ انصار و مہاجرین تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پڑھا ہے اور فرداً فرداً پڑھا گیا، سب نے اجتماعی صورت میں نماز جنازہ ادا نہیں کی۔