کیا دوسرے ملک میں دیکھا گیا چاند یہاں بھی معتبر ہوگا؟
سوال :۔
اگر کسی ایک ملک میں مسلمان رمضان المبارک کا چاند دیکھ لیں تو کیا اس بناء پر دوسرے ممالک کے مسلمانوں پر روزہ رکھنا واجب ہوگا؟
فتوی :۔
مختلف ملکوں میں چاند طلوع ہونے کے اوقات میں جو اختلاف پایا جاتا ہے اس میں ہم شک نہیں کرتے اور اس اختلاف کی بنا پر علماء کی اکثریت کی رائے یہ ہے کہ ہر ملک کے لوگوں کے لئے اس ملک میں چاند کے نظر آنے کا اعتبار کیا جائے گا جبکہ مختلف ممالک میں نظام الاوقات کا فرق ظاہر ہو۔ اس پر دلیل کے طور پر وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب رحمہ اللہ کا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ جب وہ شام میں تھے تو رمضان المبارک شروع ہو گیا تو اہل شام نے جمعۃ المبارک کے دن روزہ رکھا، مگر مدینہ منورہ میں ہفتہ کی رات ہی کو چاند دیکھا گیا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو کریب رحمہ اللہ نے خبر دی کہا: امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور شام والوں نے جمعہ کے دن روزہ رکھا تھا تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ ہم نے تو ہفتہ کے دن روزہ رکھا ہے اور ہم اس وقت تک روزہ رکھتے رہیں گے جب تک کہ شوال کا چاند نہ دیکھ لیں۔ یا پھر تیس روزے پورے نہ کر لیں۔ جیسا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے۔
(صحیح مسلم کتاب الصیام باب بیان ان لکل بلد رؤیتہم ح : 1087)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی رائے یہ ہے کہ جن ممالک میں چاند دیکھا گیا اور جو ممالک ان سے آگے یعنی مغرب کی جانب ہوں ان سب پر روزہ رکھنا فرض ہوگا اور یہ بات ثابت شدہ ہے کہ جب کسی ایک ملک میں چاند دیکھا گیا ہو تو ضروری ہے کہ اس سے بعد والے ممالک میں بھی چاند نظر آئے گا، اس لئے کہ چاند سورج کے بعد غروب ہوتا ہے اور جیسے جیسے اس میں تاخیر ہوگی چاند سورج سے دور ہوتا چلا جائے گا اور زیادہ واضح اور ظاہر ہوتا چلا جائے گا۔ مثال کے طور پر اگر بحرین میں چاند دیکھا گیا تو ان ممالک کے لوگوں پر بھی روزہ رکھنا واجب ہو جائے گا جو اس کے بعد ہیں، جیسا کہ نجد، حجاز، مصر اور مغرب، مگر جو ممالک بحرین سے پہلے واقع ہیں ، مثلاً : ہندوستان ، سندھ اور ماوراء النہر (بالائی روس) کے ممالک، ان ملکوں کے لوگوں پر روزہ واجب نہیں ہوگا۔