سوال :
جسم گود کر نیل بھروانے کی شریعت کی رو سے کیا حیثیت ہے؟ از راہ کرم کتاب وسنت کی روشنی میں جواب دیں۔
جواب :
زمانہ جاہلیت میں کئی ایک بری رسومات معاشرے میں رائج تھیں اور لوگ اصل دین و شرع کو بھول چکے تھے۔ بعض لوگ ایسے تھے جن کے پاس محرف شدہ یا منسوخ کتاب پر مبنی مذہب تھا اور عام لوگ اس سے ناواقف، یا عرب و عجم کے ناخواندہ اور ان پڑھ لوگ تھے، جنھوں نے اپنی سمجھ اور صوابدید سے کئی اشیاء وضع کر لی تھیں۔ دراصل وہ لوگ رسم و رواج کے درپے تھے۔ علم و عمل میں فوقیت رکھنے والوں کا بھی یہ حال تھا کہ وہ سابقہ انبیاء کی طرف منسوب دین میں بھی کھرے اور کھوٹے کی تمیز سے عاری تھے۔ صحیح شرع کی کمی اور رواجوں کی کثرت کے باعث اصلاح کا پہلو مفقود تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس امت پر احسان و امتنان کرتے ہوئے اپنے آخری نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اللہ نے انھیں راہ صواب اور جادہ مستقیم کی طرف ہدایت کی۔ آپ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے انھیں علم وعمل اور اخلاقی و کردار کی بلندیوں پر فائز کیا اور معاشرے کی قباحتوں اور برائیوں سے نکال کر اعلیٰ معیار پر گامزن کر دیا۔ انھیں جاہلیت کے عمیق گڑھوں سے نکال کر اطاعت و اتباع کا حسین پیکر بنا دیا۔ اس معاشرے میں جو چیزیں رواج پا چکی تھیں ان میں سے ایک وشم ہے، اس کا ترجمہ شارحین اور ارباب اللغت نے یہ کیا ہے:
وهو أن تغرز المرأة ظهر كفها أو معصمها بإبرة حتى تدميه ثم تحشوه بالكحل فيخضر أو تجعل فى وجهها الخيلان بكحل أو مداد
شرح السنة (104/12)، غريب الحديث لابن الجوزى (469/2)، الغريب المصنف لأبي عبيد (111/1)، الغريبين في القرآن والحديث للهروى (2002/6)، النهاية لابن الأثير (189/5)، مجمع بحار الأنوار (65/5)، جمهرة اللغة (239/2)، تاج العروس (728/17)، لسان العرب (311/15)، الصحاح للجوهري (449/5)، المحكم لابن سيده (131/8)، لغات الحديث كتاب الواو (56/7)، الدياج (175/5)، السراج الوهاج (62/6)، إكمال المعلم (653/6)، المغني لابن قدامة (131/1، 132)، كتاب المنن ص (1051)، معجم مقاييس اللغة (1054)، مشارق الأنوار ص (509)
”خواتین اپنے ہاتھ کی پشت یا کلائی وغیرہ پر سوئی سے سوراخ کر کے خون نکال کر وہاں سرمہ بھر دیتی تھیں اور وہ جگہ سبز یا نیلی ہو جاتی، یا چہرے پر تل کی مانند سرمہ یا سیاہی سے نشانات بناتی تھیں۔“
سرمہ یا نیل کے ذریعے جسم کے بعض حصوں میں نقش و نگار، پھول بوٹے یا نام وغیرہ لکھے جاتے تھے، یہ زمانہ جاہلیت کی رسم ہے اور یہ رسم بد آج بھی ہمارے معاشرے میں موجود ہے، خواتین و حضرات اس میں ملوث ہیں۔ بسوں اور ٹرکوں کے ڈرائیور و کنڈیکٹر اور پہلوان قسم کے لوگ اپنے بازو یا ماتھے پر اپنا نام ثبت کرتے ہیں، یا کوئی نقش بنا لیتے ہیں اور پھر یہ چیز جسم میں اس طرح پختہ ہو جاتی ہے کہ اسے مٹانے کے لیے یا تو جلد کا وہ حصہ کاٹنا پڑتا ہے یا تیزاب وغیرہ سے جلانا پڑتا ہے، آسانی سے اس کا خاتمہ نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام نے اس کام سے صاف منع کیا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لعن الله الواصلة والمستوصلة والواشمة والمستوشمة
بخاري، كتاب اللباس، باب وصل الشعر (5947، 5940، 5947)، صحيح مسلم، كتاب اللباس والزينة، باب تحريم فعل الواصلة الخ (2124)
”اللہ کی لعنت ہو مصنوعی بال جوڑنے اور جڑوانے والی پر اور گودنے اور گودوانے والی پر۔“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم عشرة آكل الربا وموكله وكاتبه، وشاهديه، والحال، والمحلل له، ومانع الصدقة، والواشمة والمستوشمة
مسند أحمد (83/1، ج : 635)، مسند بزار (819، 822)، مسند أبي يعلى ( 516 ، 402)، عبد الرزاق (269/6)، تاريخ بغداد ( 422/11 ، 424/7)
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس افراد پر لعنت کی ہے، سود کھانے والا، سود کھلانے والا، سود لکھنے والا، سود پر دو گواہ، حلالہ کرنے والا، جس کے لیے حلالہ کیا جائے، زکوٰۃ نہ دینے والا، جسم گود کر نیل بھرنے والی اور نیل بھروانے والی۔“
اس کی سند میں اگرچہ حارث الاعور ہے لیکن یہ اپنے شواہد کی بنا پر حسن ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
العين حق ونهى عن الوشم
صحيح البخاري، كتاب اللباس، باب الموائمة (5944، 5740)
”نظر لگ جانا حق ہے۔ اور آپ نے جسم گود کر نیل بھرنے سے منع فرمایا۔“
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
أن النبى صلى الله عليه وسلم نهى عن ثمن الكلب وثمن الدم وأكل الربا ومؤكله والواشمة والمستوشمة
(صحيح البخاري، كتاب اللباس، باب الواشمة (5945، 2086، 2238، 5347، 5962)
”بلا شبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، خون کی قیمت، سود کھانے اور کھلانے، جسم گود کر نیل بھرنے اور بھروانے سے منع کیا ہے۔“
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا:
لعن الله الواشمات والمتوشمات والمتنمصات والمتفلجات للحسن المغيرات خلق الله قال قبلغ امرأة فى البيت يقال لها أم يعقوب فجاءت إليه فقالت بلغني أنك قلت كيت وكيت فقال ما لي لا ألعن من لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم فى كتاب الله عزوجل فقالت إني لأقرأ ما بين لوحيه فما وجدته فقال إن كنت قرأتيه فقد وجدتيه أما قرأت ﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾ (الحشر: 7) قالت بلى قال فإن النبى صلى الله عليه وسلم نهى عنه قالت إني لأظن أهلك يفعلون قال اذهبي فانظري فنظرت فلم تر من حاجتها شيئا فجاءت فقالت ما رأيت شيئا قال لو كانت كذلك لم تجامعنا
(مسند احمد 434/1 ح : 4129، بخاري کتاب التفسير باب وما اتاكم الرسول فخذوہ 4886)
اللہ کی لعنت ہو جسم گود کر نیل بھرنے اور بھروانے والیوں پر، چہرے کے بال اکھیڑنے والیوں پر اور دانتوں کے درمیان کشادگی پیدا کرنے والیوں پر اور حسن و خوبصورتی کی خاطر جو اللہ کی تخلیق کو تبدیل کرنے والیاں ہیں۔ یہ بات گھر میں ایک عورت ام یعقوب کو پہنچی، وہ آئی اور کہنے لگی: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے فلاں فلاں کہا ہے؟ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے فرمایا: آخر میں کیوں نہ لعنت کروں جس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں لعنت کی ہے؟ وہ کہنے لگی: میں نے دو تختیوں کے درمیان کتاب پڑھی ہے، اس میں تو میں نے یہ مسئلہ نہیں پایا۔ فرمایا لگے: اگر تو نے (غورو تدبر) سے پڑھا ہوتا ہے تو ضرور پالیتی، کیا تو نے یہ نہیں پڑھا: اور جو رسول تمھیں دیں اسے لے لو اور جس سے منع کر دیں اس سے باز آجاؤ کہنے لگی: ہاں۔ فرمایا: "تو بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے۔ کہنے لگی: کہنے لگی:کیوں نہیں۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا بلاشبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے ۔ کہنے لگی :میں گمان کرتی ہوں کہ تمھاری اہلیہ یہ کام کرتی ہے۔ فرمانے لگے: جاؤ دیکھو! اس نے جا کر دیکھا اور اپنی خواہش میں سے کچھ بھی نہ پایا تو آکر کہنے لگی: میں نے کچھ نہیں دیکھا ۔ فرمایا: اگر وہ اس طرح کرتی تو ہم اس سے صحبت ہی نہ کرتے ۔
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
أن النبى صلى الله عليه وسلم لعن الواصلة والموصولة والواشمة والمستوشمة
المصحم الكبیر (187/8، ح : 7773 7595)، مجمع الزوائد (8869) وقال رجاله رجال الصحيح، مسند الشامين (564/3 ح : 3423)
”بلا شبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصنوعی بال جوڑنے اور جڑوانے والی پر اور جسم گود کر نیل بھرنے اور بھروانے والی پر لعنت کی ہے۔“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:
نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الواشمة والمستوشمة والواصلة والمستوصلة والنامصة والمتنمصة
نسائی، كتاب الزينة، باب التمعات (5104)
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جسم گود کر نیل بھرنے اور بھروانے والی، مصنوعی بال جوڑنے اور جڑوانے والی، چہرے کے بال نوچنے اور اکھڑوانے والی کو منع کیا ہے۔“
ان احادیث صحیحہ سے معلوم ہوا کہ جسم کے کسی بھی حصے پر سوئی یا برما وغیرہ سے سوراخ کر کے خون نکالنا اور اس میں سرمہ یا نیل وغیرہ بھرنا حرام اور گناہ کبیرہ ہے، اس پر شرع میں لعنت وارد ہوئی ہے۔ حافظ ابوالفضل عبد الرحیم العراق(المتوفی 806ھ)ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کی شرح میں رقمطراز ہیں:
فيه النهي عن الوشم وهو أن تغرز إبرة أو مسلة أو نحوهما فى موضع من البدن كالشفة أو المعصم أو غيرهما حتى يسيل الدم ثم يحشى ذلك الموضع بالكحل أو النورة فيخضر وقد يفعل ذلك بدوائر ونقوش وقد يقلل وقد يكثر وهو حرام
طرح التشريب (204/8)
”اس حدیث میں جسم گودنے کی ممانعت ہے اور گودنا یہ ہے کہ بدن کے کسی حصے جیسے ہونٹ، کلائی یا ان کے علاوہ کسی اور جگہ سوئی یا برما وغیرہ سے سوراخ کیا جائے، یہاں تک کہ خون بہ جائے، پھر اس جگہ میں سرمہ یا بال دور کرنے والا پاؤڈر بھر دیا جائے، وہ جگہ سبز ہو جاتی ہے، کبھی اس کے ساتھ دائرے اور نقش و نگار بنائے جاتے ہیں اور یہ کبھی کم اور کبھی زیادہ ہوتے ہیں اور یہ فعل حرام ہے۔“
علامہ ابن حجر مکی نے اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے۔ وہ اپنی کتاب ”الزواجر عن اقتراف الكبائر (304/1)“ میں لکھتے ہیں:
”الكبيرة الحادية والثمانون الوشم وطلب عمله“81 واں کبیرہ گناہ جسم کو گودنا اور اس عمل کو طلب کرنا ہے۔ پھر اس کے بعد انھوں نے ممانعت والی احادیث بیان کی ہیں اور شیخ الاسلام الجلال البلقینی کا بھی انھوں نے تذکرہ کیا ہے کہ علامہ بلقینی بھی اسے کبیرہ گناہ قرار دیتے تھے۔ اس کے کبیرہ گناہ ہونے میں کوئی شبہ نہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فعل پر لعنت کی ہے اور لعنت کو کبیرہ گناہوں کی علامات میں سے شمار کیا گیا ہے، شیخ عرفان الدمشقی لکھتے ہیں:
فيه التصريح بأن من يفعل هذه الأمور أو إحداها فهي ملعونة مطرودة من رحمة الله تعالى
(جامع المهلكات ص 658)
”اس حدیث میں صراحت ہے کہ جو ان تمام یا بعض کا ارتکاب کرے گی وہ لعنت کی گئی اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کر دی گئی ہے۔“
پھر آگے لکھتے ہیں:
بأن ورود اللعن إنما هو من أقوى الإدلالات على تحريم الفعل لا بل إنه فى أكثر الأحيان من علامات ارتكاب الكبيرة والله أعلم
(جامع المهلكات ص 658)
”لعنت کا وارد ہونا کسی فعل کے حرام ہونے پر قوی ترین دلالتوں میں سے ہے، اس لیے کہ اکثر اوقات لعنت کا لفظ کبیرہ گناہوں کی علامات میں سے ہے۔“
حافظ ابن حجر فرماتے ہیں:
وتعاطيه حرام بدلالة اللعن كما فى حديث الباب، ويصير الموضع الموسوم نجسا لأن الدم نجسه فتجب إزالته إن أمكنت ولو بالخرج إلا إن خاف منه تلفا أو شينا أو فوات منفعة عضو فيجوز إبقاؤه وتكفي التوبة فى سقوط الإثم ويستوي فى ذلك الرجل والمرأة
(فتح الباري 372/10)
”اس کا ارتکاب کرنا حرام ہے، جیسا کہ اس باب کی حدیث میں لعنت کا لفظ دلالت کرتا ہے اور گودی ہوئی جگہ نجس ہو جاتی ہے، اس لیے کہ خون نے اس کو نجس کر دیا ہے، جہاں تک ممکن ہو اس کا ازالہ کرنا واجب ہے، اگرچہ زخم کرنے کے ساتھ ازالہ ہو، الا یہ کہ اس مقام کے تلف ہونے یا عضو کے ضائع ہونے یا عضو کی منفعت کے ضائع ہونے کا ڈر ہو تو اس کا باقی رکھنا جائز ہے۔ گناہ کے ازالے کے لیے توبہ کافی ہے اور اس حکم میں مرد و زن برابر ہیں۔“
ایک مقام پر حافظ ابن حجر رقمطراز ہیں:
وفي هذه الأحاديث حجة لمن قال يحرم الوصل فى الشعر والوشم والنمص على الفاعل والمفعول به وهى حجة على من حمل النهي فيه على التنزيه لأن دلالة اللعن على التحريم من أقوى الدلالات بل عند بعضهم أنه من علامات الكبيرة
فتح الباري (377/10)، نیز دیکھیں إرشاد السارى (712/12)
”ان تمام احادیث میں اس شخص کے موقف کی دلیل ہے جو مصنوعی بال جوڑنے، جسم گودنے اور چہرے کے بال نوچنے فاعل اور مفعول دونوں پر حرام قرار دیتا ہے اور جن لوگوں نے ان احادیث کو نہی تنزیہی پر محمول کیا ان کے خلاف حجت ہے، اس لیے کہ کسی فعل کو حرام قرار دینے کے لیے لعنت کا لفظ استعمال کرنا قوی ترین دلالتوں میں سے ہے، بلکہ بعض کے ہاں کبیرہ گناہوں کی علامات میں سے ہے۔“
حافظ عراقي فرماتے هيں: قال أصحابنا ويصير الموضع الموشوم نجسا فإن أمكنت إزالته بالعلاج وجبت وإن لم يمكن إلا بالجرح فإن خاف منه التلف أو فوات منفعة عضو أو شينا فاحشا فى عضو ظاهر ثم تجب إزالته وإذا تاب لم يبق عليه إثم وإن لم يخف شيئا من ذلك لزمته إزالته ويعصي بتأخيره وسواء فى هذا كله الرجل والمرأة فإن قلت مخرج النهي عنه لا يدل على تحريمه قلت هو محتمل لذلك وقد دل على تحريمه بل على أنه كبيرة لمن فعله كما هو ثابت فى الصحيحين
طرح التشريب (20/8)
”ہمارے اصحاب نے کہا ہے گودی ہوئی جگہ نجس ہو جاتی ہے، اگر علاج کے ذریعے اس کا ازالہ کرنا ممکن ہو تو ازالہ کرنا واجب ہے، تاہم اگر زخم کرنے کے بغیر ممکن نہ ہو تو اگر اس کے تلف ہونے یا عضو کے ضائع ہونے یا عضو کی منفعت یا کسی ظاہر عضو کے معیوب ہونے کا ڈر ہو تو ازالہ کرنا واجب نہیں ہے۔ جب کوئی شخص توبہ کر لیتا ہے تو اس کے ذمے گناہ باقی نہیں رہتا اور اگر ان امور میں سے کسی کا ڈر نہ ہو تو اس کا ازالہ کرنا لازم ہے اور اس میں تاخیر کرنے والا گناہ گار ہوگا۔ اس حکم میں مرد و زن برابر ہیں۔ اگر آپ یہ کہیں کہ صرف اس عمل سے ممانعت اس کے حرام ہونے پر دلالت نہیں کرتی تو میں کہوں گا کہ اس کا احتمال ہے، لیکن اس کی حرمت بلکہ اس کے کبیرہ گناہ ہونے پر دلالت موجود ہے، کیونکہ اس کے مرتکب پر لعنت کی گئی ہے، جیسا کہ صحیحین میں ثابت ہے۔“
معلوم ہوا کہ اگر کسی مرد یا عورت نے جسم گود کر نشانات، دائرے، نقش و نگار وغیرہ بنا لیے ہوں اور ان کا ازالہ کرنا ممکن نہ ہو تو توبہ کر لینا کافی ہے۔
علامہ ہیشمی رحمہ اللہ نے مجمع الزوائد (334/2) میں ”الوشم“ سے متعلق احادیث پر ایک باب یوں باندھا ہے: باب طهارة الوسم وأنه لا تجب إزالته ”جسم گودنے کی طہارت کا بیان اور اس بات کا بیان کہ اس کا ازالہ کرنا واجب نہیں۔“ یعنی جس کے جسم میں یہ عمل رونما ہو چکا ہو تو اس کے لیے توبہ کافی ہے، ازالہ ضروری نہیں۔ لیکن ابن حجر وغیرہ کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ازالہ ممکن ہو تو کرنا چاہیے، ورنہ توبہ ہی کافی ہے۔ اگر کسی عورت کے جسم میں علاج کے بعد اس کے نشان باقی رہ جائیں تو کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ایک حدیث میں إلا من داء کا استثنا موجود ہے، یعنی بیماری کی وجہ سے نشان رہ جائیں تو کوئی حرج نہیں۔ یہ حدیث مسند احمد (58/7) میں موجود ہے۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو مسلم کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے۔
غاية المرام (93) ص (75)
اسی طرح ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں والمستوشمة من غير داء کا جملہ بھی موجود ہے، یہ حدیث ابوداؤد (4170) اور المسند الجامع (321/9) میں ہے، علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن صحیح قرار دیا ہے۔ (صحيح الترغيب والترهيب (2101)، غاية المرام (95) ص 67) اور ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو حسن کہا ہے۔ فتح الباري (379/10) اسی طرح حارث کی روایت میں إلا من داء کا جملہ ہے۔
نسائی (5107)، صحیح سنن النسائی (1047/3)
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ويستفاد منه أن من صنعت الموثم عن غير قصد له بل تداوت مثلا فقنعته الوثم أن لا تدخل فى الوعيد
فتح الباري (376/10)
”اس حدیث سے یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ جس نے غیر ارادی طور پر جسم گود کیا، مثال کے طور پر علاج کیا اور اس سے وشم پیدا ہو گیا، تو وہ اس وعید میں داخل نہیں۔“
صاحب عون المعبود لکھتے ہیں، حدیث میں من غير داء کے متعلق ملا علی قاری نے کہا ہے:
متعلق بالوسم قال المظهر إن احتاجت للمداواة جاز وإن بقي منه أثر وقيل متعلق بكل ما تقدم أى لو كان بها علة فاحتاجت إلى إحداها لجاز انتهى
عون المعبود (127/4)، مرقاة المفاتيح (245/8)، نیز شرح الطبي (2937/9)، التعليق الصحيح (540/4)، أشعة اللمعات (582/3)
بیماری کے استثنا کا تعلق وشم سے ہے، مظہر شارح حدیث نے کہا اگر علاج کی حاجت ہو تو جائز ہے، اگرچہ اس کا نشان باقی رہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس استثنا کا تعلق ان تمام امور سے ہے جن کا اس حدیث میں پہلے ذکر ہوا ہے، یعنی وصل، شعر اور نمص کے ساتھ بھی اس کا تعلق ہے، اگر عورت کو کوئی مرض ہو اور وہ ان میں سے کسی ایک کی محتاج ہو تو جائز ہے۔
لیکن یہ قول کمزور ہے، جیسا کہ ”کہا گیا“ کے انداز بیان سے اس کے ضعف کی طرف اشارہ کر دیا گیا ہے، پھر یہ نصوص کے بھی خلاف ہے۔
(اس مسئلہ کی مزید توضیح کے لیے ملاحظہ کریں رياض الصالحين مترجم (482/2) مطبوعة دار السلام لاهور، بهجة الناظرين (155/3) از شیخ سلیم الهلالي، سبل السلام (1372/3)، المحلى مسئله نمبر (1911ء 75/10)، مسئله تمبر (79/4)، إبانة الأحكام شرح بلوغ المرام (308/3)، فتح العلام شرح بلوغ المرام (217/2)، نيل الأوطار (216/6)، شرح صحيح البخاري لابن بطال (197/9)، توضيح الأحكام من بلوغ المرام (373/5، 374) وغيرها من شروحات الحديث)