مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا بے حیائی شیطان کی طرف سے ہے

فونٹ سائز:
تالیف: ڈاکٹر رضا عبداللہ پاشا حفظ اللہ

سوال:

کیا بے حیائی شیطان کی طرف سے ہے ؟

جواب :

اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ وَمَن يَتَّبِعْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ ۚ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ مَا زَكَىٰ مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ أَبَدًا وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يُزَكِّي مَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّـهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ﴿٢١﴾
”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! شیطان کے قدموں کے پیچھے مت چلو اور جو شیطان کے قدموں کے پیچھے چلے تو وہ تو بے حیائی اور برائی کا حکم دیتا ہے اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی پاک نہ ہوتا اور لیکن اللہ جسے چاہتا ہے پاک کرتا ہے اور اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ “ [النور: 21 ]
الله تعالیٰ نے فصیح و بلیغ، احسن اور مختصر عبارت میں شیطان کے طریقوں، اوامر و مسالک کی پیروی سے منع کیا، ڈرایا اور نفرت دلائی ہے، اس لیے اے مسلم! ہر شیطانی کام سے اجتناب کرو۔ گناہ کے کام کی نذر مان لینا بھی شیطانی کام ہے، اس لیے اس سے بھی اجتناب کرو۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔