مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کھیلوں کے مقابلوں میں مال لینے کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
مؤلف : ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمٰن اعظمی رحمہ اللہ

کھیلوں کے مقابلوں کا حکم

”کھیلوں کے مقابلوں میں مال لینا جائز نہیں کیونکہ آپ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: عوض کے ساتھ مقابلے بازی صرف گھوڑے، اونٹ اور تیر اندازی میں ہے۔“
کیونکہ کھیلوں کے مقابلوں کے عکس ان تین اشیا میں مقابلے بازی جہاد کی ٹرینگ ہے، جو ان میں نہیں، لہٰذا ان (کے انعقاد پر) معاوضہ لینا جائز نہیں۔ حدیث میں مذکور ان تین چیزوں سے مراد گھوڑا، اونٹ اور ہتھیار ہیں۔
[اللجنة الدائمة: 16342]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔