مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کھانے پینے کی اشیاء ادھار لینے کا جواز حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

کیا کھانے پینے کی اشیاء وغیرہ ادھار لی جا سکتی ہیں؟

جواب :

ایسی اشیاء کے ادھار لینے کا شریعت میں جواز ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے ادھار اناج خریدا اور اپنی زرہ بطور رہن اس کے پاس رکھی۔
(صحيح البخاري کتاب الرهن باب الرهن عند اليهود وغيرهم ح 2513)
اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ کھانے پینے اور عام ضرورت کی اشیاء ادھار لی جا سکتی ہیں۔ (واللہ أعلم)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔