کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب

یہ اقتباس محدث العصر شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب تعداد رکعات قیام رمضان کا تحقیقی جائزہ سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

نماز تراویح دیوبندی بنام دیوبندی

اس مضمون میں انوار خورشید دیوبندی کی کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب دیوبندی اصول کی رو سے پیش خدمت ہے، پہلے حدیث اور اہلحدیث کی ”دلیل“ کا عکس درج کیا گیا ہے اور بعد میں اس پر تبصرہ کیا گیا ہے۔ والحمد لله

نقطہ آغاز :۔

الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام على رسوله الامين، اما بعد :
انوار خورشید دیوبندی کی کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب پیش خدمت ہے۔ ہم نے اس جواب میں اتمام حجت کے لیے ”حدیث اور اہلحدیث“ کی عبارت کا عکس نقل کرنے کا اہتمام کیا ہے۔
چند قابل توجہ باتیں درج ذیل ہیں :
➊ آل تقلید کا دعویٰ ہے کہ : ”مسنون تراویح بیس رکعات ہیں“
لیکن ایک بھی صحیح حدیث بطور دلیل پیش کرنے سے قاصر ہیں۔
➋ آل تقلید کا دعویٰ ہے کہ : ”صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بیس تراویح پڑھنا ثابت ہے“
لیکن کسی ایک بھی صحابی کا باسند صحیح اثر بطور دلیل بیان کرنے سے عاجز ہیں۔
➌ ”بیس رکعات تراویح“ پر دعوائے اجماع کرتے ہیں لیکن خود اس دعوے میں مضطرب نظر آتے ہیں۔
➍ بالآخر بطور حجت چند تابعین رحمہ اللہ اور بعض ائمہ کا سہارا لیتے ہیں۔
عرض ہے کہ تراویح میں تو انہیں بطور حجت پیش کیا جاتا ہے لیکن جہاں ان لوگوں کے مفادات پر زد پڑتی ہے تو وہاں ان سے اعراض کیوں کیا جاتا ہے؟
➎ ڈبے میں ”حدیث اور اہلحدیث“ نامی کتاب کا سکین کیا ہوا عکس ہے اور نیچے اس کا جواب دیوبندی اصول کی روشنی میں دیا گیا ہے۔

کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – Screenshot_1

جواب :۔

یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ قیام رمضان اور تراویح ایک ہی نماز کے دو نام ہیں ورنہ انوار خورشید دیوبندی صاحب ”قیام رمضان“ والی حدیث ”ابواب التراویح“ کے تحت کبھی ذکر نہ کرتے۔

کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – Screenshot_2

جواب :۔

یہ روایت ہمارے نسخہ میں (المجتبی للنسائی 158٫4 ح 2212) موجود ہے، اس کا ایک راوی نضر بن شیبان ہے، اس کے بارے میں امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے فرمایا : ليس حديثه بشيءاس کی حدیث کچھ چیز نہیں ہے۔ (الجرح والتعدیل : 8/ 476، وسندہ صحیح)
اس راوی کو ابن حبان رحمہ اللہ نے ”کتاب الثقات“ میں ذکر کر کے لکھا ہے : كان ممن يخطئ یہ توثیق جمہور کے مقابلے میں مردود ہے۔ نیز دیکھیے تہذیب التہذیب : 10/ 392
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا : لين الحديث یعنی یہ حدیث میں ضعیف ہے۔ (التقریب : 7136)
امام نسائی رحمہ اللہ درج بالا حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں : هذا غلط یہ حدیث غلط ہے۔ (السنن الکبری : 2/ 89 ح 2518)
یہ السنن الصغريٰ للنسائي : 2210 میں هذا خطا لکھا ہوا ہے، معنی ایک ہی ہے۔
کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 3

جواب :۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز تراویح (قیام رمضان) فرض یا واجب نہیں ہے۔
کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 4

جواب :۔

اس حدیث سے دو مسئلے ثابت ہوئے :
اول : تراویح اور تہجد ایک ہی نماز ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تراویح اور تہجد علیحدہ علیحدہ پڑھنا ثابت نہیں ہے۔
دوم : امام کے ساتھ تراویح پڑھنا بہت فضیلت والا عمل ہے لہذا سارا مہینہ جماعت کے ساتھ تراویح پڑھنا افضل ہے۔
کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 5

جواب :۔

یہ روایت ہمارے نسخے میں موجود ہے، اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ تراویح کی جماعت مسنون ہے، لہذا دیوبندی حضرات جو اعتراض کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف تین دن جماعت کرائی ہے اس لیے اہل حدیث بھی تین دن ہی جماعت سے پڑھیں، یہ اعتراض غلط ہے۔ قولی، فعلی اور تقریری ہر صحیح حدیث حجت ہوتی ہے۔
کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 6

جواب :۔

اس روایت کے بارے میں انور شاہ کشمیری دیوبندی فرماتے ہیں :
بسند ضعيف وعليٰ ضعفه اتفاق یہ ضعیف سند سے ہے اور اس کے ضعف پر اتفاق ہے۔ (العرف الشذی : 1/ 166)
دیوبندیوں کے پیارے ابو القاسم رفیق دلاوری صاحب اعلان فرماتے ہیں :
”کسی صحیح روایت میں آپ کی تعدادِ رکعات مذکور نہیں۔ اور اس بارہ میں بیس یا آٹھ رکعات کی جس قدر روایتیں ہیں وہ سب ضعیف ہیں۔“ (عماد الدین ص : 399)
دلاوری صاحب نے ایک اہل حدیث کو جواب دیتے ہوئے لکھا ہے :
”کسی صحیح حدیث میں نہ بیس کا ذکر ہے اور نہ آٹھ کا، اس لیے سرورِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ عمل نہ آپ پیش کر سکتے ہیں اور نہ میں۔۔۔“ (التوضیح عن رکعات التراویح ص 79)
اس بیان میں دلاوری صاحب نے بیس رکعت والی روایت کے ضعیف ہونے کا علانیہ اعتراف کیا ہے، رہا ان کا آٹھ تراویح سے بھی انکار کرنا تو اس کے رد کے لیے دیوبندیوں کے (نزدیک معتمد علیہ) چار اقوال پیش خدمت ہیں :
➊ خلیل احمد سہارنپوری دیوبندی نے کہا :
”اور سنت ہونا تراویح کا آٹھ رکعت تو بالاتفاق ہے۔“ (براہین قاطعہ ص : 195)
➋ عبدالشکور لکھنوی نے کہا :
”اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آٹھ رکعت تراویح مسنون ہے اور ایک ضعیف روایت میں ابن عباس سے بیس رکعت بھی مگر۔۔۔“ (علم الفقہ ص : 198)
➌ انور شاہ کشمیری دیوبندی لکھتے ہیں : ولا مناص من تسليم أن تراويحه عليه السلام كانت ثمانية ركعات وأما النبى صلی اللہ علیہ وسلم فصح عنه ثمان ركعات ”اور اس بات کو تسلیم کرنے سے کوئی چھٹکارا نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تراویح آٹھ رکعات تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آٹھ رکعات باسند صحیح ثابت ہیں۔“ (العرف الشذی ص : 162)
➍ محمد احسن نانوتوی نے لکھا ہے : لأن النبى لم يصلها عشرين بل ثمانيا ”بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس رکعات نہیں پڑھیں بلکہ آپ نے آٹھ پڑھی ہیں۔“ (حاشیہ کنز الدقائق ص : 36)
انور شاہ کشمیری، رفیق دلاوری اور عبد الشکور لکھنوی کے نزدیک بیس رکعات والی حدیث ضعیف ہے، پنج پیری دیوبندیوں کے بڑے عالم غلام حبیب دیوبندی بیس تراویح والی روایت دو کتابوں سے نقل کر کے لکھتے ہیں : ولكنهما ضعيفان ”یہ دونوں روایتیں ضعیف ہیں۔“ (ضیاء المصابیح ص : 5)
خلاصہ تحقیق یہ ہے کہ انوار خورشید صاحب کی پیش کردہ روایت اس کے اپنے پسندیدہ مولویوں کے نزدیک ضعیف یعنی مردود ہے۔ والحمد لله

تنبیہ :۔

اس حدیث کے راوی ابراہیم بن عثمان ابوشیبہ پر جرح کے لیے دیکھیے نصب الرایہ : 1/ 253
ایک روایت کے بارے میں محمد تقی عثمانی دیوبندی صاحب فرماتے ہیں :
لیکن یہ ابراہیم بن عثمان کی وجہ سے ضعیف ہے۔ (درس ترمذی : 3/ 304)
ابراہیم بن عثمان پر شدید جرح کے لیے۔ حاشیہ آثار السنن ح :785
کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 7

جواب :۔

ہمارے نسخہ میں یہ روایت صفحہ 316 ، 317 پر ہے۔ اس کا ایک راوی محمد بن حمید الرازی ہے، اس کے بارے میں شدید جرحیں نقل کر کے خان بادشاہ بن چاندی گل دیوبندی لکھتا ہے : ”کیونکہ یہ کذاب اور منکر الحدیث ہے۔“ (القول المبین ص : 334)
دوسرا راوی عمر بن ہارون بھی مجروح ہے۔ نصب الرایہ : 1/ 351
باقی سند میں بھی نظر ہے۔

تنبیہ :۔

ایسی موضوع روایت پیش کرنا دیوبندیوں ہی کا کام ہے۔

کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – Screenshot_3

جواب :۔

اس حدیث سے پانچ مسئلے ثابت ہوتے ہیں :
➊ تراویح کی جماعت جائز و مستحسن ہے۔
➋ اس میں عدد رکعات مذکور نہیں ہے۔
➌ تراویح اور تہجد ایک ہی نماز ہے۔ فعل عمر رضی اللہ عنہ سے استدلال کرتے ہوئے انور شاہ کشمیری دیوبندی صاحب نے یہ ثابت کیا ہے کہ تراویح اور تہجد ایک ہی نماز ہے۔ فیض الباری : 2/ 420
➍ بدعت سے مراد لغوی بدعت ہے اصطلاحی نہیں۔
➎ یہ حدیث صحیح بخاری میں کتاب صلوۃ التراویح باب فضل من قام رمضان میں ہے۔ اسی باب میں امام بخاری رحمہ اللہ وہ حدیث بھی لائے ہیں جس میں ”رمضان ہو یا غیر رمضان نبی صلی اللہ علیہ وسلم گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے“ کا ذکر ہے۔ایضا ح : 2013
اس حدیث کو انوار خورشید صاحب نے چھپا لیا ہے، عام دیوبندی حضرات اس حدیث کی یہ تاویل کرتے ہیں کہ اس کا تعلق صرف تہجد کے ساتھ ہے تراویح کے ساتھ بالکل کوئی تعلق نہیں ہے، امام بخاری رحمہ اللہ کو یہ بڑی غلطی لگی ہے کہ انہوں نے بے تعلق والی حدیث کو تراویح کے باب میں ذکر کر دیا ہے۔ یہ ساری تاویل باطل ہے۔ والحمد لله

کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 9

جواب :۔

یہ روایت کنز العمال : 409/8 ح 23471 اور اتحاف الخیرہ المہرة للبوصیری میں بغیر کسی سند کے مذکور ہے، سرفراز صفدر دیوبندی صاحب لکھتے ہیں کہ ”بے سند بات حجت نہیں ہو سکتی۔“ (احسن الکلام : 1/ 327 اثر سعید بن المسيب)
دیوبندیوں سے مودبانہ عرض ہے کہ اگر ان کے پاس احمد بن منیع سے لے کر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تک اس روایت کی کوئی سند موجود ہے تو وہ اسے پیش کیوں نہیں کرتے؟
میرے شاگرد اور برادر نصیر احمد کاشف کی کوشش سے اس روایت کی سند المختارہ للمقدسی میں مل گئی ہے (3/ 367 ح 1161) یہ سند ضعیف ہے۔
حافظ ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوجعفر الرازی کی ربیع بن انس سے روایت میں بہت زیادہ اضطراب ہوتا ہے۔ (الثقات 228/4 وانوار الصحيفة في الاحاديث الضعيفة ، ابوداود : 1182)
کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 10

جواب :

یہ روایت منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے، حنفیوں کے امام عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : إن فيه انقطاعا فإن الحسن لم يدرك عمر بن الخطاب ”اس روایت میں انقطاع ہے کیونکہ حسن البصری رحمہ اللہ نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔“(شرح سنن ابی داود: 5/ 343)

تنبیہ :۔

سنن ابی داود کے بہت سے نسخوں میں یہ روایت عشرين ليلة (بیس راتیں) کے الفاظ سے موجود ہے اور ایسا ہی درج ذیل علماء نے نقل کیا ہے :
◈ ابن کثیر رمسند الفاروق (187/1)
◈ الذہبی المهذب في اختصار السفن الكبير (464/2)
◈ صاحب مشکوة
◈ زیلعی و غیرهم
عینی حنفی کے نسخہ سنن ابی داود میں بھیعشرين ليلةہی ہے۔ (342/5)
خلیل احمد سہارنپوری دیوبندی صاحب نے یہ اصول سمجھایا ہے کہ اگر بعض نسخوں میں ایک عبارت ہو اور بعض میں نہ ہو تو یہ عبارت مشکوک ہوتی ہے۔ (بذل المجہود : 4/ 471)
اس دیوبندی اصول کی رو سے انوار خورشید صاحب کا یہ ضعیف روایت پیش کرنا غلط ہے۔
کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 11

جواب :۔

اس حدیث کے بارے میں نیموی حنفی نے لکھا ہے : يحيي بن سعيد الانصاري لم يدرك عمر ”یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ نے عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔“ (آثار السنن ح : 780 حاشیہ)
امام ابن حزم رحمہ اللہ نے بتایا کہ یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کے پچیس سال بعد پیدا ہوئے تھے۔
ایسی منقطع روایت کو مرسل معتضد وغیرہ قرار دے کر دنیا میں رائج کرنا ان لوگوں کا کام ہے جو دن رات سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
يكفي فى المناظرة تضعيف الطريق التى أبداها المناظر وينقطع إذا الأصل عدم ما سواها حتى يثبت بطريق أخرى والله أعلم مناظرے میں یہ کافی ہے کہ مخالف کی پیش کردہ روایت کو ضعیف ثابت کر دیا جائے، وہ لا جواب ہو جائے گا کیونکہ اصل یہ ہے کہ باقی سارے دلائل معدوم ہیں الا یہ کہ دوسری سند سے وہ روایت ثابت ہو جائے۔ والله اعلم (اختصار علوم الحدیث ص : 85)
کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 12

جواب :۔

اس روایت کے بارے میں نیموی صاحب لکھتے ہیں : عبد العزيز بن رفيع لم يدرك ابي بن كعب ”عبدالعزیز بن رفیع نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔”“ (آثار السنن : 781 حاشیہ)
یعنی یہ روایت منقطع ہے اصول حدیث کی کتاب میں لکھا ہوا ہے : المنقطع ضعيف بالإتفاق بين العلماء ”علماء کا اتفاق ہے کہ منقطع روایت ضعیف ہوتی ہے۔“ (تیسیر مصطلح الحدیث ص : 78)
کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 13

جواب :۔

اس روایت کے بارے میں عینی حنفی کہتے ہیں : باسناد منقطع ”یہ منقطع سند سے ہے۔“ (عمدۃ القاری: 11/ 127)
کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 14

جواب :۔

یہ روایت مختصر قیام اللیل (ص 200) میں بے سند موجود ہے لہذا مردود ہے۔
کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 15

جواب :۔

یہ روایت علی بن الجعد کی مسند (ح : 2825) میں بھی موجود ہے تاہم علی بن الجعد (ثقہ علی الراجح) پر بذاتِ خود جرح ہے، علی بن الجعد مذکور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر سخت تنقید کرتا تھا، وہ کہتا تھا : ”مجھے یہ برا نہیں لگتا کہ اللہ تعالیٰ معاویہ رضی اللہ عنہ کو عذاب دے۔“ (دیکھیے تہذیب التہذیب : 7/ 257)
صحیح بخاری میں اس کی چودہ احادیث ہیں جو کہ متابعات میں ہیں۔ (دیکھیے میرا رسالہ : امین اوکاڑوی کا تعاقب ص : 45)

تنبیہ :۔

اس روایت میں قیام کرنے والوں کا تعارف نامعلوم ہے۔ یہ نامعلوم لوگ اگر اپنے گھروں میں نفل سمجھ کر بیس رکعات پڑھتے تھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس کا کیا تعلق ہے؟
دیوبندیوں کا یہ دعویٰ ہے کہ : ”تراویح بیس رکعت سنتِ مؤکدہ ہیں۔“ (فتاویٰ دارالعلوم دیوبند: 4/ 296 جواب سوال نمبر: 1872)
یعنی دیوبندیوں کے نزدیک ”جماعت کے ساتھ صرف بیس رکعات تراویح ہی سنتِ مؤکدہ ہے، اس سے کم یا زیادہ جائز نہیں، اس لیے رشید احمد گنگوہی صاحب فرماتے ہیں : اگر عددِ تراویح میں شک ہو جائے کہ اٹھارہ پڑھے ہیں یا بیس تو دو رکعت فرادی پڑھیں نہ کہ بجماعت۔ بسببِ اطلاقِ حدیث کے زیادہ ادا کرنا ممنوع نہیں خواہ کوئی عدد ہو مگر جماعت بیس سے زیادہ کی ثابت نہیں۔“(الرای النجیح ص : 12 ، 13 بحوالہ انوار مصابیح ص : 29)
درج بالا دیوبندی موقف کی رُو سے دیوبندیوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی پیش کردہ روایت میں درج ذیل شرائط ثابت کریں :
➊ ان لوگوں کے نام بتائیں جو عہدِ فاروقی میں بیس پڑھتے تھے۔
➋ یہ ثابت کریں کہ یہ لوگ بیس رکعتیں سنتِ مؤکدہ سمجھ کر پڑھتے تھے۔
➌ یہ ثابت کریں کہ وہ یہ رکعتیں مسجدِ نبوی میں باجماعت پڑھتے تھے۔
➍ یہ ثابت کریں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس کا علم تھا۔
➎ یہ ثابت کریں کہ یہ لوگ بیس سے کم یا زیادہ کو حرام یا ناجائز سمجھتے تھے۔
➏ یہ ثابت کریں کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے اس اثر سے استدلال کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ صرف بیس رکعات تراویح باجماعت ہی سنت ہیں ان سے کم یا زیادہ جائز نہیں ہیں۔
اگر یہ ثابت نہ کر سکیں تو پھر دیوبندیوں کا ان آثارِ مجہولہ سے استدلال مردود ہے۔
کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 16

جواب :۔

یہ روایت شاذ ہے۔ خالد بن مخلد (شیعہ صدوق) کی اس روایت کے مقابلے میں امام سعید بن منصور رحمہ اللہ کی روایت ہے :
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں گیارہ رکعات پڑھتے تھے۔ (الحاوی للفتاویٰ : 1/ 349 و حاشیہ آثار السنن ص : 250)
اس روایت کے بارے میں علامہ سیوطی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : ”یہ روایت بہت صحیح سند کے ساتھ ہے۔“ (المصابیح فی صلوۃ التراویح ص 15)
کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 17

جواب :۔

یہ روایت دو طرح سے منقطع ہے :
➊ ابن قدامہ رحمہ اللہ کی پیدائش سے صدیوں پہلے امام احمد رحمہ اللہ فوت ہو گئے تھے۔
➋ امام احمد رحمہ اللہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بہت بعد پیدا ہوئے تھے۔
صحیح بخاری کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جماعت کے ساتھ تراویح نہیں پڑھتے تھے بلکہ سحری کے وقت پڑھنے کو پسند کرتے تھے۔
کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 18

جواب :۔

یہ روایت تین وجہ سے مردود ہے :
➊ صاحبِ مراقی الفلاح سے لے کر اسد بن عمرو تک سند نامعلوم ہے۔
➋ اسد بن عمرو بذاتِ خود مجروح ہے، جمہور محدثین نے اس پر جرح کی ہے۔ (دیکھیے لسان المیزان : 1/ 383)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس کے بارے میں گواہی دی : ضعيف ”وہ ضعیف ہے“ (کتاب الضعفاء : 34)
➌ قاضی ابویوسف رحمہ اللہ بھی جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے ابو یوسف سے کہا : إنكم تكتبون فى كتابنا مالا نقوله ”تم ہماری کتاب میں وہ باتیں لکھتے ہو جو ہم نہیں کہتے۔“ (کتاب الجرح والتعدیل: 9/ 201 وسندہ صحیح)
یعنی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اسے جھوٹا سمجھتے تھے، معلوم ہوا کہ اگر یہ روایت ابو یوسف تک ثابت ہو جائے تو پھر بھی مردود ہے کیونکہ ابو یوسف مذکور اپنی طرف سے باتیں لکھ کر امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی طرف منسوب کر دیتا تھا۔

تنبیہ :۔

اس روایت میں تراویح کا کوئی عدد مذکور نہیں مگر انوار خورشید دیوبندی صاحب نے قاضی ابو یوسف کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنی طرف سے دو دفعہ بیس (20) کا عدد ترجمے میں لکھ دیا ہے، معلوم ہوا کہ یہ لوگ کذب بیانیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لینے کی کوشش میں ہیں۔
کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 19

جواب :۔

اس روایت میں ایک راوی حماد بن شعیب ہے جسے جمہور محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : فيه نظر ”یعنی یہ متروک و متہم ہے۔“ (التاریخ الکبیر: 3/ 25)
نیموی حنفی نے لکھا : قلت : حماد بن شعيب ضعيف ”میں کہتا ہوں کہ حماد بن شعیب ضعیف ہے۔“ (آثار السنن ح : 785)
کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 20

جواب :۔

اس روایت کے راوی ابو الحسناء کے بارے میں نیموی صاحب لکھتے ہیں : قلت : مدار هذا الاثر على ابي الحسناء وهو لا يعرف ”میں کہتا ہوں کہ اس اثر کا دارومدار ابو الحسناء پر ہے اور وہ غیر معروف یعنی مجہول ہے۔“ (آثار السنن تحت ح : 785)
عصرِ حاضر میں بعض لوگوں نے شعبدہ بازی اور مداری پن کی مدد سے ابو الحسناء کو ثقہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے جو کہ نیموی تحقیق کی رُو سے مردود ہے۔
کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 21

جواب :۔

یہ حوالہ دو وجہ سے مردود ہے :
➊ امام احمد رحمہ اللہ تک سند غائب ہے۔
➋ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بہت عرصہ بعد امام احمد رحمہ اللہ پیدا ہوئے تھے۔

تنبیہ :۔

اس قول کا تعلق بیس رکعات تراویح سے نہیں ہے۔
کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 22

جواب :۔

یہ روایت کئی وجہ سے مردود ہے :
➊ مختصر قیام اللیل للمروزی (ص : 200) میں یہ روایت بے سند ہے۔
➋ عمدۃ القاری للعینی (11/ 127) میں یہ روایت حفص بن غیاث عن الاعمش کی سند سے مروی ہے، حفص بن غیاث مدلس ہے۔ (طبقات ابن سعد : 6/ 390)
➌ اعمش مدلس ہے۔ (تلخیص الحبیر : 3/ 48)
➍ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی وفات کے ایک عرصہ بعد 61ھ میں اعمش رحمہ اللہ پیدا ہوئے تھے، لہذا یہ سند منقطع و مردود ہے۔
کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 23

جواب :۔

ابن قدامہ رحمہ اللہ کے دعویٰ کی بنیاد دو روایتیں ہیں :
➊ یزید بن رومان رحمہ اللہ کی روایت جسے عینی حنفی نے منقطع قرار دیا ہے۔ (دیکھئے جواب ، روایت نمبر 13)
➋ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب روایت جو بلحاظ سند ضعیف ہے۔ (دیکھئے روایت نمبر 17)
ان دو ضعیف روایتوں کی وجہ سے ابن قدامہ رحمہ اللہ نے كالإجماع (اجماع کی مانند) لکھ دیا ہے جس پر انوار خورشید صاحب کالی لکیر لگا کر خوشی کا اظہار فرما رہے ہیں۔ ابن قدامہ رحمہ اللہ نے جرابوں پر مسح کے بارے میں صاف لکھا ہے کہ فكان اجماعا ”یعنی جرابوں پر مسح کے جائز ہونے پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع ہے۔“ (مغنی ابن قدامہ : 1/ 181)
دیوبندی و بریلوی دونوں حضرات اس اجماع کے منکر و مخالف ہیں۔
کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 24

جواب :۔

اجماع کا یہ دعویٰ کئی لحاظ سے مردود ہے :
➊ اس دعوے کی بنیاد ضعیف و مردود روایات ہیں جیسا کہ ابن قدامہ رحمہ اللہ کے قول کی تشریح میں گزر چکا ہے۔
➋ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے گیارہ رکعات باسند صحیح ثابت ہیں۔ (دیکھیے آثار السنن ح : 776) وإسناده صحيح
یہ کیسا اجماع ہے جس سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خارج کر دیے گئے ہیں؟
➌ متعدد علما نے بتایا ہے کہ تراویح کے عدد میں بہت اختلاف ہے، عینی حنفی نے کہا : وقد اختلف العلماء فى العدد المستحب فى قيام رمضان على اقوال كثيرة ”تراویح کے مستحب عدد پر علما کا اختلاف ہے اور ان کے بہت سے اقوال ہیں۔“ (عمدۃ القاری : 11/ 126)
علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے گواہی دی کہ : ان العلماء اختلفوا فى عددها ”بے شک علما کا تراویح کی تعداد میں اختلاف ہے۔“ (الحاوی للفتاوی دضیاء المصابیح لمسعود احمد خان دیوبندی ص : 23)
جب علما کا اتنا شدید اختلاف ہے تو اجماع کا دعویٰ کہاں سے آگیا؟
ابن عبد البر رحمہ اللہ نے اگرچہ بیس رکعات کا عدد اختیار کیا ہے لیکن اس پر کسی اجماع کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ اسے جمہور علما کا قول قرار دیا ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ ان بیس رکعات پر سنتِ مؤکدہ کا کوئی دعویٰ نہیں کرتے، تیسرے یہ کہ دوسرے علما نے ابن عبدالبر رحمہ اللہ کی مخالفت کر رکھی ہے۔
ابو بکر بن العربی المالکی رحمہ اللہ نے کہا : والصحيح أن يصلى إحدى عشرة ركعة صلاة النبى عليه السلام فأما غير ذلك من الأعداد فلا أصل له اور صحیح یہ ہے کہ گیارہ رکعات پڑھی جائیں، یہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے، اس کے علاوہ دوسرے جتنے اعداد ہیں ان کی کوئی اصل نہیں ہے۔ (عارضۃ الاحوذی : 4/ 19)
امام ابو العباس احمد بن ابراہیم القرطبی (متوفی 256ھ) نے تراویح کی تعداد پر اختلاف ذکر کر کے لکھا ہے :
وقال كثير من أهل العلم : إحدى عشرة ركعة ، أخذا بحديث عائشة المتقدم
اور اکثر علما نے کہا ہے کہ گیارہ رکعات پڑھنی چاہئیں، انہوں نے اس مسئلہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے استدلال کیا ہے۔ (المفہم : 2/ 390)
اس بیان سے دو باتیں ثابت ہوئیں :
➊ جمہور علما گیارہ کے قائل ہیں لہذا امام ابن عبدالبر رحمہ اللہ کا بیس کو جمہور کا قول قرار دینا غلط ہے۔
➋ امام قرطبی رحمہ اللہ گیارہ رکعات کے قائل تھے۔

بیس تروایح پر اجماع کا دعویٰ باطل ہے :۔

اب آپ کی خدمت میں بعض حوالے پیش خدمت ہیں، جن میں سے ہر حوالہ کی روشنی میں اجماع کا دعویٰ باطل ہے۔
➊ امام مالک رحمہ اللہ (متوفی 179ھ) فرماتے ہیں :
الذى آخذ به لنفسي فى قيام رمضان هو الذى جمع به عمر بن الخطاب الناس إحدى عشرة ركعة وهى صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا أدريمن أحدث هذا الركوع الكثير، ذكره ابن مغيث
(كتاب التهجد : ص 76ا فقره : 890، دوسرا نسخه ص : 287تصنيف عبدالحق اشبيلي متوفي 581ھ)
”میں اپنے لئے قیام رمضان (تراویح) گیارہ رکعتیں اختیار کرتا ہوں، اسی پر عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو جمع کیا تھا اور یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے، مجھے پتہ نہیں لوگوں نے بہت سی رکعتیں کہاں سے نکال لی ہیں؟ اسے ابن مغیث مالکی نے ذکر کیا ہے۔“

تنبیہ : 1

امام مالک رحمہ اللہ سے ابن القاسم کی نقل قول مردود ہے دیکھئے : (كتاب الضعفاء لابي زرعة الرازي : ص : 534)

تنبیہ : 2

یونس بن عبداللہ بن محمد بن مغیث المالک کی کتاب ”المتھجدین“ کا ذکر (سیر اعلام النبلاء : 570/17) پر بھی ہے۔
عینی حنفی فرماتے ہیں کہ :
وقيل إحدى عشرة ركعة وهو اختيار مالك لنفسه و اختاره أبوبكر العربي
(عمدة القاري : 126/11، ح2010)
”اور کہا جاتا ہے کہ تراویح گیارہ رکعتیں ہیں، اسے امام مالک رحمہ اللہ اور ابوبکر العربی نے اپنے اپنے لئے اختیار کیا ہے۔“
➋ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے بیس رکعات تراویح باسند صحیح ثابت نہیں ہیں، اس کے برعکس حنفیوں کے ممدوح محمد بن الحسن الشیبانی کی المؤطا سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ گیارہ رکعات کے قائل تھے۔
➌ امام شافعی رحمہ اللہ نے بیس رکعات تروایح کو پسند کرنے کے بعد فرمایا کہ :
وليس فى شيء من هذا ضيق ولا حد ينتهي إليه لأنه نافلة فإن أطالوا القيام وأقلوا السجود فحسن وهو أحب إلى و إن أكثر والركوع و السجود فحسن
(مختصر قيام الليل للمروزي : ص202، 203)
اس چیز (تراویح) میں ذرہ برابر تنگی نہیں ہے اور نہ کوئی حد ہے، کیونکہ یہ نقل نماز ہے، اگر رکعتیں کم اور قیام لمبا ہو تو بہتر ہے اور مجھے زیادہ پسند ہے اور اگر رکعتیں زیادہ ہوں تو بھی بہتر ہے۔
معلوم ہوا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے بیس کو زیادہ پسند کرنے سے رجوع کر لیا تھا اور وہ آٹھ اور بیس دونوں کو پسند کرتے تھے اور آٹھ کو زیادہ بہتر سمجھتے تھے۔ والله اعلم
➍ امام احمد رحمہ اللہ سے اسحاق بن منصور نے پوچھا کہ رمضان میں کتنی رکعتیں پڑھنی چاہئیں ؟ تو انہوں نے فرمایا :
قد قيل فيه ألوان نحوا من أربعين، إنما هو تطوع
(مختصر قيام الليل : ص202)
”اس پر چالیس تک رکعتیں روایت کی گئی ہیں، یہ صرف نفلی نماز ہے۔“
راوی کہتے ہیں کہ : ولم يقض فيه بشيء ”امام احمد نے اس میں کوئی فیصلہ نہیں کیا۔“ (کہ کتنی رکعتیں پڑھنی چاہئیں ؟) (سنن الترمذي : ح 806)
معلوم ہوا کہ ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک امام سے بھی یہ ثابت نہیں ہے کہ بیس رکعات تراویح سنت موکدہ ہیں اور ان سے کم یا زیادہ جائز نہیں ہیں۔
➎ امام قرطبی (متوفی 656ھ) نے فرمایا :
ثم اختلف فى المختار من عدد القيام فعند مالك : أن المختار من ذلك ست و ثلاثون… وقال كثير من أهل العلم : إحدى عشرة ركعة أخذا بحديث عائشة المتقدم
(المفهم لما اشكل من تلخيص كتاب مسلم : 389، 390/2)
تراویح کی تعداد میں علماء کا اختلاف ہے، امام مالک نے (ایک روایت میں) چھتیس رکعتیں اختیار کی ہیں۔ اور کثیر علماء یہ کہتے ہیں کہ گیارہ رکعتیں ہیں، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی سابق حدیث سے استدلال کیا ہے۔

تنبیہ :

حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا : المفہم للقرطبی میں (374/2) ماكان يزيد فى رمضان ولا فى غير على إحدى عشرة ركعة کے الفاظ سے موجود ہے، امام قرطبی رحمه الله کے اس قول سے معلوم ہوا کہ جمہور علماء گیارہ رکعات کے قائل و فاعل ہیں۔
➏ قاضی ابوبکر العربی المالکی (متوفی 543ھ) نے کہا :
والصحيح أن يصلي احد عشر ركعة صلوة النبى صلى الله عليه وسلم وقيامه فأما غير ذلك من الأعداد، فلا أصل له ولا حدفيه
(عارضة الاحوذي : 19/4 ح 806)
اور صحیح یہ ہے کہ گیارہ رکعات پڑھنی چاہئیں، یہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اور یہی قیام (تراویح) ہے، اس کے علاوہ جتنی رکعتیں مروی ہیں ان کی (سنت میں) کوئی اصل نہیں ہے۔ (اور نفلی نماز ہونے کی وجہ سے) اس کی کوئی حد نہیں ہے۔
➐ عینی حنفی (متوفی 855ھ) نے کہا :
وقد اختلف العلماء فى العدد المستحب فى قيام رمضان على أقوال كثيرة، وقيل إحدى عشرة ركعة
(عمدة القاري : 127، 126/11)
”تراویح کی مستحب تعداد کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے، وہ بہت سے اقوال رکھتے ہیں۔ اور کہا جاتا ہے کہ تراویح گیارہ رکعتیں ہیں۔“
➑ علامہ سیوطی رحمہ اللہ (متوفی 911ھ) نے کہا :
أن العلماء اختلفوا فى عددها
(الحاوي للفتاوي : 348/1)
”بے شک تراویح کی تعداد میں علماء کا اختلاف ہے۔“
➒ ابن ھمام (متوفی 681ھ) نے کہا :
فتحصل من هذا كله أن قيام رمضان سنة إحدى عشرة ركعة بالوتر فى جماعة فعله صلى الله عليه وسلم
(فتح القدير شرح الهدايه : 407/1)
”اس ساری بحث سے یہ نتیجہ حاصل ہو اکہ وتر کے ساتھ تراویح گیارہ رکعتیں ہیں، اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت کے ساتھ پڑھا ہے۔“
➓ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :
واختلف أهل العلم فى قيام رمضان
(سنن الترمذي : ح 806)
”اور علماء کا قیام رمضان (کی تعداد) میں اختلاف ہے۔“
ان حوالوں سے معلوم ہوا کہ دیوبندیوں اور بریلیوں کا یہ دعویٰ کہ ”بیس رکعات ہی سنت موکدہ ہیں، ان سے زیادہ یا کم جائز نہیں ہیں“ غلط اور باطل ہے۔
یہ تمام حوالے ”انگریزوں کے دور سے پہلے“ کے ہیں، لہٰذا ثابت ہوا کہ بیس رکعات پر اجماع کا دعویٰ باطل ہے۔ جب اتنا بڑا اختلاف ہے تو اجماع کہاں سے آگیا۔

کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 25

جواب :۔

سوید بن غفلہ رحمہ اللہ (تابعی) کے اس اثر میں یہ صراحت نہیں ہے کہ وہ بیس رکعات سنتِ مؤکدہ سمجھ کر پڑھتے تھے اور اس سے کم و زیادہ کے قائل و فاعل نہیں تھے، لہذا یہ اثر دیوبندی دعوے پر دلیل نہیں ہے۔

تنبیہ بلیغ :۔

سوید بن غفلہ رحمہ اللہ نمازِ ظہر اول وقت ادا کرتے تھے اور اس پر مرنے مارنے کے لیے بھی تیار ہو جاتے تھے۔ (دیکھیے مصنف ابن ابی شیبہ : 1/ 323 ح 3271 وسندہ حسن)
جبکہ دیوبندی و بریلوی حضرات عام طور پر ظہر کی نماز بہت لیٹ پڑھتے ہیں، گرمیوں میں ڈھائی بجے سے پہلے نمازِ ظہر کا ان کے ہاں سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، بلکہ نمازِ جمعہ کو بھی وہ کھینچ تان کر عصر تک پہنچا دیتے ہیں۔
کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 26

جواب :۔

اس روایت پر دو بحثیں ہیں :
➊ ربیع اور خلف کا تعین معلوم نہیں ہے، لہذا یہ سند ضعیف ہے۔
➋ اس روایت میں یہ صراحت نہیں ہے کہ ابوالبختری سعید بن فیروز الطائی یہ بیس رکعتیں سنتِ مؤکدہ سمجھ کر پڑھنے کے قائل و فاعل تھے، لہذا دلیل اور دعویٰ میں کوئی مطابقت نہیں ہے۔
کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 27

جواب :۔

دعویٰ اور دلیل میں مطابقت نہیں ہے۔
کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 28

جواب :۔

یہ روایت دو وجہ سے ضعیف ہے :
➊ سفیان ثوری مدلس ہیں اور روایت معنعن ہے۔
➋ ابواسحاق السبیعی مدلس ہیں اور روایت معنعن ہے۔

تنبیہ :۔

یہ ضعیف روایت بھی دیوبندیوں کے دعوے سنتِ مؤکدہ سے کوئی مطابقت نہیں رکھتی۔
”مصنف ابن ابی شیبہ“ (2/ 393، 394 ح 7690) میں روایت ہے کہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ چوبیس (24) اور اٹھائیس (28) رکعات پڑھتے تھے۔
اس روایت میں وقاء بن ایاس مختلف فیہ راوی ہے جو کہ ظفر احمد تھانوی دیوبندی صاحب کے اصول کی رو سے حسن الحدیث ہے۔ داود بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو مدینہ میں چھتیس (36) رکعات پڑھتے ہوئے پایا ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : 2/ 393 ح 7688 وسندہ صحیح)
امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : نختار أربعين ركعة ”ہم چالیس رکعتوں کو اختیار کرتے ہیں۔“(مختصر قیام اللیل ص 202، سنن ترمذی: 806)
کیا یہ علماء یہ رکعتیں سنتِ مؤکدہ سمجھ کر پڑھتے تھے؟ اگر یہ سنتِ مؤکدہ نہیں ہیں تو بیس کہاں سے سنتِ مؤکدہ ہو گئیں؟
کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 29

جواب :۔

یہ اثر کئی لحاظ سے مردود ہے :
➊ ابواسحاق السبیعی مدلس ہے اور روایت معنعن ہے۔
➋ حجاج بن ارطاۃ رحمہ اللہ ضعیف مدلس ہے اور روایت معنعن ہے۔
➌ ابو معاویہ الضریر مدلس ہے اور روایت معنعن ہے۔
➍ حارث الاعور رحمہ اللہ کذاب و مجروح ہے، امام شعبی رحمہ اللہ (تابعی) فرماتے ہیں : حدثني الحارث (و أنا أشهد) أنه أحد الكذابين ”مجھے حارث نے حدیث بیان کی اور میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ کذابین میں سے ایک ہے۔“ (الجرح والتعدیل : 3/ 78 وسندہ صحیح)
ابو خیثمہ رحمہ اللہ نے فرمایا : حارث الاعور کذاب ہے۔ (ایضا ص : 79)
➎ حارث الاعور کذاب سے یہ صراحت ثابت نہیں کہ وہ بیس رکعتیں سنتِ مؤکدہ سمجھ کر پڑھتا تھا، اصل اختلاف صرف اس میں ہے کہ دیوبندی و بریلوی حضرات کا دعویٰ ہے کہ صرف اور صرف بیس رکعات تراویح ہی سنتِ مؤکدہ ہے اور اس سے زیادہ یا کم کی جماعت جائز نہیں۔ ان کے اس دعوے پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ والحمد لله
کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 30

جواب :۔

مختصر قیام اللیل للمروزی (ص : 202) میں یہ حوالہ بے سند ہے لہذا مردود ہے، اگر دیوبندیوں کو کہیں سے اس کی کوئی سند مل گئی ہے تو پیش کریں، دوسرے یہ کہ 24+3 = 27 ستائیس رکعات کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا یہ بھی سنتِ مؤکدہ ہیں؟
کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 31

جواب :۔

یہ روایت کئی وجہ سے مردود ہے :
➊ یوسف بن ابی یوسف القاضی کی توثیق نامعلوم ہے۔
➋ قاضی ابو یوسف پر امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے شدید جرح کر کے کذاب قرار دے رکھا ہے۔
➌ حماد بن ابی سلیمان رحمہ اللہ مختلط ہے، حافظ ہیثمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
ولا يقبل من حديث حماد إلا مارواه عنه القدماء : شعبة وسفيان و الدستوائي من عدا هؤلاء رووا عنه بعد الإختلاط
(مجمع الزوائد : 119/1 120)
حماد کی صرف وہی روایت مقبول ہے جو اس کے قدیم شاگردوں : شعبہ رحمہ اللہ، سفیان ثوری رحمہ اللہ اور ہشام الدستوائی رحمہ اللہ نے بیان کی ہے۔ ان (تین) کے علاوہ سب لوگوں نے اس کے اختلاط کے بعد (ہی) سنا ہے۔
یعنی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی روایت حماد سے ان کے اختلاط کے بعد ہے۔
➍ حماد بن ابی سلیمان رحمہ اللہ مدلس ہے۔ (طبقات المدلسین : 4/ 25) اور روایت معنعن ہے۔
➎ کتاب الآثار بذاتِ خود یوسف بن ابی یوسف سے ثابت ہی نہیں ہے۔
➏ اس میں بیس کے سنتِ مؤکدہ ہونے کی صراحت نہیں ہے، لہذا دلیل اور دعویٰ میں موافقت نہیں ہے۔
کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 32

جواب :۔

اس اثر کے بارے میں چند باتیں محلِ نظر ہیں :
➊ اس میں دعویٰ اور دلیل کے درمیان موافقت نہیں ہے کیونکہ اس اثر میں سنتِ مؤکدہ ہونے کی صراحت نہیں ہے۔
الناس کی صراحت نہیں ہے کہ ان سے کون لوگ مراد ہیں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تین چیزیں تركهن الناس ”لوگوں نے چھوڑ دی ہیں۔“ جن میں تیسری چیز یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہہ کر سجدہ کرتے اور تکبیر کہہ کر سجدہ سے سر اٹھاتے تھے۔ (سنن نسائی : 2/ 124 ح 884 وسندہ صحیح)
کیا الناس سے یہاں صحابہ و تابعین مراد لیے جائیں گے اور تکبیر کے بغیر ہی سجدہ کیا جائے گا اور اسے سنتِ مؤکدہ سمجھا جائے گا؟
➌ عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ نماز میں رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔ (جزء رفع الیدین للبخاری ح 62، سنن کبریٰ بیہقی : 2/ 73)
عطاء رحمہ اللہ آمین بالجہر کے قائل تھے۔ (مصنف عبدالرزاق : 2/ 96 ح 2643)
عطاء رحمہ اللہ جرابوں پر مسح کے قائل تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : 1/ 189 ح 1991)
اس طرح کے اور بھی بہت سے مسئلے ہیں، دیوبندی و بریلوی حضرات ان مسئلوں میں امام عطاء رحمہ اللہ کے مخالف ہیں، صرف تراویح میں انہیں امام عطاء رحمہ اللہ یاد آجاتے ہیں۔
ماسٹر امین اوکاڑوی دیوبندی آمین بالجہر کے مسئلہ میں لکھتے ہیں : میں نے کہا : سرے سے یہ ہی ثابت نہیں کہ عطاء کی ملاقات دو سو صحابہ سے ہوئی ہو (مجموعہ رسائل : 1/ 56)
اور دوسری جگہ اپنے مطلب کے ایک اثر پر اوکاڑوی صاحب کا قلم لکھتا ہے : حضرت عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ یہاں کے مفتی ہیں، دو سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ملاقات کا شرف حاصل ہے۔ (ایضا ص : 265)
دیوبندیوں کا کام اس قسم کی تضاد بیانیوں سے ہی چلتا ہے۔
کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 33

جواب :۔

یہ اثر بھی دیوبندی دعوے ”بیس رکعت تراویح سنتِ مؤکدہ ہے“ سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا، کیونکہ اس میں یہ نہیں لکھا ہوا کہ ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ بیس رکعات سنتِ مؤکدہ سمجھ کر پڑھتے تھے۔
کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 34

جواب :۔

یہ اقوال بھی دعوے کے مطابق نہیں ہیں۔ دیوبندیوں پر لازم ہے کہ وہ یہ ثابت کریں کہ سفیان ثوری رحمہ اللہ اور ابن المبارک رحمہ اللہ بیس رکعات کو سنتِ مؤکدہ سمجھتے تھے اور کمی بیشی کے قائل نہیں تھے، اور اگر ثابت نہ کر سکیں تو اپنے دعوے سے غیر متعلق دلائل پیش نہ کریں۔
دوسرے یہ کہ انوار خورشید صاحب نے امام ترمذی رحمہ اللہ کا بیان یہاں کاٹ چھانٹ کر اپنے مطلب والا لکھ دیا ہے اور باقی کو چھپا لیا ہے، ترمذی کے اس بیان میں درج ذیل باتیں بھی لکھی ہوئی ہیں :
➊ علماء کا قیامِ رمضان (کی تعداد) میں اختلاف ہے۔
➋ اہل مدینہ اکتالیس (41) رکعات کے قائل ہیں، امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ کا یہی مذہب ہے۔
➌ امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا : روى فى هذا ألوان ، ولم يقض فيه بشيء اس مسئلے میں بہت سے رنگ (مختلف روایتیں) مروی ہیں، امام احمد رحمہ اللہ نے اس مسئلے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا کہ بیس پڑھنی چاہئیں یا اکتالیس۔ (سنن ترمذی : 806)
امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :
وبه يقول سفيان الثوري وابن المبارك والشافعي وأحمد وإسحاق قالوا : يمسح على الجوربين وإن لم يكن نعلين ، إذا كانا ثخنين
(ترمذی : 99)
سفیان ثوری رحمہ اللہ، ابن المبارک رحمہ اللہ، شافعی رحمہ اللہ، احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور اسحاق رحمہ اللہ اس کے قائل ہیں کہ اگر جرابیں موٹی ہوں تو ان پر مسح جائز ہے اگرچہ وہ چمڑے کی نہ ہوں۔
دیوبندی و بریلوی حضرات ان اقوال کے سراسر خلاف یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جرابوں پر مسح جائز نہیں ہے۔
کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 35

جواب :۔

یہ حوالہ بے سند ہے، قاضی خان کی پیدائش سے صدیوں پہلے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ فوت ہو گئے تھے۔
کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 36

جواب :۔

یہ حوالہ بے سند ہے لہذا مردود ہے۔ ابن رشد کی پیدائش سے بہت پہلے امام مالک رحمہ اللہ اس دنیا سے چلے گئے تھے، اس کے برعکس امام مالک رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ وہ گیارہ رکعات تراویح کے قائل تھے۔ (کتاب المتہجد للاشبیلی ص : 287)
کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 37

جواب :۔

امام شافعی رحمہ اللہ دو وجہ سے بیس رکعات تراویح کو پسند کرتے تھے :
➊ یہ علی رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
➋ مکہ کے لوگ امام شافعی رحمہ اللہ کے زمانے میں بیس پڑھتے تھے۔
اول الذکر کے بارے میں عرض ہے کہ علی رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ سے باسند صحیح بیس رکعات تراویح قولاً یا فعلاً ہرگز ثابت نہیں ہیں۔
دوم : اہل مکہ کا عمل سنتِ مؤکدہ ہونے کی دلیل نہیں ہے، اور نہ یہ ثابت ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ ان بیس رکعات کو سنتِ مؤکدہ سمجھتے تھے، لہذا امام شافعی رحمہ اللہ کا قول حنفیوں و دیوبندیوں کو مفید نہیں ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ نفلی نماز ہے اس میں کوئی حد یا تنگی نہیں، اگر قیام لمبا ہو اور رکعتیں تھوڑی، میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے۔ (مختصر قیام اللیل ص : 203)
محمود حسن دیوبندی صاحب لکھتے ہیں : لیکن سوائے امام اور کسی کے قول سے ہم پر حجت قائم کرنا بعید از عقل ہے۔ (ایضاح الادلہ ص : 276)
محمد قاسم نانوتوی دیوبندی نے محمد حسین بٹالوی سے کہا تھا : میں مقلد امام ابوحنیفہ کا ہوں، اس لیے میرے مقابلہ میں آپ جو قول بھی بطور معارضہ پیش کریں وہ امام ہی کا ہونا چاہیے، یہ بات مجھ پر حجت نہ ہوگی کہ شامی نے یہ لکھا ہے اور صاحبِ در مختار نے یہ فرمایا ہے، میں ان کا مقلد نہیں ہوں۔ (سوانح قاسمی : 2/ 22)
اس دیوبندی اصول کی رو سے دیوبندیوں پر فرض ہے کہ وہ قرآن، حدیث، اجماع اور اجتہاد بذریعہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ ہی پیش کریں، ادھر ادھر کے حوالے لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ کے بہت سے مسائل ایسے ہیں جنہیں دیوبندی و بریلوی حضرات نہیں مانتے مثلاً :
➊ امام شافعی رحمہ اللہ رکوع سے پہلے اور بعد رفع یدین کرتے تھے۔
➋ آپ آمین بالجہر کے قائل تھے۔
➌ آپ جہری و سری دونوں نمازوں میں، اپنے آخری قول کے مطابق فاتحہ خلف الامام کے قائل تھے۔
➍ آپ سینہ پر ہاتھ باندھنے کے قائل تھے۔
کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 38

جواب :۔

یہ حوالہ بے سند ہونے کی وجہ سے مردود ہے، اس کے برعکس امام احمد رحمہ اللہ نے یہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ تراویح کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے، اس میں طرح طرح کی روایتیں مروی ہیں۔ (دیکھیے کتاب المسائل عن احمد و اسحاق ص 465 رقم : 386 اور سنن ترمذی : 806)
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں : إنما هو تطوع ”یہ تو صرف نفلی نماز ہے۔“ (مختصر قیام اللیل ص : 202)
معلوم ہوا کہ امام احمد رحمہ اللہ بیس تراویح کو سنتِ مؤکدہ نہیں سمجھتے تھے۔
امام احمد رحمہ اللہ رفع یدین و آمین بالجہر وغیرہ مسائل کے بھی قائل تھے جنہیں دیوبندی اور بریلوی حضرات نہیں مانتے۔
کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 39

جواب :۔

اس قول میں مطلق تراویح کو سنت کہا گیا ہے، بیس رکعات کو نہیں، دوسرے یہ کہ یہ قول امام مالک رحمہ اللہ، امام احمد رحمہ اللہ، امام ابوبکر بن العربی رحمہ اللہ اور امام قرطبی رحمہ اللہ وغیرہ کے اقوال کے مقابلے میں پیش کرنا دیوبندیوں کا ہی کام ہے، شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ رفع یدین اور آمین بالجہر وغیرہ کے قائل تھے جنہیں دیوبندی و بریلوی دونوں حضرات تسلیم نہیں کرتے۔
کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 40

جواب :۔

اس قول کا بھی وہی جواب ہے جو شیخ عبد القادر جیلانی کے قول کا ہے۔

کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 41

جواب :۔

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تراویح کے بارے میں بیس (20)، انتالیس (39) اور گیارہ (11) کے اعداد ذکر کر کے فرماتے ہیں : والصواب أن ذلك جميعه حسن ”صحیح یہ ہے کہ یہ سب اقوال اچھے ہیں۔“ (فتاويٰ ابن تيميه : 23/ 113)
لیکن یہ قول انوار خورشید صاحب نے چھپا لیا ہے۔
کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 42

جواب :۔

یہ سب بعد میں آنے والے حنفی مولویوں کے اقوال ہیں جنہیں اصول شکنی کر کے بطور حجت پیش کیا جا رہا ہے، امام ابو بکر بن العربی رحمہ اللہ کے اکیلے قول کے مقابلے میں بھی یہ سب اقوال مردود ہیں۔

کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 43

جواب :۔

یہ قول بلادلیل ہونے کے ساتھ ساتھ امام مالک رحمہ اللہ، امام شافعی رحمہ اللہ، امام احمد رحمہ اللہ اور امام ابو بکر بن العربی رحمہ اللہ وغیرہ کے مخالف ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔
کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 44

جواب :۔

شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کا قول بھی بلادلیل ہے۔

تنبیہ :۔

شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ رفع الیدین کے بارے میں فرماتے ہیں کہ : ”اور جو شخص رفع یدین کرتا ہے میرے نزدیک اس شخص سے جو رفع یدین نہیں کرتا اچھا ہے۔“ (حجۃ اللہ البالغہ : 1/ 361)
اس فتویٰ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟
کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب – ta 45
قارئین کرام !
انوار خورشید دیوبندی صاحب نے اہل حدیث کے خلاف ابن نجیم حنفی سے لے کر عبدالحئی لکھنوی تک حنفیوں کے اقوال پیش کئے ہیں گویا کہ یہ اقوال ان کے نزدیک قرآن، حدیث، اجماع اور اجتہاد ابی حنیفہ کے برابر ہیں ، حالانکہ اہل حدیث کے خلاف حنفیوں کے اقوال پیش کرنا اصلا مردود ہے۔
انوار خورشید صاحب سے یہ غلطی ہوئی ہے کہ انھوں نے بہت سے حیاتی مماتی دیو بندیوں کے اقوال اہل حدیث کے خلاف پیش نہیں کئے ، حالانکہ انھیں اپنے منہج کے مطابق اہل حدیث کے مقابلے میں مونگ پھلی استاد اور پیالی ملا وغیرہ کے اقوال بھی پیش کرنے چاہئے تھے تا کہ کتاب کا حجم کچھ اور زیادہ ہو جاتا۔

خلاصة الجواب :۔

انوار خورشید دیوبندی صاحب کا دعویٰ ہے : ”اس لیے تراویح بیس رکعات ہی سنتِ مؤکدہ ہیں۔“ (حدیث اور اہلحدیث ص 658)
اور یہی دعویٰ عام دیوبندیوں کا ہے، دیوبندیوں کے نزدیک دلیل صرف ادلہ اربعہ (قرآن، حدیث، اجماع اور اجتہاد) کا ہی نام ہے، مفتی رشید احمد لدھیانوی دیوبندی فرماتے ہیں : "غرضیکہ یہ مسئلہ اب تک تشنہ تحقیق ہے، معہذا ہمارا فتویٰ اور عمل قولِ امام رحمہ اللہ کے مطابق ہی رہے گا اس لئے کہ ہم امام رحمہ اللہ کے مقلد ہیں اور مقلد کے لئے قولِ امام حجت ہوتا ہے نہ کہ ادلہ اربعہ کہ ان سے استدلال وظیفہ مجتہد ہے۔“(ارشاد القاری الی صحیح البخاری ص : 412)
معلوم ہوا کہ دیوبندیوں کے نزدیک تسلیم شدہ ادلہ اربعہ (چار دلیلوں) سے استدلال صرف مجتہد (امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ) کا ہی کام ہے، لہذا ہر مسئلے میں دیوبندیوں پر یہ فرض ہے کہ وہ پہلے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا قول پیش کریں اور پھر بذریعہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ : قرآن و حدیث اور اجماع سے استدلال کریں۔
انوار خورشید دیوبندی صاحب نے ہمیں رکعاتِ تراویح کے سنت مؤکدہ ہونے پر جو روایات پیش کی ہیں ان میں اپنے اصول کو پیش نظر نہیں رکھا، ان کی پیش کردہ روایتیں تین قسموں پر مشتمل ہیں :
➊ بلحاظ سند ضعیف و مردود ہیں مثلاً حدیث : 6 وغیرہ
➋ دعویٰ سے غیر متعلق ہیں۔ مثلاً حدیث: 1، 2، 3 وغیرہ
➌ ادلہ اربعہ سے خارج ہیں۔ مثلاً ابن نجیم حنفی کا قول وغیرہ
لہذا ثابت ہوا کہ انوار خورشید دیوبندی صاحب اپنے دعویٰ کو ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں، اس فاش ناکامی کے باوجود وہ لکھتے ہیں کہ ”جو صاحب جواب لکھیں اگر وہ کتاب میں مذکور احادیث پر جرح کریں تو جرح مفسر کریں اور جرح کا ایسا سبب بیان کریں جو متفق علیہ ہو، نیز جارح ناصح ہونا چاہئے نہ کہ متعصب، اس چیز کا خاص خیال رکھیں کہ کوئی ایسی جرح نہ ہو جو بخاری و مسلم کے راویوں پر ہو چکی ہو۔(حدیث اور اہلحدیث ص : 4)

تبصرہ :۔

میں نے انوار خورشید کا جو جواب لکھا ہے اس میں دیوبندی و حنفی اصول کو ہر جگہ مدنظر رکھا ہے، مثلاً سرفراز خان صفدر دیوبندی لکھتے ہیں : ”بایں ہمہ ہم نے توثیق و تضعیف میں جمہور ائمہ جرح و تعدیل اور اکثر ائمہ حدیث کا ساتھ اور دامن نہیں چھوڑا مشہور ہے کہ زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو“(احسن الکلام 2001 طبع دوم)
میں نے صرف انہی راویوں کو ضعیف و مجروح قرار دیا ہے جو جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف و مجروح ہیں بعض جگہ فریق مخالف کے تسلیم کردہ الزامی جوابات بھی دیئے ہیں۔ والحمد لله
جب دیوبندیوں کے راویوں پر جمہور کی جرح ہو تو انھیں ”جرح مفسر“ یاد آجاتی ہے اور جب وہ خود ان راویوں پر جرح کرنے بیٹھ جائیں جنھیں جمہور نے ثقہ و صدوق قرار دیا ہے مثلاً مکحول رحمہ اللہ، علاء بن عبدالرحمن رحمہ اللہ، محمد بن اسحاق رحمہ اللہ، عبید اللہ بن عمرو الرقی رحمہ اللہ، مؤمل بن اسماعیل رحمہ اللہ اور عبد الحمید بن جعفر رحمہ اللہ وغیرہم۔ تو پھر وہ ”جرح مفسر“ اور ”جارح ناصح“ وغیرہ سب کچھ بھول جاتے ہیں، ہمیں دیوبندیوں سے بڑی شکایت ہے کہ وہ ایک راوی کو ثقہ کہتے ہیں جب اس کی بیان کردہ حدیث ان کے مطلب کی ہوتی ہے اور دوسری جگہ ضعیف کہتے ہیں جب اس کی بیان کردہ حدیث اُن کے مطلب کے خلاف ہوتی ہے، مثلاً علی محمد حقانی دیوبندی سندھی، ترک رفع یدین کی ایک حدیث کے راوی یزید بن ابی زیاد کے بارے میں لکھتا ہے : اهو ثقۃ آهي وہ ثقہ ہے۔(نبوی نماز مدلل سندھی : 355/1)
یہی یزید بن ابی زیاد جرابوں پر مسح والی ایک روایت کا بھی راوی ہے، وہاں حقانی مذکور صاحب لکھتے ہیں کہ : زيلعي فرمائيد و…. اھو ضعيف آهي ”یعنی زیلعی فرماتے ہیں وہ ضعیف ہے۔“ (نبوی نماز مدلل ص : 129)
ایسے متناقض و متعارض لوگوں سے کسی انصاف کی توقع ہی فضول ہے !
انوار خورشید صاحب کے مذکورہ بیان سے معلوم ہوا کہ بخاری و مسلم کے راویوں پر جرح مردود ہے، دوسری طرف دیوبندی حضرات صحیح بخاری و صحیح مسلم کے راویوں پر مسلسل جرح کرتے رہتے ہیں۔ مثلاً : مکحول رحمہ اللہ، محمد بن اسحاق رحمہ اللہ، عبید اللہ بن عمرو رحمہ اللہ، علاء بن عبدالرحمن رحمہ اللہ اور سماک بن حرب رحمہ اللہ وغیرہم صحیح مسلم یا صحیح بخاری کے راوی ہیں اور ان پر جرح دیوبندیوں کی کتابوں میں علانیہ طور پر موجود ہے۔ شعیب علیہ السلام کی قوم کے اصول ان لوگوں نے اپنے سینے سے لگالئے ہیں اور پھر یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے راویوں پر صرف جرح مفسر ہی ہو! مؤدبانہ عرض ہے کہ ایسے تین راوی پیش کریں جنھیں جمہور نے ثقہ و صدوق قرار دیا ہے، اس کے باوجود ان پر جرح مفسر ہے اور اس جرح مفسر کی وجہ سے وہ ضعیف و مردود قرار دیئے گئے ہیں۔ جرح مفسر کی ایسی مثالیں بھی پیش کریں جن کو دیوبندی حضرات حجت تسلیم کرتے ہیں۔
ہم تو جمہور محدثین کی تحقیق و گواہی کو ہی ترجیح دیتے ہیں اور اسی پر کاربند ہیں۔ والحمد لله
انوار خورشید صاحب مزید فرماتے ہیں کہ ”جو صاحب جواب لکھیں، وہ تدلیس، ارسال، جہالت، ستارت جیسی جرحیں نہ کریں کیونکہ اس قسم کی جرحیں متابعت اور شواہد سے ختم ہو جاتی ہیں، اور متابع و شواہد اس کتاب میں پہلے ہی کثرت کے ساتھ ذکر کر دیئے ہیں۔“(حدیث اور اہلحدیث ص : 4)

تبصرہ :۔

اصولِ حدیث میں یہ مسئلہ مقرر ہے کہ تدلیس، ارسال، جہالت اور ستارت (مستور ہونے) کی وجہ سے حدیث ضعیف ہو جاتی ہے، اب کیا وجہ ہے کہ ہم ضعیف حدیث کو ضعیف بھی نہ کہیں، دیوبندی حضرات خود بہت سی روایتوں پر یہی جرح کر کے رد کر دیتے ہیں مثلاً : سرفراز خان صفدر نے نافع بن محمود رحمہ اللہ (مشہور تابعی) کو مجہول قرار دے کر ان کی بیان کردہ حدیث کو رد کر دیا ہے۔ (احسن الکلام : 90/2)
ابو قلابہ کو غضب کا مدلس قرار دے کر اُن کی روایت کو رد کر دیا ہے۔ (دیکھئے احسن الکلام : 114/2)
متابعت اور شواہد سے اگر انوار خورشید دیوبندی صاحب کی یہ مراد ہے کہ ان راویوں کی متابعت اور شواہد والی روایات بلحاظ سند صحیح یا حسن لذاتہ ہیں تو بسر و چشم، اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ متابعت و شواہد والی روایات کا ضعیف و مردود ہونا چنداں مضر نہیں، تو ان کا یہ اصول باطل ہے، امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے اصول حدیث میں یہ مسئلہ سمجھایا ہے کہ مخالف کی پیش کردہ حدیث کو ضعیف ثابت کر دینا ہی کافی ہے۔ (دیکھئے ص : 76)
ضعیف روایت کو خواہ مخواہ کھینچ تان کر حسن لغیرہ کے درجے تک پہنچانا فریق مخالف پر حجت نہیں بن سکتا۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اور حافظ ابن القطان الفاسی رحمہ اللہ وغیرہما کی یہ تحقیق ہے کہ حسن لغیرہ روایت حجت نہیں ہے اسے صرف فضائل اعمال میں ہی پیش کیا جا سکتا ہے، احکام میں اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔(دیکھئے النکت علی مقدمہ ابن الصلاح : 402/1)
یہاں پر بطور تنبیہ عرض ہے کہ انوار خورشید صاحب کی پیش کردہ اکثر روایتوں میں نہ متابعت ثابت ہے اور نہ شواہد، مثلاً ان کا یہ دعویٰ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیس رکعات تراویح پڑھنا ثابت ہے۔ (حدیث اور اہلحدیث ص : 658)
حالانکہ انوار خورشید صاحب کی پیش کردہ پہلی روایت میں ابراہیم بن عثمان کذاب و متروک اور دوسری میں محمد بن حمید الرازی کذاب ہے۔
انوار خورشید نے یہ بہت بڑا جھوٹ لکھا ہے کہ ان روایتوں کو ”امت کی تلقی بالقبول حاصل ہے۔“
تلقی بالقبول کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ تمام امت اس روایت کو قبول کر لے، امتِ مسلمہ میں تراویح کے بارے میں بہت بڑا اختلاف ہے، اگر ان موضوع روایتوں کو امت کا تلقی بالقبول حاصل ہوتا تو یہ اختلاف نہیں ہونا چاہئے تھا، ہاں یہ ممکن ہے کہ انوار خورشید صاحب کی یہ مراد ہو کہ دیوبندی امت کا تلقی بالقبول حاصل ہے اور یہ عام لوگوں کو بھی معلوم ہے کہ صرف دیوبندیوں کا تلقی بالقبول کسی روایت کے صحیح لغیرہ ہونے کی دلیل نہیں ہوتا۔ آخر میں انوار خورشید صاحب دھمکی دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ : ”ان باتوں کو محوظ رکھ کر جو جواب دیا جائے گا وہ یقیناً درخور اعتناء سمجھا جائے گا ورنہ بے جا اور فضول باتوں سے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔“(حدیث اور اہلحدیث ص : 4)

تبصرہ :۔

انوار خورشید دیوبندی کے تمام دلائل کا اللہ کے فضل و کرم اور ادلہ اربعہ قاطعہ سے جواب دے کر ان دیوبندی شبہات کوهَبَآءً مَّنْثُوْرًا بنا کر ہوا میں اڑا دیا گیا ہے۔
➊ دیوبندی روایات، اصولِ حدیث اور جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف، مردود اور موضوع ہیں۔
➋ بعض روایات صحیح ہیں لیکن اصل موضوع سے غیر متعلق اور دیوبندی دعویٰ سے غیر موافق ہیں۔
➌ بعض روایات و اقوال وہ حوالے ہیں جو ادلہ اربعہ سے خارج ہیں مثلاً بعض تابعین کرام کا عمل اور حنفی مولویوں کے اقوال و افعال نہ قرآن ہیں نہ حدیث اور نہ اجماع۔
حنفی علماء کے اپنے نزدیک بھی تابعین کرام کے اقوال و افعال حجت نہیں ہیں۔ مثلاً :
◈ محمد بن سیرین رحمہ اللہ، ابو قلابہ رحمہ اللہ، وہب بن منبہ رحمہ اللہ، طاؤس رحمہ اللہ اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ وغیرہم رکوع سے پہلے اور بعد رفع یدین کرتے تھے۔(نور العینین ص : 227 بحوالہ مصنف ابن ابی شیبہ : 235/1 و مصنف عبدالرزاق : 69/2 والسنن الکبری للبیہقی : 74/2)
◈ سعید بن جبیر رحمہ اللہ، حسن بصری رحمہ اللہ اور عبید اللہ بن عتبہ رحمہ اللہ وغیرہم فاتحہ خلف الامام اور قراءت خلف الامام کے قائل تھے۔(جزء القراءت للبخاری ح : 273 و کتاب القراءت للبیہقی ح : 242 و مصنف ابن ابی شیبہ : 373/1)
◈ عکرمہ رحمہ اللہ (تابعی) نے کہا : أدركت الناس ولهم زجة فى مساجدهم بآمين إذا قال الإمام غَيرِ المَغضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِينَ میں نے لوگوں کو ان کی مسجدوں میں اس حال میں پایا کہ جب امام غَيرِ المَغضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِينَ کہتا تو لوگوں کے آمین کہنے سے مسجدیں گونج اٹھتی تھیں۔(مصنف ابن ابی شیبہ : 425/2)
ان جیسے تمام اقوال کے دیوبندی و بریلوی و حنفی حضرات سراسر مخالف ہیں۔ نیز دیکھئے میری کتاب ”القول المتین فی الجہر بالتامین“
انوار خورشید دیوبندی صاحب نے ص 658 سے ص 293 تک جھوٹی، بے حوالہ اور غیر متعلق باتیں لکھی ہیں جن کی تردید، روایات مذکورہ کی تحقیق میں آچکی ہے۔
ان صفحات کی بعض اہم باتوں کا جواب درج ذیل ہے :
◈ تلقی بالقبول سے مراد ساری امت کی تلقی بالقبول یعنی اجماع ہے، اہل حدیث کے نزدیک اجماع حجت ہے۔
◈ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بیس رکعات تراویح با سند صحیح ثابت نہیں۔
◈ کسی تابعی رحمہ اللہ، تبع تابعی رحمہ اللہ یا مستند امام سے یہ ثابت نہیں ہے کہ بیس رکعات ہی سنت مؤکدہ ہیں، ان سے کم یا زیادہ جائز نہیں ہے۔
◈ امام مالک رحمہ اللہ، امام قرطبی رحمہ اللہ، امام ابوبکر بن العربی رحمہ اللہ اور اکثر علماء آٹھ رکعات تراویح کے قائل تھے، ابن ہمام حنفی، انور شاہ کشمیری اور عبد الشکور لکھنوی وغیرہم بھی آٹھ رکعات تراویح کا سنت ہونا تسلیم کر چکے ہیں۔
◈ دیوبندی حضرات یہ راگ الاپتے رہتے ہیں کہ ”تہجد اور تراویح دو علیحدہ علیحدہ نمازیں ہیں، انھیں ایک ہی نماز سمجھنا غیر مقلدین کا مذہب ہے“ جبکہ انور شاہ کشمیری دیوبندی کہتے ہیں کہ تہجد اور تراویح دونوں ایک ہی نماز ہیں اور انھیں علیحدہ علیحدہ سمجھنا غلط ہے۔(دیکھئے فیض الباری : 420/2 والعرف الشذی : 166/1)
دیوبندیوں کا کشمیری صاحب کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا وہ بھی ”غیر مقلد“ ہی تھے؟
◈ غنیۃ الطالبین میں جو روایت سہواً یا عمداً رہ گئی ہے ہم اس غلطی سے بری ہیں، دیوبندیوں نے ”حجۃ اللہ البالغہ“ میں جو تحریف کر رکھی ہے اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟
◈ ائمہ مجتہدین میں سے امام بخاری رحمہ اللہ نے حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا کو کتاب التراویح میں ذکر کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا کا تعلق تراویح کے ساتھ یقیناً ہے لہذا دیوبندیوں کا یہ پروپیگنڈا بے اثر ہے کہ یہ حدیث تراویح سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔
امام بیہقی رحمہ اللہ نے ”السنن الکبری“ میں باب ما روى فى عدد ركعات القيام فى شهر رمضان لکھ کر عائشہ رضی اللہ عنہا والی حدیث نقل کی ہے اور بعد میں بیس والی ضعیف و موضوع نقل کر کے اس کے راوی پر جرح کر دی ہے۔ (496،495/2)
اگر یہ حدیث تراویح سے غیر متعلق تھی تو الامام المجتہد امام بخاری رحمہ اللہ اور امام بیہقی رحمہ اللہ اسے تراویح والے باب میں کیوں لائے ہیں؟
◈ صحیح مسلم کی صحیح حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو گیارہ رکعات پڑھتے تھے اور ہر دو رکعت پر سلام پھیر دیتے تھے اور پھر (آخر میں) ایک وتر پڑھتے۔
◈ عام دلائل سے ثابت ہے کہ تراویح جماعت کے ساتھ افضل ہے اور اکیلے بھی جائز ہے۔
◈ ”شعب الایمان للبیہقی“ (310/3 ح 3624) ”و صحیح ابن خزیمہ“ (342/3 ح 2211) کی ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں اپنے بستر پر تشریف نہ لاتے یہاں تک کہ رمضان گزر جاتا۔
اس روایت کی سند بالکل ضعیف ہے۔ اس کا راوی عبدالمطلب بن عبداللہ مدلس ہے اور روایت معنعن ہے۔ شعب الایمان میں غلطی سے المطلب عن عبداللہ عن عائشہ رضی اللہ عنہا چھپ گیا ہے جبکہ صحیح عبارت صرف یہ ہے کہ : المطلب بن عبد الله عن عائشة رضي الله عنها
◈ ”شعب الایمان بیہقی“ (310/3 ح 3625) کی روایت میں عبدالباقی بن قانع ضعیف ہے، دوسری سند میں بھی نظر ہے۔ انوار خورشید کی پیش کردہ چاروں روایات اصل موضوع سے غیر متعلق ہیں۔
◈ انس رضی اللہ عنہ کے قول ”وہاں آپ نے وہ نماز پڑھی جو آپ ہمارے پاس نہیں پڑھتے تھے“ کا مطلب صرف یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں بہت لمبی قراءت اور طویل قیام والی نماز پڑھی، اس روایت کا تعلق تعدادِ رکعات سے نہیں ہے۔
◈ طلق بن علی رضی اللہ عنہ نے دو مسجدوں میں رات کی نماز پڑھائی، اگر انھوں نے پہلے تراویح پڑھائی تھی تو بعد میں تہجد کی جماعت پڑھنے والے کون تھے؟ اگر دونوں جگہ تراویح یا دونوں جگہ تہجد تھی تو اس پر دیوبندیوں کا کوئی عمل نہیں ہے۔ دوسری نماز جو انھوں نے پڑھائی تھی اسے انوار خورشید نے ”پڑھی تھی“ لکھ کر مفہوم میں تحریف کر دی ہے۔
◈ امام مالک رحمہ اللہ کی تہجد و تراویح کے بارے میں محمد بن محمد العبدری الفاسی المالکی کا حوالہ بے سند و مردود ہے۔
◈ امام بخاری رحمہ اللہ سے با سند صحیح تراویح اور تہجد کا علیحدہ علیحدہ پڑھنا ثابت نہیں ہے۔ ہدی الساری کا حوالہ بے سند ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔
◈ شاہ عبدالعزیز وغیرہ کے اقوال، امام مالک رحمہ اللہ وغیرہ کے اقوال کے مقابلے میں مردود ہیں۔
◈ تراویح کے بعد تہجد کا پڑھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے اور یہی تحقیق انور شاہ کشمیری دیوبندی کی ہے۔ (حافظ زبیر علی زئی)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️