پکی قبریں بنانا

یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال : آج کل پکی قبریں بنانے کا خوب رواج ہے کیا ایسا کرنا شرعی اعتبار سے درست ہے ؟
جواب : پکی قبریں بنانا اسلام میں قطعًا ناجائز ہے اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صریح حکم کے خلاف ہے۔
«نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يجصص القبر، وان يقعد عليه، وان يبنى عليه» [مسلم، كتاب الجنائز : باب النهي عن تحصيص القبر 970، ابوداؤد 3225]
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پختہ قبریں بنانے اور ان پر بیٹھنے اور عمارت تعمیر کرنے سے منع فرمایا ہے۔“
اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ پکی قبریں بنانا اور ان پر عمارت تعمیر کرنا ناجائز و ممنوع ہے۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️ 💾

پکی قبریں بنانا