مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

ولادت، آپریشن اور وقفہ پیدائش کے شرعی احکام قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

الحمد للہ میرے پانچ بچے ہیں، ایک بچہ بڑے آپریشن سے ہوا تھا اور باقی چھوٹے آپریشن سے پیدا ہوئے۔ کیس سیریس ہو جاتا ہے اور پیدائش بہت مشکل سے ہوتی ہے۔ اب بھی میری بیوی حاملہ ہے، ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ آپریشن کروا لو، ہمیں کیا کرنا چاہیے، کیا آپریشن کروا لینا چاہیے؟ اور کیا پیدائش میں لمبا وقفہ کرنے کے لیے کوئی طریقہ اختیار کرنا چاہیے؟ براہ مہربانی راہنمائی فرمائیں۔

جواب :

کتاب وسنت کے نصوص و براہین پر غور و خوض کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ولادت ضبط کرنے کی تین صورتیں ہو سکتی ہیں، قطع نسل، منع حمل اور اسقاط حمل ضبط ولادت کی جدید سے جدید شکل انھی صورتوں میں سے کوئی ایک ہوگی۔ اول الذکر صورت کا مفہوم یہ ہے کہ شوہر و بیوی میں سے کسی ایک کے توالد و تناسل والے اعضاء میں داخلی یا خارجی کوئی ایسی تبدیلی کردی جائے جس کی وجہ سے وہ ابدی طور پر اولاد کی نعمت سے محروم ہو جائیں اور بچہ جنم دینے کے بالکل قابل نہ رہیں۔ جیسا کہ گزشتہ دور میں مردوں کو خصی کر دیا جاتا تھا اور آج کے ترقی یافتہ دور میں نس بندی اور آپریشن بروئے کار لایا جاتا ہے۔ یہ صورت ناجائز و حرام ہے۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
رد رسول الله صلى الله عليه وسلم على عثمان بن مظعون التبتل ولو أذن له لاختصينا
(صحيح البخاري، كتاب النكاح، باب ما يكره من التبتل والخصاء 5073، صحیح مسلم 1402)
”رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو نکاح سے باز رہنے سے منع کر دیا، اگر آپ انھیں اجازت دے دیتے تو ہم خصی ہو جاتے۔“
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
كنا نغزو مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وليس لنا شيء فقلنا ألا نستخصي فنهانا عن ذلك ثم رخص لنا أن نتزوج المرأة بالثوب ثم قرأ علينا﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ﴾
(بخاری، کتاب النكاح، باب ما يكره من التبتل والخصاء 5075)
”ہم رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ غزوات میں شریک ہوتے تھے اور ہمارے پاس کچھ نہ ہوتا تھا، ہم نے دریافت کیا: کیا ہم خصی نہ ہو جائیں؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے ہمیں اس سے منع کیا، تاہم آپ نے ہمیں یہ رخصت دے دی کہ ہم ایک کپڑے کے عوض عورتوں سے نکاح کر لیں، پھر آپ نے ہمیں قرآن مجید کی یہ آیت سنائی: اے ایمان والو! جو پاکیزہ چیزیں اللہ نے تمھارے لیے حلال کی ہے انھیں حرام نہ کرو۔“
ان احادیث صحیحہ سے معلوم ہوا کہ نس بندی یا بذریعہ آپریشن آلات توالد و تناسل میں ایسا تغیر و تبدل کرنا جس سے نسل کا سلسلہ منقطع ہو جائے بالکل ناجائز و حرام ہے۔ البتہ بعض اوقات یہ صورت کچھ خواتین کے ساتھ پیش آجاتی ہے کہ ان کے اعضائے تولید اس قابل نہیں ہوتے کہ جن سے فطری اور طبیعی طریقے سے ولادت ہو سکے، مجبوراً غیر فطری طریقے سے بذریعہ آپریشن بچہ پیدا ہوتا ہے اور ماہر ڈاکٹروں کے کہنے کے مطابق بذریعہ آپریشن دو یا تین مرتبہ ولادت کے بعد عورت میں بچہ جننے کی صلاحیت باقی نہیں رہتی، بلکہ جان کے ضیاع کا قوی اندیشہ ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں عورت کا حاملہ ہونا خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔ اب ایسی اضطراری و مجبوری کی صورت میں اگر کوئی ماہر مسلمان ڈاکٹر فیصلہ دے دے کہ یہ عورت اب ولادت کے قابل نہیں رہی تو ایسی صورت اختیار کرنے کی گنجائش ہے کہ ولادت کا سلسلہ منقطع ہو جائے، لہذا شدید مجبوری کی صورت میں ماہر مسلم ڈاکٹروں کے مشورہ سے آپریشن کروایا جا سکتا ہے۔
ثانی الذکر صورت منع حمل سے مراد ہر وہ صورت ہے جس کی بنا پر عورت کے رحم میں حمل نہ ٹھہر سکے اور قوت تولید باقی رہے۔ اس کی بعض صورتیں عہد رسالت سے بھی ملتی ہیں، آپ کے دور میں منع حمل کی جو صورت مروج تھی اسے ”عزل“ کہا جاتا ہے۔ اس کے متعلق مختلف احادیث مروی ہیں، جن کا خلاصہ یہ ہے کہ عزل جائز ہے لیکن پسندیدہ نہیں۔ اس کی ناپسندیدگی رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے انداز بیان سے بالکل واضح ہے کہ آپ نے عزل کو مخفی طریقے سے زندہ درگور کرنا قرار دیا ہے۔
رہا اسقاط حمل تو یہ دو مرحلوں میں سے کسی ایک مرحلہ میں ہوگا۔ اس میں روح پڑ چکی ہو گی یا نہیں۔ دونوں کے احکام جداگانہ ہیں اور تفصیل ان شاء اللہ کسی دوسرے موقع پر ذکر کریں گے۔ صورت مسئولہ میں اگر ماہر مسلم ڈاکٹرز یہ مشورہ دیتے ہیں کہ ولادت کی وجہ سے عورت کی جان کو خطرہ ہے اور اس کا نظام تولید کمزور پڑ چکا ہے تو پھر آپریشن کروا سکتے ہیں، ورنہ عزل کی کیفیت اختیار کر لیں۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔