مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

وقفۂ حمل کے جائز اور ناجائز طریقے قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

کیا بچوں میں وقفہ جائز ہے؟ اگر جائز ہے تو اس کے لیے کون سا طریقہ جائز ہے، کنڈوم، دوائی یا عزل؟

جواب :

شریعت اسلامیہ میں صحیح نکاح کے ذریعے اولاد صالحہ مطلوب و مقصود اور مستحب و مستحسن ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿فَأْتُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ﴾
(البقرة: 187)
”تو اب تم ان سے مباشرت کرو اور جو اللہ نے تمھارے لیے لکھا ہے طلب کرو۔“
اس آیت کریمہ میں جو یہ فرمایا: ”جو اللہ نے تمھارے لیے لکھا ہے طلب کرو“ اس سے کئی ایک مفسرین نے اولاد مراد لی ہے، جیسا کہ تفسیر طبری وغیرہ میں مرقوم ہے اور بعض سلف نے لیلتہ القدر مراد لی ہے۔ امام طبری فرماتے ہیں: ”اس میں خیر کے تمام معانی مطلوب و مقصود ہیں اور ظاہر آیت کے مطابق سب سے اولی معنی اولاد کی طلب ہے، اس لیے کہ یہ ”تم ان سے مباشرت کرو“ والے قول کے بعد ذکر کیا ہے۔ یعنی اپنی بیویوں سے مباشرت کے ذریعے جو اللہ تعالی نے اولاد اور نسل لکھ رکھی ہے اسے تلاش کرو۔“
(ملخصاً از تفسیر طبری 939/2 مطبوعہ از دار السلام قاہرہ)
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
تزوجوا الودود الولود فإني مكاثر بكم الأمم يوم القيامة
(إرواء الغليل 190/7)
”زیادہ محبت کرنے والی اور زیادہ بچے دینے والی عورتیں سے شادی کرو، کیونکہ میں قیامت والے دن تمھاری وجہ سے امتوں پر فخر کروں گا۔“
معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا:
إني أصبت امرأة ذات جمال وحسب وإنها لا تلد أفأتزوجها قال لا ثم أتاه الثانية فنهاه ثم أتاه الثالثة فقال تزوجوا الودود الولود فإني مكاثر بكم الأمم
(أبو داود، كتاب النكاح باب النهي عن تزويج من لم يلد من النساء 2050 النسائی 3229 ابن حبان 4057، 4056)
”میں نے ایک حسب و جمال والی عورت کو پایا ہے، لیکن وہ بانجھ ہے، کیا میں اس سے شادی کرلوں۔“ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ”نہیں“ پھر وہ دوسری مرتبہ آیا تو آپ نے اسے منع کیا، پھر وہ تیسری مرتبہ آیا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ”زیادہ بچے جنم دینے والی اور زیادہ محبت کرنے والی سے شادی کرو، کیونکہ میں تمھاری وجہ سے امتوں پر فخر کروں گا۔“
لہذا شرعی طور پر تو زیادہ اولاد کا حاصل کرنا مطلوب و مستحسن ہے اور بچوں میں مناسب وقفہ اور منصوبہ بندی کرنا معیوب ہے۔ شریعت اسلامیہ میں عزل کا جو جواز ہے وہ بھی کراہت کے ساتھ ہے، جیسا کہ جدامہ بنت وہب کی حدیث میں ہے کہ میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ہاں حاضر ہوئی اور لوگ بھی تھے، آپ فرما رہے تھے کہ میں نے ارادہ کیا کہ غیل دودھ پلانے والی سے وطی کرنے سے منع کر دوں، تو میں نے روم اور فارس میں دیکھا کہ وہ اپنی اولاد کے بارے میں غیل کرتے ہیں تو یہ چیز ان کی اولاد کو کوئی ضرر نہیں دیتی۔ پھر صحابہ نے آپ سے عزل کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
ذلك الوأد الخفي وهي﴿وَإِذَا الْمَوْءُدَةُ سُئِلَتْ﴾
(مسلم، كتاب النكاح باب جواز الغيلة وهي وطئ المرضع، وكراهة العزل 1442)
”یہ مخفی طریقے سے زندہ درگور کرنا ہے اور یہ وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور جب زندہ درگور کی گئی سے پوچھا جائے گا۔“
البتہ اگر کوئی عورت اتنی لاغر اور کمزور ہو کہ ماہر ڈاکٹر دیانتداری سے تجویز دے کہ اس عورت کے ہاں بچے کی ولادت اس کے لیے جان لیوا ثابت ہوگی تو اس کے لیے کوئی بھی ایسا طریقہ اختیار کیا جائے جس سے ولادت نہ ہو، یہ مجبور اور لاچار کی فہرست میں داخل ہوگی اور اضطرار کی صورت میں شرعی حکم تبدیل ہو جاتا ہے، حرام بھی بقدر ضرورت حلال ہو جاتا ہے، جیسا کہ نص قرآنی و حدیثی میں مذکور و موجود ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔