سوال:
جو شخص وفات کے بعد اولیاء کی حیات دنیوی کا قائل ہو اور ان سے مدد مانگنا جائز سمجھتا ہو، اس کی امامت کا کیا حکم ہے؟
جواب:
اولیاء کو وفات کے بعد زندہ ماننا اور ان سے مدد طلب کرنا شرک ہے، ایسے شخص کی امامت جائز نہیں۔
❀ علامہ صنع اللہ حنفی رحمہ اللہ (1120ھ) لکھتے ہیں:
”جو یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ کے علاوہ نبی، ولی، روح یا کسی اور ہستی کو مصیبت دور کرنے اور حاجت پوری کرنے کا اختیار ہے، تو وہ جہالت کی خطرناک وادی میں واقع ہو گیا ہے اور وہ جہنم کے دھانے پر کھڑا ہے۔
بعض لوگ دلیل دیتے ہیں کہ اولیائے کرام (حاجت روائی) اپنی کرامات کے ذریعہ کرتے ہیں۔ اللہ کی پناہ اس بات سے کہ اللہ کے ولیوں کو ایسے مقام پر سمجھا جائے اور ان سے یہ گمان رکھا جائے کہ وہ کرامت کے ذریعے لوگوں کی تکلیفیں دور کرتے اور ان کو فائدہ پہنچاتے ہیں، یہ تو بتوں کے پجاریوں کا عقیدہ ہوا کرتا تھا، جیسا کہ اللہ کریم ان کا یہ جملہ نقل فرماتے ہیں:
﴿هَؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِنْدَ اللَّهِ﴾ یہ اللہ کے یہاں ہمارے سفارشی ہیں۔“
اسی طرح ان کا ایک اور جملہ یوں نقل کیا: ﴿مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَىٰ﴾ ”ہم ان کی عبادت محض اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ کے قریب کر دیں۔“
(سيف الله على من كذب على أولياء الله، ص 48)
❀ نیز فرماتے ہیں:
”جو اہل ایمان ہیں، ان سے مصیبت کو اللہ کے سوا کوئی دور کرنے والا نہیں، اسی سے منفعت حاصل ہوتی ہے، کیونکہ جس کی حیثیت نفع پہنچانے اور تکلیف دور کرنے والے کی نہیں، اس سے مدد طلب کرنے کے لیے اس کا ذکر کرنا اللہ کے ساتھ شرک بن جاتا ہے۔ چاہے وہ نبی ہو، فرشتہ ہو یا ولی ہو یا کوئی دوسرا ہو، کیونکہ اللہ کے سوا تکلیف دور کرنے پر اور نفع دینے پر کوئی قادر نہیں ہے۔“
(سيف الله على من كذب على أولياء الله، ص 48)