مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

وصیت کو نافذ نہ کرنے کا حکم اور اس کی ذمہ داری

فونٹ سائز:
مؤلف : ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمٰن اعظمی رحمہ اللہ

وصیت نافذ نہ کرنے کا حکم

ولی (ٹرسٹی) پر واجب ہے کہ وہ شری وصیت کو روبہ عمل لائے۔ اگر وصی (وہ شخص جس کو وصیت کی گئی ہے) وصیت نافذ نہ کرے یا اس کی تنفیذ میں کوئی خرابی کرے تو ولی پر بوجھ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
«فَمَن بَدَّلَهُ بَعْدَ مَا سَمِعَهُ فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى الَّذِينَ يُبَدِّلُونَهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ» [البقرة: 181]
”پھر جو شخص اسے بدل دے، اس کے بعد کہ اسے سن چکا ہو تو اس کا گناہ انھی لوگوں پر ہے جو اسے بدلیں، یقیناً اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔“
[اللجنة الدائمة: 10954]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔