مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

نیک مقاصد کے لیے سودی قرض لینے کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
تحریر : فتاویٰ سعودی فتویٰ کمیٹی

اچھے مقاصد کے لیے سودی قرض لینے کا حکم
اگر قرض سودی منافع کے ساتھ لیا جائے تو یہ سلف صالحین کے اجماع کے ساتھ نا جائز ہے کیونکہ کتاب وسنت کے دلائل اس کی حرمت پر دلالت کرتے ہیں، خواہ اس کا مقصد نیک اور اعلی ہی کیوں نہ ہو۔ نیک مقاصد حرام وسائل کو جائز قرار دے سکتے ہیں، نہ انہیں حلال ہی کر سکتے ہیں، تاہم اگر سودی فائدے کے بغیر قرض لیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، اور اگر ممکن ہو تو ایسے لوگوں سے قرض لینا چاہیے جن کے اموال سود کی الائش سے پاک ہوں، یہی بہتر اور محتاط عمل ہے۔
[ابن باز مجموع الفتاوي و المقالات: 284/19]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔