مضمون کے اہم نکات
سوال
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
سجدۂ سہو کا بیان
الجواب بعون الوہاب بشرطِ صحتِ سوال
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
❀ انسان بھول چوک کا نشانہ بن جاتا ہے، اور شیطان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ نمازی کو دورانِ نماز مختلف خیالات اور مشاغل میں الجھا دے۔
❀ بسا اوقات اس بھول چوک کے نتیجے میں نماز میں کمی یا زیادتی واقع ہو جاتی ہے۔
❀ ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ نے نمازی کو نماز کے آخر میں سجدہ کرنے کا حکم دیا ہے، جو ایک فدیہ ہے۔
❀ اس سجدے کے ذریعے شیطان ذلیل ہوتا ہے، رحمان راضی ہوتا ہے اور نماز کی کمی پوری ہو جاتی ہے۔
❀ اہلِ علم اس سجدے کو سجدۂ سہو کہتے ہیں۔
سہو کا معنی اور اس کی حکمت
✔ سہو کے معنی ہیں: بھول جانا۔
✔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں متعدد مرتبہ سہو واقع ہوا۔
✔ آپ ﷺ کا بھول جانا امتِ محمدیہ کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت بنا، تاکہ بھول چوک کی حالت میں امت آپ ﷺ کے طریقے پر عمل کر سکے۔
✔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سہو سے متعلق تمام واقعات کتبِ حدیث میں محفوظ ہیں۔
◈ ایک مرتبہ آپ ﷺ نے چار رکعتوں کے بجائے دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا، پھر باقی دو رکعتیں ادا کیں اور سلام سے پہلے سجدۂ سہو کیا۔
◈ ایک مرتبہ تین رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا، پھر ایک رکعت مزید ادا کی اور سجدۂ سہو کیا۔
◈ ایک موقع پر دو رکعتیں پڑھا کر تیسری کے لیے کھڑے ہو گئے اور درمیانی تشہد میں نہ بیٹھے، تو آخر میں سجدۂ سہو ادا فرمایا۔
حدیثِ نبوی
"إِذَا سَهَا أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِ أَزَادَ أَوْ نَقَصَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ” [جامع الترمذی، الصلاۃ، باب فی من یشک فی الزیادۃ والنقصان، حدیث 398؛ شرح السنۃ للبغوی 3/282 حدیث 755؛ کنزالعمال 7/473 حدیث 19843]
ترجمہ
تم میں سے جب کوئی نماز میں بھول جائے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس سے زیادتی ہوئی ہے یا کمی، تو وہ دو سجدے کرے۔
سجدۂ سہو کے مشروع ہونے کی صورتیں
سجدۂ سہو تین حالتوں میں مشروع ہوتا ہے:
① بھول کر نماز میں زیادتی ہو جائے۔
② بھول کر نماز میں کمی ہو جائے۔
③ نماز کے دوران شک پیدا ہو جائے۔
✔ ان میں سے کوئی ایک صورت پیش آ جائے تو سجدۂ سہو مشروع ہو جاتا ہے۔
✔ اس کا ثبوت سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔
✔ ہر شک یا ہر کمی بیشی سجدۂ سہو کا سبب نہیں بنتی، بلکہ سنت کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔
✔ فرض اور نفل دونوں نمازوں میں سجدۂ سہو مشروع ہے، کیونکہ دلائل عام ہیں۔
① نماز میں بھول کر زیادتی ہو جانا
❀ نماز کے افعال یا اقوال میں بھول کر زیادتی ہو جانا۔
افعال میں زیادتی سے مراد نماز کے افعال کی جنس میں اضافہ ہے، مثلاً:
◈ بیٹھنے کے وقت کھڑا ہو جانا
◈ کھڑے ہونے کے مقام پر بیٹھ جانا
◈ رکوع یا سجدہ زیادہ کر لینا
ان تمام صورتوں میں سجدۂ سہو لازم ہے۔
حدیث
"إِذَا زَادَ الرَّجُلُ أَوْ نَقَصَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ” [صحیح مسلم، المساجد، باب السہو فی الصلاۃ والسجود لہ، حدیث 572]
ترجمہ
جب کوئی شخص اپنی نماز میں بھول کر زیادتی یا کمی کرے تو وہ دو سجدے کر لے۔
✔ اگر ایک رکعت زائد پڑھ لی اور نماز کے بعد یاد آیا تو صرف سجدۂ سہو کرے۔
✔ اگر زائد رکعت کے دوران یاد آ جائے تو فوراً بیٹھ جائے، تشہد پڑھے، سجدۂ سہو کرے اور سلام پھیر دے۔
◈ امام کی زیادتی پر مقتدی مرد سبحان اللہ کہے اور عورت تالی بجائے۔
◈ امام درست صورت کی طرف لوٹ آئے، بشرطیکہ اسے اپنے درست ہونے کا یقین نہ ہو۔
اقوال میں زیادتی
◈ رکوع یا سجدہ میں قراءت کرنا
◈ چار رکعت والی نماز کی آخری دو رکعتوں یا مغرب کی تیسری رکعت میں فاتحہ کے علاوہ سورت پڑھنا
ان صورتوں میں سجدۂ سہو مستحب ہے۔ [ابو زید]
② نماز میں بھول کر کمی ہو جانا
❀ نماز کا کوئی رکن یا واجب چھوٹ جانا۔
✔ اگر تکبیرِ تحریمہ چھوٹ جائے تو نماز ہی منعقد نہ ہو گی۔
✔ اگر رکوع یا سجدہ جیسا رکن چھوٹ جائے:
◈ اگلی رکعت کی قراءت سے پہلے یاد آئے تو واپس آ کر رکن ادا کرے۔
◈ اگر اگلی رکعت کی قراءت شروع ہو چکی ہو تو پچھلی رکعت باطل ہو جائے گی اور ایک رکعت مزید پڑھنی ہو گی۔
◈ سلام کے بعد یاد آئے تو ایک مکمل رکعت ادا کرے۔
◈ اگر آخری تشہد یا سلام چھوٹا ہو تو صرف تشہد پڑھ کر سجدۂ سہو کرے۔
◈ تشہدِ اول بھول جانے کی صورت میں:
✔ مکمل کھڑا نہ ہوا ہو تو واپس بیٹھ جائے۔
✔ مکمل کھڑا ہو گیا ہو تو واپس آنا مکروہ ہے۔
✔ فاتحہ شروع ہو چکی ہو تو واپس آنا جائز نہیں۔
◈ رکوع یا سجدہ کی تسبیحات چھوٹ جائیں تو:
✔ جب تک مکمل کھڑا نہ ہو، ادا کرے۔
✔ ان تمام صورتوں میں سجدۂ سہو لازم ہے۔
③ نماز میں شک ہو جانا
❀ رکعات کی تعداد میں شک ہو جائے۔
◈ کم تعداد کو اختیار کرے۔
◈ سلام سے پہلے سجدۂ سہو کرے۔
حدیث
"إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ أَوَاحِدَةً صَلَّى أَمْ ثِنْتَيْنِ فَلْيَجْعَلْهَا وَاحِدَةً وَإِذَا لَمْ يَدْرِ ثِنْتَيْنِ صَلَّى أَمْ ثَلَاثًا فَلْيَجْعَلْهَا ثِنْتَيْنِ” [مسند احمد 1/190؛ جامع الترمذی، الصلاۃ، حدیث 398؛ صحیح مسلم، المساجد، حدیث 571]
ترجمہ
جب کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے اور معلوم نہ ہو کہ ایک رکعت پڑھی ہے یا دو، تو ایک سمجھے، اور اگر دو یا تین میں شک ہو تو دو سمجھے۔
◈ مقتدی کو شک ہو تو کم کو اختیار کرے اور سجدۂ سہو کرے۔
◈ واجب کی کمی یا زیادتی میں شک ہو تو اس کی طرف التفات نہ کرے۔
یہ سجدۂ سہو کے چند احکام ہیں، تفصیل بڑی کتب میں موجود ہے۔
واللہ الموفق، والله أعلم بالصواب۔