مضمون کے اہم نکات
رفع الیدین کا مسئلہ :
رکوع میں جاتے ہوئے دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھائیں یعنی رفع الیدین کریں۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حیات طیبہ کے آخری دور تک عمل پیرا رہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی اس سنت پر عمل کرتے رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی صحابی نے اس کے بغیر کبھی نماز ادا نہیں کی، لیکن بعض لوگوں نے محض مسلک پرستی کی بنیاد پر اس متواتر سنت کو ترک کر دیا ہے اور کہتے ہیں کہ رفع الیدین کرنے کی کوئی صحیح حدیث نہیں ہے اور کبھی کہتے ہیں کہ پہلے جائز تھا، بعد میں اس سے منع کر دیا گیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسی کوئی صحیح حدیث نہیں جس سے ثابت ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رفع الیدین نہیں کرتے تھے، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی امام کو رفع الیدین سے منع کیا ہو، یا رفع الیدین کرنے کے بعد اسے منسوخ کر دیا ہو، جب کہ رفع الیدین کرنے کی احادیث صحیح، واضح اور متواتر ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخر زندگی تک اور بعد میں صحابہ کے عمل سے اس کا ثبوت ملتا ہے۔
اب رفع الیدین کرنے کے دلائل پیش کرتا ہوں:
متواتر حدیث :
❀ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يرفع يديه حذو منكبيه إذا افتتح الصلاة وإذا كبر للركوع وإذا رفع رأسه من الركوع رفعهما كذلك أيضا
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھاتے اور جب رکوع کے لیے تکبیر کہتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اپنے دونوں ہاتھ اسی طرح اٹھاتے تھے۔“
(بخاری، كتاب الأذان، باب رفع اليدين في التكبيرة الأولى من الافتتاح سواء: 735 – مسلم: 390)
اس حدیث کو الأزهار المتناثرة فى الأخبار المتواترة ، نظم المتناثر من الحديث المتواتر ، المحلى اور تدريب الراوي میں متواتر کہا گیا ہے۔ امام ابن قدامہ رحمہ اللہ نے المغني ، باب صفة الصلاة، مسألة رفع اليدين في الصلاة (574/1) میں اور شیخ محمد بن یعقوب فیروز آبادی رحمہ اللہ نے سفر السعادة (34) میں اسے متواتر کے مشابہ قرار دیا ہے۔ علمائے احناف میں سے علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ نے اسے متواتر تسلیم کیا ہے۔ (العرف الشذی: 124/1)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اپنے استاذ حافظ ابو الفضل کے حوالے سے فتح الباري (220/2) میں اور علامہ عراقی رحمہ اللہ نے تقريب الأسانيد (9) میں فرمایا ہے: ”رفع الیدین کی روایت بیان کرنے والے صحابہ کی تعداد پچاس ہے۔“ کتب احادیث میں ان کی احادیث ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”رفع الیدین کی روایت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اتنی بڑی جماعت نے بیان کی ہے کہ شاید اس سے زیادہ تعداد نے دوسری کوئی حدیث روایت نہیں کی۔“
(نیل الأوطار: 9/3/2)
❀ امام حاکم اور امام ابو القاسم ابن مندہ رحمہما اللہ بیان فرماتے ہیں:
”ہمیں کسی ایسی سنت کا پتا نہیں جس کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت پر چاروں خلفائے راشدین، عشرہ مبشرہ اور دیگر کبار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم متفق ہوں، اگر چہ وہ خود دور دراز ممالک میں پھیلے ہوئے تھے، سوائے اس سنت (رفع الیدین) کے۔“
(نصب الراية، باب صفة الصلاة: 417/1-418 – فتح الباری: 220/2)
علامہ مجدد الدین محمد بن یعقوب فیروز آبادی رحمہ اللہ (581-729 ہجری) تکبیر تحریمہ، رکوع کو جاتے ہوئے اور رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے رفع الیدین کا ذکر کے بعد فرماتے ہیں:
”تحقیق ان تین جگہوں پر رفع الیدین کرنا ثابت ہے اور کثرت روایت کی وجہ سے یہ متواتر کے مشابہ ہے اور تحقیق اس مسئلے میں چار سو روایات اور صحابہ کرام کے اعمال ثابت ہیں اور عشرہ مبشرہ نے بھی اسے روایت کیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اسی حالت پر رہے حتی کہ اس دنیا کو چھوڑ گئے۔ اس کے علاوہ کچھ ثابت نہیں ہے۔“
(سفر السعادة: 34)
اجماع صحابہ:
عبد اللہ بن قاسم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ مسجد نبوی میں نماز پڑھ رہے تھے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور فرمایا: ”میرے پاس آؤ، میں تمھیں اس طرح نماز پڑھاؤں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمھیں نماز پڑھائی اور پڑھنے کا حکم دیا کرتے تھے۔“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کندھوں تک رفع الیدین کیا، پھر تکبیر کہی، پھر رکوع کو جاتے ہوئے اور رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے رفع الیدین کیا، تو سارے لوگوں نے کہا: ”(ہاں!) اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھایا کرتے تھے۔“
(خلافیات بیہقی – نصب الراية للزيلعي، باب صفة الصلاة: 176 – شیخ تقی الدین نے کہا کہ اس کی سند کے تمام راوی ثقہ ہیں)
محمد بن عمر بن عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں بیٹھے ہوئے تھے، فرمانے لگے: ”میں تم سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جانتا ہوں۔“ انھوں نے کہا: ”بیان کرو۔“ تو انھوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو رفع الیدین کرتے، حتی کہ دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر ہو جاتے، پھر تکبیر کہتے حتی کہ ہر ہڈی اپنی جگہ آ جاتی، پھر قراءت کرتے، پھر تکبیر کہتے اور کندھوں تک ہاتھ اٹھاتے، پھر رکوع کرتے اور ہاتھوں کی ہتھیلیاں گھٹنوں پر رکھتے اور کمر کو برابر کرتے، سر نہ زیادہ جھکا ہوتا اور نہ زیادہ اٹھا ہوتا، پھر سر اٹھاتے اور سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہتے اور کندھوں تک ہاتھ اٹھاتے۔“ تو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے فرمایا: ”آپ نے بالکل سچ کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بالکل اسی طرح نماز ادا کیا کرتے تھے۔“
(أبو داؤد، کتاب الصلاة، باب افتتاح الصلاة: 730)
اس حدیث کو امام نووی رحمہ اللہ نے شرح مسلم میں، ابن قیم رحمہ اللہ نے تہذیب السنن (416/2-426) میں، ابن حبان رحمہ اللہ نے صحیح ابن حبان میں، ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے صحیح ابن خزیمہ میں، ابو حاتم رحمہ اللہ نے علل الحدیث میں، ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں، شیخ احمد عبد الرحمن البنا رحمہ اللہ نے الفتح الربانی میں، ڈاکٹر محمد مصطفیٰ اعظمی رحمہ اللہ نے تحقیق ابن خزیمہ میں، شعیب الأرنؤوط رحمہ اللہ نے تحقیق صحیح ابن حبان میں اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ابی داؤد میں صحیح کہا ہے۔
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ”کیا میں تمھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز دکھاؤں؟“ پھر (انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق نماز پڑھ کر دکھائی، اس میں) انھوں نے تکبیر کہی اور رفع الیدین کیا، پھر رکوع کے لیے تکبیر کہی اور رفع الیدین کیا، پھر سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہا اور رفع الیدین کیا اور فرمایا: ”تم اسی طرح کیا کرو۔“ اور انھوں نے سجدوں میں رفع الیدین نہیں کیا۔
(سنن الدار قطنی، كتاب الصلاة، باب ذكر التكبير ورفع اليدين الخ: 292/1، ح: 1111 – علامہ مجدی حسن نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے)
سیدنا وائل بن حجر، حسن بصری، حمید بن ہلال اور سعید بن جبیر رحمہم اللہ بغیر کسی استثناء کے فرماتے ہیں: ”تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز کی ابتدا میں، رکوع کو جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے رفع الیدین کیا کرتے تھے۔“
(جزء رفع الیدین: 34-49 – السنن الكبرى للبيهقي: 75/2، ح: 2524، 2525)
امام ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رفع الیدین کیا کرتے تھے۔“
(المحلى، مسألة رفع اليدين عند: 580/2)
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”کسی ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہ ثابت نہیں کہ وہ رفع الیدین نہ کرتا ہو اور اس روایت کی سند رفع الیدین کرنے والی روایات سے زیادہ صحیح ہو۔“
(جزء رفع اليدين: 56 – السنن الكبرى للبيهقي: 74/2، ح: 2523)
عملی تسلسل:
یہ نہیں کہ صحابہ کے بعد امت نے رفع الیدین کرنا چھوڑ دیا تھا، بلکہ جس طرح قولی اور نقلی اعتبار سے سلسلہ در سلسلہ متواتر اسناد سے یہ عمل ہم تک پہنچا ہے، بالکل اسی طرح نسل در نسل اور طبقہ در طبقہ عملی اعتبار سے بھی پہنچا ہے۔
محمد بن اسماعیل سلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”میں نے ابو نعمان محمد بن فضل کے پیچھے نماز پڑھی، انھوں نے نماز شروع کرتے وقت اور رکوع کو جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کیا، میں نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا: ’میں نے حماد بن زید کے پیچھے نماز پڑھی، انھوں نے نماز شروع کرتے وقت اور رکوع کو جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کیا، میں نے ان سے پوچھا تو انھوں نے فرمایا: ’میں نے ایوب سختیانی کے پیچھے نماز پڑھی، انھوں نے نماز شروع کرتے وقت اور رکوع کو جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کیا، میں نے ان سے پوچھا تو انھوں نے فرمایا: ’میں نے عطاء بن ابی رباح کے پیچھے نماز پڑھی، انھوں نے نماز شروع کرتے وقت اور رکوع کو جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کیا، میں نے ان سے پوچھا تو انھوں نے فرمایا: ’میں نے عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز پڑھی، انھوں نے نماز شروع کرتے وقت اور رکوع کو جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کیا، میں نے ان سے پوچھا تو انھوں نے فرمایا: ’میں نے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، انھوں نے نماز شروع کرتے وقت اور رکوع کو جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کیا، میں نے ان سے پوچھا تو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے، وہ نماز شروع کرتے وقت اور رکوع کو جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کیا کرتے تھے۔“
(السنن الكبرى للبيهقي، كتاب الصلاة، باب رفع اليدين عند الركوع وعند رفع الرأس منه: 2519)
امام بیہقی رحمہ اللہ نے اس حدیث کے تمام راویوں کو ثقہ قرار دیا ہے اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے التلخيص الحبير (219/1) میں ان کی موافقت فرمائی ہے۔
اجماع علمائے امت:
اس کے علاوہ ہر دور میں کثیر تعداد نے رفع الیدین کی روایت کو بیان کیا اور اس پر عمل کیا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد اب ہم تابعین عظام اور ان کے بعد محدثین و فقہاء پیش کرتے ہیں تاکہ ثابت ہو کہ رفع الیدین والی عظیم سنت پر نسل در نسل اور ہر دور میں عمل ہوتا رہا ہے اور یہ سنت عملی تسلسل سے ہم تک پہنچی ہے۔
تابعین عظام کے اسمائے گرامی یہ ہیں: حسن بصری، عطاء، طاؤس، مجاہد، نافع، سالم، سعید بن جبیر رحمہم اللہ۔
(ترمذی، كتاب الصلاة، باب رفع اليدين عند الركوع: 256)
محمد بن سیرین، ابو قلابہ، نعمان بن ابی عیاش، عمر بن عبد العزيز، قاسم بن محمد، عطاء بن ابی رباح، حسن بن مسلم، عبد اللہ بن دینار، ابن ابی لیلیٰ، قیس بن سعد رحمہم اللہ۔
(جزء رفع اليدين للإمام بخاری: 56-64)
ائمہ کرام اور فقہائے عظام کے اسمائے گرامی یہ ہیں: امام مالک، امام معمر، امام اوزاعی، امام ابن عیینہ، امام عبد اللہ بن مبارک، امام شافعی، امام احمد، امام اسحاق بن راہویہ، ابوالزبیر، اللیث بن سعد، یحییٰ بن سعید القطان، عبد الرحمن بن مہدی، یحییٰ بن یحییٰ، اسحاق بن ابراہیم التظلی رحمہم اللہ۔
(ترمذی، کتاب الصلاة، باب رفع اليدين عند الركوع: 256 – السنن الكبرى للبيهقي، باب رفع اليدين عند الركوع وعند رفع الرأس منه: 256)
امام بخاری، امام بیہقی اور علامہ تقی الدین سبکی رحمہم اللہ نے تابعین سے اپنے دور تک کے ان پچاس کبار علماء کے نام گنوائے ہیں جن سے با قاعدہ طور پر رفع الیدین کرنا ثابت ہے۔
(جزء رفع اليدين للإمام بخاری: 207-230 – بیہقی: 75/2 – جزء سبکی: 10 – تعلیق الممجد: 91 – عینی: 10/3)
اس سنت کے اثبات پر دلالت کرنے والی احادیث تمام محدثین نے اپنی کتابوں میں درج کی ہیں، لیکن سید المحدثین امام بخاری اور امام بیہقی رحمہما اللہ نے خاص اس موضوع پر کتابیں تحریر کی ہیں۔
ثبوت رفع الیدین کے تاریخی دلائل:
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ماہ رجب سن 9 ہجری میں اپنے ایک ساتھی کے ساتھ مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دین سیکھا، جب واپس جانے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ارجعوا إلى أهليكم فعلموهم ومروهم وصلوا كما رأيتموني أصلي
”اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جاؤ، انھیں دین سکھاؤ اور انھیں اسلامی احکام پر عمل کرنے کا حکم دو اور اس طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔“
(بخاری، كتاب الأدب، باب رحمة الناس والبهائم: 6008)
وہ فرماتے ہیں:
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا كبر رفع يديه حتى يحاذي بهما أذنيه، وإذا ركع رفع يديه حتى يحاذي بهما أذنيه، وإذا رفع رأسه من الركوع فقال سمع الله لمن حمده فعل مثل ذلك
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیر تحریمہ کے وقت کانوں تک ہاتھ اٹھاتے تھے اور جب رکوع جاتے تو بھی کانوں تک ہاتھ اٹھاتے تھے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہتے اور اسی طرح (رفع الیدین کرتے تھے)۔“
(مسلم، کتاب الصلاة، باب استحباب رفع اليدين حذو المنكبين الخ: 391)
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ خود بھی رفع الیدین کرتے تھے۔
(بخاری، کتاب الأذان، باب رفع اليدين إذا كبر وإذا ركع وإذا رفع: 737 – مسلم: 390)
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری عمر میں مسلمان ہوئے تھے، اس کا علمائے احناف کو بھی اقرار ہے، کیونکہ وہ انہی مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کی جلسہ استراحت کی روایت سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ جلسہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصود نہیں تھا، بلکہ آخری عمر میں بڑھاپے کی وجہ سے ضرورتاً تھا۔ لہذا ثابت ہوا کہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کی روایت ظاہر کرتی ہے کہ رفع الیدین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل ہے۔
اسی طرح دوسرے صحابی سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بھی متأخر الاسلام صحابی ہیں، ان کے بارے میں علامہ بدر الدین عینی حنفی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”وائل بن حجر رضی اللہ عنہ 9 ہجری میں مدینہ میں آ کر مسلمان ہوئے۔“ (عمدة القاري شرح بخاری: 9/3)
یہ حضرموت کے علاقہ میں رہتے تھے اور حضرموت سے مدینہ تک اس وقت چھ ماہ کا سفر تھا۔ پہلی دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور دین کے احکام سیکھ کر واپس اپنے وطن چلے گئے، پھر اس کے بعد ہاتھ میں دوبارہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ فرماتے ہیں:
ثم حبت بعد ذلك فى زمان فيه برد شديد فرأيت الناس عليهم جلود الشياه تحرك أيديهم تحت الثياب
”پھر کچھ عرصہ کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، ان دنوں سخت سردی تھی، میں نے لوگوں کو دیکھا کہ ان کے اوپر موٹی چادریں تھیں اور رفع الیدین کرتے ہوئے ان کے ہاتھ کپڑوں کے نیچے سے حرکت کرتے تھے۔“
(أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب رفع اليدين في الصلاة: 727 – صحیح)
اس سے معلوم ہوا کہ 10 ہجری تک رفع الیدین کرنا ثابت ہے اور 11 ہجری کے شروع ہی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے۔ اب منکرین رفع الیدین کو ایسی صحیح روایت پیش کرنی چاہیے جس میں صراحت کے ساتھ یہ ثابت ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 10 ہجری کے آخر پر یا 11 ہجری کے آغاز میں رفع الیدین کرنا چھوڑ دیا تھا، یا منع فرما دیا تھا، جب کہ ایسی کوئی روایت ثابت نہیں ہے۔
اگر کوئی یہ کہے کہ ایسی کوئی روایت تو نہیں ہے، لیکن جن روایات میں ترک رفع الیدین کا ذکر ہے ان سے لگتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رفع الیدین چھوڑتے دیکھا ہوگا تبھی یہ بیان کیا ہے۔ یہ دلیل بھی صحیح نہیں ہے، اس لیے کہ کسی صحابی سے ایسی کوئی صحیح روایت ثابت نہیں ہے۔
رفع الیدین علمائے امت کی نظر میں:
آج تک کسی بھی عالم نے یہ دعوی نہیں کیا کہ رفع الیدین منسوخ ہے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد میں منع کر دیا تھا۔ آئیے ذرا دیکھیں علمائے کرام رفع الیدین کے متعلق کیا فرماتے ہیں۔
❀ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
”رفع الیدین نماز کی زینت ہے۔“
❀ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”نماز میں ایک دفعہ رفع الیدین کرنے سے دس نیکیوں کا ثواب ملتا ہے۔“
(فتح الباری، باب رفع اليدين في التكبيرة الأولى مع الافتتاح سواء: 735)
❀ امام ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”نماز میں رفع الیدین کرنا نماز کی تکمیل کا باعث ہے۔“
(جزء رفع اليدين للبخاري: 17 – التلخيص الحبير: 28)
❀ امام شافعی، امام احمد اور امام ابن قیم رحمہم اللہ فرماتے ہیں:
”جو شخص رکوع کو جاتے ہوئے اور رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے رفع الیدین نہ کرے وہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تارک ہے۔“
(إعلام الموقعين (اردو): 523/1)
❀ امام بخاری رحمہ اللہ کے استاد امام علی بن مدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”اس حدیث (ابن عمر رضی اللہ عنہما کی) کی وجہ سے تمام مسلمانوں پر فرض ہے کہ رفع الیدین کریں۔“
(جزء رفع اليدين للبخاري)
❀ امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”جس نے نماز میں رفع الیدین چھوڑ دیا، بے شک اس نے نماز کا ایک رکن ترک کر دیا۔“
(عینی: 7/3)
امام اوزاعی اور امام حمیدی رحمہما اللہ کے علاوہ علماء کی ایک جماعت کا موقف یہ ہے کہ رفع الیدین واجب ہے، جس نے چھوڑ دیا اس کی نماز فاسد ہو جاتی ہے۔
❀ شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”نماز میں تکبیر اولیٰ کے وقت، رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے رفع الیدین کرنا چاہیے۔“
(غنية الطالبين)
رفع الیدین علمائے احناف کی نظر میں:
حقیقت پسند علمائے احناف بھی رفع الیدین کے قائل ہیں۔
❀ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”جب رکوع کرنے کا ارادہ کرے تو کندھوں یا کانوں تک رفع الیدین کرے اور جب رکوع سے سر اٹھائے، اس وقت بھی رفع الیدین کرے۔ میں رفع الیدین کرنے والے کو نہ کرنے والے سے اچھا سمجھتا ہوں، کیونکہ رفع الیدین کرنے کی احادیث زیادہ اور بہت صحیح ہیں۔“
(حجة الله البالغة: 434/2)
❀ مولانا عبد الحئی حنفی لکھنوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے رفع الیدین کرنے کا ثبوت بہت زیادہ اور نہایت عمدہ ہے، جو لوگ کہتے ہیں کہ رفع الیدین منسوخ ہے، ان کا یہ دعوی بے بنیاد ہے، ان کے پاس کوئی تسلی بخش دلیل نہیں ہے۔“
(التعلیق الممجد: 91)
❀ مزید فرماتے ہیں:
”حق بات یہ ہے کہ رکوع کو جاتے ہوئے اور رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے رفع الیدین کے ثبوت میں کوئی شک نہیں، قوی سند اور صحیح احادیث سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام سے رفع الیدین کرنا ثابت ہے۔“
(سعایہ: 213/1)
ان حضرات کے علاوہ علامہ سندھی نے حاشیہ نسائی (140/1) میں، علامہ انور شاہ کشمیری نے العرف الشذی (124/1) میں، علامہ رشید احمد گنگوہی نے فتاوی رشیدیہ (5/2) میں اور مولانا اشفاق الرحمن نے نور العینین (85) میں رفع الیدین کے صحیح اور ثابت ہونے کا اعتراف کیا ہے۔
لہذا ثابت ہوا کہ رفع الیدین سنت متواترہ ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے لے کر آج تک علماء فتوی دیتے آرہے ہیں اور اس پر مسلسل عمل ہو رہا ہے۔ لہذا تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ اس سنت پر عمل کریں۔ مسالک اور تقلید کے نام پر اسے ترک مت کریں، ورنہ گمراہی کا خطرہ ہے۔
❀ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
لو تركتم سنة نبيكم لضللتم
”اگر تم نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت چھوڑ دی تو تم ضرور گمراہ ہو جاؤ گے۔“
(مسلم، كتاب الصلاة، باب صلاة الجماعة من السنن الهدى: 654)
رکوع کا طریقہ:
❀ اللہ اکبر کہتے ہوئے رکوع میں جائیں۔
(بخاری، كتاب الأذان، باب يهوى بالتكبير حين يسجد: 803 – مسلم: 392)
❀ہتھیلیاں گھٹنوں پر رکھیں اور انھیں مضبوطی سے پکڑیں۔
❀ہاتھوں کی انگلیاں کھول کر رکھیں اور بازو کمان کی طرح تان کر رکھیں۔
❀پیٹھ بالکل سیدھی ہو، ذرا بھی خم نہ آئے، سر بھی متوازی ہو، نہ اونچا ہو، نہ نیچا۔
❀ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
فإذا ركع أمكن كفيه من ركبتيه وفرج بين أصابعه ثم هصر ظهره غير مقنع رأسه ولا صافح بخده وفي رواية: ووتر يديه فتجافى عن جنبيه
”جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو دونوں ہاتھ گھٹنوں پر مضبوطی سے جما لیتے، اپنی انگلیوں کو کھولتے، پھر اپنی کمر کو اس طرح جھکاتے کہ سر نہ اوپر اٹھا ہوتا اور نہ بالکل جھکا ہوتا۔ اور ایک روایت میں ہے: اور ہاتھ کمان کی طرح مضبوط کر لیتے کہ بازو پہلوؤں سے جدا کرتے۔
(أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب افتتاح الصلاة: 731، 734 – ترمذی: 260 – صحیح)
اطمینان سے رکوع کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ثم اركع حتى تطمئن راكعا
”پھر رکوع کر حتی کہ رکوع میں اطمینان کر لے۔“
(بخاری، کتاب الأذان، باب أمر النبي صلى الله عليه وسلم ….. الخ: 793 – مسلم: 397)
جو شخص رکوع میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ کرے اس کی نماز نہیں ہوتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تجزئ صلاة الرجل حتى يقيم ظهره فى الركوع والسجود
”آدمی کی نماز کفایت نہیں کرتی جب تک وہ رکوع اور سجدہ میں اپنی پیٹھ کو بالکل سیدھا نہیں کرتا۔“
(أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب صلاة من لا يقيم صلبه من الركوع: 855 – صحیح)
رکوع میں مندرجہ ذیل دعاؤں میں سے کوئی پڑھ لیں:
سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي
”اے اللہ! اے ہمارے پروردگار! تو (ہر عیب سے) پاک ہے اپنی تعریف کے ساتھ، اے اللہ! مجھے بخش دے۔“
(بخاری، کتاب الأذان، باب الدعاء في الركوع: 794 – مسلم: 484)
سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ
”میرا پروردگار پاک ہے (ہر عیب سے) سب سے بلند ہے۔“
(مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب استحباب تطويل القراءة في صلاة الليل: 772)
سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
”اے اللہ! تو (ہر عیب سے) پاک ہے اپنی تعریف کے ساتھ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔“
(مسلم، كتاب الصلاة، باب ما يقال في الركوع والسجود: 485)
اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعَظْمِي وَعَصَبِي
”اے اللہ! میں تیرے ہی لیے جھکا، تجھ پر ایمان لایا، تیرا ہی فرماں بردار بنا، تیرے ہی لیے ڈر کر عاجز ہو گئے میرے کان، میری آنکھیں، میرا مغز، میری ہڈیاں اور میرے اعصاب۔“
(مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب صلاة النبي صلى الله عليه وسلم ودعائه بالليل: 771)
سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ
”فرشتوں اور روح (جبریل) کا رب بہت پاکیزگی والا، بہت مقدس ہے۔“
(مسلم، كتاب الصلاة، باب ما يقال في الركوع والسجود: 487)
سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ
”پاک ہے بہت بڑی قدرت و طاقت والا اور بہت بڑے ملک والا اور بڑائی اور عظمت والا۔“
(أبو داؤد، کتاب الصلاة، باب ما يقول الرجل في ركوعه و سجوده: 873 – صحیح)
رکوع میں قرآن مجید کی تلاوت ممنوع ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أَلَا وَإِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا
”غور سے سنو! بلاشبہ مجھے رکوع اور سجدہ کی حالت میں تلاوت قرآن سے منع کیا گیا ہے۔“
(مسلم، کتاب الصلاة، باب النهي عن قراءة القرآن في الركوع والسجود: 479)
رکوع و سجدہ میں قراءت قرآن منع ہے، قرآنی دعا پڑھنا منع نہیں ہے، کیونکہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
”ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز میں ایک ہی آیت بار بار پڑھتے رہے:
إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(المائدة: 118)
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدہ میں بھی یہی آیت پڑھتے رہے۔“
(مسند أحمد: 21386 – صحیح)
لہذا اس حدیث سے ثابت ہوا کہ رکوع و سجدہ میں قرآن بطور دعا پڑھنا جائز ہے اور بطور قراءت جائز نہیں۔
قومہ کا بیان:
❀ رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے رفع الیدین کریں، یعنی دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھائیں۔ (اس کے تفصیلی دلائل پیچھے گزر چکے ہیں)
❀ رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہیں۔
(بخاری، کتاب الأذان، باب رفع اليدين في التكبيرة الأولى من الافتتاح سواء: 735 – مسلم: 865/139)
❀ بالکل سیدھے اور اطمینان سے کھڑے ہو جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ثم ارفع حتى تعتدل قائما
”پھر رکوع سے اٹھے، حتی کہ تو بالکل سیدھا کھڑا ہو جائے۔“
(بخاری، کتاب الأذان، باب أمر النبي صلى الله عليه وسلم الذي لا يتم ركوعه بالإعادة: 793)
❀ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قال سمع الله لمن حمده قام حتى نقول قد أوهم
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہتے تو کھڑے ہو جاتے، حتی کہ ہم سمجھتے کہ (شاید) آپ تمام بھول گئے ہیں۔“
(مسلم، كتاب الصلاة، باب اعتدال أركان الصلاة وتخفيفها في تمام: 473)
قومہ کی دعائیں:
❀ رکوع کے بعد قیام کی حالت میں مندرجہ ذیل میں سے کوئی دعا پڑھیں:
رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ
”اے ہمارے رب! تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں۔ بہت زیادہ اور پاکیزہ تعریف جس میں برکت کی گئی ہے۔“
(بخاری، كتاب الأذان، باب: 799)
اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ
”اے ہمارے اللہ! تیرے ہی لیے ساری تعریف ہے آسمانوں، زمین اور ہر اس چیز کے بھراؤ کے برابر جو تو چاہے۔“
(مسلم، كتاب الصلاة، باب ما يقول إذا رفع رأسه من الركوع: 476)
اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ، اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْوَسَخِ
”اے اللہ! تیرے ہی لیے تعریف ہے، اتنی جس سے آسمان بھر جائیں اور زمین بھر جائے اور ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ بھر جائے اور اس کے بعد جو چیز تو چاہے وہ بھر جائے، اے اللہ! مجھے برف، اولے اور ٹھنڈے پانی کے ساتھ پاک کر دے۔ اے اللہ! مجھے گناہوں اور خطاؤں سے اس طرح پاک کر دے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔“
(مسلم، كتاب الصلاة، باب ما يقول إذا رفع رأسه من الركوع: 476/204)
رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ
”اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے ساری تعریف ہے، اتنی جس سے آسمان بھر جائیں اور زمین بھر جائے اور دونوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ بھر جائے اور اس کے بعد جو چیز تو چاہے وہ بھر جائے، اے تعریف اور بزرگی کے لائق! سب سے سچی بات جو بندے نے کہی وہ یہ ہے، جبکہ ہم سب تیرے بندے ہیں، اے اللہ! کوئی روکنے والا نہیں اس چیز کو جو تو نے عطا کی اور وہ چیز کوئی دینے والا نہیں جو تو نے روک دی اور کسی کا مقام و مرتبہ اسے تیرے عذاب سے بچا نہیں سکتا۔“
(مسلم، كتاب الصلاة، باب ما يقول إذا رفع رأسه من الركوع: 477)