مضمون کے اہم نکات
نماز عید کی قضاء کا بیان:
چونکہ نماز عید فرض عین ہے (تفصیل کے لیے دیکھیں عنوان ”نماز عید فرض عین ہے“ ص: 11) سو باعذر یا بلا عذر نماز عید فوت ہونے کی صورت میں اس کی قضاء لازم ہے اور جب تک یہ فرض ادا نہ کیا جائے اس کی فرضیت ساقط نہیں ہوتی۔
نماز عید چھوٹنے کی صورت میں کتنی رکعت نماز ادا کی جائے:
نماز عید فوت ہونے کی صورت میں دو رکعت نماز پڑھی جائے گی، کیونکہ نماز عید دراصل دو رکعت ہی ہے اور یہ کسی اور نماز سے بدل بھی نہیں، لہذا قضا کی صورت میں اصل ہیئت ہی معتبر ہوگی، اس کے دلائل درج ذیل ہیں۔
1۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں:
صلاة السفر ركعتان، وصلاة الجمعة ركعتان، والفطر والأضحى ركعتان، تمام غير قصر على لسان محمد صلى الله عليه وسلم
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زبانی: سفر، جمعہ، عید الفطر اور عید الاضحیٰ کی مکمل اور بلاقصر نماز دو دو رکعت ہے۔
[سنن ابن ماجه كتاب الصلاة، باب تقصير الصلاة في السفر: 1064 – صحیح ابن خزیمة: 1425 – بیهقی: 199/3 – إسناده حسن]
فقه الحدیث:
عید الفطر اور عید الاضحیٰ کی مکمل اور بلاقصر نماز دو رکعت ہے نیز یہ نماز کسی اور نماز (یعنی چار رکعت نماز) سے بدل بھی نہیں لہذا قضا کی صورت میں دو رکعت نماز ہی پڑھی جائے گی۔
نماز عیدین کو نماز جمعہ پر قیاس کرنا صحیح نہیں، کیونکہ جمعہ ظہر سے بدل ہے اور جمعہ فوت ہونے کی صورت میں اصل نماز ظہر کا التزام کیا جائے گا، جب کہ نماز عیدین میں یہ صورت ناپید ہے، لہذا قضا کی صورت میں نماز عیدین کو نماز جمعہ پر قیاس کرنا باطل ہے۔
مزید دلائل:
1۔ عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
إذا فاته العيد صلى ركعتين
جب کسی شخص کی نماز عید فوت ہو تو وہ (بطور قضا) دو رکعت نماز پڑھے۔
[صحیح بخاری، کتاب العيدين، تحت باب إذا فاته العيد يصلي ركعتين – مصنف ابن أبي شيبة: 5801 – إسناده صحیح]
صحیح بخاری میں یہ روایت معلق منقول ہے لیکن مصنف ابن ابی شیبہ میں یہ روایت باسند صحیح مذکور ہے نیز ابن جریج کا عطاء سے عنعنہ سماع پر محمول ہے۔
2۔ ربیع بن عبد اللہ بن خطاف سے روایت ہے کہ حسن بصری رحمہ اللہ نے بیان کیا:
يصلي مثل صلاة الإمام
جس کی نماز عید فوت ہو جائے، وہ امام کی نماز کی مثل (یعنی دو رکعت نماز) ادا کرے گا۔
[مصنف ابن أبي شيبة: 5806 – إسناده حسن۔ ربیع بن عبد اللہ بن خطاف صدوق راوی ہے]
ابن قدامہ لکھتے ہیں: ابراہیم نخعی، مالک، شافعی، ابو ثور اور ابن منذر بھی اس موقف کے قائل ہیں کہ نماز عید فوت ہونے کی صورت میں دو رکعت نماز ہی پڑھی جائے گی اور قضا میں اس لیے دو رکعت نماز پڑھی جائے گی، کیونکہ یہ قضا نماز ہے اور باقی تمام نمازوں کی طرح نماز عید فوت ہونے کی صورت میں عید کی قضا نماز بھی نماز عید کی اصل صورت پر ادا کی جائے گی۔
[المغني مع الشرح الكبير: 244/2]
نماز عید کی قضا میں چار رکعت نماز پڑھنا غیر مسنون ہے:
امام احمد اور سفیان ثوری کا موقف ہے کہ جس کی نماز عید فوت ہو وہ بطور قضا چار رکعت نماز ادا کرے۔
[سبل السلام: 491/2]
یہ موقف ضعیف ہے کیونکہ اس بارے کوئی مرفوع حدیث ثابت نہیں ہے لہذا نماز عید فوت ہونے کی صورت میں چار رکعت نماز پڑھنا مشروع نہیں۔ نیز عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول درج ذیل آثار ضعیف ہیں:
1۔ شعبی بیان کرتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد کیا:
من فاتته الصلاة يوم العيد فليصل أربعا
جس شخص سے نماز عید فوت ہو وہ چار رکعت نماز ادا کرے۔
[مصنف عبدالرزاق: 5713 – أحكام العيدين للفريابي: 136 – مصنف ابن أبي شيبة: 5798 – إرواء الغليل: 121/3 – إسناده ضعیف]
مصنف ابن ابی شیبہ اور مصنف عبدالرزاق میں سفیان ثوری کی تدلیس ہے، احکام العیدین میں اس کے درجے کے راوی ہشیم بن بشیر واسطی کی تدلیس ہے اور شعبی کا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں، لہذا تدلیس اور انقطاع کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے۔
2۔ مسروق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا:
من فاته العيد فليصل أربعا
جس کی نماز عید چھوٹ جائے وہ چار رکعت نماز پڑھے۔
[مصنف ابن أبي شيبة: 5799 – إسناده ضعیف]
اس سند میں ہشیم بن بشیر اور حفص بن غیاث کی تدلیس ہے اور حجاج بن ارطاہ ضعیف مدلس راوی ہے۔
نماز عید فوت ہونے کی صورت میں اکیلے اور باجماعت نماز پڑھنا دونوں طریقے درست ہیں:
نماز عید فوت ہونے کی صورت قضائے نماز کے لیے فرداً فرداً اور باجماعت نماز پڑھنا دونوں صورتیں جائز ہیں، ابن قدامہ حنبلی کہتے ہیں: نماز عید سے پیچھے رہ جانے والے شخص کو اختیار ہے چاہے تو اکیلا نماز پڑھ لے اور چاہے تو باجماعت نماز کا اہتمام کرے۔
[المغني مع الشرح الكبير: 244/2]
البتہ باجماعت نماز کا اہتمام کرنا افضل ہے کیونکہ باجماعت نماز پڑھنے کا ثواب تنہا نماز پڑھنے سے ستائیس گنا زیادہ ہے۔
[بخاری: 645 – مسلم: 650]
پھر وہ جہاں چاہے نماز پڑھ سکتا ہے، ابن قدامہ بیان کرتے ہیں: ابو عبد اللہ سے سوال ہوا کہ نماز عید سے پیچھے رہ جانے والا کہاں نماز پڑھے؟ انہوں نے کہا: چاہے تو عید گاہ چلا جائے اور چاہے تو کہیں بھی ادا کر لے (اس کی نماز ہو جائے گی)۔
[المغني لابن قدامة مع الشرح الكبير: 244/2]
عیدین کے دنوں میں روزہ رکھنا حرام ہے:
چونکہ عیدین کے دن خوشی و فرحت کے اظہار اور کھانے پینے کے دن ہیں اس لیے ان دو دنوں میں فرض، نفل اور نذر نیز کسی بھی قسم کا روزہ رکھنا حرام ہے۔
1۔ ابو عبید مولی ابن ازہر بیان کرتے ہیں:
شهدت العيد مع عمر بن الخطاب رضى الله عنه فقال: هذان يومان نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صيامهما، يوم فطركم من صيامكم، واليوم الآخر تأكلون فيه من نسككم
میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید میں حاضر ہوا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو دنوں کے روزہ سے منع فرمایا ہے یعنی:
تمہارے روزہ ترک کرنے (عید الفطر) کے دن۔
دوسرا وہ دن (عید الاضحیٰ) جس میں تم اپنی قربانیوں کا گوشت تناول کرتے ہو۔
[صحيح بخاري، كتاب الصوم، باب صوم يوم الفطر: 1990 – مسلم، كتاب الصيام، باب تحريم صوم يومي العيدين: 1137 – أبو داؤد، كتاب الصيام باب فى صوم العيدين: 2416 – جامع ترمذي، كتاب الصوم، باب ما جاء فى كراهية الصوم يوم الفطر ويوم النحر: 771]
2۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں:
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن صيام يومين: يوم الفطر ويوم النحر
بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الفطر اور یوم نحر دو دنوں کے روزے سے منع فرمایا ہے۔
[صحيح بخاري كتاب الصوم، باب صوم يوم الفطر: 1991 – صحیح مسلم، كتاب الصيام، باب تحريم صوم يومي العيدين: 827 – سنن أبو داود، كتاب الصوم، باب في صوم العيدين: 2417 – جامع ترمذی، كتاب الصوم، باب ما جاء في كراهية الصوم يوم الفطر ويوم النحر: 772]
❀ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں:
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن صيام يومين: يوم الأضحى ويوم الفطر
یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دنوں یعنی عید الاضحیٰ کے دن اور عید الفطر کے دن کے روزہ سے منع کیا ہے۔
[صحيح مسلم، كتاب الصيام باب تحريم صوم يومي العيدين: 1138۔ نیز یہی روایت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی منقول ہے: مسلم: 114]
حافظ ابن حجر بیان کرتے ہیں (ان احادیث کی رو سے) عیدین کے دو دنوں میں روزہ رکھنا حرام ہے خواہ یہ روزے نذر، کفارہ، نفل، قضاء اور حج تمتع ہی کے ہوں یہ عمل بالاجماع حرام ہے۔
[فتح الباري: 304/2]
❀ امام نووی رقم طراز ہیں:
علماء کا ان دنوں عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے روزوں کی حرمت پر اجماع ہے، خواہ ان دونوں میں روزہ رکھنے والا نذر، نفل، کفارہ، یا کوئی اور روزہ رکھے ان دو دنوں میں ہر حالت میں روزہ رکھنا حرام ہے۔
پھر اگر کوئی شخص عمداً ان معین دو دنوں کے روزے کی نذر مانے (تو اس کی نذر واقع ہوگی) اس بارے شافعی اور جمہور علماء کا موقف ہے کہ نہ اس شخص کی نذر منعقد ہوگی، اور نہ اس پر ان دو دنوں کے روزوں کی قضا لازم آئے گی اور ابو حنیفہ کہتے ہیں، اس کی نذر بھی واقع ہوگی اور اس پر ان روزوں کی قضا بھی لازم آئے گی۔ نیز ابو حنیفہ کہتے ہیں اگر کوئی شخص ان دو دنوں کے روزے رکھ لے تو اس کی نذر پوری ہو جائے گی لیکن باقی تمام علماء ابو حنیفہ کے مخالف ہیں (اور جمہور علماء کا مذہب ہی راجح ہے)۔
[شرح النووي: 14/8]
عیدین کے روزہ کی ممانعت کی حکمت:
علامہ شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: عیدین کے روزوں کی ممانعت کی حکمت یہ ہے کہ ان دو دنوں میں روزہ رکھنا بندوں کا اللہ تعالیٰ کی ضیافت سے اعراض ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لیے تیار کی ہے۔
[نيل الأوطار: 278/4]