نماز جنازہ میں قہقہ ناقص وضو نہیں

یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال : کیا نماز جنازہ میں قہقہ لگانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟ قرآن و حدیث کی رو سے مسئلہ بتا دیں۔
جواب : احناف کے نزدیک نواقص وضو میں سے قہقہ بھی ہے اور یہ صرف رکوع و سجود والی نماز کے ساتھ خاص ہے، نمازِ جنازہ میں چونکہ رکوع و سجود نہیں اس لیے اگرچہ اس سے گریز کرنا چاہیے تاہم جنازے میں اگر کوئی شخص زور زور سے ہنسے تو شریعت کی نظر میں اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا۔
فقہ حنفیہ کی مشہور کتاب قدوری (ص/20) میں ہے :
«والقهقهة فى كل صلاة ذات ركوع وسجود»
”ہر رکوع اور سجدے والی نماز میں قہقہ لگانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔“
قدوری میں بین السطور لکھا ہے :
«أحترز به عن صلاة الجنازة وسجدة التلاوة»
”رکوع اور سجدے کی قید لگا کر نمازِ جنازہ اور سجدۂ تلاوت سے احتراز کیا گیا ہے۔“
اگر کہا جاتا کہ قہقہ سے نماز ٹوٹ جاتی ہے تو درست تھا مگر کہا یہ گیا کہ نماز میں قہقہہ سے نماز کے ساتھ ساتھ وضو بھی ٹوٹ جاتا ہے، بالکل غلط اور بے دلیل بات ہے۔ احناف جو روایات پیش کرتے ہیں وہ ضعیف ہیں اور حاشیہ قدوری میں یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ یہ روایتیں مرسل ہیں اور مرسل محدثین کے ہاں ضعیف کی اقسام سے ہے۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️

نماز جنازہ میں قہقہ ناقص وضو نہیں