مضمون کے اہم نکات
نفل نمازوں کا بیان
نفل نماز کی فضیلت :
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
واعلموا أن خير أعمالكم الصلاة
”جان لو تمھارے اعمال میں سے بہترین عمل نماز ہے۔“
[ ابن ماجه، كتاب الطهارة، باب المحافظة على الوضوء : 277 – صحيح ]
❀ سیدنا ربیعہ بن کعب الاسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وضو کا پانی اور دوسری چیزیں لے کر حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (خوش ہو کر ) فرمایا : مانگ جو ضرورت ہے۔ میں نے عرض کی : ”میں آپ سے جنت میں آپ کا ساتھ مانگتا ہوں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
فأعني على نفسك بكثرة السجود
”تو کثرت سے نوافل ادا کر کے اس میں میرا تعاون کر۔“
[ مسلم، كتاب الصلاة، باب فضل السجود والحث عليه : 489 ]
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ما من عبد يسجد لله سجدة إلا رفع الله بها درجة وحط عنه بها خطيئة
”جب بھی بندہ اللہ کو سجدہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کا ایک درجہ بلند کرتا اور اس کا ایک گناہ مٹاتا ہے۔“
[ نسائی، کتاب التطبيق، باب ثواب من سجد لله سجدة : 1140 – ترمذی: 388 – ابن ماجه : 1423 – صحيح ]
نوافل کے اوقات :
❀ اس کی تفصیل نمازوں کے ممنوع اوقات میں ملاحظہ فرمائیں۔
نوافل پڑھنے کا طریقہ :
❀ نفل نماز دو دو رکعات کر کے پڑھنی چاہیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
صلاة الليل والنهار مثنى مثنى
”دن اور رات میں (نفل ) نماز دو، دو رکعات پڑھنی چاہیے۔“
[ أبوداود، كتاب الصلاة، باب في صلاة النهار : 1295 – ترمذی : 597 – ابن ماجه : 1322 – صحیح ]
نوافل گھر میں پڑھنا افضل ہے :
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
فإن أفضل الصلاة صلاة المرء فى بيته إلا المكتوبة
”فرضوں کے علاوہ (نفل) نماز گھر میں پڑھنا آدمی کے لیے افضل ہے۔“
[ بخارى، كتاب الأذان، باب صلاة الليل : 731 – مسلم : 781 ]
نوافل بیٹھ کر ادا کرنا :
❀ نفل نماز کھڑے ہو کر پڑھنا افضل ہے۔
❀نفل بلا عذر بیٹھ کر ادا کرنا جائز ہے، لیکن اس سے ثواب میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إن صلى قائما فهو أفضل ، ومن صلى قاعدا فله نصف أجر القائم
”اگر کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو وہ افضل ہے اور جو بیٹھ کر پڑھے تو اسے کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نسبت آدھا ثواب ملے گا۔“
[ بخاری، کتاب التقصير، باب صلاة القاعد : 1115 ]
❀نوافل بیٹھ کر پڑھنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ نوافل بیٹھ کر شروع کیے جائیں، جب قراءت ختم کرنے میں چند آیات رہ جائیں تو کھڑے ہو جائیں، پھر رکوع وسجود کریں۔ دوسری رکعت میں بھی ایسے ہی کیا جا سکتا ہے ۔
[ بخاری، کتاب التقصير، باب إذا صلى قاعدا ثم صح أو وجد خفة تمم ما بقى : 1119 – مسلم : 113/731]
نوافل سواری پر :
❀نفل نماز سفر میں سواری پر بیٹھ کر پڑھنا جائز ہے۔
❀سواری پر نوافل پڑھتے ہوئے قبلہ رخ ہونا ضروری نہیں، جس طرف سواری کا رخ ہے ادھر ہی نماز پڑھ سکتے ہیں۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
كان النبى صلى الله عليه وسلم يصلي فى السفر على راحلته حيث توجهت به يومئ إيماء صلاة الليل إلا الفرائض ويوتر على راحلته
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں رات کی (یعنی نفل ) نماز سواری پر پڑھ لیتے تھے، اسی طرف جدھر سواری کا رخ ہوتا ، (رکوع و سجود ) اشارہ سے کرتے تھے، لیکن فرض نماز سواری پر نہیں پڑھتے تھے ، وتر بھی سواری پر پڑھ لیتے تھے۔“
[ بخارى، كتاب الوتر، باب الوتر في السفر : 1000 – مسلم : 700/39 ]
❀نماز شروع کرتے وقت قبلہ رخ ہونا ضروری ہے، پھر جدھر سواری کا رخ ہو جائے ، جائز ہے۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا سافر فأراد أن يتطوع استقبل بناقته القبلة فكبر ثم صلى حيث وجهه ركابه
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں نفل پڑھنے کا ارادہ کرتے تو اپنی سواری کو قبلہ رخ کرتے اور اللہ اکبر کہہ کر (نماز شروع کر دیتے) پھر سواری کا رخ جدھر بھی ہوتا ، نماز پڑھتے رہتے۔“
[ أبو داؤد، كتاب صلاة السفر ، باب التطوع على الراحلة والوتر : 1225 – حسن ]
رکوع و سجود سر کے اشارے سے کریں سجدے میں رکوع کی نسبت سر زیادہ جھکائیں۔
[ أبو داؤد، کتاب صلاة السفر ، باب التطوع على الراحلة والوتر : 1227 – ترمذی : 351 – صحیح ]
نفل نماز میں قراءت کا بیان :
❀قراءت کے مسائل نماز کا مسنون طریقہ کے باب میں قراءت کے مسائل کے عنوان کے تحت ملاحظہ فرمائیں ۔
❀اگر نفل نماز باجماعت ادا کر رہے ہیں تو جماعت کے باب میں قراءت کے مسائل“ قراءت کے مسائل” کے ضمن میں ملاحظہ فرمائیں۔ باقی مندرجہ ذیل ہیں:
قرآن مجید سے دیکھ کر قراءت کرنا :
❀ نفل نماز میں بھی قراءت زبانی کرنی چاہیے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا ، لیکن ایک موقوف روایت سے مصحف سے دیکھ کر قراءت کرنے کا جواز معلوم ہوتا ہے، صحیح بخاری میں ہے:
كانت عائشة يؤمها عبد ها ذكوان من المصحف
”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کا غلام ذکوان قرآن سے دیکھ کر امامت کرواتا تھا۔“
[ بخارى، كتاب الأذان، باب إمامة العبد والمولى، تعليقا، قبل الحديث : 692 ]
قرآن مجید کی بعض آیات کا جواب دینا :
❀ قرآن مجید میں بعض آیات ایسی ہیں جنھیں پڑھنے کے بعد ان کا جواب بھی دینا چاہیے۔ مثلاً سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
إذا مر بآية فيها تسبيح سبح ، وإذا مر بسؤال سأل ، وإذا مر بتعوذ تعوذ
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تسبیح والی آیت سے گزرتے تو سبحان الله کہتے ، جب سوال والی آیت سے گزرتے تو سوال کرتے اور جب پناہ مانگنے والی آیت سے گزرتے تو أعوذ بالله پڑھتے تھے۔“
[ مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب استحباب …. الخ : 772 ]
سورة القیامہ کی آخری آیت اليس ذلك بقادر على أن يحيي الموتى کے جواب میں سبحانك فبلى پڑھنا چاہیے ۔
[ ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب الدعاء في الصلاة : 884 – صحیح ]
سورۃ الاعلیٰ کی پہلی آیت کے جواب میں سبحان ربي الأعلى پڑھنا جائز ہے ۔
[ أبوداؤد، كتاب الصلاة، باب الدعاء في الصلاة : 883 – صحيح ]
کسی بھی حساب والی آیت کے جواب میں اللهم حاسبنا حسابا يسيرا پڑھنا چاہیے۔
[ صحيح ابن خزيمة : 363،362/1 ، ح : 849 – صحیح ابن حبان : 7372 – امام حاکم اور امام ذہبی نے اسے مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے ]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب سورہ واقعہ کی درج ذیل آیات تلاوت فرماتے تو ان کا جواب دیتے تھے:
أَفَرَأَيْتُم مَّا تَحْرُثُونَ ﴿٦٣﴾ أَأَنتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ ﴿٦٤﴾
(56-الواقعة:63، 64)
جواباً فرماتے : بل أنت يا رب ! بل أنت يا رب ! بل أنت يا رب !
أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ ﴿٦٨﴾ أَأَنتُمْ أَنزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنزِلُونَ ﴿٦٩﴾
(56-الواقعة: 68، 69)
جواباً فرماتے : بل أنت يا رب ! بل أنت يا رب ! بل أنت يا رب !
أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ ﴿٧١﴾ أَأَنتُمْ أَنشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنشِئُونَ ﴿٧٢﴾
(56-الواقعة:71، 72)
جواباً فرماتے : بل أنت يا رب ! بل أنت يا رب ! بل أنت يا رب !
[ مستدرك حاكم : 477/2 ، ح: 3780، إسناده حسن لذاته، شداد بن جابان الصنعانی صدوق، حسن الحديث ذكره ابن حبان في الثقات (441/6) ووثقه الحاكم والذهبي بتصحيح حديثه، مستدرك حاكم : 477/2، ح : 3780 ]
❀ باقی ہر نفل نماز کی قراءت کے خاص مسائل اس کے عنوان میں آئیں گے۔ (ان شاء اللہ )