مضمون کے اہم نکات
نصرۃ الرحمن فی تحقیق قیام رمضان :۔
”محمد شعیب قریشی“ صاحب (دیوبندی) نے ”سمیع اللہ“ صاحب کے رد میں ایک مضمون بنام ”اظہار الحق الصحیح فی عدد التراویح“ لکھا ہے۔ ”نصرۃ الرحمن“ میں اس مضمون کا مختصر تنقیدی جائزہ پیش خدمت ہے۔ شعیب صاحب کا بیان قوله سے اور اس پر رد ”اقول“ سے لکھا گیا ہے۔
1 : قولہ : ص 1 :۔
اس پر سات افراد نے جرح کی ہے یعنی عیسیٰ بن جاریہ ۔۔۔۔۔
اقول :۔
ابوداود رحمہ اللہ کی جرح ثابت نہیں ہے، باقی بچے پانچ (ابن معین رحمہ اللہ، نسائی رحمہ اللہ، الساجی رحمہ اللہ، العقیلی رحمہ اللہ اور ابن عدی رحمہ اللہ) ان کے مقابلے میں توثیق درج ذیل علماء سے ثابت ہے۔
ابو زرعہ رحمہ اللہ، ابن حبان رحمہ اللہ، ابن خزیمہ رحمہ اللہ، ہیثمی رحمہ اللہ، الذہبی رحمہ اللہ، البوصیری رحمہ اللہ اور ابن حجر رحمہ اللہ لہذا یہ راوی جمہور کے نزدیک صدوق یا حسن الحدیث ہے۔
2 : قولہ : ص 2 :۔
ومن المعلوم أن صحة السند لا تستلزم صحة المتن
اقول :۔
اگر مولانا مبارکپوری وغیرہ کے قول کا یہ مطلب ہے کہ بظاہر صحیح سند نظر آنے والی روایت اگر شاذ یا معلول ہو تو اس سے حدیث کا فی نفسہ صحیح ہونا لازم نہیں آتا تو یہ بات صحیح ہے۔ اور اگر اس کا کوئی اور مطلب ہے تو ہم اعلان کرتے ہیں کہ مبارکپوری صاحب کا قول صحیح نہیں ہے۔ بلکہ صحیح یہی ہے کہ جو سند صحیح ہے اس کا متن بھی صحیح ہے۔
3 : قولہ : ص 2 :۔
”اور ہیثمی کی تحسین سے دل مطمئن نہیں۔“
اقول :۔
اگر مبارکپوری صاحب کا دل مطمئن نہیں تو کیا ہوا، سرفراز صفدر صاحب کا دل تو مطمئن ہے۔ سرفراز صفدر صاحب لکھتے ہیں : اپنے وقت میں اگر علامہ ہیثمی رحمہ اللہ کو صحت اور سقم کی پرکھ نہیں تو اور کس کو تھی؟ (احسن الکلام : 233/1، توضیح الکلام : 279/1)
ہمارے نزدیک حافظ ہیثمی رحمہ اللہ کی توثیق تصحیح وغیرہ نہ تو مطلقاً مقبول ہے اور نہ مطلقاً مردود۔ بلکہ قرائن کی روشنی میں اس کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ جمہور کی موافقت ایک زبردست قرینہ ہے، چونکہ سمیع صاحب کی ذکر کردہ روایت کے راوی کی توثیق میں جمہور نے ان کی موافقت کی ہے لہذا یہ توثیق مقبول ہے۔
4 : قولہ : ص 3 :۔
لا بأس به
اقول :۔
یہ کلمات توثیق میں سے ہے۔ دیکھئے ”الرفع والتکمیل فی الجرح والتعدیل“ ص : 77
5 : قولہ : ص 3 :۔
”جرح مفسر تعدیل پر مقدم ہوتی ہے۔“
اقول :۔
بشرطیکہ جرح مفسر ہو اور تعدیل مبہم، اگر دونوں مفسر ہوں تو جمہور کی بات مقدم ہوگی ، یاد رہے جرح مفسر سے مراد یہ ہے کہ راوی کو مدلس مختلط اور ضعیف فی فلان وغیرہ کہا جائے۔ صرف ضعیف یا متروک یا منکر الحدیث کہہ دینا جرح مفسر نہیں ہے۔ خود قریشی صاحب نے ص 25 پر ابراہیم بن عثمان العبسی کے بارے میں لکھا ہے : ”کہ جن اہل علم نے عدالت کی رو سے اس کو متروک اور ضعیف کہا ہے تو وہ سب جروحات مبہم اور غیر مفسر ہیں۔۔۔“ حالانکہ ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان مذکور کو متعدد علماء نے متروک الحدیث اور منکر الحدیث وغیرہ لکھا ہے۔ اگر یہی جروح عیسیٰ بن جاریہ رحمہ اللہ پر ہوں تو مفسر بن جاتی ہیں اور اگر یہ ابوشیبہ پر ہوں تو غیر مفسر، یہ کیسا انصاف ہے؟
6 : قولہ : ص 4 :۔
”یہ روایت بھی عیسیٰ بن جاریہ رحمہ اللہ کی وجہ سے قابل وثوق نہیں کیونکہ اس راوی پر ائمہ ماہرین فن جرح و تعدیل کی اکثریت نے نہایت مفسر جرح کی ہے۔“
اقول :۔
یہ تو دعویٰ ہے اس کی دلیل چاہئے سمیع صاحب نے آٹھ محدثین کی توثیق نقل کی ہے جب کہ قریشی صاحب نے چھ کی جرح (ان میں سے ایک کی جرح ثابت نہیں ہے لہذا باقی بچے پانچ) اب ثالث حضرات خود فیصلہ کریں کہ اکثریت کس طرف ہے۔ بلکہ اگر مزید تحقیق کی جائے تو موثقین کا دائرہ نو سے بھی بڑھ سکتا ہے۔ مفسر جرح والی بات مردود ہے۔
7 : قولہ : ص 4 :۔
”کیونکہ اس روایت میں تراویح کا لفظ موجود ہی نہیں۔“
اقول :۔
حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ (جو کہ ہماری تحقیق کے مطابق موضوع ہے) اور عمل فاروق رضی اللہ عنہ (جو کہ قریشی صاحب نے پیش کیا ہے اور ہمارے نزدیک ثابت نہیں ہے) میں کیا ”تراویح“ کا لفظ موجود ہے؟ مہربانی فرما کر ہمیں یہ لفظ دکھایا جائے۔
8 : قولہ : ص 4 :۔
”یہ روایت مسند احمد : 115/5 (زیادات عبد اللہ) میں بھی موجود ہے۔“
اقول :۔
میرا خیال ہے کہ قریشی صاحب نے یہ بات حبیب الرحمن اعظمی کی کتاب ”رکعات تراویح“ ص : 36 سے نقل کر کے لکھی ہے۔ والله اعلم
بہرحال وہاں سے منقول ہو یا اصل کتاب سے ، یہ عبارت اپنے کاتب کے مبلغ علم کا ہمیں ثبوت بہم پہنچاتی ہے کہ وہ کتنے پانی میں ہے ؟
ہمارے پاس مسند احمد کا جو نسخہ ہے ان میں ج 5 ص 115 ح 21415 سطر نمبر 19 پر یہ حدیث ہے۔ عبداللہ بن احمد بن حنبل رحمہ اللہ کہتے ہیں : حدثني أبى ثنا أبو بكر بن أبى شيبة یہاں ”أبى“ سے مراد احمد بن حنبل رحمہ اللہ ہیں جیسا کہ واضح ہے۔ لہذا معلوم ہوا کہ یہ روایت احمد رحمہ اللہ کی مسند میں سے ہے نہ کہ زیادات میں سے۔ زیادات میں سے تو وہ روایت ہوتی ہے جو کہ عبداللہ بن احمد رحمہ اللہ نے اپنے والد بزرگوار کے علاوہ کسی دوسرے شخص سے بیان کی ہو۔
تنبیہ :۔
بعد میں تحقیق سے معلوم ہوا کہ مسند احمد کے مطبوعہ نسخوں میں حدثني أبي کا اضافہ غلط ہے صحیح یہ ہے کہ یہ روایت زیادات عبداللہ بن احمد رحمہ اللہ سے ہے۔ دیکھئے اطراف المسند (184/1) اور اتحاف المہرہ (182/1 ح 12) و جامع المسانید والسنن لابن کثیر (28/1 ح 22)
9 : قولہ : ص 5
”اس حدیث پر ہم نے اہلحدیث حضرات کو چیلنج دیا تھا کہ کم از کم دس آدمی 12 سو سال میں دکھا دیں جو 8 رکعات پڑھتے ہوں۔“
اقول :۔
یہ چیلنج بازی فضول ہے۔ اصل فیصلہ تو کتاب وسنت و اجماع کی روشنی میں ہوگا نہ کہ دس آدمیوں کے عمل پر ، اور یہ چیلنج اس بات کی دلیل ہے کہ قریشی صاحب وغیرہ کتاب وسنت سے راہ فرار اختیار کر کے اصل موضوع سے ہٹا کر لوگوں کے عمل کے چکر میں لانا چاہتے ہیں ، حدیث لوگوں کے عمل کی محتاج نہیں ہے بلکہ لوگوں کا عمل حدیث کا محتاج ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کیا خوبصورت کلام نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا :
ما كنت لأدع سنة النبى صلى الله عليه وسلم لقول أحد
(صحیح البخاری : 1563)
میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کسی کے قول کی وجہ سے نہیں چھوڑ سکتا۔
اگر چیلنج بازی کا شوق ہے تو میں پوچھتا ہوں کہ خیر القرون میں سے کسی ایک ثقہ شخص سے یا متقدمین میں سے کسی ایک ثقہ ماہر اہل فن صاحب روایت محدث سے ثابت کر دیں کہ اس نے یہ کہا ہو کہ بیس رکعات پڑھنا سنت مؤکدہ ہے اور اس سے کم یا زیادہ جائز نہیں ہے بلکہ اپنے امام صاحب سے ہی یہ الفاظ ثابت کر دیں ! تاکہ یہ فیصلہ کیا جاسکے کہ دعویٰ سنت میں کون سچا ہے اور کون جھوٹا ؟
10 : قولہ : ص 6 :۔
”مگر افسوس ہے کہ دونوں نے بلاسند۔“
اقول :۔
آپ یہ افسوس کریں اپنے علامہ عینی حنفی پر اور علامہ سیوطی رحمہ اللہ پر جنھوں نے یہ قول نقل کیا ہے۔
11 : قولہ : ص 6 :۔
”جوزی جو امام مالک رحمہ اللہ سے سینکڑوں برس بعد پیدا ہوئے۔“
اقول :۔
پہلے تو جوزی کا تعارف کرائیں کہ یہ کون ہے اس کے بعد اس کی تاریخ پیدائش وغیرہ لکھیں۔
امام مالک رحمہ اللہ کی تحقیق کہ تراویح گیارہ رکعات ہے، عینی حنفی (عمدۃ القاری : 126/11) اور عبد الحق الاشبیلی نے بھی نقل کیا ہے۔ (کتاب التہجد ص : 176)
12 : قولہ : ص 6 :۔
وذكر ابن القاسم عن مالك
اقول :۔
ابن القاسم رحمہ اللہ اگر چہ ثقہ ہیں، لا شك فيه لیکن انھوں نے امام مالک رحمہ اللہ سے جو مسائل نقل کئے ہیں ان میں نظر ہے ، امام ابو زرعہ رحمہ اللہ اپنی کتاب ”الضعفاء“ میں فرماتے ہیں : فالناس يتكلمون فى هذه المسائل پس لوگ ابن القاسم کے ان مسائل میں کلام کرتے ہیں۔ (ص : 534) والله اعلم
13 : قولہ : ص 6 ، 7 :۔
”کیونکہ یہ اصول ہے کہ جب راوی اپنی بیان کردہ حدیث کے خلاف عمل کرے تو وہ حدیث قابل قبول نہ ہوگی۔“
اقول :۔
اولاً یہ اصول ہی مختلف فیہ ہے۔ محدثین میں سے ایک جماعت اس اصول کے خلاف ہے اور کہتی ہے کہ عبرت تو روایت میں ہے نہ کہ رائے میں۔
ثانیاً امام مالک رحمہ اللہ سے یہاں اپنی حدیث کے خلاف عمل کرنا ثابت نہیں ہے۔
ثالثاً ہدایہ اولین ص : 312 حاشیہ نمبر 29 پر لکھا ہے : وعادته أن لا يروي حديثا فى الموطأ إلا وهو يذهب إليه ويعمل به
یعنی امام مالک رحمہ اللہ کی یہ عادت ہے کہ وہ موطأ میں جو حدیث بھی روایت کرتے ہیں اس پر عمل کرتے ہیں۔ (میں کہتا ہوں کہ اس عبارت سے ثابت ہوا کہ امام مالک رحمہ اللہ گیارہ رکعات کے قائل و فاعل تھے ، لہذا راوی کے عمل والا اعتراض بھی باطل ہوا ، اور عینی و سیوطی و اشبیلی و ابن مغیث کے قول کی بھی تائید ہوگئی۔)
تنبیہ :۔
یہ بات مسلّم ہے کہ راوی اپنی روایت کو سب سے زیادہ جانتا ہے۔
14 : قولہ : ص 7 :۔
”اور ان پانچ کا بیان آپس میں نہیں ملتا، سب جدا جدا بیان دیتے ہیں۔“
اقول :۔
اس روایت کی مختصر تحقیق درج ذیل ہے :
جدول کے لئے دیکھئے ص : 63 ، اس جدول سے ظاہر ہے کہ چھ راوی گیارہ کے عدد پر جمع ہیں، بعض نے خلیفہ کا حکم نقل کیا ہے اور بعض نے اس پر تعمیل اور بعض نے لوگوں کا عمل۔ لہذا ان کے بیان میں کوئی تعارض نہیں ہے، محمد بن اسحاق رحمہ اللہ (جو کہ فرقہ دیوبندیہ کے نزدیک ضعیف یا اس سے بھی کمتر ہے) اس کی روایت میں (بشرط صحت) تیرہ کا جو عدد ہے اس سے مراد گیارہ رکعات قیام رمضان اور عشاء کی دو رکعات ہیں ۔ دیکھئے آثار السنن ص : 392 صرف الدبری عن عبد الرزاق عن داود کی روایت میں اکیس کا عدد ہے، یہ متعدد وجوہ سے مردود ہے :
➊ یہ ثقات کے خلاف ہے لہذا شاذ ہے۔
➋ مصنف کے اصل نسخہ میں اختلاف ہے، علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے مصنف عبد الرزاق سے (11) کا عدد نقل کیا ہے۔
➌ اس روایت پر حنفیہ و دیوبندیہ اور بریلویہ کا عمل نہیں ہے۔
➍ مصنف کا راوی الدبری ضعیف و مصحف ہے جیسا کہ سمیع صاحب نے اپنے خط میں اشارتاً لکھا ہے ۔ مزید تفصیل کے لئے لسان المیزان : 531/1، 532 ت 1098 اور مقدمہ ابن الصلاح کا مطالعہ کریں۔ قریشی صاحب کا ص : 9 پر لکھنا اور پھر جو دبری دبری کا سمیع صاحب نے اعتراض نمبر 2 اور نمبر 5 میں ذکر کیا ہے اس کا ہمارے معاملے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے انتہائی تعجب خیز ہے، جبکہ وہ مصنف عبدالرزاق کی ایک روایت (جو کہ ثقات کے خلاف ہے) سے استدلال کر رہے ہیں تو ان پر یہ لازم آتا ہے کہ مصنف کے بنیادی راوی کی توثیق و عدالت ثابت کریں ، ہوائی دعووں سے کام نہیں چلے گا ، ثالثین کی خدمت میں عرض ہے کہ مصنف اٹھا کر اس کے راوی کا نام تلاش کریں ، کیا دبری نہیں ہے ، اور کیا اس سے تصحیفات نہیں ہوئی ہیں۔ اس کی اس وقت کتنی عمر تھی جب اس نے مصنف سنا تھا؟
➎ مصنف عبد الرزاق میں لکھا ہوا ہے :
عن داود بن قيس وغيره عن محمد بن يوسف
(210/4 ح 7730)
اس روایت کے راوی عبد الرزاق بن ہمام رحمہ اللہ مدلس ہیں۔ دیکھئے کتاب ”الضعفاء الکبیر للعقیلی“ 10/3، 11، وسندہ صحیح
اصول حدیث میں یہ مسئلہ مقرر ومسلم ہے کہ مدلس کی عنوالی روایت ضعیف ہوتی ہے لہذا یہ سند ضعیف ہے۔
الغرض ان وجوہ کی بنیاد پر داود بن قیس کی طرف منسوب روایت کالعدم ہے لہذا ثابت ہو گیا کہ محمد بن یوسف رحمہ اللہ کے شاگردوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے، اور چونکہ وہ بالاتفاق ثقہ ہیں لہذا یہ سند بالکل صحیح ہے۔ اسی لئے تو ضیاء المقدسی صاحب المختارہ وغیرہ نے صحیح قرار دیا ہے بلکہ حنفیوں کے امام طحاوی رحمہ اللہ نے اس سے حجت پکڑی ہے اور نیموی نے اسے اسناد صحيح کہا ہے تفصیل کے لئے سمیع صاحب کا خط دیکھیں۔ (نیز دیکھئے ص : 22، 23)
ہمارا چیلنج ہے کہ متقدمین میں سے صرف ایک ہی محدث کا حوالہ پیش کر دیں جس نے امام مالک رحمہ اللہ کی روایت کو ضعیف کہا ہو ، اور اسی طرح یحییٰ القطان رحمہ اللہ وغیرہ کی روایات کو مضطرب وغیرہ قرار دے کر رد کر دیا ہو !
15 : قولہ : ص 7 :۔
”جبکہ دوسرے طرف یزید بن خصیفہ سے ان کے دو شاگرد بلا اختلاف 20 رکعات بیان کرتے ہیں۔“
اقول :۔
قریشی صاحب کے بقول محمد بن یوسف کی روایت میں سب جدا جدا بیان کرتے ہیں۔ یعنی مالک رحمہ اللہ نے حکم بیان کیا اور یحییٰ القطان رحمہ اللہ نے عمل تو گویا اس طرح قریشی صاحب کے نزدیک یہ روایت مضطرب ہوئی ، تو اسی طرح یزید بن خصیفہ کے شاگردوں میں اختلاف ہے۔
➊ ابن ابی ذئب : ان (نامعلوم) لوگوں کا عمل
➋ محمد بن جعفر : ہم (معلوم) لوگوں کا عمل
لہذا انھیں چاہئے کہ اس روایت کو بھی ساقط قرار دیں۔ یاد رہے کہ محمد بن جعفر کی روایت خالد بن مخلد کی وجہ سے شاذ ہے ، اور اس کے مقابلے میں محفوظ ابن ابی ذئب کی روایت ہے لیکن یہ روایت بھی یزید بن خصیفہ رحمہ اللہ کی وجہ سے شاذ ہے ، ابن خصیفہ کے مقابلے میں محمد بن یوسف زیادہ ثقہ ہیں ، اور ان دونوں روایتوں کا تعلق خلیفہ راشد کے حکم یا عمل کے ساتھ قطعاً نہیں ہے، ابن ابی ذئب کی روایت تو فاروقی حکم سے یکسر خالی ہے لہذا موضوع سے خارج ہے۔
16 : قولہ : ص 7 :۔
”عبد العزیز (یہ ضعیف راوی ہے)“
اقول :۔
عبد العزیز الدراوردی کتب ستہ کا راوی ہے اور جمہور کے نزدیک ثقہ و صدوق ہے، اس کی عبید اللہ العمری سے روایت پر جرح ہے ، اور ہماری پیش کردہ روایت عبید اللہ سے نہیں ہے، اسی لئے تو علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے اس روایت کو الحاوی فی الفتاوی : 35/1 پر بسند فى غاية الصحة کہا ہے۔
17 : قولہ : ص 7 :۔
”تو معلوم ہوا یہ روایت منسوخ ہے۔“
اقول :۔
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قریشی صاحب کے نزدیک یہ روایت صحیح ہے ورنہ پھر دعویٰ نسخ کیسا ؟ یاد رہے کہ دعویٰ نسخ پر کوئی دلیل قائم نہیں ہے لہذا مردود ہے۔
18 : قولہ : ص 8 :۔
”محمد ابن جعفر، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں لوگ بیس رکعت کیا کرتے تھے۔“ (معرفۃ السنن والآثار)
اقول :۔
اگر ان الفاظ کے ساتھ قریشی صاحب یہ روایت ”معرفۃ السنن والآثار“ سے نکال کر دکھا دیں تو ان کی بڑی مہربانی ہوگی۔ میرے پاس ”معرفۃ السنن والآثار“ کا قلمی مصور نسخہ ہے اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں۔ میں نے ”معرفۃ السنن“ کے دو مطبوعہ نسخے دیکھے ہیں ان میں بھی یہ الفاظ نہیں ہیں۔ والله اعلم
19 : قولہ : ص 10 :۔
وروى مالك …… وفي موطأ من طريق يزيد بن خصيفة
اقول :۔
قریشی صاحب نے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اور شوکانی رحمہ اللہ سے موطا کی جس روایت کا تذکرہ کیا ہے براہ مہربانی موطا سے نکال کر ہمیں دکھا دیں ، ناموں کا رعب ہم پر جمانے کی کوشش بے سود ہے، اصل کتاب سے محولہ عبارت پیش کریں اور اگر نہ کر سکیں تو …..!
20 : قولہ : ص 12 :۔
في رواة الصحيحين عدد كثير ما علمنا أن أحدا نص على توثيقهم (ميزان 3/3)
اقول :۔
اصحاب صحیح کا کسی راوی سے صحیح میں اخراج اس راوی کی ان کے نزدیک توثیق ہوتی ہے۔ دیکھئے : الاقتراح لابن دقیق العید ص : 55 اور نصب الرایۃ للزیلعی : 149/1، 264/3
21 : قولہ : ص 13 :۔
”چند تابعین جو فاسق وفاجر ان کے نام ہمیں بھی بتا دیں۔“
اقول :۔
1: حجاج بن یوسف
2: مختار ابن ابی عبید الثقفی
3: ابو ہارون العبدی
4: ابو داود الاعمی وغیرہم
22 : قولہ : ص 13 :۔
”اور اہل حدیث کا اتفاق ہے کہ اس میں جتنی روایتیں ہیں سب امام مالک رحمہ اللہ اور ان کے موافقین کی رائے پر صحیح ہیں۔“
اقول :۔
یہاں ایک منقطع روایت کی تصحیح کے لئے کیسا اصول بنا دیا ہے اور صفحہ 5 تا 8 پر موطا امام مالک رحمہ اللہ کی ایک متصل روایت کو ضعیف یا وہم ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ کیا انصاف اس کا نام ہے؟
انور شاہ کاشمیری نے فیض الباری : 348/2 میں ایسے لوگوں کے خلاف کیا ہی زبردست بات املاء کرائی ہے۔ فرماتے ہیں :
وقد بلوتهم أنهم يسوون القواعد للنقيضين ف أى رجاء منها بعده فإذا رأى أحدهم حديثا ضعيفا وافق مذهبه يسوي له ضابطة ويقول إن الضعف ينجبر بتعدد الطرق وإن رأى حديثا صحيحا خالف مذهبه يسوي له ضابطة أيضا ويقول إنه شاذ
یعنی : میں نے ان لوگوں کو آزمایا ہے، یہ متناقض اصول بناتے ہیں پس اس کے بعد ان سے اور کیا امید کی جا سکتی ہے ، ان میں سے کوئی شخص جب اپنے مذہب کے موافق ضعیف حدیث پاتا ہے تو یہ قانون بنا دیتا ہے کہ تعدد طرق کی وجہ سے ضعف اٹھ جاتا ہے اور جب اپنے مذہب کے خلاف کوئی صحیح حدیث پاتا ہے تو فوراً قانون بنا دیتا ہے کہ یہ شاذ ہے۔ الخ
کاشمیری صاحب کا یہ قول قریشی صاحب اور ان جیسے لوگوں کے رد کے لئے کافی ہے۔
23 : قولہ : ص 14 :۔
”اور نیز سند متصل ہوئی۔“
اقول :۔
یحییٰ بن سعید الانصاری رحمہ اللہ کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ثابت کریں اور پھر تدلیس کا جواب بھی لکھیں ، آپ کے پاس نیموی کے اس قول کا کیا جواب ہے : لكن يحيى بن سعيد الأنصاري لم يدرك عمر یعنی یحییٰ بن سعید الانصاری نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ (آثار السنن مع الہامش ص : 396)
24 : قولہ : ص 14 :۔
شیخ محمد علی صابونی ابو داود کی روایت المغنی 7/2 عشرين ركعة (ابو داود)
اقول :۔
اولاً صابونی صاحب انتہائی متعصب غیر اہل حدیث ہیں لہذا ان کے قول سے محدثین کے اتباع پر حجت قائم کرنا کیسا ؟ متعدد اہل حدیث علماء نے صابونی مذکور کا رد لکھا ہے،
ثانیاً : صابونی نے المغنی کے حوالے سے یہ روایت لکھی ہے لہذا قریشی صاحب المغنی سے یہ روایت نکال دیں۔
ثالثاً : ہمارے پاس المغنی کا جو نسخہ ہے اس میں (456/1 مسئلہ : 1095) یہ روایت بحوالہ ابو داود مذکور ہے اور اس میںعشرين ليلة کے الفاظ ہیں عشرين ركعة کے نہیں ہیں لہذا قریشی صاحب کا استدلال باطل ہے۔
رابعاً : مزید تحقیق کے لئے ثالثین کی جماعت کو دعوت دیتا ہوں کہ میرے پاس تشریف لے آئیں تاکہ ان پر محمود حسن دیوبندی کی تحریف متعدد نسخوں اور دلائل سے ثابت کر دوں۔
25 : قولہ : ص 15 :۔
”ابو داود کے مختلف نسخے ہیں کسی ایک میں کیا اکثر میں 20 رکعت ہی کا ذکر ہے۔“
اقول :۔
ان اکثر نسخوں میں سے صرف تین چار نسخوں کی فوٹوسٹیٹ پیش کریں ، بلکہ محمود حسن دیوبندی کے نسخہ کے علاوہ کسی ایک ہی نسخہ کی فوٹوسٹیٹ پیش کر دیں۔ یاد رہے کہ محمود حسن کے بعد دیوبندیوں نے جو نسخے عکسی وغیرہ چھاپے ہیں وہ اسی نسخے سے منقول ہیں، ہمارے پاس دیوبندیوں کی اس تحریف کے خلاف دلائل کی کثرت ہے ، مثلاً دیکھئے : تحفۃ الاشراف للمزی، المشکاۃ ، السنن الکبریٰ للبیہقی ، اختصار المہذب ، نصب الرایہ، معرفۃ السنن والآثار، حاشیہ ہدایہ، الدرایہ، المغنی اور شیخ ابی داود وغیرہ۔
26 : قولہ : ص 15 :۔
حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن الحسن البصري عن عبد العزيز بن رفيع قال كان أبى بن كعب يصلي بالناس بالمدينة عشرين ركعة (ابن ابی شیبہ : 393/2)
اقول :۔
یہ روایت قریشی صاحب اس سند کے ساتھ محولہ بالا صفحہ سے نکال کر پیش کریں، اور اگر نہ نکال سکیں تو… !
27 : قولہ : ص 15 :۔
”اور اس کے راوی سب ثقہ ہیں اور اصول حدیث کی رو سے قابل قبول ہے۔“
اقول :۔
نیموی نے آثار السنن ص : 397 میں بتایا کہ عبدالعزیز بن رفیع رحمہ اللہ نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا لہذا پھر یہ سند قابل قبول کیوں کر ہوئی ؟ کیا مقبول کے لئے منقطع کا ہونا شرط ہے؟
اور حسن (بشرطیکہ اس کے بعد مخطوطہ میں عن ہو تو) سے اگر مراد بصری ہے تو پھر ان کی تدلیس کا کیا ہوگا ؟
28 : قولہ : ص 15 :۔
”اس روایت کی اسناد کا حال معلوم نہیں۔“
اقول :۔
تو پھر پیش کس لئے کی ہے؟
29 : قولہ : ص 16 :۔
”ابو الحسناء“
اقول :۔
ابوالحسناء کو کس محدث نے ثقہ قرار دیا ہے؟ ثابت کریں ، اور اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس کی ملاقات ثابت کریں۔
30 : قولہ : ص 16 :۔
”ان کے پاس قرآن و حدیث سے کوئی نص ہے کہ ضعیف حدیث یا مجہول الحال راوی کی حدیث ہر حال میں ناقابل قبول ہے۔“
اقول :۔
اولاً : دیکھئے سورۃ الحجرات : 4 ، اور اس کی شرح تفاسیر اور عام کتب اصول حدیث میں۔
ثانیاً : عند المعارضہ اس کے مردود ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
ثالثاً : کیا آپ کے نزدیک ضعیف حدیث یا مجہول الحال راوی کی حدیث ہر حال میں مقبول ہے، اپنے امام سے ثبوت پیش کریں۔
31 : قولہ : ص 16 ، 17 :۔
”امام بیہقی رحمہ اللہ عبدالرحمن کے اثر کو قوی تسلیم کرتے ہیں لہذا ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے نزدیک بھی یہ اثر صحیح ہے۔“
اقول :۔
حماد بن شعیب (ضعیف) اور عطاء بن السائب (مختلط) کا تعارف کرائیں۔
32 : قولہ : ص 19 :۔
”تابعین کا عمل“
اقول :۔
تابعین کا عمل سنت نہیں بن جاتا، قریشی صاحب کی خدمت میں درخواست ہے کہ وہ تابعین میں سے کسی ایک تابعی سے ہی باسند صحیح یہ ثابت کر دیں کہ بیس رکعت تراویح یا قیام رمضان سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم یا سنت خلفائے راشدین رضی اللہ عنہ یا سنت مؤکدہ ہے؟
33 : قولہ : ص 20 :۔
”ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ بیس رکعت پر عہد فاروقی میں اجماع ہوا۔“
اقول :۔
دلیل پیش کریں ، بلکہ کسی ایک ثقہ امام سے صرف یہ لفظ دکھا دیں کہ عہد فاروقی میں بیس رکعات پر اجماع ہوا تھا، یاد رہے کہ صدیوں بعد کے مقلدین کے حوالے پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔ عینی حنفی نے عمدۃ القاری : 126/11، 127 میں جو شدید اختلاف ذکر کیا ہے وہ آخر کس کھاتے میں جائے گا؟
34 : قولہ : ص 20 :۔
”بارہ سو سال تک پوری امت کے علماء بیس پر اجماع نقل کرتے آرہے ہیں۔“
اقول :۔
پہلی، دوسری، تیسری، چوتھی اور پانچویں صدی الخ میں سے صرف ایک ایک عالم سے اس دعویٰ اجماع کا صحیح ثبوت پیش کریں اور اگر نہ کر سکیں تو … !
35 : قولہ : ص 21 :۔
”چار چار رکعت کے بعد سلام پھیرا۔“
اقول :۔
اگر یہ الفاظ اس حدیث سے نکال دیں تو منہ مانگا انعام دیا جائے گا، ورنہ پھر معاملہ برعکس ہوگا۔
36 : قولہ : ص 21 :۔
”مسجد میں نہیں پڑھی۔“
اقول :۔
یہ حدیث کے کس لفظ کا ترجمہ ہے؟
37 : قولہ : ص 21 :۔
”اور تین وتر پورا سال پڑھے۔“
اقول :۔
یہ حدیث کے کس لفظ کا ترجمہ ہے؟
تنبیہ :۔
حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی سند اور متن دونوں لحاظ سے صحیح ہے اور اہل حدیث کا بحمد اللہ اس پر عمل ہے ، ہمارے نزدیک حدیث حدیث کی شرح کرتی ہے صحیح مسلم : 254/1 ح 736 میں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد صبح تک گیارہ رکعات پڑھتے تھے اور ہر دو رکعات پر سلام پھیرتے تھے اور ایک وتر پڑھتے تھے۔ الخ
یہ حدیث اس مسئلہ میں نص صریح اور حجت قاطعہ ہے، اور قریشی صاحب کے اعتراضات کو جڑ سے ختم کرنے والی ہے۔ یعنی چار رکعتیں دو دو کر کے پڑھی جاتی تھیں۔ والحمد لله
38 : قولہ : ص 23 :۔
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل ست عشرة ركعة سوى المكتوبة
اقول :۔
اس روایت کی تخریج کریں، اس کے راویوں کا ثقہ ہونا ثابت کریں اور کیا قریشی صاحب کا اس روایت پر عمل ہے؟
تنبیہ :۔
قریشی صاحب کی پیش کردہ روایت مسند احمد : 145/1 ح 1234، 146/1 ح 1341 میں موجود ہے ، اس کا راوی ابو اسحاق السبیعی مدلس ہے اور روایت عن سے ہے لہذا یہ سند ضعیف ہے۔
39 : قولہ : ص 23 :۔
”یہ حدیث نماز تہجد کے بارے میں ہے۔“
اقول :۔
یہ دعویٰ بلا دلیل ہے اور انور شاہ کشمیری نے فیض الباری : 420/2 میں ایسا دعویٰ کرنے والوں کی زبردست تردید کی ہے۔
40 : قولہ : ص 23 :۔
”غیر مقلدین کہتے ہیں کہ تہجد ، تراویح اور وتر ایک ہی نماز کے تین نام ہیں۔“
اقول :۔
انور شاہ کشمیری فرماتے ہیں : اس بات کے تسلیم کرنے سے کوئی چھٹکارا نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تراویح آٹھ رکعات تھی اور کسی ایک روایت میں بھی آپ کا تہجد اور تراویح علیحدہ پڑھنا ثابت نہیں ہے۔ (العرف الشذی : 166/1، اصل عبارت عربی میں ہے)
اور فرماتے ہیں : والمختار عندي أنهما واحد یعنی میرے نزدیک قابل اختیار بات یہی ہے کہ یہ دونوں نمازیں دراصل ایک نماز ہے۔ الخ (فیض الباری : 420/2)
میں پوچھتا ہوں کہ کیا انور شاہ کشمیری صاحب غیر مقلد تھے؟
حافظ عبدالمتین میمن جونا گڑھی نے حدیث خیر وشر (ص 114، 115) میں محمد قاسم نانوتوی بانی مدرسہ دیوبند کی کتاب ”فیوض قاسمیہ“ ص : 13 سے نقل کیا ہے :
”بر اہل علم پوشیدہ نیست کہ قیام رمضان و قیام اللیل فی الواقع یک نماز است۔“
اہل علم پر یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ قیام رمضان (تراویح) اور قیام اللیل (تہجد) واقعی دونوں ایک ہی نماز ہے۔ الخ
کیا نانوتوی صاحب بھی غیر مقلد تھے ؟ اپنے گھر کے ان گواہوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟
کیا قریشی صاحب کسی ایک ثقہ محدث سے یہ ثابت کر سکتے ہیں جس نے تراویح اور تہجد کو علیحدہ علیحدہ نماز قرار دیا ہو؟
41 : قولہ : ص 23 :۔
”ہم کہتے ہیں کہ یہ تینوں نمازیں علیحدہ علیحدہ ہیں۔“
اقول :۔
ہم سے کیا مراد ہے، کیا کشمیری صاحب اور نانوتوی صاحب اس ”ہم“ میں شامل نہیں ہیں؟
42 : قولہ : ص 23 :۔
الانتباه بعد النوم
اقول :۔
دلیل پیش کریں ، شرح معانی الآثار جلد اول باب القیام فی شہر رمضان میں ابراہیم نخعی کا ایک قول ہے، جس میں انھوں نے نماز تراویح کے وقت علیحدہ نماز پڑھنے والوں کو المتهجدون کہا ہے۔ (دیکھئے ص : 351)
43 : قولہ : ص 23 :۔
”چار رکعت ادا کرنے کے بعد تھوڑا آرام کرنا ترویجہ کہلاتا ہے۔“
اقول :۔
دلیل پیش کریں۔
44 : قولہ : ص 23 :۔
”اور وتر اور تراویح مدینہ میں پانچ نمازیں فرض ہونے کے بعد شروع ہوئے۔“ دیکھو دارقطنی ، ابوداور
اقول :۔
آپ ہمیں سنن دار قطنی یا سنن ابی داود سے نکال کر دکھا دیں اور اس کا صحیح ہونا بھی ثابت کریں۔
45 : قولہ : ص 23 :۔
”جبکہ وتر کے فرض واجب ہونے میں اختلاف ہے۔“
اقول :۔
یہ اختلاف کس کے درمیان ہے، اسے سنت کس کس نے کہا ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا جو قول سنن ترمذی : 103/1 ح 453 سنن دارمی : 37/1 ح 587 وسندہ صحیح وغیرہما میں منقول ہے اس کا کیا مطلب ہے؟ (سیدنا علی رضی اللہ عنہ وتر کو سنت قرار دیتے تھے)
46 : قولہ : ص 23 :۔
جعل الله صيامه فريضة وقيام ليله تطوعا
اقول :۔
اس روایت کا صحیح ہونا ثابت کریں۔
47 : قولہ : ص 23 :۔
”تہجد کے باب میں اتفاق ہے کہ اخیر شب میں۔“
اقول :۔
یہ اتفاق کا دعویٰ کس نے کیا ہے؟ دلیل پیش کریں۔
48 : قولہ : ص 24 :۔
”تو وہ اجماع غلط ہے۔“
اقول :۔
یہ اجماع کے سارے دعوے بے دلیل ہیں۔ ان کی بنیاد ہی نہیں ہے ورنہ پھر دلیل پیش کریں۔
49 : قولہ : ص 24 :۔
”تو یہ خلاف اجماع ہے۔“
اقول :۔
یہ اجماع کے سارے دعوے بلادلیل ہیں ان کی بنیاد ہی نہیں ہے، ورنہ پھر دلیل پیش کریں۔
50 : قولہ : ص 24 :۔
”ایک رات میں دوبارہ وتر نہیں۔“
اقول :۔
حنفیہ و دیوبندیہ و بریلویہ 23 رکعات تراویح (20 + 3 وتر) پڑھتے ہیں اور حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا میں (11) رکعات ہیں جسے حنفیہ جدید و دیوبندیہ و بریلویہ (8+3=11) تہجد کہتے ہیں ، لہذا معلوم ہوا کہ دیوبندیہ و بریلویہ کے نزدیک رمضان میں (20+3=23) رکعات تراویح اور (8+3=11) رکعات تہجد ہے۔
لہذا اس حساب سے دو دفعہ وتر پڑھنا ثابت ہو گیا جو کہ قریشی صاحب کی بیان کردہ حدیث کے صریح خلاف ہے، لہذا قریشی صاحب کا اعتراض باطل ہے۔
51 : قولہ : ص 24 :۔
”اور رمضان میں قیام اللیل تراویح کو کہا جاتا ہے۔“
اقول :۔
تہجد کو قیام اللیل بھی کہتے ہیں لہذا یہ ثابت ہوگیا کہ تہجد فی رمضان اور تراویح ایک ہی نماز ہے۔
بحمد الله قریشی صاحب کے اپنے قلم سے ہمارے دعویٰ کا ثبوت حاصل ہو گیا۔ وهو المطلوب
52 : قولہ : ص 24 :۔
”شعبہ کی تکذیب بالکل قبول نہیں۔“
اقول :۔
کیوں؟ کیا امام شعبہ رحمہ اللہ ثقہ امام نہیں تھے ؟ کیا وہ ائمہ جرح و تعدیل میں سے نہیں ہیں ؟ ابو شیبہ نے الحکم بن عتیبہ رحمہ اللہ سے ستر بدریوں والی جو روایت کی ہے کیا آپ ان بدریوں میں سے دس بیس کے نام ہمیں بتا سکتے ہیں ؟ علی رضی اللہ عنہ اور عمار رضی اللہ عنہ کا صفین میں ہونا بالکل واضح تھا جیسا کہ آپ نے ص 25 پر لکھا ہے۔ اتنی معمولی بات اگر آپ جانتے ہیں تو کیا امام شعبہ رحمہ اللہ اور امام الحکم رحمہ اللہ نہیں جانتے تھے۔ ان کا مقصد سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے علاوہ دیگر صحابہ رضی اللہ عنہ کی شرکت سے ہے، اور ان میں سے الحکم رحمہ اللہ صرف خزیمہ رضی اللہ عنہ کی شرکت تسلیم کرتے ہیں، قریشی صاحب براہ مہربانی سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ ایک دو صحابہ رضی اللہ عنہ کا ثبوت پیش کریں ورنہ ان کی تو یہ ذمہ داری ہے کہ پورے ستر صحابہ رضی اللہ عنہ کا ثبوت پیش کریں تاکہ ابو شیبہ کو کذب کے الزام سے بری قرار دیا جا سکے!
53 : قولہ : ص 25 :۔
”وہ جرحیں بھی خام اور غیر موثر ہیں تو وہ سب جروحات مبہم اور غیر مفسر ہیں۔“
اقول :۔
ابوشیبہ پر شدید جرحیں تو ”غیر مفسر“ اور ”مبہم“ منوانا چاہتے ہیں مگر عیسیٰ بن جاریہ پر ان سے کمتر درجے کی جروح کو ”مفسر“ سبحان الله کیا انصاف ہے۔
قریشی صاحب نے امام شعبہ رحمہ اللہ وغیرہ کی شان میں جو گستاخی کی ہے ہم اس کا جواب اللہ کے سپرد کرتے ہیں۔
54 : قولہ : ص 25 :۔
اور حکم بن عتیبہ کی غلطی سخت ہے اس وجہ سے کہ ان ایام میں بدری صحابہ رضی اللہ عنہ بہت زندہ تھے مثلاً : عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ، ابو مسعود البدری رضی اللہ عنہ…
اقول :۔
اگر قریشی صاحب ایام صفین میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یا ان کے زندہ ہونے کا ثبوت پیش کر دیں تو ہم انھیں کتب ستہ کے پچاس سیٹ بطور تحفہ دیں گے اور اگر نہ کر سکیں تو منبر پر لوگوں کے سامنے اپنے جھوٹ سے توبہ کریں۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جنگ صفین سے بہت پہلے فوت ہو گئے تھے۔
55 : قولہ : ص 25 :۔
”اور باعتبار تقویٰ بھی ابو شیبہ درست تھا۔“
اقول :۔
کیا تقویٰ ہے، جھوٹ بولتا ہے اور منکر احادیث بیان کرتا ہے اور پھر بھی پکا متقی ہے؟ یزید بن ہارون رحمہ اللہ نے قضاء کے سلسلہ میں اس کی جو تعریف کی ہے اس کا عدالت و ثقاہت سے کوئی تعلق نہیں ہے ، کتنے ہی غیر مسلم ایسے ہیں جو کہ عہدہ قضاء میں انتہائی انصاف کرنے والے ہوتے ہیں۔ انڈیا کی عدالت نے کس طرح اندرا گاندھی کے خلاف فیصلہ کر دیا تھا!
56 : قولہ : ص 25 :۔
”حافظ“
اقول :۔
یہ ثابت کریں کہ حافظ کلمات توثیق میں سے ہے۔ اور فتح الباری کا صحیح حوالہ پیش کریں!
57 : قولہ : ص 26 :۔
اور ابن عدی رحمہ اللہ نے کہا : له أحاديث صالحة وهو خير من إبراهيم بن أبى حية
اقول :۔
ابن عدی رحمہ اللہ کا پورا قول الکامل ابن عدی : 241/1 میں ہے :
ولأبي شيبة أحاديث صالحة غير ما ذكرت عن الحكم وعن غيره وهو ضعيف على ما بينت وهو إن كان نسب إلى الضعف فإنه خير من إبراهيم ابن أبى حية الذى تقدم ذكره
لہذا معلوم ہوا کہ ابن عدی رحمہ اللہ کے نزدیک وہ ضعیف ہے، جس ابراہیم بن ابی حیہ پر اسے ترجیح دی گئی ہے، اس کے بارے میں ابن عدی رحمہ اللہ الکامل : 239/1 میں لکھتے ہیں :
وضعف إبراهيم بن أبى حية بين على أحاديثه ورواياته وأحاديث هشام ابن عروة التى ذكرتها كلها مناكير
معلوم ہوا کہ ابن ابی حیہ پر ابن عدی رحمہ اللہ کا ابو شیبہ کو ترجیح دینا اس کی توثیق نہیں ہے، بلکہ ایک ضعیف پر دوسرے ضعیف کو ترجیح دینا ہے۔
دوسرا یہ کہ ابراہیم بن ابی حیہ کو حسن الحدیث کہنا انصاف کا خون کرنے کے مترادف ہے، ابراہیم مذکور کو اگر ابن معین رحمہ اللہ نے شيخ ثقه كبير کہا تو ان کے مقابلے میں بخاری رحمہ اللہ نے کہا : منكر الحديث ، نسائی رحمہ اللہ نے کہا : ضعيف، دارقطنی رحمہ اللہ نے کہا : متروك ، ابو حاتم رحمہ اللہ نے کہا : منكر الحديث ، ابن المدینی رحمہ اللہ نے کہا : ليس بشئ ، اور ابن حبان رحمہ اللہ نے جرح کی۔ دیکھئے : لسان المیزان : 53/2 لہذا اس کا ضعف ہی راجح ہے، اگر یہ شخص حسن الحدیث ہے تو پھر عیسیٰ بن جاریہ کا کیا قصور ہے؟
58 : قولہ : ص 26 :۔
”جبکہ امت کا 12 سو سال تک بیس پر عمل کرنا اس کی صحت کی علامت ہے۔“
اقول :۔
یہ بات جھوٹ ہے، امت میں تو اس مسئلہ پر بڑا اختلاف ہے، بعض نے کہا : اکتالیس رکعات بعض نے کہا انچاس، بعض نے کہا اڑتیس بعض چھتیس اور وتر، بعض چونتیس، بعض اٹھائیس، بعض چوبیس ، بعض بیس ، بعض سولہ بعض تیرہ اور بعض گیارہ کے قائل ہیں۔ دیکھئے : عمدۃ القاری : 126/11 تصنیف العینی الحنفی
بلکہ بعض علماء مثلاً امام احمد رحمہ اللہ اور امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تو سرے سے کسی حد کے قائل ہی نہیں ہیں۔
59 : قولہ : ص 28 :۔
تلقي بالقبول
اقول :۔
اس سے مراد اجماع ہے، قریشی صاحب نے خود لکھا ہے : مگر ساری امت کا عمل اس پر ہے لہذا ثابت ہوا کہ یہ اجماع ہے، اگر قریشی صاحب یہ ثابت کر دیں کہ بیس رکعات کے سنت ہونے پر ساری امت کا اجماع ہے تو ہم اس مسئلہ کو تسلیم کر لیں گے۔ ہم اجماع کو حجت مانتے ہیں ، یاد رہے کہ خالی کارتوسوں کی نہیں بلکہ دلائل واضحہ قاطعہ صحیحہ کی ضرورت ہے۔
60 : قولہ : ص 29 :۔
”یہ اعتراض ہمارے نزدیک بالکل غلط ہے۔“
اقول :۔
یہ اعتراض کرنے والے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ، العینی رحمہ اللہ اور الزیلعی رحمہ اللہ وغیرہم ہیں ، لہذا قریشی صاحب صاف اعلان کر دیں کہ ابن حجر رحمہ اللہ ، عینی رحمہ اللہ اور زیلعی رحمہ اللہ وغیرہم اس مسئلہ میں غلط تھے ، وہ نہیں سمجھ سکے مگر قریشی صاحب نے سمجھ لیا ہے۔
61 : قولہ : ص 29 :۔
”گیارہ رکعات والی حدیث مضطرب ہے۔“
اقول :۔
صحیحین کی تمام متصل مرفوع احادیث صحیح ہیں اور انھیں مضطرب کہنا باطل ہے، شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ نے حجۃ اللہ البالغہ میں ان لوگوں کو بدعتی اور غیر سبیل المومنین پر چلنے والا کہا ہے جو صحیحین کی احادیث پر طعن کرتے ہیں۔
ایسا شخص صحیح بخاری کی حدیث کو مضطرب کہہ رہا ہے جو کہ بذات خود مضطرب ہے، ایک جگہ موطا کی تمام مرویات کو صحیح تسلیم کرتا ہے، بنقل شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ، اور دوسری جگہ خود موطأ کی روایت پر جرح کرتا ہے، ایسے شخص کو کیا حق ہے کہ وہ صحیحین پر طعن کرے، حالانکہ صحیحین کی صحت پر اجماع ہو چکا ہے اور اس اجماع کا دعویٰ متعدد ثقہ اماموں نے کیا ہے۔
62 : قولہ : ص 29 :۔
”دوسرا یہ کہ وہ تہجد کے باب میں ہے۔“
اقول :۔
اس حدیث کو امام بخاری رحمہ اللہ تراویح کے باب (154/1 باب نمبر 14 ح 1147، 269/1 ح 2013) میں لائے ہیں کتاب الصوم میں ، اسی طرح امام بیہقی رحمہ اللہ بھی السنن الکبریٰ (6/3) میں رکعات قیام رمضان کے باب میں لائے ہیں۔ محمد بن الحسن الشیبانی رحمہ اللہ اور نیموی رحمہ اللہ (آثار السنن ص 248 ح 773) بھی اسے تراویح سے متعلق سمجھتے ہیں ، کیا ان سب کی تبویب غلط ہے؟
اگر محمد بن نصر رحمہ اللہ نے باب نہیں باندھا تو بخاری رحمہ اللہ وغیرہ نے باب باندھا ہے، کیا عدم ذکر نفی ذکر کو مستلزم ہوتا ہے؟ آخر آپ لوگوں کے اصول کیا ہیں؟
63 : قولہ : ص 31 :۔
”حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا آخری عمل بیس رکعت ہی تھا۔“
اقول :۔
دلیل پیش کریں۔
64 : قولہ : ص 33 :۔
كان إذا دخل رمضان تغير لونه و كثرت صلاته
اقول :۔
یہ روایت امام بیہقی رحمہ اللہ کی شعب الایمان (310/3، 311 ح 3625، 3626) میں موجود ہے، قریشی صاحب سے درخواست ہے کہ اس کی سند کا صحیح ہونا ثابت کریں ، اس کے بعد اس کے متن پر بحث ہوگی۔
65 : قولہ : ص 35 :۔
”مگر سب مل کر حسن لغیرہ کی حیثیت حاصل کر لیتے ہیں۔“
اقول :۔
دیکھئے تعاقب نمبر : 22
66 : قولہ : ص 36 :۔
”بیس رکعت پر اجماع ہو گیا۔“
اقول :۔
اس اجماع کا دعویٰ مردود ہے بلکہ ائمہ سے اس کے خلاف ثابت ہے۔
67 : قولہ : ص 36 :۔
”وہ سخت ضعیف ہیں۔“
اقول :۔
وہ روایت جسے ابن خزیمہ رحمہ اللہ و ابن حبان رحمہ اللہ وغیرہما صحیح کہیں قریشی صاحب کے نزدیک سخت ضعیف ہے، اور جسے سب ضعیف یا منکر کہیں تو مقبول یا حسن لغیرہ، یہ کیسا انصاف ہے؟
68 : قولہ : ص 36 :۔
”ان کے بارے میں ابن جوزی رحمہ اللہ کا قول بالکل ناقابل اعتبار ہے۔“
اقول :۔
یہ قول کہاں ہے اور کیا عینی رحمہ اللہ و سیوطی رحمہ اللہ کا قول بھی ناقابل اعتبار ہے اور کیا محشی ہدایہ کا قول بھی ناقابل اعتبار ہے؟
69 : قولہ : ص 38 :۔
”میرے پاس ان تین آدمیوں کے بارے میں معلومات نہیں تھیں۔“
اقول :۔
اگر آپ کے پاس نہیں ہیں تو ہمارے پاس تشریف لے آئیں ہم آپ کو بتا دیں گے۔ ان شاء الله
تنبیہ :۔
جن کے بارے میں قریشی صاحب نے معلومات کا دعویٰ کیا ہے وہ تحریر میں بھی محل نظر ہیں ان شاء اللہ ثالث اشخاص کو تفصیل بتادی جائے گی، بشرطیکہ وہ تشریف لے آئیں۔
70 : قولہ : ص 39 :۔
”چیلنج“
اقول :۔
معلوم ہوتا ہے کہ قریشی صاحب کو چیلنج بازی کا بڑا شوق ہے۔ والله اعلم
اب ہمارے چیلنج سنیں :
➊ چودہ سو سال میں کسی ایک ثقہ محدث سے ثابت کریں کہ حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا کا تعلق نماز تراویح کے ساتھ نہیں ہے۔
➋ چودہ سو سال میں کسی ایک ثقہ محدث سے ثابت کریں کہ تراویح اور تہجد من حيث كل الوجوه علیحدہ علیحدہ نمازیں ہیں۔
➌ چودہ سو سال میں کسی ایک ثقہ محدث سے ثابت کریں کہ بیس رکعات تراویح کے سنت ہونے پر اجماع ہے۔
➍ چودہ سو سال میں کسی ایک ثقہ محدث سے ثابت کریں کہ آٹھ رکعات سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہیں۔
نوٹ :۔
مقلدین (مثلاً ملا علی قاری وغیرہ) کے حوالے پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، ابوحنیفہ رحمہ اللہ، مالک رحمہ اللہ، شافعی رحمہ اللہ، احمد رحمہ اللہ، بخاری رحمہ اللہ اور مسلم رحمہ اللہ یا ان جیسے علماء کے حوالے پیش کریں۔
➎ اپنے مزعوم امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ہی سے باسند صحیح بیس رکعات کا سنت مؤکدہ ہونا ثابت کر دیں۔
➏ کسی ایک تابعی سے بیس رکعات کا سنت مؤکدہ ہونا باسند صحیح ثابت کریں۔
➐ کسی ایک صحابی سے بیس رکعات کا سنت ہونا باسند صحیح ثابت کریں۔
➑ چودہ سو سال میں سے کسی ایک ثقہ محدث سے ثابت کر دیں کہ ابو شیبہ العبسی رحمہ اللہ عیسیٰ بن جاریہ رحمہ اللہ سے بہتر تھا۔
➒ چودہ سو سال میں سے کسی ایک ثقہ محدث سے ثابت کر دیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جنگ صفین کے موقعہ پر زندہ تھے۔
➓ صحیح بخاری یا صحیح مسلم یا کسی صحیح حدیث سے یہ ثابت کریں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام اللیل یا قیام رمضان یا (تراویح) میں چار چار رکعت کے بعد سلام پھیرا تھا، دو رکعت کے بعد نہیں۔
اگر ہمارے ان چیلنجوں کا جواب نمبر وار دے دیں تو پھر ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ فریق مخالف کا موقف صحیح وقوی ہے اور اگر صحیح جوابات نہ دے سکیں تو۔۔۔۔۔۔ الخ
حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا پر مزید بحث :۔
فریق مخالف کی طرف سے محدثین اور ان کے اتباع پر یہ اعتراض مسلسل کیا جاتا ہے :
➊ آپ دو دو رکعت کیوں پڑھتے ہیں جب کہ حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا میں چار رکعت ہے؟
➋ آپ سارا رمضان کیوں جماعت سے پڑھتے ہیں جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو صرف تین دن جماعت فرمائی تھی۔
تو عرض ہے کہ صحیح بخاری کی کسی حدیث میں یہ بالکل نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ چار رکعات ایک سلام سے پڑھی تھیں یا پڑھتے تھے۔ لہذا اس روایت میں اجمال ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا میں صاف موجود ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر دو رکعت پر سلام پھیر دیتے تھے چونکہ صحیح مسلم کی روایت مفسر اور واضح ہے لہذا ہم نے صحیح بخاری کی حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا کا وہی مطلب سمجھا ہے جو کہ صحیح مسلم کی حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہے۔ ہمارے نزدیک حدیث حدیث کی تشریح کرتی ہے اور احادیث صحیحہ میں کوئی تعارض نہیں ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ خاص عام پر، منطوق مفہوم پر اور صریح مبہم پر ہمیشہ مقدم ہوتا ہے۔
رہا مسئلہ باجماعت نماز کا تو اس سلسلہ میں ہمارے پاس متعدد دلائل ہیں مثلاً :
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام رمضان (تراویح) کی نماز باجماعت کی بہت ترغیب دی ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إن الرجل إذا صلى مع الإمام حتى ينصرف حسب له قيام ليلة
بے شک جو آدمی امام کے ساتھ نماز پڑھ کے (گھر وغیرہ) لوٹتا ہے تو اسے ساری رات کے قیام کا ثواب ملتا ہے۔ یہ روایت سنن ترمذی : 1/ 126 ح 806 ، سنن ابی داود : 1/ 195 ح 1375 واللفظ لہ ، سنن نسائی : 1/ 192 ح 1606 ، سنن ابن ماجہ : ص 94 ح 1327، اور مسند احمد: 5/ 159 ح 21749 وغیرہ میں رمضان کی تصریح کے ساتھ موجود ہے محمد بن علی نیموی نے آثار السنن (ص 387 ح 768) میں اس روایت کے بارے میں کہا : اسناده صحيح
ان سے پہلے بھی متعدد محدثین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ معترضین کے اعتراضات کے رد کے لئے صرف یہی ایک ہی حدیث کافی ہے۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر کوئی کام ایک ہی دفعہ کیا ہے تو یہ ہمارے لئے اس کام کے جواز کی زبردست دلیل ہے۔ سنن ابن ماجہ (3578) مسند احمد (35٫5 ح 30639)، مسندابی داود الطیالسی ح : 1072) اور صحیح ابن حبان الاحسان : 401/7 ح 5428 ، فی نسخه اخری 266/12)
سیدنا قرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قمیص کے بٹن کھلے ہوئے تھے۔ اس کے بعد معاویہ بن قرہ رحمہ اللہ اور ان کے بیٹے کو ہمیشہ بٹن کھلے ہوئے ہی دیکھا گیا۔ مسند علی بن الجعد : 2/ 964 ح 2775)
اب یہ مطالبہ کرنا کہ ہم صرف وہی کام کریں گے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار یا روزانہ کیا ہو تو ہم اس مطالبے کو صحیح نہیں سمجھتے، ہمارے لئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک وقت کا فعل بھی حجت ہے بشرطیکہ نسخ یا تخصیص ثابت نہ ہو۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن سے زیادہ جماعت نہ کرانے کی وجہ بیان فرمادی کہ مجھے اس کے فرض ہو جانے کا ڈر تھا۔ انور شاہ کشمیری فیض الباری : 2/ 337 میں حدیث : لكني خشيت أن تفرض عليكم (بخاری : ح 2012) اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ أى جماعة یعنی اس حدیث سے مراد نماز باجماعت ہے، الخ۔ اب چونکہ یہ علت رفع ہو گئی لہذا ہمیشہ کے لئے اس جماعت کے قائم کرنے کا ثبوت مل گیا۔
➍ امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ نے قیام رمضان (باعتراف آل تقلید تراویح گیارہ رکعت) کی جماعت کروائی اور کسی نے بھی ان پر اعتراض نہیں کیا لہذا جواز ثابت ہوا۔ یہ بھی یاد رہے کہ خلفائے راشدین کی سنت پر عمل کرنے کا حکم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک سے دیا ہے۔ لہذا معترضین کے تمام اعتراضات باطل ثابت ہو گئے۔ الحمدلله
آخر میں ثالثین کی خدمت میں عرض ہے کہ فیصلہ سے پہلے درج ذیل کتابیں بھی ضرور پڑھیں :
➊ انوار مصابیح (نذیر احمد اعظمی)
➋ حدیث خیر وشر (حافظ عبدالمتین میمن جونا گڑھی)
➌ تعداد تراویح (مصنف حافظ عبد المنان نورپوری)
➍ راقم الحروف کے مضامین (جو اس کتاب میں شائع کر دئے گئے ہیں والحمد للہ)
وما علينا إلا البلاغ
