منکرین حدیث کے نقش قدم پر کون ہے؟
ہمارے معاصر پہلے اہل حدیث کی طرف سے بن بنائے وکیل صفائی یہ اعتراض نقل کرتے ہیں کہ اگر قرآن وحدیث فقہ کے بغیر مکمل ہیں تو فقہ کی ضرورت کیا ہے‘ پھر اس سوال کا جواب رقم کرتے ہیں کہ یہ سوال منکرین حدیث کا سوال ہے‘ جو انہوں نے حدیث پاک کے متعلق مسلمانوں پر کیا تھا کہ کیا قرآن‘ حدیث شریف کے بغیر مکمل ہے یا نا مکمل ؟ اگر قرآن مکمل ہے تو حدیث مخلوق کا کلام ہے اور لاریب بھی نہیں اور حفاظت کا ذمہ بھی اللہ تعالی نے نہیں لیا تو فرمان خدا کے ہوتے ہوئے فرمان مصطفیٰ کیو نکر مانا جائے ؟ خالق کے کلام کے ہوتے ہوئے مخلوق کی بات کیوں مانی جائے ؟ لاریب کتاب کے ہوتے ہوئے ظنی حدیث خبر واحد کیوں مانی جائے؟ محفوظ کلام کے ہوتے ہوئے غیر محفوظ حدیث جو آپ صلى الله عليه وسلم سے صدیوں بعد لکھی گئی ہے‘ اسے کیوں مانا جائے؟
(تحفہ اہل حدیث ص 35)
الجواب:-
اولًا:-
اچھا اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ جو بھی یہ کہے کہ دین اسلام کامل و اکمل ہے‘ اس کا یہ دعویٰ منکرین حدیث سے کشید کیا ہوا ہے‘ اناللہ وانا الیہ راجعون۔ مکرمی خلط مبحث علماء کی شان نہیں‘ کاش آپ نے قرآن پڑھا ہوتا‘ تو آپ کو معلوم ہو تا کہ تکمیل دین کا دعویٰ تو قرآن میں خالق کا ئنات نے کیا ہے‘ ارشاد ہوتا ہے
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا(سورہ المائدہ: 3)
یعنی آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا‘ اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور اسلام کو تمہارے لیے بطور دین پسند کیا۔ (5-3)
امام راغب‘ مفردات میں فرماتے ہیں کہ
( تمام الشئ انتهاؤه الى حد لا يحتاج الى شيء خارج عنه والناقص ما يحتاج الى شئ خارج عنه )
یعنی کسی چیز کا تمام اس کا اس حد تک پہنچ جانا ہے کہ وہ اپنے سے خارج کسی چیز کی محتاج نہ ر ہے اور وہ چیز جو اپنے سے خارج کسی چیز کی محتاج ہو اسے ناقص کہا جاتا ہے۔
(المفردات فی غریب القرآن ص 75)
دین عبارت ہے قرآن وحدیث سے‘ اور اس کی تعمیل کا دعویٰ رب تعالی نے کیا ہے‘ اب اگر آپ قرآن وحدیث کو خارج میں فقہ حنفی کا محتاج جانتے ہیں تو گویا آپ نے دوسرے لفظوں میں قرآن و حدیث کو نا قص قرار دے دیا ہے‘ اس سوال کا جواب دینا آپ کا اخلاقی فرض تھا‘ مگر آپ نے عوام کو خلط مبحث میں الجھا کر اپنا الو سیدھا کیا ہے‘ اور غالباً آپ نے اسی میں ہی اپنی عافیت جانی ہے۔
ثانیاً:-
منکرین حدیث دین کی تشریح کا حق عملاً عبد اللہ چکڑالوی‘ غلام احمد پرویز وغیرہ کو دیتے ہیں، آپ فقہ حنفی کو‘ فرق کیا رہا؟ وہ سرے سے حدیث کا انکار کرتے ہیں آپ مجتہد کے اقوال کی آڑ میں منکر میں منکر ہیں‘ غور کیجیے آپ میں کتنا گہرا رشتہ ہے۔
مولانا محمود حسن خان سابقہ شیخ الحدیث دارالعلوم دیو بند‘ حديث البيعان بالخيار مالم یتفر قا ( بخاری ص 283 ج1 و مسلم ص 6 ج2) یعنی بائع اور مشتری دونوں کو ( بیع بحال رکھنے اور فسخ کر دینے کا) اختیار رہتا ہے جب تک وہ جدا نہیں ہوتے) کے بارے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اپنی املا ئی تقریر میں فرماتے ہیں کہ
( فالحاصل أن مسئلة الخيار من مهمات المسائل وخالف ابو حنيفة فيه الجمهور وكثير من الناس من المتقدمين والمتاخرين صنفوا رسائل في ترديد مذهبه في هذه المسئلة ورجع مولانا الشاه ولی الله المحدث دهلوی قدس سره في رسائل مذهب الشافعى من جهة الاحاديث والنصوص وكذلك قال شيخنا مدظله يترجع مذهبه وقال الحق والانصاف ان الترجيح للشافعي في هذه المسئلة ونحن مقلدون يجب علينا تقليد أمامنا أبي حنيفة ) (التقرير الترمذی ص 650)
یعنی حاصل کلام یہ ہے کہ بیع بالخیار اہم ترین مسائل میں سے ہے‘ اس مسئلہ میں امام ابو حنیفہ نے جمہور علماء کرام کی مخالفت کی ہے۔ اور اکثر متقدمین اور متاخرین علماء کرام نے اس مسئلہ میں امام ابو حنیفہ کے مذہب کی تردید میں رسائل تصنیف فرمائے ہیں اور حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے امام شافعیؒ کے مذہب کو احادیث اور نصوص کی رو سے ترجیح دی ہے۔ اور ہمارے شیخ محمود حسن خان صاحب فرماتے ہیں کہ حق وانصاف کا تقاضا بھی یہی ہے کہ امام شافعی کے مذہب کو اس مسئلہ میں ترجیح حاصل ہے اور ہم چونکہ امام ابو حنیفہ کے مقلد ہیں اس لیے ہم پر ہمارے امام ابو حنیفہ کی تقلید واجب ہے‘ (انتہی)
باقی جو آپ کے ہاں حدیث کا دورہ کروایا جاتا ہے تو اس کا مطلب سنت سے لگاؤ نہیں بلکہ تاویل و تحریفات کر کے فقہ کے لیے دلائل جمع کرنے ہوتے ہیں، جس کا اعتراف کھلے لفظوں میں مولانا محمد رسول خاں حنفی دیوبندی نے ایک بار‘ انجمن خدام الملت دیو بند کے سالانہ جلسہ میں تقلید کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کیا تھا، جو بعد میں رسالہ قاسم العلوم دیو بند میں شائع ہوا ان کے الفاظ ہیں کہ اہل حدیث اور ہم اتنے امر میں شریک ہیں کہ وہ بھی قرآن و حدیث پڑھتے ہیں اور ہم بھی‘ مگر فرق یہ ہے کہ ہم حدیث اس وجہ سے پڑھتے ہیں کہ امام کے جن اقوال کا منشاء ہمیں معلوم نہیں معلوم ہو جائے یعنی ہم فقہاء کے اقوال کی تائید کے لیے حدیث کا استعمال کرتے ہیں۔
( بحوالہ آئینہ ان کو دکھایا تو بر امان گئے ص 18)
ثالثاً :-
چکڑالوی تو حدیث کا سرے سے انکار کرتے ہیں‘ اور ہمارے ہاں حدیث کا منکر کا فر اور کم از کم گمراہ و بے دین ہے اور اس کا مذاق اڑانے والا پکا کا فر ہے۔ کیونکہ حدیث کے بغیر دین ہی ادھورا رہ جاتا ہے۔ قرآن کی صحیح تفہیم ہی حدیث سے ہوتی ہے اور یہ منصب اللہ تعالی نے خود حضرت محمد صلى الله عليه وسلم کو عطا کیا ہے۔ آپ مولانا عبد الرحمن مرحوم کیلانی کی’’ آئینہ پرویزیت‘‘ مولانا عبد الرؤف جھنڈ نگری کی ’’صیانتہ الحدیث‘‘ اور مولانا اسماعیل سلفی ر حمھم اللہ اجمعین کی ’’حجیت حدیث‘‘ کا مطالعہ کریں۔ ان شاء اللہ الرحمٰن منکرین حدیث کے جو شبہات آپ کے دل میں گھر کر چکے ہیں وہ کافور ہو جائیں گے۔
ہمارا ’’ الدین نصیحتہ‘‘ کے تحت مشورہ ہے کہ آپ پہلے اسلامی علوم میں دسترس حاصل کریں پھر مبتدعین کی کتب کا مطالعہ کریں تاکہ آپ بے راہ روی کا شکار نہ ہوں‘ یہاں آپ کے اوہام کے ازالہ کے لیے مختصر عرض ہے کہ آیت قرآنی (انا له لحافظون) بھی تو ہم کو انہی واسطوں سے پہنچی ہے جو بقول آپ کے غیر محفوظ ہیں، تو اس کی کیا دلیل ہے کہ یہ آیت کسی نے اپنی طرف سے بڑھانہ دی ہو ، پھر اس آیت میں قرآن کی حفاظت کا ذمہ لیا گیا ہے‘ اور قرآن بالا تفاق اصولیین نام ہے ، نظم اور معنی دونوں کا اس لیے یہ آیت الفاظ قرآن اور معانی فرقان کی حفاظت کا بھی ذمہ لیتی ہے۔
(دیکھیے تفسیر عثمانی ص 347)
اور معانی قرآن کی حفاظت حدیث میں ہوئی ہے۔ باقی جو آپ نے حدیث کو علی الاطلاق مخلوق کا کلام کہا ہے یہ بھی آپ کی بھول ہے کیونکہ احادیث میں کلام ربانی بھی ہے جسے اصطلاحاً حدیث قدسی کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے اور جو آنحضرت صلى الله عليه وسلم کا کلام ہے وہ گو الفاظ نبوی ہیں مگر ان کی تقہیم اللہ تعالی کی طرف سے ہوئی تھی ارشاد ربانی ہے کہ
(وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى ) (سورہ النجم: 3,4)
یعنی وہ پیغمبر اپنی خواہش سے کوئی بات نہیں کرتا‘ مگر وہی جو اس کی طرف وحی کیا جاتا ہے۔ (463-53)
مولانا عثمانی (جو کہ آپ کے معتمد مفسر قرآن ہیں ( تحفہ اہل حدیث ص 84) اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ آپ جو کچھ دین کے باب میں فرماتے ہیں وہ اللہ تعالی کی بھیجی ہوئی وحی اور اس کے حکم کے مطابق ہوتا ہے اس میں وحی متلو کو قرآن اور غیر متلو کو‘ حدیث کیا جاتا ہے۔
( تفسیر عثمانی ص 698)
رہا آپ کا حدیث کو ظنی کہنا یہ بھی آپ کے بھولے پن کی دلیل ہے۔ لفظ ظن عربی اور اردو میں مستعمل ہے۔ لیکن اردو میں اس کا استعمال شک‘ وہم کے مفہوم میں آتا ہے اور یہی استعمال ہمارے معاصر کے لیے لغزش کا سبب بنا ہے‘ اور نہ عربی زبان میں یہ لفظ بلا قرینہ اس معنی میں استعمال ہی نہیں ہوا۔ امام راغب فرماتے ہیں کہ
(الظن اسم لما يحمل عن امارة ومتى قويت ادت الى العلم ومتى ضعفت جداً لم يتجاوز حد التوهم)
یعنی کسی چیز کی علامات سے جو نتیجہ حاصل ہوتا ہے اسے ظن کہتے ہیں۔ جب یہ علامات قوی ہوں تو ان سے علم کا درجہ حاصل ہوتا ہے، مگر جب بہت کمزور ہوں تو وہ نتیجہ و ہم کی حد سے آگے تجاوز نہیں کرتا۔
(المفردات ص 317)
یہی وجہ ہے کہ جب نتیجہ قوی ہو تو اس کا معنی علم و یقین ہوتا ہے۔
ارشاد ربانی ہے کہ
(الَّذِيْنَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلقُوا رَبِّهِمْ ) (سورہ البقرہ:46)
یعنی جو یقین کیے ہوئے ہیں کہ وہ اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں۔
امام راغب نے اس کے علاوہ تقریباً آٹھ دس آیات کو نقل کیا ہے جس میں’’ ظن ‘‘ کا لفظ علم و یقین کے معنی میں استعمال ہوا ہے‘ مگر ہمارے مہربان اس کو لاریب کے بالمقابل لا کر شک وو ہم کے معنی میں باور کرا کر حدیث کو اوہام کا دفتر قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ پھر اس جہالت بھرے بیان کو تحفہ کے نام سے شائع کر کے اہل حدیث کو بطور گفٹ پیش کر کے دعوت فکر دی جارہی ہے۔ آخر میں منکرین حدیث کی وکالت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
حدیث صدیوں بعد لکھی گئی‘ معلوم نہیں اس فقرہ سے مولانا کی کیا مراد ہے ؟ اگر اس سے مقصود یہ ہے کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے عہد مبارک میں حدیث سرے سے لکھی ہی نہیں گئی تو یہ اتنا بڑا جھوٹ ہے کہ کسی دین دار سے اس کا صدور ممکن نہیں کیونکہ عہد رسالت میں احادیث کو بھی قلم بند کیا جاتا تھا۔
( بخاری ص 22 ج1)
تفصیل کے لیے مولانا تقی عثمانی کی (درس ترمذی ص 36 ج 1) کا مطالعہ کریں
اگر اس فقرہ سے آپ کا مقصد ‘ مرتب وتر تیب ہے تو بھائی یہ تو آج بھی علماء دین کرتے ہیں۔ کیا ماضی قریب میں صرف دیوبندی مکتب فکر کی طرف سے ہی ’’اعلاء السنن ‘‘ اور’’ اثار السنن ‘‘ کے نام سے احادیث کے دو جدید مجموعے شائع نہیں ہوئے ؟ تو کیا کسی کو ان کے تاخیر زمانی کی وجہ سے ہی بے کار و فضول کہنے کا حق مل گیا ہے ، عقل کے ناخن لو کیا کہہ رہے ہو‘ صحابہ کرام کے آثار‘ تابعین کے اقوال امت مرحومہ کی فتوحات‘ دینی خدمات تمام کی تمام بعد میں مرتب ہوئیں۔ تو کیا ان سب سے انکار کر دیا جائے گا‘ کہ یہ بعد کی پیداوار ہیں، خیر القرون کے تعامل کو یکسر نظر انداز کر کے آپ کون سی دین وملت کی خدمت کر سکتے ہیں؟ آپ یہ واضح ہو کہ منکرین حدیث‘ سرے سے حجیت حدیث کے ہی منکر ہیں۔ اس مؤقف کے بعد سند اور تدوین حدیث کی مباحث کا نفس مسئلہ سے کوئی جوڑ ہی نہیں‘ یا زیادہ سے زیادہ یہ ایک ثانوی بحث ہے۔
حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفی مرحوم اسی چیز کا شکوہ کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ مخالفین حدیث کے پورے کیمپ سے ہمیں یہ شکوہ ہے کہ ان حضرات نے ہمیشہ خبط اور خلط مبحث کی کوشش کی، ان کا دعویٰ تو یہ ہے کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے اقوال‘ افعال‘ اجتہادات شرعاً حجت نہیں‘ وہ خدا کا پیغام (قرآن) تو دے سکتے ہیں لیکن اس کی وضاحت کا ان کو حق نہیں اور اگر وہ اس پر عمل کریں تو وہ عمل اُمت کے لیے حجت نہیں‘ ان کی صوابدید ان کی ذات تک محدود ہے‘ ہم ان کی تعمیل کے مکلف نہیں، ظاہر ہے کہ اس میں سند کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘ جو لوگ آنحضرت صلى الله عليه وسلم سے بالمشافہ گفتگو فرماتے تھے ان پر بھی شرعاً اسے قبول کرنا ضروری نہ تھا‘ لہذا اگر یہ احادیث کے ذخائر تواتر نقل سے بھی ہم تک پہنچ جائیں تو بھی بلحاظ اقوال رسول یہ حجت شرعی نہیں ہیں۔ حجت شرعی صرف پیغام کے الفاظ یعنی قرآن ہے‘ اور اسی طرح اگر آنحضرت صلى الله عليه وسلم اپنی زندگی میں احادیث کا مجموعہ لکھوا دیتے اور وہ مجموعہ آج قرآن کی طرح ہمارے ہاتھوں میں ہوتا پھر جب تک وہ قرآن کے موافق نہ ہو تا ہم اسے قطعاً شر عی حجت نہ سمجھتے بلکہ اگر ہماری سمجھ اور ہمارے علم کی رو سے قرآن کے موافق اس کا مفہوم نہ ہوتا تو بھی ہم قرآن کو ترجیح دیتے اور وہ مفہوم جسے ہماری عقل قرآن تصور کرتی ہے اس کو حدیث کے اس مسلم الثبوت مجموعہ پر ترجیح ہوتی‘ اس عقیدہ کے بعد سند یا تدوین حدیث کے اوقات یا حفظ حدیث کے ظرف کی بحث بالکل بے فائدہ ہے۔ یا کم از کم یہ ایک ثانوی بحث ہے۔ جس پر ایک ضمنی دلیل کے طور پر تو بحث کی جاسکتی ہے لیکن انکار حدیث کے لیے اسے مستقل دلیل کا مرتبہ نہیں دیا جاسکتا۔
(حجیت حدیث ص 187)