مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

ملازموں اور ڈرائیوروں کے سامنے بے پردہ ہونا

فونٹ سائز:
یہ تحریر علمائے حرمین کے فتووں پر مشتمل کتاب 500 سوال و جواب برائے خواتین سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ حافظ عبداللہ سلیم نے کیا ہے۔

سوال :

عورتوں کا ملازمین اور ڈرائیوروں کے سامنے آنے کا کیا حکم ہے ؟ کیا یہ اجنبی (غیر محرم) لوگوں کا حکم رکھتے ہیں ؟ میری والدہ کا مجھ سے مطالبہ ہے کہ میں سر پر سکارف باندھ کر ان کے سامنے چلی جایا کروں کیا یہ عمل ہمارے دین حنیف میں جائز ہے جو کہ ہمیں احکام الہیہ پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیتا ہے ؟

جواب :

ملازمین اور ڈرائیور دیگر اجنبی (غیر محرم) لوگوں کے حکم میں ہیں، اگر وہ غیر محرم ہوں تو ان سے پردہ کرنا واجب ہے۔ ان کے سامنے بے پردہ ہونا اور ان کے ساتھ خلوت میں رہنا جائز نہیں ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :
لا يخلون رجل بامرأة إلا كان الشيطان ثالثهما [ الترمذي كتاب الرضاع باب 16 ]
” کوئی آدمی کسی عورت کے ساتھ خلوت میں نہیں ہوتا مگر ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے۔“
نیز اس بنا پر بھی کہ غیر محرم لوگوں سے پردہ کرنے کے وجوب اور بے پردگی کی حرمت کے دلائل عام ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی معصیت میں والدہ یا کسی اور کی اطاعت جائز نہیں ہے۔
(سابق مفتی اعظم سعودی عرب شیخ ابن باز رحمہ اللہ)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔