مقدمہ کتاب ’’اللہ کہاں ہے‘‘ از غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری

یہ اقتباس شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری کی کتاب اللہ کہاں ہے؟ سے ماخوذ ہے۔

مقدمہ:

اہل سنت والجماعت کا مذہب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے ساتھ عرش پر بلند ہے اور یہ اس کی ذاتی، از لی اور ابدی صفت ہے۔ اس بارے میں دو گروہوں نے اہل سنت والجماعت کی مخالفت کی ہے۔

ایک گروہ کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے اور دوسرے کا مذہب ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ کائنات کے اوپر ہے، نہ نیچے، نہ جہان کے اندر ہے، نہ باہر، نہ دائیں، نہ بائیں، نہ آگے، نہ پیچھے، نہ کائنات سے متصل، نہ اس سے منفصل۔

عقیدے کی یہ تعبیر اسلاف امت سے ثابت نہیں، لیکن یہ لوگ اپنے عقیدے پر قرآن و سنت سے دلائل پیش کرتے ہیں۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا صحابہ، تابعین اور تبع تابعین نے وہ دلائل پڑھے تھے، جو یہ حضرات پیش کرتے ہیں، تو جواب اس کا یہ ہے کہ یقیناً پڑھے تھے، بلکہ حفظ کیے تھے؟

تو یہ دلائل پڑھ کر بھی انھوں نے یہ عقائد کیوں نہیں اپنائے؟ دو وجہیں ہوسکتی ہیں، یا تو سلف امت ان دلائل کو جاننے کے باوجود ماننے پہ تیار نہیں تھے۔ یا پھر ان دلائل سے وہ عقائد ثابت ہی نہیں ہوتے ، جو یہ لوگ ثابت کرنا چاہ رہے ہیں۔

ائمہ سلف نے اپنے عقائد کی بنیاد قرآن وحدیث پر ڈالی ہے، وہ قرآن وسنت کا اتباع کرتے تھے، جب کہ مبتدعین نے پہلے عقائد وضع کیے ہیں، پھر قرآن وسنت کے نصوص کو ان کے مطابق ڈھالا ہے۔ یوں ان کے عقائد ائمہ سلف کے اجماع کے خلاف ہو گئے۔

اہل کلام نے اللہ کی صفت علو سے مراد صفات کی بلندی لی ہے، ذات کی بلندی نہیں۔

صفت معیت:

اللہ نے اپنے لیے علو ثابت کیا ہے، جس آیت سے اہل ضلال نے استدلال کیا ہے، وہ ان کے اس باطل دعویٰ پر دلالت ہی نہیں کرتی، کیوں کہ معیت سے حلول لازم نہیں آتا، جیسا کہ عربوں کا کہنا ہے: (القمر معنا) ’’چاند ہمارے ساتھ ہے۔‘‘ حالانکہ چاند آسمان پر ہوتا ہے۔ (زوجتي معي) ’’میری بیوی میرے ساتھ رہتی ہے۔‘‘ حالاںکہ وہ مشرق میں ہوتا ہے اور وہ مغرب میں ہوتی ہے۔ لہذا معیت سے یہ لازم نہیں آتا کہ ساتھ والا آدمی ہمیشہ ساتھ والے کی جگہ میں ہو، بل کہ مضاف الیہ کے اعتبار سے معیت کا معین کیا جا سکتا ہے، کبھی ہم کہہ دیتے ہیں: (هذا لبن معه ماء) ’’اس دودھ میں پانی ملا ہے۔‘‘ یہ معیت اختلاط کا تقاضا کرتی ہے، آدمی کہتا ہے: (متاعي معي) ’’میرا مال میرے پاس ہے۔‘‘

حالانکہ وہ تو اس کے گھر میں پڑا ہوتا ہے اور سامان اٹھائے ہوئے کہتا ہے: (متاعي معي) ’’میرا مال میرے پاس ہے۔‘‘ اس صورت میں وہ سامان اس کے ساتھ متصل ہوتا ہے۔ یہ ایک ہی کلمہ ہے، لیکن اضافت کے بدلنے سے اس کے معانی بھی بدلتے رہتے ہیں۔

باطل لوازمات:

یہ دعویٰ کہ اللہ ہر جگہ ہے، اس سے کئی باطل لوازم لازم آئیں گے۔

◈تعدد یا اجزا لازم آئیں گے۔ یہ لازم بلا شک وشبہ باطل ہے اور لازم کا بطلان ملزوم کے بطلان پر دلالت کناں ہوتا ہے۔
◈جب آپ کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ کئی جگہوں میں ہے، تو لازم آئے گا کہ وہ لوگوں کی زیادتی کی وجہ سے زیادہ اور کمی کی وجہ سے کم ہو جائے۔

◈آپ پر لازم آئے گا کہ آپ اللہ تعالٰی کو گندگی والی جگہوں سے پاک نہیں سمجھتے، جب آپ کہیں گے کہ اللہ ہر جگہ موجود ہے، حالاں کہ بیت الخلا اور گندگی کے ڈھیر بھی جگہ میں داخل ہیں۔ اس سے بڑی اللہ کی گستاخی کوئی نہیں۔

لہذا یہ نظریہ عقل و نقل کے خلاف ہے۔ قرآن وسنت سے کسی بھی طرح اس کے لیے دلیل مترشح نہیں ہو سکتی، نہ مطابقتی، نہ تضمنی اور نہ ہی التزامی۔

باری تعالیٰ کے لیے جہت کا اثبات:

بعض کا کہنا ہے کہ اللہ کی کوئی جہت قرار نہیں دی جا سکتی، ان کا خیال ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو جہت کے ساتھ موصوف کیا جائے، تو اس سے اللہ تعالیٰ کا جسم لازم آئے گا اور سب جسم تو باہم ایک جیسے ہیں، اس سے تمثیل لازم آئے گی، لہذا انھوں نے اللہ تعالی کی جہت کا انکار کر دیا۔

ہم کہتے ہیں جہت کی نفی سے تو اللہ تعالیٰ کی نفی لازم آتی ہے، کیوں کہ ہم سوائے عدم کے اور کسی ایسی چیز سے واقف نہیں، جو نہ کائنات کے اوپر ہو، نہ نیچے، نہ دائیں ہو، نہ بائیں، نہ آگے ہو، نہ پیچھے، نہ متصل ہو، نہ منفصل ۔ اس لیے بعض علما کا کہنا ہے کہ ہمیں کہا جائے اللہ تعالیٰ کو عدم سے موصوف کرو، تو عدم کے لیے جہت کی نفی سے زیادہ موزوں الفاظ نہیں ملیں گے۔

باقی یہ اعتراض کہ جہت کے اثبات سے تجسیم لازم آئے گی، تو یہ باطل ہے، کیونکہ یہ اعتراض تب ہو، جب ہم خالق اور مخلوق کی صفات میں مماثلت و مشابہت ثابت کریں۔

ہم اللہ تعالیٰ کی صفات کو ایسے ثابت کرتے ہیں، جیسے اس کی عظمت اور شان کے لائق ہے، ان کی کیفیت بیان نہیں کرتے اور نہ ہی مخلوق سے تشبیہ دیتے ہیں۔

کیا جسم سے آپ کی مراد وہ چیز ہے، جو مختلف چیزوں سے مل کر وجود میں آتی ہے، ان اجزا کے ملنے کے بغیر وہ چیز قائم نہیں رہ سکتی ، تو اسے ہم بھی ثابت نہیں کرتے ، جو کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے صفت علو کے اثبات سے تجسیم لازم آتی ہے، تو اس کا یہ دعوی باطل ہے۔

یه دراصل سلف صالحین پر بے اعتمادی کا نتیجہ ہے، کیوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کو عرش پر مانتے تھے، سلف پر بالواسطہ یا بلا واسطہ اعتراض کرنے والے حق پر نہیں ہو سکتے۔ ہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی شایان شان صفات با کمال سے متصف ہے۔

یاد رہے یہ دعویٰ کہ اللہ ہر جگہ موجود ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے جہت ثابت نہیں، سراسر باطل دعوی ہے۔

عقیدہ اہل سنت والجماعت:

اہل سنت والجماعت کا دعویٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے، اس پر وہ قرآن کریم، سنت رسولﷺ، اجماع امت، عقل اور فطرت سے دلائل رکھتے ہیں۔ ہر شخص اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ علو صفت کمال ہے، لہذا اللہ تعالیٰ کے لیے اسے ثابت کرنا ضروری ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ تمام صفات کمال سے متصف ہے۔ اس لیے ہم کہتے ہیں: تین ہی صورتیں ہیں کہ یا تو اللہ تعالیٰ اوپر ہوگا یا نیچے ہو گا یا برا بر ہوگا، نیچے اور برابر ہونا تو منع ہے، کیوں کہ نیچے ہونے میں معنوی نقص ہے اور برابر ہونے سے مخلوق کے ساتھ مشابہت و مماثلت لازم آئے گی، اب صرف علو باقی رہ گیا، جو کہ صفت کمال ہے، لہذا اللہ تعالیٰ کو صفت علو سے متصف کر دیا۔ ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات سے اوپر اپنے عرش پر بلند ہے۔ اللہ کا عرش آسمانوں پر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا سمع و بصر، علم و قدرت ہر چیز کو محیط ہے۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️