مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

مسلمان مریض کو خون کا عطیہ دینا کیسا ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

کسی مسلمان مریض کو خون کا عطیہ دینا کیسا ہے؟

جواب :

جب بوقت مجبوری ماہر حکما یا ڈاکٹروں کے کہنے پر مریض کو خون کی ضرورت ہو تو اسے خون کا عطیہ دینا جائز ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَقَدْ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ﴾
(الأنعام: 119)
”جو کچھ تمھارے اوپر حرام کیا ہے اس کی تفصیل اللہ تعالیٰ نے بیان کر دی ہے، الا کہ تم کسی چیز کے لیے مجبور ہو جاؤ۔“
معلوم ہوا کہ اضطراری حالت میں حرام بھی حلال ہو جاتا ہے اور یہ بقدر ضرورت ہے، جیسا کہ قرآن کریم میں ایک دوسرے مقام پر ہے:
﴿غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ﴾
(البقرة: 173)
جسے مجبوری ہے وہ نہ تو بغاوت کرنے والا ہو اور نہ حد سے تجاوز کرنے والا ہی ہو، تب اس پر کوئی گناہ نہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
المسلم أخو المسلم لا يظلمه ولا يسلمه ومن كان فى حاجة أخيه كان الله فى حاجته
(بخاري کتاب المظالم باب لا يظلم المسلم المسلم ولا يسلمه ح 2442)
مسلمان مسلمان کا بھائی ہے جو نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے کسی کے حوالے کرتا ہے اور جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت میں لگا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت میں ہوتا ہے۔
معلوم ہوا کہ بوقت ضرورت مسلمان کی حاجت پوری کرنا جائز و درست ہے اور یہ خون دینا حالت اضطرار میں بالکل صحیح ہے۔ (واللہ أعلم!)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔