مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

مسلمان عورت کے غیر مسلمہ لیڈی ڈاکٹر کے سامنے اپنا ستر اور پردہ کھولنے کا حکم

فونٹ سائز:
یہ تحریر علمائے حرمین کے فتووں پر مشتمل کتاب 500 سوال و جواب برائے خواتین سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ حافظ عبداللہ سلیم نے کیا ہے۔

سوال:

کیا مسلمان بیمار عورت کے لیے جائز ہے کہ وہ کافر و لیڈی ڈاکٹر کے سامنے اپناستر و حجاب کھولے اور خاص طور پر جب وہ کافر ملک میں رہ رہی ہو؟

جواب:

جائز ہے ،
رہا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان:
أَوْ نِسَائِهِنَّ (24-النور: 31)
عورتوں کے اپنے جسم و بدن سے کچھ ظاہر ہو جانے کے مباح ہونے کے بیان میں ہے ،
بعض مفسرین نے کہا ہے:
أَوْ نِسَائِهِنَّ (24-النور: 31)
یہ کافر عورت کو نکال دیتا ہے جبکہ یہ صحیح نہیں ہے ۔ پس اس کے لیے جائز ہے کہ وہ علاج وغیرہ کی غرض سے جسم کے جس حصے کو کھولنے کی ضرورت محسوس کرے کھول لے ۔ اور علاج معالجہ کے معاملہ میں کافر عورت کو مسلمان کی طرح ہی سمجھنا چاہیے الا یہ کہ ڈر ہو کہ کافر لیڈی ڈاکٹر اس کا راز فاش کرے گی یا اس کی مخفی باتیں نشر کرے گی تو پھر اس سے علاج کروانا جائز نہ ہو گا ۔ رہا علاج کا مسئلہ تو مسلمان عورت کے کافر عورت سے علاج کرانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

(مقبل بن ہادی الوادعی رحمہ اللہ )

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔