مسئلہ طلاق ثلاثہ پر احناف کے چار دعوے اور ان کی حقیقت
یہ اقتباس حافظ صلاح الدین یوسف (مشیروفاقی شرعی عدالت پاکستان) کی کتاب ایک مجلس میں تین طلاقیں اور اس کا شرعی حل سے ماخوذ ہے۔

مسئلہ طلاق ثلاثہ میں بعض حضرات کے دعوے اور ان کی حقیقت

ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ موضوع زیر بحث کے ضروری گوشوں کی وضاحت کر دی جائے تا کہ اہل حدیث پر اڑایا ہوا گرد و غبار صاف اور مسئلے کی مناسب تنقیح ہو جائے۔ احناف کے دعووں کا خلاصہ حسب ذیل ہے :

دعوی : 1

ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقوں کو تین ہی شمار کرنے کا فتویٰ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیا تھا۔

دعوی : 2

کسی صحابی و تابعی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فتوے سے اختلاف کیا ہو۔ احناف کا دعویٰ یہ ہے کہ ایسا نہیں ہوا، کسی کا اختلاف ہمارے علم میں نہیں۔

دعوی : 3

مسئلہ طلاق ثلاثہ میں احناف کا مذہب ائمہ اربعہ کا مذہب ہے جو إجماع امت کے مترادف ہے۔

دعوی : 4

مسئلہ طلاق ثلاثہ میں اہل حدیث اجماع امت سے ہٹ کر شیعوں کے نقش قدم پر ہیں۔
اختلاف امت اور صراط مستقیم از مولانا محمد یوسف لدھیانوی

آخری گزارشات :

اصل مسئلے کی نوعیت اور اس کے دلائل مختصرا ہم بیان کر آئے ہیں۔ آئندہ صفحات میں ہم موضوع کی تفصیلات سے صرف نظر کرتے ہوئے صرف مذکورہ چار باتوں ہی پر بحث کریں گے۔ ان شاء الله
اسی سے مسئلے کے اہم پہلو بھی مزید واضح ہو جائیں گے اور مسلک اہل حدیث کی حقانیت بھی۔ والله الموفق للصواب

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اجتہادی فتوے یا تدبیری اقدام کی حیثیت :۔

دعوى : 1

ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقوں کو تین ہی شمار کرنے کا فتویٰ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیا تھا۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فتویٰ :۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مذکورہ بالا فتوے ہی پر اگر فقہی تعصب سے الگ ہو کر غور کر لیا جائے تو مسئلے کی شاہ کلید ہاتھ میں آجاتی ہے اور مسئلے کا حل نکل آتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس فتوے کے الفاظ یہ ہیں :
عن ابن عباس قال : كان الطلاق على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وسنتين من خلافة عمر، طلاق الثلاث واحدة، فقال عمر بن الخطاب: إن الناس قد استعجلوا فى أمر كانت لهم فيه أناة، فلو أمضيناه عليهم فأمضاه عليهم
صحيح مسلم، الطلاق باب طلاق الثلاث، حديث : 1472 والمستدرك للحاكم، الطلاق: 196/2 ،حدیث:2793 و سنن الدارقطني، الطلاق، حديث : 3961
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے ، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے عہد اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دو برسوں میں تین طلاق کو ایک ہی شمار کیا جاتا تھا۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جس معاملے (طلاق) میں لوگوں کو سوچ بچار سے کام لینا چاہیے تھا اس میں وہ جلد بازی سے کام لینے لگے ہیں، لہذا ہم کیوں نہ اس کو نافذ کر دیں، چنانچہ آپ نے اس کو ان پر نافذ کر دیا۔
اس حدیث کو ایک لفظ یا ایک مجلس میں تین طلاقوں کو تین ہی طلاقیں شمار کرنے کے ثبوت میں پیش کیا جاتا ہے اور دعوی کیا جاتا ہے کہ اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع ہو گیا ہے۔ لیکن اسی حدیث سے یہ بھی تو واضح طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ خود عہدِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بلکہ خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت کے ابتدائی دوسالوں میں تعامل کیا تھا؟ یہی ناکہ تین طلاقوں کو ایک ہی طلاق شمار کیا جاتا تھا۔ انصاف سے سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ تعامل امت زیادہ صحیح ہے جو عہد رسالت وعہد صدیقی اور اس کے دو سال بعد تک رہا یا وہ تعامل جس کا آغاز حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دو سال بعد ہوا، یعنی تعامل عہد رسالت وصدیقی فوقیت رکھتا ہے یا تعامل عہد عمر؟
بنابریں واقعہ یہ ہے کہ صحیح مسلم کی یہ حدیث جسے ہمارے بھائی طلاق ثلاثہ کے اثبات میں پیش کرتے ہیں، اسی مسلک کی تائید کرتی ہے جس میں ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقیں ایک ہی طلاق شمار کرنے کا فتویٰ دیا جاتا ہے۔

فتاوٰی فاروقی کی حقیقت :۔

رہی یہ بات کہ عہد رسالت و عہد صدیقی کے خلاف حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کیوں حکم نافذ کیا ؟ تو گزارش ہے کہ اسی حدیث میں اس کی یہ وجہ بیان کر دی گئی ہے کہ لوگ کثرت سے طلاقیں دینے لگ گئے تھے جبکہ شریعت نے اس میں انتہائی غور وفکر اور صبر و تحمل سے کام لینے کی تاکید کی ہے، نیز بیک وقت تین طلاقیں شریعت اسلامیہ میں سخت ناپسندیدہ فعل ہے جو نص قرآنی الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ کے بھی خلاف ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیک وقت تین طلاقوں کو تلعب بكتاب الله کتاب اللہ کے ساتھ کھیل قرار دیا ہے۔
سنن نسائی میں حدیث ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے ڈالیں، آپ کو معلوم ہوا تو آپ بڑے غضب ناک ہوئے اور فرمایا :
أيلعب بكتاب الله وأنا بين أظهركم
سنن النسائي، الطلاق ، باب الثلاث المجموعة وما فيه من التغليظ، حدیث: 3430 والمحلى لابن حزم، أحكام الطلاق 167/10
کیا میری موجودگی میں اللہ کی کتاب کے ساتھ تلعب (کھیل) کیا جا رہا ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کو اتنا ناپسند فرماتے تھے کہ جس شخص کے متعلق ان کو پتہ چلتا کہ اس نے بیک وقت تین طلاقیں دی ہیں تو اس کی پشت پر درے لگاتے۔
أن عمر كان إذا أتي برجل طلق امرأته ثلاثا أوجع ظهره
فتح الباري، باب من جوز الطلاق الثلاث: 362/9 و سنن سعيد بن منصور، الطلاق، باب التعدي في الطلاق، حديث :1073 و شرح معاني الآثار: 59/3
لیکن جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ لوگ طلاق کے مسئلے میں اس احتیاط و تدبر سے کام نہیں لیتے جو شریعت کا منشا ہے اور طلاق کا وہ صحیح طریقہ اختیار نہیں کرتے جو شریعت نے بتلایا ہے کہ ایک ہی طلاق (طلاق بلفظ واحد) حالت طہر میں دی جائے بلکہ بیک وقت تین طلاقیں کثرت سے دینے لگے ہیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ذہن میں یہ بات آئی کہ کیوں نہ تین طلاقوں کو تین ہی شمار کرنے کا نفاذ کر دیا جائے تا کہ اس سخت اقدام سے لوگوں کو کچھ تنبیہ ہو اور کثرت سے بیک وقت تین طلاقیں دینے کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہو۔ یہ گویا ایک تعزیری و تہدیدی اقدام تھا جو اجتہادا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اختیار کیا تھا جیسا کہ اور بھی کئی مسائل میں انھوں نے ایسے ہی اجتہادی اقدامات کیے تھے۔ ان مصالح اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اقدام کا پس منظر چونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے علم میں تھا، اس لیے اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی سکوت اختیار فرمایا، چنانچہ حافظ ابن القیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
رأى أمير المؤمنين عمر رضي الله عنه، أن الناس قد استهانوا بأمر الطلاق، وكثر منهم إيقاعه جملة واحدة، فرأى من المصلحة عقوبتهم بإمضائه عليهم، ليعلموا أن أحدهم إذا أوقعه جملة بانت منه المرأة وحرمت عليه حتى تنكح زوجا غيره نكاح رغبة يراد للدوام لا نكاح تحليل، فإنه كان من أشد الناس فيه، فإذا علموا ذلك كفوا عن الطلاق المحرم، فرأى عمر أن هذا مصلحة لهم فى زمانه، ورأى أن ما كانوا عليه فى عهد النبى صلى الله عليه وسلم وعهد الصديق وصدرا من خلافته كان الأليق بهم، لأنهم لم يتتابعوا فيه، وكانوا يتقون الله فى الطلاق، وقد جعل الله لكل من اتقاه مخرجا، فلما تركوا تقوى الله وتلا عبوا بكتاب الله وطلقوا على غير ما شرعه الله ألزمهم بما التزموه عقوبة لهم، فإن الله تعالى إنما شرع الطلاق مرة بعد مرة، ولم يشرعه كله مرة واحدة، فمن جمع الثلاث فى مرة واحدة فقد تعدى حدود الله، وظلم نفسه، ولعب بكتاب الله، فهو حقيق أن يعاقب، ويلزم بما التزمه، ولا يقر على رحصة الله وسعته، وقد صعبها على نفسه، ولم يتق الله ولم يطلق كما أمره الله وشرعه له ، بل استعجل فيما جعل الله له الأناة فيه رحمة منه وإحسانا، ولبس على نفسه ، واختار الأغلظ والأشد فهذا مما تغيرت به الفتوى لتغير الزمان، وعلم الصحابة رضي الله عنهم ، حسن سياسة عمر وتأديبه لرعيته فى ذلك، فوافقوه على ما ألزم به
دین محمدی ج 2 ، حصہ پنجم ، ص : 804 ، طبع لاہور . إعلام الموقعین 36,35/3- 1969ء
اعلام الموقعین کے اُردو ترجمہ بنام ”دین محمدی“ (از : مولانا محمد جونا گڑھی رحمہ اللہ) میں مذکورہ عربی عبارت کا ترجمہ حسب ذیل الفاظ میں کیا گیا ہے :
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو کچھ کیا وہ ایک مصلحت وقت کی اقتضا کا کام تھا، نہ کہ شرعی مسئلہ، ایک کام جو منع تھا، جو خلاف سنت تھا لیکن اگر کسی سے ہو جائے تو شریعت اسے پکڑتی نہ تھی جب لوگوں نے بکثرت بے خوف ہو کر اسے شروع کر دیا تو آپ نے بحیثیت قانون یہ حکم فرمایا کہ میں آئندہ سے تین کو تین ہی گن لوں گا۔ یہ صرف اس لیے تھا کہ لوگ ایک ساتھ تین طلاقیں دینے سے باز رہ جائیں ، ورنہ پھر تین سال تک یہ حکم شرعی کیوں جاری نہ کیا، پس یہ حکم شرعی نہیں بلکہ قانونی حیثیت رکھتا ہے کہ لوگ ڈر جائیں کہ اگر اب ہم نے ایسا کیا تو بیوی نکاح سے باہر ہو جائے گی جب تک وہ دوسرے سے نکاح نہ کرے۔ اور نکاح بھی باقاعدہ رغبت کے ساتھ دوام کے لیے ہو، نہ یہ کہ حلالہ کر کے چھوڑ دے کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حلالہ کے سخت ترین مخالف تھے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا خیال یہ ہوا کہ پہلے لوگوں کے لائق جو تھا اس سے وقت کے لوگ محروم کر دیے جانے کے قابل ہو گئے ہیں وہ اس طرح پے در پے طلاقیں نہیں دیتے تھے، طلاق کے معاملے میں طریقہ طلاق کو ملحوظ رکھتے تھے۔ اللہ سے ڈرتے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے بھی ان کے ساتھ آسانی کر رکھی تھی۔ اب جبکہ یہی چیز برابر ہونے لگی تو کیا انھیں اس انعام الہی سے محروم نہ کر دیں تا کہ ان کے دماغ اور ان کے فعل پھر درست ہو جائیں، پس یہ فتویٰ گویا ایک درہ فاروقی تھا جو ان کی سزا کے لیے تھا نہ یہ کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حکم شرعی بدل دیا۔
مشروع طلاق ایک کے بعد ایک ہے نہ کہ سب ایک ساتھ ۔ جو ایسا کرتا ہے وہ حد سے گزر جاتا ہے، اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے اور احکام الہی کے ساتھ کھیل کرتا ہے، پس وہ اس قابل ہو گیا کہ حاکم وقت بطور سزا دہی کے اس پر کوئی سختی کر دے۔ یہ اللہ کی آیتوں سے کھیلتا ہے تو کیوں نہ رخصت الہی سے محروم کر دیا جائے تا کہ اس کی آنکھیں کھل جائیں، پس یہ تو اسی قبیل سے ہے کہ زمانے کے بدلنے سے حکم بھی بدل جاتا ہے۔ اس حکمت کو مد نظر رکھ کر سیاست فاروقی کا ساتھ صحابہ نے بھی دیا اور ایسے ہی فتوے دینے شروع کیے۔
اسی طرح امام ابن القیم رحمہ اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس اجتہادی اقدام کی معاشرتی مصلحتیں اور اس میں کار فرما دیگر اسباب و وجوہ ”إغاثة اللهفان من مصايد الشيطان“ میں بھی بیان فرمائے ہیں۔ إغاثة اللهفان : 352,351,349,315/1
خود حنفی فقہاء بھی تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی زمانے تک تین طلاقیں ایک ہی طلاق سمجھی جاتی تھیں، پھر لوگوں کی کثرت طلاق کی وجہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تین طلاقوں کو تین ہی شمار کرنے کا حکم سیاسی تدبیر کے طور پر نافذ کر دیا، چنانچہ امام طحطاوی ”در مختار“ کے حاشیے میں قہستانی کے حوالے سے لکھتے ہیں :
إنه كان فى الصدر الأول إذا أرسل الثلاث جملة لم يحكم إلا بوقوع واحدة إلى زمن عمر، ثم حكم بوقوع الثلاث سياسة لكثرته من الناس
حاشية طحطاوي على الدر المختار: 105/2 ،دارالمعارف ،بیروت، لبنان، 1975ء وجامع الرموز : 321 ومجمع الأنهر شرح منتقى الأبهر : 328

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اظہار ندامت :۔

اس تفصیل سے واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فتوی بطور سزا کے تھا۔ اور بعض سزائیں حالات و ظروف کے اعتبار سے تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس حکم کو جاری کرتے وقت یہ ہرگز نہیں فرمایا تھا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے بلکہ انھوں نے اس کی نسبت اپنی طرف ہی کی ہے :
فلو أمضيناه عليهم، فأمضاه عليهم
صحیح مسلم ،الطلاق باب طلاق الثلاث، حديث : 1472 والسنن الكبرى للبيهقي، الخلع والطلاق، باب من جعل الثلاث واحدة……. 336/7
چنانچہ آخری ایام میں انھیں اس بات کا احساس بھی ہوا کہ مجھے بطور سزا بھی یہ اقدام نہیں کرنا چاہیے تھا جس پر انھوں نے اظہار ندامت بھی کیا۔
پس ایک تعزیری اور اجتہادی اقدام کو دین و شریعت کا درجہ نہیں دیا جاسکتا، بالخصوص جبکہ عہدِ رسالت و عہد صدیقی میں تین طلاقوں کو ایک ہی طلاق شمار کیا جاتا تھا۔ملاحظہ ہو: إغاثة اللهفان: 351/1

حقیقت دعوائے اجماع :۔

اسی طرح اس پر اجماع کا دعوی بھی یکسر غلط ہے، اس لیے کہ اجماع کے متعلق خود اصول فقہ حنفی میں یہ لکھا ہے :
والشرط إجماع الكل وخلاف الواحد مانع كخلاف الأكثر، يعني فى حين انعقاد الإجماع لو خالف واحد كان خلافه معتبرا ولا ينعقد الإجماع لأن لفظ الأمة فى قوله لا تجتمع أمتي على الضلالة يتناول الكل فيحتمل أن يكون الصواب مع المخالف
نور الأنوار، ص: 221 بحث إجماع
اجماع کے لیے ”کل“ کا اتفاق شرط ہے اور ایک کا اختلاف بھی اجماع کے انعقاد میں اسی طرح مانع ہوگا جس طرح بہتوں کا اختلاف ، اس لیے اجماع کے وقت اگر ایک بھی مخالف ہوگا تو اجماع منعقد نہ ہوگا کیونکہ امت کا لفظ حدیث (میری امت گمراہی پر مجتمع نہیں ہوگی) میں کل امت کو شامل ہے، پس ہو سکتا ہے کہ صواب (حق) مخالف کی جانب ہو (اور باقی سب غلطی پر ہوں)۔
دعوائے اجماع کی حقیقت کی مزید تفصیل آگے چند صفحات کے بعد آرہی ہے۔

ایک طلاق پر اجماع قدیم :۔

اس صراحت کے بعد ہر انصاف پسند آج کل کے بعض احناف کے دعوائے اجماع کی حقیقت کا اندازہ لگا سکتا ہے جو وہ مسئلہ تطلیقات ثلاثہ میں کرتے ہیں۔ اس کے برعکس واقعہ یہ ہے کہ اس مسئلے میں جو نقطہ نظر اہل حدیث کا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اجتہادی و تدبیری اقدام سے پہلے اس پر پوری امت کا اجماع تھا، یعنی عہد رسالت و عہد صدیقی اور عہد عمر کے ابتدائی دو تین سالوں تک پوری امت بیک وقت دی گئیں تین طلاقوں کو ایک طلاق شمار کرتی تھی۔ اس وقت اس مسئلے میں کسی کا اختلاف ثابت و منقول نہیں۔
اسی لیے حافظ ابن القیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
وكل صحابي من لدن خلافة الصديق إلى ثلاث سنين من خلافة عمر كان على أن الثلاث واحدة فتوى أو إقرارا أو سكونا، ولهذا ادعى بعض أهل العلم أن هذا إجماع قديم، ولم تجمع الأمه ولله الحمد على خلافه، بل لم يزل فيهم من يفتي به قرنا بعد قرن وإلى يومنا هذا
إعلام الموقعين : 34/3
اور آگے چل کر لکھتے ہیں :
والمقصود أن هذا القول قد دل عليه الكتاب والسنة والقياس والإجماع القديم، ولم يأت بعده إجماع يبطله
إعلام الموقعين : 35/3
اور ”إغاثة اللهفان“ میں اس مسئلے پر بحث کے دوران میں لکھتے ہیں :
فيكفي كون ذلك على عهد الصديق، ومعه جميع الصحابة ، لم يختلف عليه منهم أحد، ولا حكي فى زمانه القولان، حتى قال بعض أهل العلم : إن ذلك إجماع قديم وإنما حدث الخلاف فى زمن عمر رضي الله عنه، واستمر الخلاف فى المسئلة إلى وقتنا هذا، كما سنذكره
إغاثة اللهفان : 417/1
خلاصہ ان عبارتوں کا یہی ہے کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نزدیک عہد عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی سالوں تک تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی تھیں۔ اس میں گویا بعض اہل علم کے قول کے مطابق اجماع تھا، ایک صحابی کا بھی اختلاف اس میں ثابت نہیں اور اب تک اس مسلک کے حاملین آرہے ہیں۔ البتہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے تدبیری اقدام کے بعد اس میں اختلاف پیدا ہوا اور پھر یہ اختلاف اب تک چلا آرہا ہے۔
اور جو لوگ یہ دعوی کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلے کے بعد اس پر اجماع ہو گیا، ان کارد کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
وحينئذ فتكون المسئلة مسئلة نزاع يجب ردها إلى الله تعالى ورسوله، ومن أبى ذلك فهو إما جاهل مقلد، وإما متعصب صاحب هوى، عاص الله تعالى ورسوله ، متعرض للحوق به ، فإن الله تعالى يقول : فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا فإذا ثبت أن المسئلة مسئله نزاع وجب قطعا ردها إلى كتاب الله وسنة رسوله وهذه المسئلة مسئلة نزاع، بلا نزاع بين أهل العلم الذين هم أهله، والنزاع فيها من عهد الصحابة إلى وقتنا هذا
اس وقت یہ اختلافی مسئلہ ہوگا جس کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹانا واجب ہے۔ اور جو اس کا انکار کرے گا وہ یا تو جاہل مقلد ہوگا یا خواہشات کی پیروی کرنے والا تعصب کا شکار اور اللہ اور اس کے رسول کا نافرمان اور جس چیز کی وعید آئی ہے اس کے درپے ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اگر تم کسی چیز میں جھگڑا کرو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹاؤ اگر تم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو تو جب ثابت ہو گیا کہ یہ اختلافی مسئلہ ہے تو حتمی طور پر اسے اللہ اور سنت رسول کی طرف لوٹانا واجب ہے اور یہ اختلافی مسئلہ ہے جس میں اہل علم کا اختلاف نہیں (وہ اس کو اللہ اور رسول کی طرف لوٹا کر اختلاف کو ختم کر دیتے ہیں) اور اس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور سے لے کر اب تک اختلاف چلا آرہا ہے۔ إغاثة اللهفان : 453/1

دعوائے اجماع کی حقیقت :۔

دعوی : 2

کسی صحابی و تابعی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فتوے سے اختلاف کیا ہو۔ احناف کا دعوی یہ ہے کہ ایسا نہیں ہوا، کسی کا اختلاف ہمارے علم میں نہیں۔

صحابہ وتابعین کے فتوے :۔

دوسری بات یہ کہی جاتی ہے کہ کسی صحابی و تابعی کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مخالف فتوے کا انھیں علم نہیں۔ گویا ان کے نزدیک اس پر اجماع ہے۔ یہ دعوی بھی صحیح نہیں کیونکہ صحابہ کرام اور تابعین و تبع تابعین (رحمہم اللہ) کے متعدد ایسے فتاوے موجود ہیں کہ بیک وقت تین طلاقیں ایک ہی طلاق کے حکم میں ہوتی ہیں۔ یہ فتاوی کتب تفسیر ، شروح حدیث اور کتب فقہ میں موجود ہیں۔ ایسے چند حوالے پیش خدمت ہیں جن سے ایسے متعدد صحابہ و تابعین کے فتووں کا پتہ چلتا ہے جن کے متعلق بالکل لاعلمی ظاہر کی جاتی ہے۔

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ :۔

انھوں نے متعدد مقامات پر اس موضوع پر تفصیل سے لکھا ہے۔ یہاں امام موصوف کی ایک عبارت پیش کی جاتی ہے۔ لکھتے ہیں :
وكذلك إذا طلقها ثلاثا بكلمة أو كلمات فى طهر واحد فهو محرم عند جمهور العلماء، وتنازعوا فيما يقع بها ، فقيل : يقع بها الثلاث، وقيل : لا يقع بها إلا طلقة واحدة، وهذا هو الأظهر الذى يدل عليه الكتاب والسنة، كما قد بسط فى موضعه
فتاوی ابن تيمية : 72/33
اگر کوئی شخص ایک طہر میں ایک کلمہ کے ساتھ یا تین کلموں کے ساتھ تین طلاقیں دے تو جمہور علماء کے نزدیک یہ فعل (بیک وقت تین طلاقیں دینا) حرام ہے، تاہم ان کے واقع ہونے میں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ تینوں واقع ہو جائیں گی اور ایک قول یہ ہے کہ ایک ہی طلاق واقع ہوگی اور یہ بات زیادہ صحیح ہے جس پر قرآن وسنت دلالت کرتے ہیں جیسا کہ اپنی جگہ تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے۔

حافظ ابن قیم رحمہ اللہ :۔

انھوں نے بھی اس موضوع پر خاصی تفصیل سے بحث کی ہے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں : صحابہ میں سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ، زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور ایک روایت کی رُو سے حضرت علی رضی اللہ عنہ وعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما بھی، تابعین میں سے حضرت عکرمہ رحمہ اللہ اور امام طاؤس رحمہ اللہ اور تبع تابعین اور ان کے بعد کے ائمہ میں سے محمد بن اسحاق رحمہ اللہ، خلاس بن عمرو رحمہ اللہ، حارث العکلی رحمہ اللہ ، داود بن علی رحمہ اللہ اور ان کے اکثر اصحاب بعض اصحاب مالک، بعض حنفیہ میں محمد بن مقاتل رحمہ اللہ وغیرہ اور بعض اصحاب احمد اس بات کے قائل رہے ہیں کہ ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقیں ایک ہی طلاق شمار ہوں گی۔إعلام الموقعين : 44/3 ، نیز دیکھیے : إغاثة اللهفان: 341,339/1 وفتاوى ابن تيمية : 83/33

علامہ ابو حیان اندلسی رحمہ اللہ :۔

موصوف الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ کی تفسیر میں پہلے ان لوگوں کی تائید کرتے ہیں جو اس مختلف اوقات میں طلاق دیے جانے پر استدلال کرتے ہیں :
هكذا بحثوه فى هذا الموضع وبحث صحيح
پھر لکھتے ہیں :
وما زال يختلج فى خاطري أنه لو قال : أنت طالق مرتين أو ثلاثا أنه لا يقع إلا واحدة، لأنه مصدر للطلاق ويقتضي العدد فلابد أن يكون الفعل الذى هو عامل فيه يتكرر وجودا كما تقول : ضربت ضربتين أو ثلاث ضربات
تفسير البحر المحيط : 192/1 وتفسير النهر الماد بر حاشيه تفسير مذكور، ص:191
خلاصہ عبارت یہ ہے کہ قرآن کے الفاظ الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ سے میرے دل میں ہمیشہ یہی بات آئی ہے کہ طلاق دینے والا مرد ایک مجلس اور ایک وقت میں اگر دو یا تین طلاقیں دے تو وہ ایک ہی طلاق واقع ہو۔

امام نظام الدین قمی نیشاپوری رحمہ اللہ لکھتے ہیں :۔

ثم من هؤلاء من قال : لو طلقها ثنتين أو ثلاثا لا يقع إلا واحدة وهو أقيس
تفسیر غرائب القرآن : 266/2
پھر ایسے لوگ بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ اگر دو یا تین مرتبہ کوئی طلاق دے گا تو وہ ایک ہی طلاق ہوگی، اور یہی بات زیادہ قرین قیاس ہے۔
یعنی یہ الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ کے معنی کے زیادہ مناسب ہے۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ :۔

آپ فتح الباری میں صحیح بخاری کے بَابُ مَنْ جَوَّزَ طَلَاقَ الثَّلَاثِ کے تحت لکھتے ہیں :
وفي الترجمة إشارة إلى أن من السلف من لم يجز وقوع الطلاق الثلاث
ترجمۃ الباب میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سلف میں ایسے لوگ رہے ہیں جو تین طلاق کے وقوع کو جائز قرار نہیں دیتے تھے۔
پھر وہ اسی طلاق واحد بلفظ ثلاث کی حمایت کرتے ہوئے دعوائے اجماع کی حقیقت یوں بے نقاب کرتے ہیں :
نقل عن على وابن مسعود وعبد الرحمن بن عوف والزبير مثله، نقل ذلك ابن مغيث فى كتاب الوثائق له وعزاه لمحمد بن وضاح، ونقل الغنوي ذلك عن جماعة من مشايخ قرطبة كمحمد بن تقي بن مخلد ومحمد بن عبدالسلام الخشني وغيرهما، ونقله ابن المنذر عن أصحاب ابن عباس كعطاء وطاؤس وعمرو بن دينار ويتعجب من ابن التين حيث جزم بأن لزوم الثلاث لا اختلاف فيه، وإنما الاختلاف فى التحريم مع ثبوت الاختلاف كما ترى
فتح الباري الطلاق، باب من جوز الطلاق الثلاث : 363/9
حضرت علی رضی اللہ عنہ ، ابن مسعود رضی اللہ عنہ، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ بھی طلاق واحد بلفظ ثلاث کے قائل ہیں، اسی طرح مشایخ قرطبہ کی ایک جماعت جیسے احمد بن بقی بن مخلد اور محمد بن عبد السلام الخشنی وغیرہ، نیز اصحاب ابن عباس رضی اللہ عنہ ، مثلاً عطاء رحمہ اللہ، طاؤس رحمہ اللہ، عمرو بن دینار رحمہ اللہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ ابن التین رحمہ اللہ پر تعجب ہے کہ انھوں نے کس یقین کے ساتھ یہ دعوی کیا ہے کہ تین طلاق کے لزوم میں اختلاف نہیں ہے، اختلاف صرف تحریم میں ہے۔ باوجود اس بات کے کہ اختلاف ثابت ہے جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو۔
اس سے قبل حافظ صاحب نے محمد بن اسحاق رحمہ اللہ صاحب مغازی کا بھی یہی مسلک بتایا ہے۔

امام عینی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :۔

وفيه خلاف، فذهب طاؤس ومحمد بن إسحاق والحجاج ابن أرطاة والنخعي وابن مقاتل والظاهرية إلى أن الرجل إذا طلق امرأته ثلاثا معا فقد وقعت عليها واحدة
عمدة القاري، الطلاق، باب من أجاز الطلاق الثلاث: 236/14
اس مسئلے میں اختلاف ہے، امام طاؤس رحمہ اللہ، محمد بن اسحاق رحمہ اللہ ، حجاج بن ارطاۃ رحمہ اللہ نخعی رحمہ اللہ، ابن مقاتل رحمہ اللہ اور ظاہر یہ اس طرف گئے ہیں کہ جب آدمی اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دے تو وہ ایک ہی شمار ہوگی۔

امام نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :۔

قد اختلف العلماء فيمن قال لامرأته : أنت طالق ثلاثا، فقال الشافعي ومالك وأبو حنيفة وأحمد وجماهير العلماء من السلف والخلف : يقع الثلاث، وقال طاؤس وبعض أهل الظاهر : لا يقع بذلك إلا واحدة، وهو رواية عن الحجاج بن أرطاة، ومحمد بن إسحاق، والمشهور عن الحجاج بن أرطاة أنه لا يقع به شيء، وهو قول ابن مقاتل، ورواية عن محمد بن إسحاق
صحيح مسلم مع شرح نووي باب طلاق الثلاث : 104/10
اس میں اختلاف ہے کہ بیک وقت تین طلاقیں دے دینے کا کیا حکم ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ ، امام مالک رحمہ اللہ، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ، امام احمد رحمہ اللہ اور جمہور علمائے سلف وخلف کہتے ہیں کہ اس طرح تین طلاقیں ہو جائیں گی، اور امام طاؤس رحمہ اللہ (تابعی) اور بعض اہل ظاہر اس کے قائل ہیں کہ اس طرح ایک ہی طلاق واقع ہوگی۔ یہی حجاج بن ارطاۃ رحمہ اللہ اور محمد بن اسحاق رحمہ اللہ سے مروی ہے اگر چہ حجاج بن ارطاۃ رحمہ اللہ کا مشہور قول یہ کہ اس طرح کچھ بھی واقع نہیں ہوتا اور یہی قول ابن مقاتل رحمہ اللہ کا ہے اور ایک روایت محمد بن اسحاق رحمہ اللہ سے بھی یہی ہے۔ علمائے امت کی ان تصریحات سے واضح ہے کہ ان کا مزعومہ مسئلہ اجماعی نہیں بلکہ ان میں ابتدا ہی سے اختلاف چلا آرہا ہے۔ اس سلسلے کی مزید صراحتیں ملاحظہ ہوں جس سے دعوائے اجماع کی حقیقت مزید بے نقاب ہو جاتی ہے۔

امام طحاوی حنفی رحمہ اللہ :۔

احناف کے جلیل القدر عالم اسی بیک وقت طلاق ثلاثہ کے مسئلے پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
فذهب قوم إلى أن الرجل إذا طلق امرأته ثلاثا معا، فقد وقعت عليها واحدة إذا كانت فى وقت سنة وذلك أن تكون طاهرا فى غير جماع واحتجوا فى ذلك بهذا الحديث
شرح معاني الآثار، باب الرجل يطلق امرأته ثلاثا معا: 55/3
ایک گروہ اس طرف گیا ہے کہ مرد جب اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دے تو ایک ہی طلاق واقع ہو گی جبکہ وقت سنت میں، یعنی اس وقت دی گئی ہو کہ وہ پاک ہو میں سے ایک ہے اس کی اور اس سے ہم بستری نہ کی گئی ہو اور دلیل ان کی یہی حدیث ہے۔ (صحیح مسلم کی وہ حدیث جس کا پہلے ذکر ہوا ہے جس میں یہ وضاحت ہے کہ عہد رسالت و عہد صدیقی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دو سالوں میں تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی تھیں۔)

مولانا عبد الحی حنفی لکھنوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :۔

والقول الثاني : أنه إذا طلق ثلاثا تقع واحدة رجعية ، وهذا هو المنقول عن بعض الصحابة، وبه قال داود الظاهري وأتباعه ، وهو أحد القولين لمالك، ولبعض أصحاب أحمد
عمدة الرعاية : 71/2 مطبع انوار محمدی لکھنؤ
اس مسئلے میں اختلاف ہے (پہلے شیعی مسلک نقل کر کے لکھتے ہیں) اور دوسرا قول یہ ہے کہ جب ایک ساتھ تین طلاقیں دی جائیں تو وہ ایک رجعی طلاق ہو گی۔ اور یہی بعض صحابہ سے منقول ہے اور اسی کے قائل داود ظاہری رحمہ اللہ اور ان کے متبعین ہیں اور ایک قول کے مطابق یہی مذہب امام مالک رحمہ اللہ اور امام احمد رحمہ اللہ کے بعض اصحاب کا ہے۔

امام قرطبی رحمہ اللہ :۔

انھوں نے بھی اس مسئلے کو اختلافی قرار دیا ہے اور درج ذیل صحابہ و تابعین اور دیگر ائمہ کو اس مسلک کا حامل بتلایا ہے :
حضرت علی رضی اللہ عنہ، ابن مسعود رضی اللہ عنہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما، زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ، طاوس رحمہ اللہ، بعض اہل ظاہر، محمد بن اسحاق رحمہ اللہ ، حجاج بن ارطاۃ رحمہ اللہ اور شیوخ قرطبہ میں سے ابن زنباع شیخ ہدی رحمہ اللہ ، احمد بن بقی بن مخلد رحمہ اللہ، محمد بن عبد السلام رحمہ اللہ، اصبغ بن حباب رحمہ اللہ اور ان کے علاوہ ایک جماعت۔ دیکھیے تفسير القرطبی، زیر آیت الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ :132,129/3 طبع مصر

امام رازی رحمہ اللہ :۔

تفسیر کبیر میں الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ کے تحت لکھتے ہیں :
ثم القائلون بهذا القول اختلفوا على قولين : الأول : وهو اختيار كثير من علماء الدين، أنه لو طلقها اثنين أو ثلاثا لا يقع إلا الواحدة، وهذا القول هو الأقيس، لأن النهي يدل على اشتمال المنهي عنه على مفسدة راححة، والقول بالوقوع سعي فى إدخال تلك المفسدة فى الوجود وإنه غير جائر، فوجب أن يحكم بعدم الوقوع
التفسير الكبير : 96/6
بہت سے علمائے دین کا مسلک ہے کہ بیک وقت دو یا تین طلاقیں دینے کی صورت میں ایک ہی طلاق واقع ہوگی اور یہی قول قیاس کے سب سے زیادہ موافق ہے کیونکہ کسی چیز سے منع کرنا اس پر دلالت کرتا ہے کہ وہ چیز کسی بڑے مفسدے اور خرابی پر مشتمل ہے اور یہ مسلک وقوع (بیک وقت تین طلاقوں کو تین ہی شمار کر لینا) اس مفسدے اور خرابی کو وجود میں لانے کا سبب ہے اور یہ بات جائز نہیں، لہذا عدم وقوع بیک وقت تین طلاقوں کے تین نہ ہونے) کا حکم لگانا ضروری ہے۔

قاضی ثناء اللہ حنفی پانی پتی رحمہ اللہ :۔

انھوں نے تقریبا یہی بات اپنی مشہور و معروف تفسیر کے اندر اس آیت کی تفسیر میں لکھی ہے :
فكان القياس أن لا يكون الطلقتين المجتمعتين معتبرة شرعا وإذا لم يكن الطلقتين معتبرة لم يكن الثلاث مجتمعة معتبرة بالطريق الأولى
پس قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ دو مجموعی طلاقیں شرعا معتبر نہ ہوں اور جب دو مجموعی (اکٹھی) طلاقیں معتبر نہ ہوں گی تو بیک وقت تین طلاقیں بطریق اولی معتبر نہ ہوں گی۔
اگر چہ آگے چل کر انھوں نے مذہب حنفی کی حمایت میں وقوع طلاق ثلاثہ پر اجماع کا دعوی کیا ہے اور طرفہ یہ ہے کہ اس سے پہلے بھی اس مسئلے کا اختلافی ہونا تسلیم کر آئے ہیں اور بعض حنابلہ کی مخالفت کا ذکر کیا ہے، پھر معلوم نہیں کہ مسئلہ اجماعی کیوں کر ہو گیا؟

علامہ آلوسی بغدادی رحمہ اللہ :۔

صاحب روح المعانی بھی اس مسئلے کو اختلافی تسلیم کرتے ہیں :
وخالف فى ذلك الإمامية وبعض من أهل السنة كالشيخ أحمد بن تيمية ومن اتبعه، قالوا : لو طلق ثلاثا بلفظ واحد لا يقع إلا واحدة احتجاجا بهذه الآية
تفسیر روح المعاني : 206/2
اس بارے میں مشہور قول کی مخالفت امامیہ نے کی ہے اور اہل سنت کے بعض افراد بھی اس طرف گئے ہیں۔ جیسے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور ان کے پیروکار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک ہی مرتبہ تین طلاقیں دینے سے ایک ہی طلاق واقع ہوگی۔ ان کا استدلال اسی آیت الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ سے ہے۔

امام شوکانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :۔

واعلم أنه قد وقع الخلاف فى الطلاق الثلاث إذا أوقعت فى وقت واحد ، هل يقع جميعها ويتبع الطلاق الطلاق أم لا
نيل الأوطار : 260/6
جب بیک وقت تین طلاقیں دی جائیں تو اس بارے میں اختلاف ہے کہ تینوں کی تینوں واقع ہو جاتی ہیں اور طلاق کے پیچھے طلاق ہو جاتی ہے یا نہیں ؟
پھر جمہور علماء کا مسلک (کہ ایسی صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی) نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
اور اہل علم کے ایک گروہ کا کہنا ہے کہ طلاق کے پیچھے طلاق واقع نہیں ہوتی بلکہ ایسی صورت میں ایک ہی طلاق پڑے گی۔ حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ اور ایک روایت کی رُو سے حضرت علی رضی اللہ عنہ ، ابن عباس رضی اللہ عنہما، طاؤس رحمہ اللہ، عطاء رحمہ اللہ، جابر بن زید رحمہ اللہ ، ہادی رحمہ اللہ ، قاسم رحمہ اللہ ، باقر رحمہ اللہ ، ناصر رحمہ اللہ ، احمد بن عیسی رحمہ اللہ عبد اللہ بن موسی بن عبد اللہ رحمہ اللہ اور ایک روایت کے مطابق زید بن علی رحمہ اللہ کا یہی مسلک ہے۔ اور متاخرین کی ایک جماعت بھی اس طرف گئی ہے جس میں ابن تیمیہ رحمہ اللہ، ابن القیم رحمہ اللہ اور محققین کا ایک گروہ شامل ہے اور ابن مغیث نے کتاب الوثائق میں محمد بن وضاح رحمہ اللہ کا بھی یہی مسلک نقل کیا ہے، نیز اسی مسلک پر مبنی مشایخ قرطبہ (جیسے احمد بن بقی رحمہ اللہ اور محمد بن عبد السلام رحمہ اللہ) کا بھی ایک فتویٰ منقول ہے، علاوہ ازیں اسی کتاب میں انھوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ، عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کا یہی مسلک بیان کیا ہے۔
پھر آگے چل کر طلاق ثلاث بہ لفظ واحد کے مسلک پر لوگوں کی توجیہات کا رد کرتے ہوئے (کہ شاید ایک طلاق والا حکم منسوخ ہو گیا ہو) لکھتے ہیں :
ويجاب بأن النسخ إن كان بدليل من كتاب أو سنة فما هو؟ وإن كان بالإجماع فأين هو؟ على أنه يبعد أن يستمر الناس أيام أبى بكر وبعض أيام عمر على أمر منسوح وإن كان الناسح قول عمر المذكور فحاشاه أن ينسخ سنة ثابتة بمحض رأيه، وحاشا أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يجيبوه إلى ذلك ومن الأجوبة، دعوى الاضطراب كما زعمه القرطبي فى المفهم، وهو زعم فاسد لا وجه له، ومنها ما قاله ابن العربي : إن هذا حديث مختلف فى صحته فكيف يقدم على الإجماع ويقال : أين الإجماع الذى جعلته معارضا للسنة الصحيحة، والحاصل أن القائلين بالتتابع قد استكثروا من الأجوبة على حديث ابن عباس وكلها غير خارجة عن دائرة التعسف، والحق أحق بالاتباع، فإن كانت تلك المحاماة لأجل مذاهب الأسلاف فهي أحفر وأقل من أن تؤثر على السنة المطهرة وإن كانت لأجل عمر بن الخطاب فأين يقع المسكين من رسول الله ، ثم أى مسلم من المسلمين يستحسن عقله وعلمه ترجيح قول صحابي على قول المصطفى صلی اللہ علیہ وسلم
نيل الأوطار : 263,262/6
دو نسخ کے جواب میں ہم کہیں گے کہ اگر پہلا حکم (ایک طلاق والا) کتاب وسنت کی کسی دلیل سے منسوخ ہوا ہے تو وہ دلیل کہاں ہے؟ اور اگر کہا جائے کہ اجماع سے وہ حکم منسوخ ہو گیا ہے تو اجماع ثابت کب ہے؟ علاوہ ازیں یہ بات بھی بڑی بعید ہے کہ لوگ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی عہد خلافت میں ایک منسوخ حکم پر مسلسل عمل کرتے رہے ہوں۔ اور اگر دعوی کیا جائے کہ ناسخ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول مذکور (تین طلاق والا تدبیری اقدام) ہے تو یہ بھی نا قابل یقین ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ محض اپنی رائے سے ایک سنت ثابتہ کو منسوخ کر دیں۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق بھی اس تصور سے ہم پناہ مانگتے ہیں کہ وہ اس معاملے (اپنی رائے سے سنت کو منسوخ کرنے) میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ساتھ دیتے۔ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ کی انتہا کے متعلق دعوائے اضطراب بھی زعم فاسد ہے جس کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔ اسی طرح یہ کہنا کہ حدیث ابن عباس کی صحت مختلف فیہ ہے، اس لیے اسے اجماع پر مقدم نہیں کیا جا سکتا، غلط ہے، آخر وہ اجماع ہے کہاں جو ایک سنت صحیحہ کے معارض (مخالف) ہے؟ بہر حال پے در پے (بیک وقت تین) طلاقوں کے قائلین نے حدیث ابن عباس کے بہت سے جواب دیے ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی تکلف و تعسف سے خالی نہیں۔ پیروی کے لائق حق بات ہی ہے۔ علاوہ ازیں یہ رد و قدح اگر اپنے اسلاف کے نقطہ ہائے نظر کی حمایت کے لیے ہے تو ظاہر ہے کہ یہ اس لائق نہیں کہ انھیں سنتِ مطہرہ کے مقابلے میں ترجیح دی جائے اور اگر یہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی حمایت میں ہے تب بھی ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی کیا حیثیت ہوسکتی ہے، پھر کون سا مسلمان ایسا ہے کہ اس کی عقل اور اس کا علم قول صحابی کو قول مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر ترجیح دینے کو پسند کرے؟

ابن رشد رحمہ اللہ لکھتے ہیں :

جمهور فقهاء الأمصار على أن الطلاق بلفظ الثلاث حكمه حكم الطلقة الثالثة، وقال أهل الظاهر وجماعة : حكمه حكم الواحدة ولا تأثير للفظ فى ذلك
بداية المجتهد، الطلاق : 104/2
جمہور فقہاء کا کہنا یہ ہے کہ تین کے لفظ سے جو طلاق دی جائے گی ، اس کا حکم تیسری طلاق (یعنی مغلظہ) کا ہے اور اہل ظاہر اور ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ ایسی طلاق (یعنی یہ لفظ ثلاث) کا حکم ایک طلاق کا حکم ہے اور اس میں لفظ کی کوئی تاثیر نہیں۔
اس کے بعد دونوں مسالک کے دلائل ذکر کرتے ہیں اور پھر آخر میں لکھتے ہیں :
كأن الجمهور غلبوا حكم التغليظ فى الطلاق سدا للذريعة ولكن تبطل بذلك الرحصة الشرعية، والرفق المقصود
گویا جمہور نے سدِ ذریعہ کے طور پر طلاق میں تغلیظ کا حکم لگایا ہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس سے وہ شرعی رخصت اور سہولت باطل ہو جاتی ہے جو مقصود ہے۔ یعنی بیک وقت تین طلاقوں کو تین شمار کر لینے سے وہ رخصت و سہولت ختم ہو جاتی ہے جو متعدد مواقع پر طلاق دینے میں ہے۔ اس طرح ان کا اپنا رجحان یہی معلوم ہوتا ہے کہ بیک وقت تین طلاقوں کو ایک ہی طلاق شمار کرنا چاہیے تا کہ لوگ شرعی رخصت و سہولت سے محروم نہ ہوں۔

ضروری وضاحت :

علمائے احناف کے مذکورہ چار دعوؤں میں سے یہ دوسرا دعوی۔ دعوائے اجماع ہے جس پر گفتگو چل رہی ہے۔ آگے بھی اسی کی تفصیل ہے۔ باقی تیسرا دعوی کہ ائمہ اربعہ کا مذہب اجماع امت کے مترادف ہے۔ اور چوتھا دعوی کہ اہل حدیث اس مسئلہ طلاق ثلاثہ میں اجماع امت سے ہٹ کر شیعوں کے نقش قدم پر ہیں۔ اس تیسرے اور چوتھے دعوے پر گفتگو کتاب کے آخر میں ملاحظہ فرمائیں۔ ابھی گفتگو دوسرے دعوے کی حقیقت کے بارے میں چل رہی ہے۔
یہ تو حوالے تھے علمائے متقدمین و متاخرین کے جن میں ہر مکتبہ فکر کے علماء شامل ہیں۔ چند حوالوں سے یہ بات واضح ہے کہ عہد صحابہ ہی سے یہ مسئلہ مختلف فیہ چلا آرہا ہے اور اس کی بابت اجماع کا دعوی کرنا اور یہ کہنا کہ ہمیں کسی صحابی یا تابعی کا علم نہیں جس نے اس مسئلے میں اختلاف کیا ہو یکسر غلط ہے صحابہ و تابعین میں بھی بیک وقت دی گئیں طلاق ثلاثہ کو ایک طلاق شمار کرنے والے موجود تھے اور بعد کے ائمہ و مجتہدین میں بھی ایک جماعت اس کی قائل چلی آرہی ہے، بالخصوص اہل حدیث جو ہر دور میں حق کا چراغ جلاتے آئے ہیں، اس کے قائل چلے آرہے ہیں۔
یہ بات مزید دلچسپی کا باعث ہے کہ موجودہ دور کے علماء نے بھی اس مسئلے کو نہ صرف اپنے غور و فکر کا موضوع بنایا ہے بلکہ اہل حدیث کے نقطہ نظر کی پر زور حمایت و وکالت کی ہے۔ ان علماء میں برصغیر پاک و ہند کے علماء بھی ہیں اور مصر و شام کے علماء بھی، نیز وہ ہر مکتبہ فکر کی نمائندگی کرنے والے ہیں حتی کہ ان میں دیوبندی حنفی بھی ہیں اور بریلوی حنفی بھی۔ لیجیے ! اب اس کی تفصیل بھی ملاحظہ فرما لیجیے جو در حقیقت اس مسئلے پر اجماع کا دعوی کرنے والوں کے لیے شاید ایک انکشاف‘ سے کم نہ ہو۔

عصر حاضر کے علمائے عرب :۔

مصر کے نامور عالم عبدالرحمن الجزیری اپنی مشہور کتاب ”الفقه على المذاهب الأربعة“ میں اختلاف کا ذکر کرتے ہوئے پہلے ان صحابہ و تابعین کے اسمائے گرامی درج کرتے ہیں جو ایک طلاق کے قائل ہیں، پھر صحیح مسلم کی وہ حدیث نقل کر کے جو ان کے مسلک کی مضبوط بنیاد ہے۔ لکھتے ہیں :
وهذا الحديث صريح فى أن المسئلة ليست إجماعية
یہ حدیث اس بات میں صریح ہے کہ یہ مسئلہ اجماعی نہیں ہے۔
پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اقدام کی توجیہ کرتے ہوئے دعوائے اجماع کی یوں نفی کرتے ہیں :
ولكن الواقع أنه لم يوجد إجماع، فقد خالفهم كثير من المسلمين، ومما لا شك فيه أن ابن عباس من المجتهدين الذين عليهم المعول فى الدين، فتقليده جائز، كما ذكرنا، ولا يجب تقليد عمر فيما راه ، لأنه مجتهد وموافقه الأكثرين له لا تحمم تقليده على أنه يجوز أن يكون قد فعل ذلك لتحذير الناس من إيقاع الطلاق على وجه مغاير للسنة فإن السنة أن تطلق المرأة فى أوقات مختلفة على الوجه الذى تقدم بيانه، فمن يجرأ على تطليقها دفعة واحدة فقد خالف السنة، وجزاء هذا أن يعامل بقوله زجرا له، وبالجملة : فإن الذين قالوا : أن الطلاق الثلاث بلفظ واحد يقع به واحدة لا ثلاثا ، لهم وجه سديد وهو أن ذلك هو الواقع فى عهد الرسول، وعهد خليفة الأعظم أبى بكر، وسنتين من خلافة عمر، واجتهاد عمر بعد ذلك خالفه فيه غيره، فيصح تقليد المخالف، كما يصح تقليد عمر
الفقه على المذاهب الأربعة : 342,341/4
لیکن حقیقت حال یہ ہے کہ اس پر اجماع موجود ہی نہیں کیونکہ بہت سے مسلمانوں نے ان (جمہور) کی مخالفت کی ہے۔ مثلاً : ابن عباس رضی اللہ عنہما بلاشبہ مجتہدین میں سے تھے اور ایسے کہ جن پر دین کے معاملے میں اعتماد کیا جاتا ہے، لہذا آپ کی تقلید (آپ کی رائے کو تسلیم کر لینا) بھی درست ہے۔ صرف حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کی تقلید واجب نہیں کیونکہ وہ بھی مجتہد تھے۔ اور اکثریت کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے موافقت کر لینا ان کی تقلید کو ضروری نہیں کر دیتا۔ علاوہ ازیں یہ بھی تو ممکن ہے کہ آپ نے تعزیر کی غرض سے اسے نافذ کیا ہو، یہ دیکھ کر کہ لوگ خلاف سنت طریقے پر طلاق دے رہے ہیں کیونکہ سنت یہی ہے کہ عورت کو مختلف اوقات میں بیان کردہ طریقے کے مطابق طلاق دی جائے، پس جو شخص یکبارگی (تین) طلاقیں دینے کی جرات کرتا ہے، وہ سنت کے خلاف کرتا ہے اور اس کا تقاضا ہے کہ اس کے ساتھ زجر و توبیخ کا معاملہ کیا جائے۔
مختصر یہ کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ تین طلاقیں یہ لفظ واحد ایک ہی واقع ہوتی ہے تین نہیں، ان کا کہنا اپنے اندر بڑی معقول وجہ رکھتا ہے کیونکہ عہد رسالت، خلیفہ اعظم ابو بکر رضی اللہ عنہ کے عہد اور خلافت عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دو برسوں تک بیک وقت دی جانے والی تین طلاقیں ایک ہی طلاق واقع ہوتی تھی۔ اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو اجتہاد کیا ، اس کی دوسرے کئی لوگوں نے مخالفت کی ہے، لہذا مخالفت کرنے والوں کی تقلید بھی
اسی طرح صحیح ہے جس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تقلید کو درست قرار دیا جارہا ہے۔

علامہ سید رشید رضا مصری رحمہ اللہ :۔

تفسیر ”المنار“ میں الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے پہلے اس مسئلے کے اختلافی ہونے کا ذکر کرتے ہیں۔
ولذلك وقع فيه الخلاف من الصدر الأول إلى الآن
اس مسئلے میں صدر اوّل سے آج تک اختلاف چلا آرہا ہے۔
پھر فریقین کے دلائل ذکر کرنے کے بعد (جس میں ایک طلاق کے قائلین کے دلائل قدرے تفصیل سے نقل کیے ہیں) لکھتے ہیں :
إنما أطلنا فى ذكر الخلاف فى هذه المسئلة على تحامينا فى التفسير ذكر الخلاف ما وجدنا مندوحة عنه لأن بعض الناس يعتقدون أن المسئلة إجماعية فيما جرى عليه الجمهور وما ثم من إجماع إلا ما قاله ابن القيم، وليس المراد مجادلة المقلدين أو إرجاع القضاة والمفتين عن مذاهبهم فيها فإن أكثرهم يطلع على هذه النصوص فى كتب الحديث وغيرها ولا يبالي بها لأن العمل عندهم على أقوال كتبهم دون كتاب الله تعالى وسنة رسوله (حاشيه) ألا إن محاكم مصر الشرعية قد خالفت مذهب الحنفية بعد استقلال البلاد دون الدولة العثمانية فى كثير من أحكام الزوجية ومنها هذه المسئلة
تفسير المنار : 383/2-387 طبع ثانی 1350 ھ مصر
ہم نے اپنی تفسیر میں اختلافی مسائل میں عدم اعتناء کے باوجود اس مسئلے میں تفصیل اس لیے پیش کی ہے کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس بارے میں جمہور کے مسلک پر اجماع ہے، حالانکہ (یہ بات صحیح نہیں) اگر اجماع ہے تو وہ ہے جس کی صراحت حافظ ابن القیم رحمہ اللہ نے کی ہے۔ (عہد رسالت و عہد صدیقی اور عمر رضی اللہ عنہم کے ابتدائی عہد خلافت تک بیک وقت تین طلاقوں کو ایک طلاق شمار کرنے پر اتفاق و اجماع) ہمارا مقصد مقلدین سے بحث و مجادلہ ہے، نہ قاضیوں اور مفتیوں کو ان کے (فقہی) مذاہب سے رجوع کرنے پر مجبور کرنا کیونکہ (ایسا کرنے پر وہ آمادہ ہوں گے ہی نہیں) ان کی اکثریت کا یہ حال ہے کہ وہ کتب حدیث وغیرہ میں نصوص شرعیہ پر مطلع بھی ہو جاتے ہیں لیکن پھر بھی ان کی قطعا پروا نہیں کرتے ، ان کے نزدیک قابل عمل صرف وہ اقوال ائمہ ہیں جو ان کی (فقہی) کتابوں میں درج ہیں، نہ کہ اللہ کی کتاب اور سنت رسول۔ البتہ مصر کی مذہبی عدالتوں نے دولت عثمانیہ سے علیحدگی کے بعد زوجیت کے بہت سے احکام میں حنفی مذہب کی مخالفت کی ہے، انھی میں سے ایک مسئلہ طلاق ثلاثہ بیک مجلس کا ہے جس میں انھوں نے حنفی مذہب کے خلاف اس کو ایک طلاق شمار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

شیخ جمال الدین قاسمی رحمہ اللہ :۔

عہد حاضر کے ایک اور جلیل القدر عالم اور مفسر شیخ جمال الدین قاسمی شامی رحمہ اللہ نے نکاح و طلاق کے موضوع پر ایک فاضلانہ کتاب ”الإستيناس لتصحيح أنكحة الناس“ لکھی ہے۔ اس میں انھوں نے طلاق کے مسئلے پر مدلل و مفصل گفتگو کے بعد یہی رائے ظاہر کی ہے کہ جو تین طلاقیں ایک مجلس میں بیک دفعہ دی جائیں ان سے ایک طلاق رجعی ہی واقع ہوگی۔ اور اسی رائے کا اظہار انھوں نے اپنی تفسیر میں آیت الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ … کے تحت کیا ہے۔تفسیر القاسمی، تفسیر سورة البقرة : 229

ڈاکٹر وہبہ زحیلی (شام) :۔

ڈاکٹر صاحب عصر حاضر کے عظیم محقق، فقیہ اور مفسر ہیں۔ ان کی کتاب ”الفقه الإسلامي وأدلته“ (آٹھ ضخیم جلدوں میں) معروف اور نہایت معرکہ آرا کتاب ہے۔ اس میں وہ مسئلہ زیر بحث میں فریقین کے دلائل ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
والذي يظهر لي رجحان ر أى الجمهور وهو وقوع الطلاق ثلاثا إذا طلق الرجل امرأته دفعة واحدة، لكن إذا رجح الحاكم رأيا ضعيفا صار هو الحكم الأقوى، فإن صدر قانون، كما هو الشأن فى بعض البلاد العربية يجعل هذا الطلاق واحدة، فلا مانع من اعتماده والإفتاء به تيسيرا على الناس وصونا للرابطة الزوجية وحماية لمصلحة الأولاد، خصوصا ونحن فى وقت قل فيه الورع والاحتياط، وتهاون الناس فى التلفظ بهذه الصيغة من الطلاق، وهم يقصدون غالبا التهديد والزجر، ويعلمون أن فى الفقه منفذا للحل ومراجعة الزوجة
میرے لیے جمہور کی یہ رائے ہی راجح ہے کہ جب آدمی ایک ہی دفعہ تین طلاقیں دے دیتا ہے تو وہ تینوں ہی واقع ہو جاتی ہیں۔ لیکن جب حاکم وقت کسی ضعیف رائے کو ترجیح دے دیتا ہے تو وہی زیادہ قوی حکم ہو جاتا ہے، پس اگر کوئی قانون صادر ہو جائے جیسا کہ بعض عرب ملکوں میں مذکورہ تین طلاقوں کو ایک ہی طلاق شمار کرنے کا قانون بن گیا ہے تو اسے ماننے میں اور اسی کے مطابق فتوی دینے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس میں لوگوں کی سہولت ہے، میاں بیوی کے درمیان رابطے کا تحفظ ہے اور اولاد کی مصلحت کی حمایت ہے، بالخصوص آج کل کے حالات میں جبکہ خوف الہی اور احتیاط کا فقدان ہے اور لوگ مذکورہ صیغے اور طریقے سے طلاق دینے میں بڑے دلیر ہیں۔ کیونکہ ان کا مقصود (طلاق دینا نہیں بلکہ) اکثر تنبیہ وتوبیخ (ڈرانا) ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں ان کے ذہن میں یہ بھی ہوتا ہے کہ فقہ میں اس کا ان کے لیے کوئی حل بھی ہوگا اور بیوی سے رجوع کی کوئی صورت نکل آئے گی۔ الفقه الإسلامي وأدلته : 413/7
ڈاکٹر صاحب موصوف نے اپنی تفسیر میں بھی اسی رائے کا اظہار فرمایا ہے۔ چنانچہ اس میں بھی وہ دونوں مسلکوں کے دلائل نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
وبالرغم مما أراه وهو رجحان مذهب الجمهور، لا أجد مانعا من الأخذ بر أى ابن تيمية ومن وافقه، لأن الطلاق هدم الأسرة وتعريض لضياع الأولاد وهو كما قال : فيما رواه أبو داود وابن ماجه والحاكم عن ابن عمر أبغض الحلال إلى الله الطلاق والشريعة أجازته لدفع ضرر أشد، وتحصيل مصلحة أكثر، ولا يلجأ إليه إلا للضرورة القصوى، والله شرع الطلاق مرتين متفرقتين فى طهرين كما أرشدت إليه السنة، لا مجتمعتين، فإن شاء أمسك وإن شاء طلق وأمضى الطلاق – وفي هذا تيسير على الناس، وبخاصة أنهم يقصدون غالبا بالطلاق التهديد والزجر، لا الحقيقة والوقوع الفعلي، ثم إن الفرقة تحدث بطلقة واحدة، فيكون ما يتلوها مؤكدا لها
سنن أبي داود الطلاق، باب في كراهية ،الطلاق، حديث : 2178 و سنن ابن ماجه، الطلاق، باب حدثنا سويد بن سعيد، حدیث : 2018 ، والمستدرك للحاكم، كتاب الطلاق: 196/2ء حديث : 2794
باوجود اس بات کے کہ میرے خیال میں جمہور کا مذہب راجح ہے، میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور ان کے ہم خیال لوگوں کی رائے اختیار کرنے میں کوئی مانع نہیں پاتا، اس لیے کہ طلاق سے خاندان اجڑ جاتا اور اولاد برباد ہو جاتی ہے، اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : طلاق حلال تو ہے لیکن اللہ کو یہ سب سے زیادہ نا پسندیدہ حلال ہے۔
اور شریعت نے اس کی اجازت شدید ترین ضرر کے ٹالنے اور زیادہ فوائد حاصل کرنے کی خاطر دی ہے، اسے صرف انتہائی ناگزیر ضرورت کے وقت ہی استعمال کیا جانا چاہیے۔ اور اللہ تعالیٰ نے طلاق کا طریقہ یہ بیان فرمایا ہے کہ یہ دو طہروں میں دو مرتبہ دی جائے جیسا کہ سنت اس طرف رہنمائی کرتی ہے، نہ کہ دونوں طلاقیں اکٹھی دے دی جائیں، پھر اگر چاہے تو (رجوع کر کے) بیوی کو اپنے پاس روک لے اور اگر چاہے (رجوع کا ارادہ نہ بنے) تو اسے چھوڑ دے اور طلاق کو اپنے منطقی انجام تک پہنچا دے۔ (علیحدہ علیحدہ طلاق دینے کے) اس طریقے میں لوگوں کے لیے آسانی ہے، بالخصوص اس صورت میں کہ طلاق سے اکثر مقصود،عورت کو ڈرانا ہوتا ہے، نہ کہ حقیقت میں طلاق دینا۔ علاوہ ازیں جدائی تو ایک طلاق سے بھی واقع ہو جاتی ہے، مابعد کی طلاقیں تو محض تاکید ہی کے لیے ہوتی ہیں، اس لیے ان کا اعتبار نہ کیا جانا ہی انسب ہے۔التفسير المنير في العقيدة والشريعة والمنهج ، پاره، دوم، ص : 342,341

سید سابق مصری رحمہ اللہ :۔

سید سابق مصری رحمہ اللہ جن کا چند سال قبل ہی انتقال ہوا ہے، اپنے وقت کے ممتاز محقق ، فقیہ اور بلند پایہ عالم تھے۔ ان کی تالیف فقہ السنۃ پورے عالم اسلام میں نہایت مستند اور معتبر شمار ہوتی ہے۔ اس میں فاضل مؤلف رحمہ اللہ نے مسئلہ زیر بحث میں فریقین کے دلائل ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے :
اسی دوسری رائے کی طرف متأخرین کی ایک جماعت گئی ہے، ان میں ابن تیمیہ رحمہ اللہ، ابن القیم رحمہ اللہ اور محققین کی ایک جماعت شامل ہے۔ اور ابن مغیث نے کتاب الوثائق میں محمد بن وضاح رحمہ اللہ کا بھی یہی مسلک بیان کیا ہے اور مشایخ قرطبہ کی ایک جماعت کا فتویٰ بھی اس کے مطابق نقل کیا ہے، جیسے محمد بن بقی رحمہ اللہ اور محمد بن عبد السلام رحمہ اللہ وغیرہ۔ اور امام ابن منذر رحمہ اللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اصحاب ، جیسے : عطاء رحمہ اللہ، طاؤس رحمہ اللہ، عمرو بن دینار رحمہ اللہ کی بھی یہی رائے نقل کی ہے۔ نیز ابن مغیث نے اپنی اس کتاب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ ، ابن مسعود رضی اللہ عنہ ، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ کا بھی یہی موقف بیان کیا ہے۔ اور یہی وہ موقف ہے جس کے مطابق مصر کی عدالتیں فیصلے کرتی ہیں۔فقه السنة : 271,270/2

علامہ شیخ محمود شلتوت، شیخ الازہر (مصر) رحمہ اللہ

انھوں نے بھی مذکورہ علمائے عرب کی طرح مسئلہ طلاق ثلاثہ بیک مجلس کے سلسلے میں وہی موقف اختیار کیا ہے جو ان حضرات کا ہے۔ یہ فتویٰ مولانا سعید احمد اکبر آبادی کے مضمون میں شامل ہے جو صفحہ 301 پر آرہا ہے۔

ہند کے علمائے احناف :۔

یہ تو موجودہ دور کے علمائے عرب تھے۔ اب ملاحظہ فرمائیں برصغیر پاک و ہند کے علماء۔ ان میں علمائے اہل حدیث شامل نہیں ہیں کیونکہ وہ تو سب ہی ایک مجلس کی تین طلاقوں کے ایک طلاق واقع ہونے کے قائل ہیں۔ ہم یہاں صرف اُن علمائے احناف کا ذکر کریں گے جنھوں نے موجودہ حالات میں اس بات کا اعتراف اور اظہار کیا ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین قرار دے دینے سے جو معاشرتی مشکلات اور خاندانی مسائل پیدا ہوتے ہیں، اس کا واحد حل یہ ہے کہ اہل حدیث کے مسلک کو اپنایا جائے اور ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک ہی طلاق شمار کیا جائے۔
برصغیر پاک و ہند کے جن علماء نے اس موضوع پر اپنے نتائج مطالعہ وتحقیق پیش کیے ہیں، ان میں مولانا سعید احمد اکبر آبادی مدیر ماہنامہ برہان دہلی ، مولانا مفتی عتیق الرحمن صدر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت، مولانا حامد علی سیکرٹری جماعت ہند، مولانا عروج احمد قادری مدیر ماہنامہ زندگی رامپور، مولانا شمس پیر زادہ ، مولانا محفوظ الرحمن قاسمی فاضل دیوبند اور دیگر متعدد علماء شامل ہیں جیسا کہ آگے تفصیل آرہی ہے۔
چنانچہ ہندوستان کے بعض دردمند حضرات نے مسئلہ تطليقات ثلاثة کے موضوع پر ایک مسئلہ پر سیمینار (مجلس مذاکرہ 4 تا 6 نومبر 1973ء) اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ احمد آباد (ہند) میں منعقد کرایا جس میں مذکورہ حضرات اور دو اہل حدیث علماء مولانا عبد الرحمن اور مولانا مختار احمد ندوی شریک ہوئے۔ سیمینار میں حصہ لینے والے حضرات کی خدمت میں حسب ذیل سوال نامہ روانہ کیا گیا تھا تا کہ وہ اس کی روشنی میں اپنے مقالات مرتب کر سکیں، اور اپنے نقطہ نظر کو مدلل طور پر پیش کرنے کے ساتھ ان سوالات کے جوابات بھی دے سکیں۔

سیمینار (مذاکرہ علمیہ) کے چار سوالات ْ:۔

◈ کیا محض طلاق کا لفظ تین مرتبہ دہرانے سے، یعنی بیک وقت طلاق، طلاق، طلاق کہہ دینے سے تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں جبکہ طلاق دینے والا شخص کہتا ہے کہ میری نیت صرف ایک طلاق کی تھی۔
◈ کوئی شخص ایک مجلس میں تین طلاقیں لفظ ” تین“ کی صراحت کے ساتھ دیتا ہے، لیکن وہ کہتا ہے کہ میں سمجھ رہا تھا کہ تین کا لفظ جب تک استعمال نہ کیا جائے ، طلاق واقع ہوتی ہی نہیں ہے تو اس صورت میں تین طلاقیں واقع ہوں گی یا ایک؟
◈ کیا ایک مجلس کی تین طلاقوں کے مغلظہ ہونے پر امت کا اجماع ہے؟ اگر نہیں تو ان علماء اور فقہاء کے نام تحریر فرمائیں جو ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک قرار دیتے ہیں۔
◈ آپ کے نزدیک ایک مجلس کی تین طلاقوں کے مسئلے کا کیا حل ہے۔ اسے ایک شمار کیا جانا چاہیے یا تین؟
مذکورہ شریک آٹھ حضرات میں سے سات علماء نے مقالے مرتب کئے۔ مولانا مفتی عتیق الرحمن نے مقالہ تو نہیں پڑھا، صدارتی کلمات میں مجلس میں پڑھے گئے مقالات پر جامع تبصرہ فرمایا اور مسئلہ زیر بحث کو اختلافی تسلیم کرتے ہوئے اس کے مناسب حل پر زور دیا اور اس مسئلے میں توسع پیدا کرنے کی تلقین کی۔ ان میں سے صرف مولانا عروج قادری نے اپنے مقالے میں حنفی نقطۂ نظر پیش کیا تاہم انھوں نے بھی مسئلے کی نزاکت کے پیش نظر ایک معتدل راہ اختیار کرنے کی کوشش کی ہے۔
باقی تمام حضرات نے اس مسئلے میں ایک تو اجماع کے دعوے کی نفی کی ہے، اور صاف اعتراف کیا ہے کہ یہ مسئلہ عہد صحابہ رضی اللہ عنہم ہی سے مختلف فیہ چلا آرہا ہے۔ اور دوسرا انھوں نے مسئلے کا وہی حل پیش کیا ہے جس کے اہل حدیث قائل ہیں کہ بیک وقت دی گئیں تین طلاقوں کو ایک طلاق شمار کیا جائے ، مزید برآں اس نقطۂ نظر کی حمایت میں انھوں نے قرآن وحدیث اور کتب فقہ سے ایسے ٹھوس دلائل پیش کیے ہیں جس کے بعد فقہی جمود پر اصرار کی کوئی معقول وجہ موجود نہیں رہتی ۔ جزاهم الله أحسن الحزاء
سیمینار کی پوری کا رروائی، مقالات اور ان پر اعتراضات کے جوابات ، یہ سب ایک کتابی شکل میں ”ایک مجلس کی تین طلاق“ کے عنوان سے چھپ گئے ہیں۔ ہم ان میں سے چند ضروری مقالات کی تلخیص اور اہم اقتباسات آئندہ صفحات میں پیش کرتے ہیں تاکہ مسئلے کی نوعیت پوری طرح واضح ہو جائے۔

مولانا شمس پیر زاده (بمبئی) :۔

انھوں نے مذکورہ کتاب (مجموعہ مقالات علمیہ دربارہ ”ایک مجلس کی تین طلاق“) کا پیش لفظ تحریر کیا ہے، اس میں دعوائے اجماع کی نفی کرتے ہوئے موصوف لکھتے ہیں : صاف اور سیدھی بات یہ ہے کہ تین یکجائی طلاقوں کے تین واقع ہونے پر نہ قرآن کی کوئی صریح نص ہے، نہ کوئی ایسی حدیث جو صحیح بھی ہو اور صریح بھی اور نہ ہی اجماع ہے بلکہ یہ مسئلہ قرآن وسنت کے نصوص کی تعبیر اور اجتہاد و استنباط سے تعلق رکھتا ہے، اسی وجہ سے اس میں اختلاف چلا آرہا ہے اور ایک مسلک مستقلاً اہل حدیث کے نام سے موجود ہے جو ایک وقت کی تین طلاقوں کو صرف ایک طلاق تسلیم کرتا ہے۔ اگر چار مسلکوں کو برحق تسلیم کیا جاتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ پانچویں مسلک کو بھی برحق تسلیم نہ کیا جائے جبکہ اس کی پشت پر علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور علامہ ابن قیم رحمہ اللہ جیسے مجتہدین ہوں، لہذا ہر قسم کی تنگ نظری اور مسلکی عصبیت کو طلاق مغلظہ دیتے ہوئے لوگوں کے سامنے اس مسئلے کو اس طور سے پیش کرنا چاہیے کہ یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے اور دلائل دونوں طرف ہیں۔ اگر کوئی شخص تین یکجائی طلاقوں کو ایک قرار دینے والے مسلک کو اختیار کرتا ہے تو اس کی پوری گنجائش اسلام کے اندر موجود ہے اور اس سے کوئی گمراہی ہرگز لازم نہیں آتی۔ ”ایک مجلس کی تین طلاق“ ص : 9 ، پاکستانی ایڈیشن، نعمانی کتب خانہ، اردو بازار لاہور
علاوہ ازیں مقالات میں بھی مولانا موصوف کا مقالہ شامل ہے۔ اس مقالے کے آخر میں خلاصہ بحث اور مسئلہ کا حل عنوان قائم کر کے لکھتے ہیں :
تین یکجائی طلاقوں کے ایقاع کے سلسلے میں دلائل کا جو جائزہ اوپر پیش کیا گیا ہے اُس سے یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ تین یکجائی طلاق کے ایقاع پر نہ قرآن کا کوئی صریح حکم موجود ہے، نہ کوئی صحیح حدیث ہی ایسی ہے جس میں اس کا صریح حکم بیان کیا گیا ہو اور نہ اس پر اجماع ہی ثابت ہے بلکہ یہ مسئلہ دور صحابہ رضی اللہ عنہم سے لے کر اب تک اُمت کے درمیان مختلف فیہ رہا ہے اور دلائل دونوں طرف موجود ہیں۔ ایسی صورت میں جو بات وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ مسئلہ نصی اور قطعی حکم کا نہیں بلکہ تعبیر اور اجتہاد کا ہے ، اس لیے اس مسئلہ میں جو اختلاف ہے اُس کو اجتہادی اختلاف پر محمول کرتے ہوئے فتوئی اُس اجتہادی رائے کے مطابق دیا جانا چاہیے جو مصالح اُمت کے لحاظ سے انسب ہو۔
ہمارے معاشرے کا حال یہ ہے کہ لوگ بُری طرح جہالت میں مبتلا ہیں، شرعی احکام سے بہت کم لوگ واقفیت رکھتے ہیں، اس لیے بیک وقت تین طلاقیں دے بیٹھتے ہیں اور بعد میں پچھتانے لگتے ہیں، دوسری طرف مرد کی اس نادانی کے نتیجے میں خاندان کے لیے بڑے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں اور تیسری طرف مسلم پرسنل لاء اور اسلامی نظامِ معاشرت کے مخالفین شریعت پر حرف زنی کرنے اور اسلامی طرز معاشرت کی بڑی بھونڈی تصویر پیش کرنے لگتے ہیں جس سے جدید تعلیم یافتہ ذہن خاصا متاثر ہورہا ہے اور شرعی قوانین کی حفاظت کی راہ میں بڑی بڑی مشکلات کھڑی ہورہی ہیں۔ اس صورتِ حال کے پیش نظر مصالح دین اور مصالح امت کا تقاضا ہے کہ فقہی مسلکوں کے خول میں بند رہنے کی بجائے وسیع النظری سے کام لیا جائے اور اُس اجتہادی رائے کو اختیار کیا جائے جس کے مطابق تین یکجائی طلاقوں سے ایک ہی طلاق واقع ہوتی ہے۔
مجلس واحد کی تین طلاقوں کے مسئلے کا حل یہ ہے کہ ایک طرف عام مسلمانوں میں دینی شعور اور تقویٰ پیدا کرنے کے ساتھ انھیں طلاق دینے کے شرعی طریقے سے واقف کرایا جائے کہ اگر کوئی شخص طلاق دینا چاہے تو صرف ایک طلاق رجعی بحالت طہر جس میں مباشرت نہ کی گئی ہو، دینے پر اکتفا کرے، اس کے بعد اگر وہ رُجوع کرنا نہیں چاہتا تو عدت گزرنے دے ، عدت گزرنے پر دوبارہ نکاح کا موقع باقی رہے گا۔ اس لیے پچھتانے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوگا۔ اس طرح ایک طرف وسیع پیمانے پر شرعی حکم سے لوگوں کو واقف کرانے کی کوشش کی جائے اور دوسری طرف ہماری شرعی پنچائتیں تین یکجائی طلاقوں کے ایک واقع ہونے کا فتوی دیں۔ والله أعلم”ایک مجلس کی تین طلاق“

مولانا سید احمد عروج قادری (ایڈیٹر ماہنامہ ”زندگی“ رام پور، بھارت) :۔

انھوں نے اپنے مقالے میں حنفی موقف کی تائید کی ہے لیکن اس کے باوجود سوالات کے جوابات میں انھوں نے مسئلہ زیر بحث میں کافی گنجائش نکالی ہے۔
لیجیے ! سوالات اور جوابات ملاحظہ فرمائیے :

سوال :۔

کیا محض طلاق کا لفظ تین مرتبہ دہرانے سے، یعنی بیک وقت طلاق ، طلاق ، طلاق کہہ دینے سے تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں جبکہ طلاق دینے والا شخص کہتا ہے کہ میری نیت صرف ایک طلاق کی تھی ؟

جواب :۔

اگر تین بار طلاق کا لفظ دُہرانے والا یہ کہتا ہے کہ اُس کی نیت ایک طلاق کی تھی ، مزید دو بار طلاق کا لفظ اُس نے تاکید کے لیے استعمال کیا تھا تو میرے نزدیک ایک طلاق رجعی ہوگی۔

سوال :۔

کوئی شخص ایک مجلس میں تین طلاقیں لفظ تین کی صراحت کے ساتھ دیتا ہے لیکن وہ کہتا ہے کہ میں سمجھ رہا تھا کہ جب تک تین کا لفظ استعمال نہ کیا جائے طلاق واقع ہوتی ہی نہیں۔ اس صورت میں تین طلاقیں واقع ہوں گی یا ایک؟

جواب :۔

میں نے اس مسئلہ پر بہت غور کیا ہے اور موجودہ صورتِ حال کے پیش نظر اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اگر طلاق دینے والے نے اس خیال کے تحت تین کی صراحت کے ساتھ طلاق دی کہ اس کے بغیر طلاق واقع ہی نہیں ہوتی تو تین طلاقوں کو ایک شمار کیا جانا چاہیے۔

سوال :۔

کیا ایک مجلس کی تین طلاقوں کے مغلظہ ہونے پر امت کا اجماع ہے؟ اگر نہیں تو اُن علماء اور فقہاء کے نام تحریر فرمائیں جو ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک قرار دیتے ہیں۔

جواب :۔

ایک مجلس کی تین طلاقوں کے مغلظہ ہونے پر اجماع کا دعوی بھی چلا آرہا ہے اور اس کا انکار بھی۔ ابن حزم رحمہ اللہ، ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور ابن قیم رحمہ اللہ جیسے اساطین امت نے اس پر اجماع کا انکار کیا ہے، اور اب تو اہل حدیث حضرات کی کثیر التعداد جماعت بھی اس پر اجماع کا انکار کرتی ہے۔
اختلاف مسالک بتانے والی کتابوں کے مطالعہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ قدیم زمانے سے اس مسئلے میں اختلاف چلا آرہا ہے۔ ابن رشد رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
جمهور فقهاء الأمصار على أن الطلاق بلفظ الثلاث حكمه حكم الطلقة الثالثة، وقال أهل الظاهر وجماعة : حكمه حكم الواحدة ولا تأثير للفظ فى ذلك
جمہور فقہاء کا یہ مسلک ہے کہ تین کے لفظ سے جو طلاق دی جاتی ہے، اُس کا حکم تیسری طلاق ، یعنی طلاق مغلظہ کا ہے اور اہل ظاہر اور ایک جماعت کا قول ہے کہ اس کا حکم ایک طلاق کا حکم ہے اور اس میں لفظ کی کوئی تاثیر نہیں۔ ”ایک مجلس کی تین طلاق“
خود قاضی ابن رشد رحمہ اللہ کا اپنا رُجحان بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس کا حکم ایک ہی طلاق کا ہونا چاہیے۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ ایک مجلس کی تین طلاقوں کے مغلظہ ہونے پر اجماع کا دعوی محل نظر ہے۔

سوال :

آپ کے نزدیک ایک مجلس کی تین طلاقوں کے مسئلے کا کیا حل ہے، اسے ایک شمار کیا جانا چاہیے یا تین؟

جواب :۔

جیسا کہ اوپر مقالے میں عرض کر چکا ہوں ، اگر کوئی شخص جان بوجھ کر بیک مجلس اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے ڈالے تو تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں۔ میرے نزدیک تین طلاقوں کو ایک قرار دینے کی جتنی گنجائش نکل سکتی ہے۔ اُس کا ذکر میں نے سوال نمبر ایک اور دو کے جواب میں کیا ہے۔ جولوگ یہ جان کر اور سمجھ کر کہ بیک دفعه و بیک کلمہ تین طلاقیں دے ڈالنے سے تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں، ایسے لوگوں کی دی ہوئی تین طلاقوں کو ایک قرار دینا میرے نزدیک صحیح نہیں۔بداية المجتهد كتاب الطلاق ، جلد دوم

مولانا محفوظ الرحمن قاسمی (فاضل دیوبند) :۔

ان مقالہ نگاروں میں ایک حنفی عالم مولانا محفوظ الرحمن قاسمی، فاضل دیوبند، مدرس مدرسه بیت العلوم مالیگاؤں (بھارت) ہیں۔ یہ اپنے مقالے میں لکھتے ہیں :
طلاق ثلاثہ کے موضوع پر غور و فکر کرنے کے لیے میرے نزدیک چار بنیادیں ہیں۔ ان پر غور کرنے کے بعد ہمیں فیصلہ کرنا چاہیے کہ ہمارے لیے موجودہ حالات میں کون سا راستہ زیادہ قابل قبول اور قابل عمل ہے :

◈ غور و فکر کی پہلی بنیاد :۔

کیا تین طلاقوں کو ایک سمجھنے کا خیال دور نبوت ہی سے آرہا ہے؟ اور کیا احادیث میں اس کے لیے کوئی بنیاد موجود ہے یا نہیں؟ اگر اس کی بنیاد موجود ہے اور دور نبوت ہی سے بحث و گفتگو کی گنجائش چلی آرہی ہے تو اب ہمارے لیے اور مسائل کی طرح یہاں بھی دیکھنا ہوگا کہ ہمارے معاشرے میں کونسی صورت زیادہ مناسب ہے؟ اس کو اختیار کر لیا جائے۔

◈ غور وفکر کی دوسری بنیاد :۔

کیا تین طلاقیں ایک ساتھ کوئی محمود اور پسندیدہ شے ہے؟ اگر نہیں تو کیوں نہ ایسی شکل پر غور وفکر کیا جائے جو سنت کے مطابق اور شریعت کے منشا کے عین مطابق ہو۔

غور وفکر کی تیسری بنیاد :۔

کیا فقہ حنفی میں اس کی گنجائش ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے اقوال سے ہٹ کر کسی دوسرے امام یا مجتہد کے قول پر عمل کیا جائے؟

◈ غور وفکر کی چوتھی بنیاد :۔

ہمارے معاشرتی اور سماجی حالات ہمیں کون سی صورت اختیار کرنے کی دعوت دیتے ہیں؟ قانون کی عمدگی کے لیے یہ بات نہایت ضروری ہے کہ اس میں معاشرے کے لیے زیادہ سے زیادہ خیر وفلاح کی ضمانت ہو۔
آئیے ! اب ہم پہلی بنیاد پر غور کریں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تین کو ایک شمار کرنے کا خیال لغو و باطل نہیں بلکہ اس کی بنیاد ہے، اور اہل سنت والجماعت کا ایک طبقہ ہمیشہ سے اسے تسلیم کرتا آیا ہے، اس کے لیے ہم مختصر چار احادیث نقل کرتے ہیں۔ (اس کے بعد فاضل مقالہ نگار نے احادیث اور ائمہ وفقہاء کے اقوال نقل کیے ہیں، اس کے بعد وہ لکھتے ہیں)
عصرِ حاضر کے علماء میں علامہ شبلی نعمانی رحمہ اللہ نے بھی اپنی کتاب الفاروق میں طلاق ثلاثہ کو تین ماننا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اولیات میں شمار کیا ہے۔ آخر صحیح مسلم ہی میں تو موجود ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو جاری کر دیا۔ اس سے خود معلوم ہوتا ہے کہ دور اول میں تین کا تین سمجھنا عمومی طور سے نہ تھا ورنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جاری کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ؟ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنے اس خیال کو کہ تین طلاقیں لفظ واحد سے ہو تو ایک ہی سمجھی جائے گی ، اس کی نظیریں (مثالیں) پیش کرتے ہوئے لکھا ہے :
شریعت لعان میں چار قسموں کو ضروری قرار دیتی ہے مگر ایک ہی لفظ سے کوئی چار قسمیں کھالے تو ہمارے فقہاء اس کو نا کافی سمجھتے ہیں اور وہ الگ الگ چار قسموں کو ضروری قرار دیتے ہیں، اسی طرح اگر شریعت تین طلاقوں کو مباح کرتی ہے اور یکجا استعمال کو معصیت بھی بتلاتی ہے تو ضروری ہے کہ ان کو الگ الگ رکھا جائے اور ایک جملے سے ادا کی جانے والی تین طلاقوں کو ایک ہی سمجھا جائے، بالکل اُسی طرح جس طرح رمی جمار کے لیے سات کنکریوں کا ہونا ضروری ہے۔ اگر کوئی ایک ہی دفعہ میں سات کنکریاں مار دے تو وہ ایک ہی مارنے والا سمجھا جائے گا جس طرح کسی نے قسم کھائی کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک لاکھ درود شریف پڑھے گا۔ اب اگر اُس نے صلى الله عليه وسلم مائة ألف کہہ دیا تو یہ نا کافی سمجھا جائے گا بلکہ الگ الگ ایک لاکھ درود پڑھنا پڑے گا، پھر جا کر وہ قسم پورا کرنے والا کہلائے گا۔
ہمارے علماء ان قیاسات کو قیاس مع الفارق بتلاتے ہیں مگر ان تاویلوں کی حیثیت اتنی قوی نہیں کہ اس میں گفتگو کی گنجائش نہ ہو۔
ان تمام تحریروں پر غور کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ تین کو ایک کہنے کا خیال بعد کی پیداوار نہیں ہے بلکہ اس کی بنیاد دور نبوت اور دور صحابہ رضی اللہ عنہم ہی میں ملتی ہے اور اس کے حق میں بھی نقلی اور عقلی دلائل ہیں اور شروع ہی سے علمائے اہل سنت والجماعت کا ایک طبقہ اسی کو مانتا آرہا ہے، لہذا طلاق ثلاثہ کو ایک باور کرنے کا خیال لغو باطل نہیں بلکہ اصح نہیں تو صحیح ضرور ہے، راجح نہیں تو مرجوح کہہ لیجے مگر لغو اور باطل نہیں کہا جاسکتا۔
غور وفکر کی دوسری بنیاد تھی کہ کیا تین طلاقیں ایک ساتھ کوئی محمود اور پسندیدہ شے ہے؟ اس کا جواب بالکل نفی میں ہے۔ احادیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف نا پسندیدہ ہی نہیں، سخت معصیت کا موجب بھی ہے۔ سنن نسائی میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی گئی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو بیک وقت تین طلاقیں دے ڈالی ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر غصے میں کھڑے ہو گئے اور فرمایا :
أيلعب بكتاب الله وأنا بين أظهركم
سنن النسائي، الطلاق، باب الثلاث المجموعة وما فيه من التغليظ، حديث:3430
کیا اللہ کی کتاب کے ساتھ کھیل کیا جارہا ہے؟ حالانکہ میں تمھارے درمیان موجود ہوں۔
اس معاملے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عام رائے وہ ہے جس کو صاحب فتح القدیر نے نقل کیا ہے کہ امام محمد نے ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے :
إن الصحابة رضي الله عنهم، كانوا يستحبون أن يطلقها واحدة ثم يتركها حتى تحيض ثلاثة حيض
فتح القدير لابن الهمام : 146/2
صحابہ رضی اللہ عنہم اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ آدمی بیوی کو صرف ایک طلاق دے اور اُسے چھوڑے رکھے یہاں تک کہ اسے تین حیض آجائیں۔
یہ ابن ابی شیبہ کے الفاظ ہیں۔ خود امام محمد کے اصل الفاظ یہ ہیں :
كانوا يستحبون أن لا يزيدوا فى الطلاق على واحدة حتى تنقضي العدة
اُن کو پسند یہ طریقہ تھا کہ طلاق کے معاملے میں ایک سے زیادہ نہ بڑھیں یہاں تک کہ عدت پوری ہو جائے۔
اسی لیے ہمارے فقہائے کرام اس طلاق ثلاثہ کو طلاق بدعی کہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ بدعت کہنے کا یہ مطلب تو نہیں کہ یہ طلاق حدیث سے ثابت نہیں بلکہ وہ مانتے ہیں کہ یہ ثابت ہے، صرف موجب عتاب اور معصیت ہونے کی وجہ سے اس کو مغلظ اور طلاق بدعت کہا جاتا ہے۔ چنانچہ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
كره أيضا جمع الطلقات الثلاث فى طهر واحد
حجة الله البالغة : 14/2
ایک ہی طہر میں تین طلاقوں کا جمع کرنا سخت نا پسندیدہ ہے۔
اور یہ فعل شرعی حکمتوں اور مصالح کو باطل کرنے والا ہے۔ سابقہ تصریحات سے یہ بات بالکل عیاں ہو جاتی ہے کہ بیک وقت تین طلاقیں دینا شریعت کی نگاہ میں سخت نا پسندیدہ ہے۔ ایک تو نفس طلاق ہی کو أبغض الحلال کہا گیا ہے، چنانچے سنن ابو داود میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ما أحل الله شيئا أبغض إليه من الطلاق
سنن أبي داود الطلاق، باب في كراهية الطلاق، حديث: 2178 و سنن ابن ماجه ، الطلاق، باب حدثنا سويد بن سعيد، حدیث : 2018 و السنن الكبرى للبيهقي ، الخلع والطلاق، باب ماجاء في كراهية الطلاق : 322/7
اللہ نے کسی ایسی چیز کو حلال نہیں کیا جو طلاق سے بڑھ کر اُسے ناپسند ہو۔
اس لیے ہمارے فقہاء کی تصریح ہدایہ اولین میں موجود ہے :
الأصل فى الطلاق هو الحظر
طلاق میں اصل، ممانعت ہے۔
شریعت نے کچھ عظیم مصلحتوں کی وجہ سے طلاق کو مشروع کیا ہے اور کہا ہے کہ بوقت شدید ضرورت اس کا استعمال درست ہے۔ اور اُصول فقہ کا یہ قاعدہ ہے :
ما ثبت بالضرورة فهو يتقدر بقدر الضرورة
جو چیز کسی خاص مجبوری اور ضرورت کے لیے مباح کی جائے گی وہ صرف اسی قدر مباح ہوگی جس سے ضرورت پوری ہو جائے۔
مثلاً : بوقت ضرورت مُردار حلال کیا گیا ہے تو اس میں قید لگا دی گئی ہے کہ صرف اتنی مقدار میں مُردار حلال ہے جس سے رشتہ زندگی کو باقی رکھا جاسکے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ
البقرة : 178
نہ وہ سرکشی کرنے والا ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا ہو۔
اب اگر کوئی شخص ایک ہی دفعہ تین طلاقیں دے دیتا ہے تو وہ سخت معصیت کا کام کرتا ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ تو دو طلاقوں کو بھی بدعت کہتے ہیں۔ ہدایہ اولین میں ہے :
وقال مالك رحمه الله : إنه بدعة ولا يباح إلا واحدة، لأن الأصل فى الطلاق هو الحظر والإباحة لحاجة الخلاص وقد اندفعت بالواحدة
دو طلاقیں (بیک وقت دینا) بھی بدعت ہے صرف ایک مرتبہ ایک ہی مباح ہے کیونکہ نفس طلاق خود اولا ناپسندیدہ شے ہے اور طلاق کی اباحت ایک ضرورت کے تحت تھی اور وہ ضرورت ایک سے پوری ہو جاتی ہے۔
مذکورہ بالا تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ بیک وقت تین طلاقیں دینا معصیت ہے تو کیوں نہ اس معصیت کے روکنے کا انتظام کیا جائے اور اس کا دروازہ ہی بند کر دیا جائے اور مصلحتوں کو طلاق کے سلسلے میں باقی رکھا جائے۔ علامہ فخر الدین رازی رحمہ اللہ نے اسی شریعت کی رائے کو ترجیح دی ہے۔ التفسير الكبير : 248/2
غور وفکر کی تیسری بنیاد تھی کہ کیا فقہ حنفی میں اس کی گنجائش ہے کہ بوقت شدید ضرورت دوسرے مجہتدین کی آراء پر عمل کیا جا سکتا ہے؟ اس کے متعلق میں واضح الفاظ میں عرض کر دوں کہ عُرف و مصلحت اور حالات کی جتنی رعایت فقہ حنفی میں ملحوظ رکھی گئی ہے شاید ہی دوسری جگہ ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عملاً فقہ حنفی کو تنفیذ احکام سے ایک مدید و طویل مدت تک واسطہ رہا ہے۔ ہمارے فقہاء اُن احکام کو جن میں مصالح عامہ کے پیش نظر حکم لگایا گیا ہے، استحسان کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں، حالانکہ ان مسائل میں شرعی دلائل کچھ اور ہیں مگر شریعت کا عمومی مزاج اور اُس کا عمومی قانون یُسر اور لوگوں کے حالات کسی اور بات کے متقاضی ہیں، لہذا اس کی مناسبت سے ایک دوسرا قابل عمل طریقہ اختیار کیا گیا ہے، اسی کو استحسان کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
فقہ کی دنیا میں علامہ شامی کو کون نہیں جانتا؟ عالم اسلام میں جو شہرت و مقبولیت اُن کو حاصل ہوئی اُس سے شاید ہی کوئی دوسرا بہرہ ور ہوا ہو۔ انھوں نے خاص اسی عنوان پر ایک کتاب تصنیف کی ہے جس کا نام ہے نشر الحرف فى بناء بعض الأحكام على العرف یہ رسالہ 1901ء میں دمشق سے شائع ہو گیا ہے۔ اس میں علامہ موصوف نے بڑی تفصیل سے اُن مسائل کا ذکر کیا ہے جن میں عرف اور مصلحت نیز زمانے کے تقاضوں کا خصوصی لحاظ رکھا گیا ہے۔ اس کے بعد فاضل مقالہ نگار نے کئی مثالیں دی ہیں جن میں بعد میں آنے والے فقہاء نے متقدمین کی رائے کے برعکس فتوے دیے ہیں۔ اس کے بعد لکھتے ہیں :
لہذا اس بنیاد پر غور کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ طلاق ثلاثہ والے مسئلے میں اگر دیگر فقہاء کے مسلک پر فتویٰ دے دیا جائے تو کوئی حرج کی بات نہ ہوگی کیونکہ ضرورت اس کی شدید متقاضی ہے جیسا کہ ہم چوتھی بنیاد میں اس پر گفتگو کریں گے، اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے زمانے کے بعض احناف اور جلیل القدر علماء یہ میلان رکھتے ہیں۔
مفتی اعظم مولانا کفایت اللہ دہلوی سے کسی سائل نے اسی طلاق ثلاثہ کے متعلق دریافت کیا تھا، سائل کے گاؤں میں ایک واقعہ ایسا ہوا تھا کہ ایک حنفی شخص نے تین طلاقیں دینے کے بعد کسی اہل حدیث عالم سے فتویٰ پوچھ کر رجوع کر لیا۔ اب گاؤں کے لوگوں نے اُس کا بائیکاٹ کر دیا۔ مفتی صاحب نے یہ جواب دیا کہ ایک مجلس میں تین طلاقیں دینے سے تینوں پڑ جانے کا مذہب جمہور علماء کا ہے اور ائمہ اربعہ اس پر متفق ہیں۔ ائمہ اربعہ کے علاوہ بعض علماء اس کے قائل نہیں ہیں کہ اس طرح ایک رجعی طلاق ہوتی ہے اور یہ مذہب اہل حدیث حضرات نے بھی اختیار کیا ہے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی اور طاؤس رحمہ اللہ ، عکرمہ رحمہ اللہ اور ابن اسحق رحمہ اللہ سے منقول ہے، پس کسی اہل حدیث کو اس حکم کی وجہ سے کافر کہنا درست نہیں اور نہ وہ قابلِ مقاطعہ اور مستحق اخراج از مسجد ہے۔ ہاں ! حنفی کا اہل حدیث سے فتوئی حاصل کرنا اور اُس پر عمل کرنا باعتبار فتوئی ناجائز تھا۔ لیکن اگر وہ بھی مجبوری اور اضطرار کی حالت میں اس کا مرتکب ہو، تو قابلِ در گزر ہے۔ اخبار الجمعية دهلي، مورخہ 6 شعبان 1350هـ بمطابق 16 دسمبر 1931ء محمد کفایت الله غفر الله له. (مدرسہ امینیہ دہلی)
ہمارے علمائے احناف میں سے مولانا عبد الحی فرنگی محلی لکھتے ہیں : اس صورت میں حنفیہ کے نزدیک تین طلاق ہوں گی اور بغیر تحلیل کے نکاح درست نہ ہوگا مگر بوقت ضرورت کہ اُس کا علیحدہ ہونا اُس سے دُشوار ہو اور احتمال مفاسد زائدہ کا ہو تو کسی اور امام کی تقلید کرے تو کچھ مضائقہ نہیں ۔ نظیر اس کی مسئلہ نکاح زوج مفقود اور عدة ممتدة الطہر موجود ہے کہ حنفیہ عند الضرورة قول امام مالک رحمہ اللہ پر عمل کر لینے کو درست رکھتے ہیں، چنانچہ ردالمختار میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔مجموعه فتاوی ، ص : 347
مدرسہ امینیہ دہلی کا ایک اور فتوی ملاحظہ کرتے چلیے :
بعض سلف صالحین اور علمائے متقدمین میں سے اس کے بھی قائل ہیں اگرچہ ائمہ اربعہ میں یہ قول نہیں ہے، لہذا جن مولوی صاحب نے مفتی اہل حدیث پر جو فتویٰ دیا ہے، یہ غلط ہے اور مفتی اہل حدیث پر اس اختلاف کی بنا پر کفر ومقاطعه و اخراج از مسجد کا فتویٰ غیر صحیح ہے۔ بوجہ شدید ضرورت اور خوف مفاسد اگر طلاق دینے والا ان بعض علماء کے قول پر عمل کرے گا جن کے نزدیک اس واقعہ مرقومہ میں ایک ہی طلاق ہوتی ہے تو وہ خارج از مذہب حنفی نہ ہوگا کیونکہ فقہائے حنفیہ نے بوجہ شدت ضرورت کے دوسرے امام کے قول پر عمل کر لینے کو جائز لکھا ہے۔ دستخط حبیب المرسلین عفی عنہ۔ مہر دار الافتاء مدرسہ امینیہ دہلی۔ بحوالہ الجواہر العالیہ صفحہ 74، مرتب مولانا ابوعبیدہ اعظمی
حضرت مولانا تھانوی کے ملفوظات میں، میں نے پڑھا ہے کہ جس زمانے میں انھوں نے ”حیلہ ناجزہ“ تصنیف فرمائی اور اُس میں نکاح مفقود الزوج کے سلسلے میں امام مالک رحمہ اللہ کے مسلک کے مطابق فتوی دیا تو کسی نے کہا کہ آپ لوگ تقلید ابوحنیفہ پر بہت زور دیتے ہیں، لیکن امام مالک رحمہ اللہ کے مسلک کے مطابق فتوی دیتے ہیں تو تقلید جارہی ہے۔ فرمایا : تم تقلید کو لیے پھرتے ہو، یہاں سرے سے اسلام ہی جا رہا ہے۔ در حقیقت اُن کا اشارہ اس طرف تھا کہ شریعت کی مصلحت کل کو باقی رکھنے کے لیے کسی خاص امام کی تقلید کر کے دوسرے امام کی رائے پر عمل درست ہے۔
اس پوری تفصیل سے آپ کو یہ اندازہ کرنے میں کوئی دشواری نہ ہوگی کہ ائمہ احناف بوقت ضرورت اور زمانے کی اقتضا کا لحاظ کرتے ہوئے دوسرے مجتہدین وائمہ کی آراء پر عمل کو جائز رکھتے ہیں، لہذا طلاق ثلاثہ والے مسئلے میں ہم غور و فکر کر کے دیکھیں کہ واقعی ضرورت اس بات کی متقاضی ہے کہ تین طلاقیں واحد شمار کی جائیں یا نہیں ؟ اگر ضرورت شدید ہے تو اسے قبول کرلیں۔
غور و فکر کی چوتھی بنیاد یہ ہے کہ ہمارے معاشرتی اور سماجی حالات ہمیں کونسی صورت اختیار کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ ہمارا ہندی معاشرہ (اور پاکستانی معاشرہ بھی) کچھ اس طرز پر چل رہا ہے کہ اس میں دینی قدریں ماند پڑ گئی ہیں۔ ہمارے عوام دین کا اتنا حصہ بھی حاصل نہیں کرتے جو اُن پر فرض عین ہے۔ بہت سے لوگ ایسے ملیں گے جو دنیاوی تعلیم کی بڑی اعلیٰ ڈگریاں رکھتے ہیں اور دینی تعلیم اُس کی نسبت سے کم تر ہے۔ اسی جہالت کے باعث جب ایسے لوگ طلاق دینا چاہتے ہیں تو انھیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کون سا طریقہ بتایا اور پسند فرمایا ہے اور کسے معصیت بتایا ہے بلکہ مسلمانوں میں بہت سے لوگ ایسے مل جائیں گے جنھیں یہ مسئلہ معلوم ہے کہ ایک طلاق کے بعد رجوع کا اختیار ہوتا ہے، اس لیے وہ ایک طلاق کو کامل طلاق ہی نہیں سمجھتے اور جب وہ دینی ناواقفیت اور جذبات کی شدت سے مجبور ہو کر تین طلاقیں دیتے ہیں تو صحیح حکم کے ظاہر ہونے کے بعد سخت نادم ہوتے ہیں اور دنیا بھر کی حیلہ جوئی اور چارہ گری تلاش کرتے ہیں، ایسی غلط تدبیریں اختیار کرتے ہیں کہ پھر وہ عورت اس کے نکاح میں بغیر تحلیل کے آجائے یا باقی رہ جائے۔
اس سے متعدد خرابیاں رونما ہوتی ہیں۔ اگر طلاق دینے والا حنفی مسلک رکھتا ہے اور اُسی پر قائم رہنا چاہتا ہے تو لا محالہ تحلیل کی شکل اختیار کرتا ہے، یعنی شرط باندھ کر دوسرے سے نکاح کرتا ہے کہ تم کل طلاق دے دینا۔ اس طرح وہ شریعت کے نزیک مجرم ٹھہرتا ہے۔ ترمذی شریف کی روایت ہے :
إن رسول الله صلى الله عليه وسلم لعن المحلل والمحلل له
جامع الترمذي، النكاح، باب ماجاء في المحل والمحلل له حديث : 1120 و سنن النسائي الطلاق، باب إحلال المطلقة ثلاثا … ، حدیث : 3445
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔
یہ حدیث سنن نسائی میں بھی موجود ہے اور ابن ماجہ میں عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی روایت اس طرح ہے :
ألا أخبركم بالتيس المستعار ؟ قالوا : بلى يارسول الله ! قال : هو المحلل، لعن الله المحلل والمحلل له
سنن ابن ماجه الطلاق باب المحلل والمحلل له حديث : 1936
کیا میں تم کو منگی کے (مانگے ہوئے) بکرے سے آگاہ نہ کروں؟ صحابہ نے عرض کیا : ضرور اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! فرمایا : وہ حلالہ کرنے والا ہے۔ اللہ نے حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے ، دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ابن ابی شیبہ نے ان الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے :
لا أولى بمحلل ولا محلل له إلا رجمتهماء
المصنف لابن أبي شيبة : 291/7
میرے پاس جو بھی حلالہ کرنے والا اور جس کے لیے حلالہ کیا گیا ہو، لایا جائے گا تو میں اُس کو سنگسار کر دوں گا۔
امام بیہقی نے اپنی السنن الکبری میں نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اُس شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے، اگر کوئی شخص اُس کی بیوی سے نکاح کر کے اُس کے لیے حلال کر دے تو کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا :
من يخادع الله يخدعه
السنن الكبرى للبيهقي، الخلع والطلاق، باب من جعل الثلاث واحدة : 337/7
جو اللہ کے ساتھ چالبازی کرے گا، اللہ اس کی چال کو نا کام کر دے گا۔ معاني الآثار : 33/2
یہ فتویٰ امام طحاوی نے بھی معانی الآثار میں نقل کیا ہے۔
موطا امام مالک میں ہے :
يفرق بينهما مع كل حال إذا أريد بالنكاح التحليل
دونوں کے درمیان ہر حال میں تفریق کر دی جائے گی۔ اگر اُن کا ارادہ تحلیل کا ہے۔
ہمارے ائمہ میں سے صرف امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک تحلیل سے بیوی زوج اوّل کے لیے حلال ہوتی ہے ورنہ امام محمد رحمہ اللہ وابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک دیگر ائمہ کی طرح على وجه التحليل کیا ہوا نکاح غلط ہے اور اس سے عورت زوج اوّل کے لیے حلال نہیں ہوتی ہے۔ ویسے خود امام صاحب بھی تحلیل کو مکروہ تحریمی فرماتے ہیں۔ چنانچہ ہدایہ میں ہے :
إذا تزوجها بشرط التحليل فالنكاح مكروه لقوله عليه السلام : لعن الله المحلل والمحلل له
موطا امام مالک کے حاشیے میں ہے :
قال الشافعي وأبويوسف بشرط أنه إذا وطئ طلق، بطل
امام شافعی رحمہ اللہ وابو یوسف رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ اگر اس شرط پر نکاح کیا گیا کہ ہم بستری کے بعد اس عورت کو طلاق دے دے گا، تو نکاح باطل ہے۔
مولانا مفتی کفایت اللہ دہلوی کا ایک فتویٰ ملاحظہ کرتے چلیے جسے وہ اخبار الجمعیۃ دہلی ، مورخہ 6 شعبان 1350ھ مطابق 16 دسمبر 1931 ء میں تحریر فرماتے ہیں :
حلالہ : مطلقہ عورت کسی دوسرے خاوند سے نکاح کرلے اور پھر اُس سے طلاق یا موتِ زوج کی وجہ سے علیحدہ ہو کر پہلے زوج کے لیے حلال ہو جائے ، اسی کا نام حلالہ ہے۔ لیکن زوج اول یا زوجہ یا اُس کے کسی ولی کی طرف سے زوج ثانی سے یہ شرط کرنی کہ وہ طلاق دے دے اور زوج ثانی کا اس شرط کو قبول کر کے اس سے نکاح کرنا یہ حرام ہے اور اس بارے میں فریقین پر لعنت کی گئی ہے۔
اب آپ غور کر کے دیکھیے کہ ہمارے معاشرے میں کون سی شکل رائج ہے۔ بالکل متعة النساء کی طرح مشروط نکاح کیا جاتا ہے اور اگلے دن نکاح کرنے والے سے طلاق لے لی جاتی ہے۔ اس شکل میں بعض ایسے شرمناک اور حیا سوز قصے سننے میں آتے ہیں کہ کسی طرح شریعت کا مزاج اس کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں، اسی لیے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا ، ایسے لوگوں کو میں سنگسار کر دوں گا۔ بسا اوقات تو ایسا ہوتا ہے کہ نکاح کرنے والا طلاق ہی نہیں دیتا تو اس طرح اس قضیے میں نزاع وفساد کا ایک دوسرا قضیہ کھڑا ہو جاتا ہے۔
ان تمام قباحتوں کا ارتکاب تو اس شکل میں ہوتا ہے جب طلاق دینے والا حنفی مسلک پر قائم رہتا ہے لیکن اگر وہ حنفی مسلک پر مستعد نہیں تو فورا ایسی شکل میں وہ تبدیلی مسلک پر غور کرتا ہے اور یہاں بھی ایسا شخص مجرم ہوتا ہے کیونکہ ہمارے علماء اس کو شریعت کی اتباع نہیں بلکہ خواہشِ نفس کی پیروی سے تعبیر کرتے ہیں اور اس طرح کی تبدیلی کو غلط اور ناجائز بتاتے ہیں، چنانچہ علامہ شاطبی نے الموافقات جلد 4 صفحہ 82 بیان مفاسد اتباع رخص المذاهب میں اس کو وضاحت سے لکھا ہے۔ اور خود طلاق دینے والے کے لیے یہ دشواری ہے کہ اگر وہ صرف اس مسئلے کی حد تک اہل حدیث مسلک پر عمل کرتا ہے اور باقی سب مسئلوں میں اہل حدیث کی مخالفت کر کے ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو مانتا ہے تو یہ کھلی خواہش نفس کی پیروی ہے۔ ایسا رجحان شرعی معاملات میں ایک خطرناک رجحان ہے۔ ایسا شخص ہمیشہ مذاہب کی رخصتوں کا متلاشی ہوگا، اور اگر اس ایک مسئلے کی وجہ سے مکمل اہل حدیث مسلک اختیار کر لے تو اپنے ذہن و قلب کے خلاف کرتا ہے کہ بہت سے مسئلوں میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو برحق مانتے ہوئے جس پر وہ اب تک پوری زندگی عمل کرتا رہا ہے، اب صرف ایک مسئلے کی وجہ سے اُس کے خلاف عمل کرنے پر مجبور ہے۔ مزید یہ کہ اس طرح عورت کو غصہ اور جذبات کی شدت میں الگ کر دینے کے نتائج بہت سنگین شکل میں برآمد ہوتے ہیں۔ خصوصا عورت کی زندگی کے لیے تو انتہائی تباہ کن بھی ہو سکتے ہیں، فوری طور پر بچوں کی نگہداشت اور اُن کی پرورش و تربیت کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ ظاہر ہے حقیقی ماں جس طرح اپنی اولاد کی ساخت و پرداخت پر اپنا خونِ جگر صرف کر سکتی ہے، دوسری عورت نہیں کر سکتی ، پھر اسی مطلقہ عورت کا مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے کہ اس کو کس طرح معاشرے میں جذب کیا جائے۔ 50,25 برس شوہر کے ساتھ رہنے کے بعد اب الگ ہو کر وہ کہاں جائے؟ خصوصا جبکہ وہ بڑھاپے کی منزل میں قدم رکھ چکی ہو۔ ہندوستان (اور پاکستان میں بھی) ہمارا بیت المال بھی نہیں کہ اس کی کفالت ہو سکے۔ خود اس میں کمانے اور پیٹ بھرنے کی استطاعت نہیں۔ اس کے علاوہ وہ پردہ نشین خاتون جس نے اب تک عزت و خودداری کی اعلیٰ زندگی بسر کی ہو، کس طرح اپنی معاشی پریشانی کا ازالہ کر سکے اور سکون واطمینان کے ساتھ زندگی بسر کر سکے؟ مجھے اپنے شہر کے متعلق اچھی طرح معلوم ہے کہ ایک صاحب جو اچھے خاصے دیندار معروف تھے ، 50, 60 برس کی عمر تک ساتھ رہنے کے بعد ایک ساتھ تین طلاقیں دے دیں، کچھ دنوں تک تو اس عورت نے خود کو سنبھالا مگر اُس کے افراد خاندان کی غربت اور معاشی پریشانی کی وجہ سے وہ اس قدر بد حال ہو گئی کہ اُس کے دماغ پر جنون کے اثرات ہو گئے ، اب وہ در بدر کی سہ گدائی لے کر اپنا پیٹ بھرتی ہے۔
اس طرح کے دسیوں واقعات آپ کو مل جائیں گے۔ محترم اقبال ورق والا صاحب کے خیالات سے متفق ہوں کہ مخالفین ان واقعات کو رنگ آمیزی کے ساتھ بیان کرتے ہیں مگر اس کو بھولنا نہیں چاہیے کہ ان واقعات کی کوئی نہ کوئی اصلیت بھی ضرور ہے جس پر رنگ آمیزی اور مبالغے کی دیوار کھڑی کی جاتی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ حکومت (ہند) ایسے قوانین بنانے پر تل گئی ہے کہ مطلقہ کا نان ونفقہ اُس وقت تک شوہر کے ذمے واجب ہے جب تک وہ دوسری شادی نہ کر لے۔ ظاہر ہے یہ چیز افراط کی طرف ایک قدم ہے۔ مگر یہ بھی کمی اور تفریط کی بات ہوگی کہ ایسی عورت کے سلسلے میں ہم بیٹھ کر کوئی لائحہ عمل نہ سوچیں۔ ہمارا خیال ہے کہ اگر طلاق کے مروجہ طریقے میں احناف کے مسلک سے ہٹ کر بعض دیگر مجتہدین کی آراء پر عمل کرلیا جائے، یعنی تین طلاقوں کو ایک قرار دیا جائے تو بہت سی پیچیدگیاں خود بخود دور ہو جائیں گی اور فریقین ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ ایک دوسرے کے مستقبل کے بارے میں سوچ سکیں گے۔ اس طرح مخالفین کو مسلم پرسنل لاء کے خلاف رنگ آمیزی کا بھی موقع نہ رہے گا جس طرح مصری علماء نے پوتے کی وراثت کے سلسلے میں ثلث مال کی اختیاری وصیت کو لازم کر دیا ہے، اسی طرح ہمیں مذکورہ بالا چار بنیادوں پر غور وفکر کرنے کے بعد کوئی تبدیلی کرنا چاہیے جس کی شریعت میں گنجائش بھی ہے اور حنفی مسلک بھی اس کی اجازت دیتا ہے۔ ائمہ کرام اکٹھی تین طلاقیں دینے کو معصیت اور گناہ بھی بتلاتے ہیں اور ہمارے حالات شدت سے متقاضی ہیں تو کیوں نہ اُن اقوال پر عمل کر لیا جائے جو شروع سے اہل سنت والجماعت کے ایک طبقے کا معمول رہا ہے۔
اب آئیے ! سوال نامے میں درج شقوں کے مختصر جوابات بھی سماعت فرمائیے :
➊ طلاق ، طلاق ، طلاق تین دفعہ کہہ دینے سے اگر کہنے والے کی نیت ایک کی ہو اور اس نے محض تاکید کے لیے باقی دو دفعہ مزید کہہ دیا ہو یا باقی دو سے اُس نے کچھ بھی نیت نہ کی ہو ، نہ تاکید کی نہ عدم تاکید کی تو ایک ہی طلاق پڑے گی۔ علامہ آلوسی نے تفسیر روح المعانی میں علامہ ابن حجر رحمہ اللہ کی عبارت نقل کی ہے کہ فاسق سے فاسق آدمی کا ارادہ تاکید معتبر مانا جائے گا۔ یہی ہمارا مذہب بھی ہے۔
فإن صريح مذهبنا تصديق مريد التاكيد بشرطه وإن بلغ فى الفسق ما بلغ
مفتی مہدی حسن سابق صدر مفتی دارالعلوم دیو بند فرماتے ہیں :
اگر عورت مدخول بہا ہے اور ایک ہی طلاق دینے کا ارادہ تھا لیکن بتکرار لفظ تین مرتبہ طلاق دی اور دوسری اور تیسری طلاق کو بطور تاکید استعمال کیا ہو تو دیا تین قسم کے ساتھ اُس کا قول معتبر ہوگا اور ایک طلاق رجعی واقع ہوگی ، اس میں اختلاف نہیں۔ روح المعاني : 205/2 وإقامة القيامة، ص : 75
علامہ ابن حزم رحمہ اللہ کی کتاب محلی میں بالکل یہی الفاظ ہیں مگر اس میں دیانتاّ کا لفظ اور حلف کا کوئی تذکرہ نہیں بلکہ صرف اتنا ہے کہ اس کے ارادہ تاکید کو معتبر مانا جائے گا۔ فرماتے ہیں :
فلو قال لموطوءة : أنت طالق ، أنت طالق، أنت طالق، فإن نوى التكرير (أى التاكيد) لكلمته الأولى وإعلامها فهي واحدة وكذلك إن لم ينو بتكراره شيئا – فإن نوى بذلك أن كل طلقة غير الأخرى فهي ثلاث إن كررها ثلاثا
اپنی مدخول بہا عورت سے کسی نے کہا : تجھے طلاق، تجھے طلاق، تجھے طلاق۔ اگر اُس نے باقی دو سے تاکید کا یا نہ تاکید واخبار کا نہ عدم تاکید کا، کسی کا ارادہ نہ کیا تو ایک واقع ہوگی۔ لیکن اگر مطلب یہ تھا کہ ہر طلاق پہلے والی طلاق سے الگ ہے تو تین واقع ہوں گی۔ المحلى لابن حزم : 175/10
➋ یہی شکل مختلف فیہ ہے۔ احناف تین کے وقوع کے قائل ہیں اور عُذر جہالت کو وہ معتبر نہیں مانتے اور علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ وابن قیم رحمہ اللہ اور اہل حدیث حضرات جب تین کو تین سمجھ کر دینے والے کی طلاق کو رجعی بتلاتے ہیں تو یہاں ارادہ بھی نفس طلاق کا تھا نہ کہ تین کا، لہذا اُن کے نزدیک ایک ہوگی۔
➌ اہل سنت والجماعت کا ایک طبقہ شروع ہی سے اس کے خلاف رہا ہے، لہذا امت کا اجماع نہیں کہا جاسکتا۔ ہاں ! اگر ہمارے بعض علماء ائمہ اربعہ کا اجماع بتاتے ہیں مگر یہ بھی مخدوش ہے۔ مولانا عبد الحی لکھنوی کی جو عبارت ہم اوپر مقالے میں نقل کر چکے ہیں، اُس میں واضح طور سے یہ بات موجود ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ کا ایک قول اور اصحاب احمد کا بھی ایک قول یہی ہے۔ ہم غور وفکر کی پہلی بنیاد میں ان فقہاء کا نام لکھ چکے ہیں جو ایک طلاق رجعی ہونے کے قائل ہیں۔
➍ ہمارے نزدیک مجلس واحد کی تین طلاقوں کو ایک ہی سمجھا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔ یہی ہماری رائے ہے جس کے دلائل اوپر نقل کر دیے گئے ہیں۔ ملخص از ”ایک مجلس کی تین طلاق“ صفحہ: 19-37

مولانا سعید احمد اکبر آبادی (مدیر برہان دہلی) :۔

یہ مولانا انور شاہ کشمیری کے تلمیذ رشید اور ہندوستان کے نہایت ممتاز علمائے احناف میں سے تھے۔ انھوں نے بھی اس مسئلے پر ایک مقالہ تحریر فرمایا تھا۔ اس میں پہلے ایک مجلس کی تین طلاقوں کے ایک ہی ہونے پر بحث کی ہے ، پھر انھوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اجتہادی اور سیاسی فیصلے پر اور اس کی بنیاد پر ائمہ اربعہ کے اتفاق اور ان کے مسلک کا ذکر کر کے لکھا ہے : لیکن ہمارے نزدیک یہ ایک مسئلہ مجتہد فیہ ہے اور اس کی بنا پر اس بات کی گنجائش ہے کہ سوسائٹی کے حالات بدل جانے یا ایک ایمرجنسی پیدا ہو جانے کی صورت میں اس پر از سر نو نظر ثانی کی جاسکتی ہے۔ یہ نظر ثانی جن وجوہ اور دلائل کی بنیاد پر ہو سکتی ہے۔ وہ حسب ذیل ہیں :
◈ قرآن مجید میں تین طلاقوں کے بارے میں جو آیت ہے وہ اس بات میں نص قطعی ہے کہ طلاق مغلظہ اس وقت واقع ہوگی جبکہ تین طلاقیں یکے بعد دیگرے مختلف مجلسوں میں دی جائیں۔
فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ سے ضمنا تیسری طلاق کے واقع کرنے میں قصد اور ارادے کا بھی اشارہ نکلتا ہے۔
◈ طلاق سے متعلق قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں جو تصریحات ہیں اُن سب کو یکجا طور پر پیش نظر رکھا جائے تو ان سے حسب ذیل اُمور پر روشنی پڑتی ہے۔
(ا) طلاق اگرچہ مباح اور مشروع ہے لیکن ابغض المباحات ہے اور نکاح میں اصل اس کی بقا ہے۔
(ب) طلاق اُس وقت دی جائے جب شوہر اور بیوی دونوں کو اس بات کا یقین ہو کہ وہ اللہ کی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے۔
(ج) طلاق سے قبل ایک بنچ (ثالث) کے سامنے اپنا معاملہ پیش کر دینا چاہیے۔
(د) طلاق واقع کرنے سے مرد کا مقصد عورت کو ستانا اور اُسے تکلیف دینا نہیں ہونا چاہیے۔
(ہ) طلاق حالت غضب میں نہیں دینی چاہیے۔
حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے ”زاد المعاد“ 566/3 میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ روایت نقل کی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سُنا ہے، آپ نے فرمایا :
لا طلاق ولا عتاق فى إغلاق
ابو العباس المبرد نے الکامل میں اغلاق کے معنی بیان کیے ہیں تنگ دلی، بے چینی، مجبوری، حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے اس کے معنی غضب کے لیے ہیں۔ اس بنا پر اس ارشاد نبوی کا مطلب یہ ہوا کہ غضب اور مجبوری کی حالت میں جو طلاق دی جائے وہ طلاق ہی نہیں ہے، چنانچہ امام مالک رحمہ اللہ کا مذہب یہی ہے اور اس کی خاطر انھوں نے جو شدائد برداشت کیے ہیں وہ اہلِ علم سے مخفی نہیں۔
(و) طلاق کے بارے میں مرد کی نیت کا اعتبار ہونا چاہیے، چنانچہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں باب باندھا ہے جس کا عنوان ہے :
باب الطلاق فى الإغلاق والكره والسكران والمجنون وأمرهما والغلط والنسيان فى الطلاق والشرك وغيرهما
باب زبردستی اور جبر میں طلاق دینے کا حکم اسی طرح نشہ یا جنون میں دونوں کا حکم ایک ہونا یا بھول چوک سے طلاق دینا یا شرک کا کلمہ کہہ دینا۔
اور اس کے بعد حدیث نقل کی ہے :
الأعمال بالنية ولكل امرئ ما نوى
صحيح البخاري، الطلاق، باب الطلاق في الإغلاق قبل الحديث : 5269
تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر آدمی کو وہی ملے گا جیسے اس نے نیت کی۔
اب ذرا صرف ہندوستان اور پاکستان میں نہیں بلکہ عالم اسلام میں ہر جگہ آج کل جو حالات پیش آرہے ہیں اُن کا جائزہ لیجیے۔ وہ حالات یہ ہیں :
◈ آج کل مسلمان عام طور پر طلاق کے مسائل سے ناواقف ہیں اور وہ رجعیہ بائنہ اور مغلظہ کے فرق کو نہیں جانتے ، اس لیے جب کبھی غصے کی حالت میں ناراض ہو کر یا کسی اور سبب سے بیوی سے ترک تعلق کا اعلان کرنا چاہتے ہیں تو بے تکلف طلاق کا لفظ دو تین مرتبہ بول جاتے ہیں۔
◈ لیکن جب غصہ فرو ہوتا ہے تو اُن کو اپنی حرکت پر ندامت ہوتی ہے اور وہ عورت سے زوجیت کا تعلق پھر قائم کرنا چاہتے ہیں لیکن اُن کو بتایا جاتا ہے کہ اُس پر تین طلاقیں پڑ گئی ہیں اور اب وہ حلالے کے بغیر اُن کے لیے حلال نہیں ہوسکتی۔
◈ حلالہ کرنے اور کرانے والے دونوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے، اس لیے مرد اور عورت دونوں میں سے کوئی بھی اس پر آمادہ نہیں ہوتا اور یوں بھی ان کی غیرت اس کی اجازت نہیں دیتی۔
◈ شوہر ہزار کہتا ہے کہ مجھ کو نہ طلاق مغلظہ کا حکم معلوم تھا اور نہ میری نیت یہ تھی ۔ لیکن اُس کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی اور فیصلہ برقرار رہتا ہے۔
◈ اس بد نصیب عورت کی جوانی کی عمر ڈھل چکی ہوتی ہے، اس لیے کچھ اس بنا پر اور کچھ طلاق سے داغ دار ہونے کے باعث اب اس کی کہیں شادی بھی نہیں ہوسکتی۔
◈ اُس عورت کے لیے گزر بسر کا ذریعہ بھی ایک نکاح تھا۔ اب جب یہ منقطع ہو گیا تو اُس کے لیے معاش کا کوئی ذریعہ نہیں رہا۔ جب ایک انسان اس طرح معاش سے مجبور اور تنگدست ہوتا ہے تو پھر اُس سے کوئی گناہ مستبعد نہیں ہوتا۔
◈ علاوہ ازیں یہ معاملہ صرف ایک مرد اور ایک عورت کے درمیان ہی نہیں بلکہ اُن کی اولاد بھی ہے۔ غور کرنا چاہیے کہ اُن پر کیا گزرے گی ؟ اور والدین کی باہمی مفارقت سے ان کے دل و دماغ پر نفسیاتی اخلاقی اور ذہنی اثرات کیا ہوں گے؟ ارباب نظر پر یہ پوشیدہ نہیں ہے۔
◈ غرض کہ یہ حالات ہیں جنھوں نے مسلم سماج میں ایک عظیم تہلکہ برپا کر رکھا ہے۔ عالم اسلام کی عدالتوں کی روئداد ملاحظہ کیجیے، آپ کو معلوم ہوگا کہ اس طرح کے افسوسناک واقعات اس کثرت سے روزانہ پیش آرہے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ جو لوگ امن چین کی زندگی بسر کر رہے ہیں اگر اُن کے عشرت کدوں تک اُن ہزاروں ستم رسیدہ و مظلوم انسانوں کی داد فریاد اور آہ وشیون نہیں پہنچ سکتی، تو کیا اسلام کے پاس بھی اُن کے لیے کوئی مدد نہیں ہے؟ جواب یہ ہے کہ، ہے، اور لازمی طور پر ہے۔ خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اقدام سے یہ صاف ظاہر ہے کہ طلاق کے احکام میں اس قدر لچک ہے کہ اسلامی سوسائٹی کے خاص حالات کی اصلاح کرنے کی غرض سے قرآن مجید کی کسی آیت کے منطوق حکم میں تقید اور تخصیص کا عمل کیا جاسکتا ہے، پس جب یہ ہوسکتا ہے تو اگر کسی زمانہ ما بعد میں کسی اور قسم کے نا گفتہ بہ حالات سماج میں پیدا ہو جائیں اور اُن کی اصلاح قرآن کے اصل منطوق کی طرف رُجوع کرنے سے ممکن العمل ہوسکتی ہے تو پھر اُس راہ کو اختیار کرنا کیوں بدرجہ اولیٰ درست اور انسب نہ ہوگا؟ اس بنا پر طلاق سے متعلق قرآن مجید کی آیات اور مذکورۃ الصدر تنقیحات کے پیش نظر موجودہ معاشرتی حالات میں ہمارے نزدیک علمائے مجتہدین کے لیے اس امر کی کافی گنجائش ہے کہ وہ حسب ذیل فیصلے کریں :
➊ تین طلاقیں جو ایک مجلس میں ایک ہی لفظ سے دی جائیں وہ ایک طلاق سمجھی جائے گی اور طلاق رجعیہ ہوگی۔
➋ تین طلاقیں جو ایک ہی مجلس میں تین لفظوں سے دی جائیں اور شوہر شدید غضب کے عالم میں ہو اور غصہ فرو ہونے کے بعد وہ یہ کہے کہ میں نے دوسری اور تیسری طلاق کے الفاظ پہلی ہی طلاق کو موکد کرنے کے لیے کہے تھے یا بے سمجھے بوجھے غصے میں زبان سے نکل گئے تھے اور میں طلاق مغلظہ کے حکم سے ناواقف تھا اور نہ اس کا ارادہ تھا۔ تو ان سب صورتوں میں مرد کی تصدیق کی جائے۔ اسلامی شریعت کی درحقیقت اسپرٹ ہی یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو رشتہ ازدواج کو قائم رکھنے کی تدبیر کی جائے۔ ہاں ! البتہ جب شوہر نے یہ ٹھان ہی لیا ہے کہ اُسے اس رشتے کو منطقع کر دینا ہے تو اب مجبوری ہے۔
اب آئیے ! جو حضرات مذکورہ بالا تین طلاقوں کو ایک طلاق رجعی تسلیم کرنے کے لیے آمادہ نہیں اور اس کے شدید مخالف ہیں، اُن کے دلائل کا بھی جائزہ لیں۔ (اس کے بعد انھوں نے دعوائے اجماع کا جائزہ لیا ہے اور اس کی نفی کی ہے۔ پھر لکھتے ہیں :)
پس اول تو یہ دعویٰ کرنا ہی صحیح نہیں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حکم پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع ہوگیا تھا اور اگر یہ اجماع تھا بھی تو یہ اجماع سکوتی تھا جو مرتبے میں بہر حال اجماع تقریری سے کم ہوتا ہے اور پھر یہ امر بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ جو اجماعی فیصلہ کسی خاص زمانی میں اُس وقت کے مخصوص حالات و ظروف کی بنیاد پر کیا گیا ہو ، علمائے اُصول فقہ کے بیان کے مطابق جب تک وہ زمانہ اور اس کے وہ حالات باقی رہیں گے، اُس وقت تک اجماعی فیصلہ واجب العمل ہوگا لیکن جب وہ حالات بدل جائیں گے تو اب وہ اجماعی فیصلہ واجب العمل نہ رہے گا اور اُس کے بجائے نئے حالات اور نئے تقاضوں کی روشنی میں کوئی دوسرا فیصلہ کرنا ہوگا۔ آج مسلمانوں کو یہی صورتِ حال درپیش ہے جیسا کہ میں نے شروع میں عرض کیا۔ یہ حالات ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ عالمگیر ہیں۔ ہر اسلامی ملک کے علماء ومفکرین اُن پر غور و خوض کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں انھوں نے فیصلے کیے ہیں، چنانچہ مصر جو جامعہ ازہر کے باعث علوم دینیہ و اسلامیہ کا مرکز ہے اور جہاں اکابر علماء و فقہاء اسلام ہمیشہ پیدا ہوتے رہے ہیں، اُس کے اجلہ علماء نے اس خاص مسئلہ میں بھی اپنی آراء کا اظہار کیا ہے ، چنانچہ علامہ شیخ محمود شلتوت اپنے فتاوی میں صاف لکھتے ہیں :
الطلاق بالثلاث لا يقع إلا واحدة رجعية، ويرد الرجل زوجه بكلمة الرجعة أو بالمخالطة الخاصة

جو تین طلاقیں ایک مرتبہ دی جائیں اُن سے ایک طلاق رجعی ہی واقع ہوگی اور مرد کو یہ حق ہوگا کہ وہ اپنی بیوی کو واپسی کے لفظ سے یا مخالطت خاص کے ذریعے سے واپس لے لے۔ فتاوی ص : 306
علامہ سید رشید رضا اپنی تفسیر المنار میں لکھتے ہیں : بعض فقہاء اور دانشوروں نے ہماری حکومت مصر کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ تین طلاقوں کے مسئلے میں اصل کتاب وسنت کی طرف رجوع کیا جائے جس کے دلائل سب سے پہلے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور ان کے شاگرد علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے نہایت بسط و تفصیل سے اپنی کتاب ”إعلام الموقعين“، ”إغاثة اللهفان“ اور ”زاد المعاد“ میں بیان کیے ہیں اور پھر ان دونوں حضرات کی تائید و موافقت امام شوکانی رحمہ اللہ ، سید صدیق حسن رحمہ اللہ اور دوسرے ہندوستانی علمائے متاخرین نے کی ہے۔ تفسير المنار : 683/9
چنانچہ اس سلسلے میں حکومت مصر نے ایک قانون بنایا ہے جو 10 مارچ 1929ء کو منظور کیا گیا یہ قانون طلاق سے متعلق ہے اور اس میں بہت سی دفعات ہیں۔ اسی کی دفعہ نمبر 3 میں ہے : وہ طلاق جس کے بعد اشارتاً یا لفظاً عدد ہوں اُن سے ایک طلاق رجعی ہی واقع ہوگی۔ حياة شيخ الإسلام ابن تیمیه ، از شیخ محمد بهجة البيطار ، ص : 66
علاوہ ازیں عہدِ حاضر کے ایک اور جلیل القدر عرب عالم اور مفتی شیخ جمال الدین القاسمی رحمہ اللہ نے نہایت عمدہ کتاب الاستيناس لتصحيح أنكحة الناس کے نام سے لکھی ہے اور اس میں طلاق کے مسئلہ پر نہایت مفصل گفتگو کے بعد یہ رائے ظاہر کی ہے کہ جو تین طلاقیں دفعہ واحدة واقع کی جائیں اُن سے ایک طلاق رجعی ہی واقع ہوگی۔ (منقول از ”ایک مجلس کی تین طلاق“)

مولانا سید حامد علی (سیکرٹری جماعت اسلامی ، ہند) :۔

ان کا مقالہ بڑا مفصل ہے اور انھوں نے ان حضرات کے دلائل کا تفصیلی جائزہ لیا ہے جو بیک وقت تین طلاقوں کے وقوع کے قائل ہیں۔ انھوں نے پہلے نمبر پر قرآنی آیت الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ سے استدلال کا محاکمہ کیا ہے، پھر ان احادیث کا جائزہ لیا ہے جن سے یہ حضرات استدلال کرتے ہیں، اس کے بعد دعوائے اجماع کی حقیقت واضح کی ہے جس کے مسئلہ زیر بحث میں ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے، پھر صحیح مسلم اور مسند احمد کی حدیث رکانہ رضی اللہ عنہ سے ایک مجلس تین طلاقوں کے ایک طلاق واقع ہونے کا اثبات کیا ہے۔ یہ پورا مقالہ جو ساٹھ صفحات پر محیط ہے، قابل مطالعہ ہے۔ ہم یہاں اس کا آخری حصہ پیش کرتے ہیں، لکھتے ہیں :
اوپر کی بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ کتاب اللہ، سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اجماع امت سے یہ بات ثابت نہیں ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں دینے سے طلاق مغلظہ بائنہ پڑ جاتی ہے۔ اس کے برعکس صحیح مسلم اور مسند احمد کی روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں، طلاق مغلظہ بائنہ نہیں ہے، وہ ایک ہی طلاق شمار ہوگی۔ ائمہ اور علمائے حق کی عظیم اکثریت اگر چہ یہ رائے رکھتی ہے کہ یہ طلاق ، طلاق مغلظہ بائنہ ہے۔ لیکن علماء کی ایک قابل لحاظ تعداد اس رائے کی قائل ہے کہ یہ طلاق طلاق مغلظہ بائنہ نہیں ہے اور یہی ہمارے نزدیک قول راجح ہے لیکن اس قول کو قولِ مرجوح بھی قرار دیا جائے ، تب بھی یہ ماننا پڑے گا کہ کتاب وسنت کی رُو سے اس قول کے اختیار کیے جانے کی گنجائش ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ حالات وضروریات اور مصالح امت کے تحت قول مرجوح پر فتویٰ دیا جائے۔ علمائے حق نے بار ہا ایسا کیا ہے۔ اس وقت کے حالات میں مسلمانوں کا سب سے سنگین مسئلہ یہ ہے۔ اور ایک مجلس کی تین طلاقوں کے طلاق مغلظہ بائنہ ہونے کا مسئلہ نہ اجماعی ہے ، نہ کتاب اللہ اور سنتِ ثابتہ کی رُو سے صریح و منصوص۔ بلکہ اختلافی اور اجتہادی مسئلہ ہے، اس لیے اس میں قولِ مرجوح کو اختیار کرنے کی پوری گنجائش موجود ہے۔ میں علمائے امت سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ حالات وضروریات کے تحت اس مسئلے پر از سر نو غور فرمائیں اور ہزاروں لاکھوں خاندانوں کو تباہی سے بچائیں۔
میری ان معروضات سے سوال نمبر 3 اور نمبر 4 کا جواب تو واضح طور پر سامنے آگیا ہے۔
میں پہلے اور دوسرے سوال کا جواب عرض کروں گا :

نمبر: 1

میرے نقطۂ نظر سے تو اس سوال کا جواب واضح ہے۔ طلاق ، طلاق ، طلاق کہے اور نیت ایک کی رکھے یا تین کی ، اگر قائل نے یہ الفاظ ایک ہی مجلس میں کہے ہیں تو ایک ہی طلاق واقع ہوگی۔ نیت ایک کی ہو یا تین کی ، اس سے کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ حنفی نقطۂ نظر سے بھی اس صورت میں جبکہ طلاق دینے والا کہے کہ میری نیت ایک طلاق کی تھی، میں نے تو صرف تاکید کے لیے تین بار طلاق کہا تھا۔ دیانتاً ایک ہی طلاق ہوگی مگر قضاء تین طلاقیں شمار ہوں گی۔ وقت آگیا ہے کہ حنفی فقہاء دیانت اور قضاء کے اس فرق کو ختم کر کے نیت کے مطابق فتوی دینے کا فیصلہ کریں۔
یہ بات تو عربی زبان کی ہے۔ جہاں تک اُردو زبان کا تعلق ہے، یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ طلاق ، طلاق ، طلاق یا طلاق دی ، دی ، دی یا طلاق دی، طلاق دی، طلاق دی۔ ان سب الفاظ کا استعمال تعداد کے لیے نہیں تاکید کے لیے ہوتا ہے۔ جب تک کوئی واضح قرینہ تعداد کے لیے نہ ہو، ان الفاظ کو تاکید ہی پر محمول کرنا چاہیے اور نیت کی کھوج میں نہ پڑنا چاہیے۔ لیکن اگر طلاق دینے والا صراحتاً کہہ رہا ہے کہ اس کی نیت ایک طلاق کی تھی تو لازمنا اس کی بات مان لینی چاہیے کیونکہ یہی بات ظاہر الفاظ کے بھی مطابق ہے۔

نمبر : 2

ہندوستان میں (اور پاکستان میں بھی) جہالت عام ہے۔ عوام ہی نہیں بہت سے وکلاء تک یہی سمجھتے ہیں کہ طلاق کی ایک ہی شکل ہے اور وہ یہ کہ تین طلاق کے الفاظ بولے یا لکھے جائیں۔ اس صورت میں اگر کوئی شخص حلفیہ یہ بیان دیتا ہے کہ اس کی مراد تین طلاق کے الفاظ سے صرف طلاق دینے کی تھی تعداد مراد نہ تھی تو اس کے بیان کو باور کر لینا چاہیے۔ جہاں تک میرے نقطہ نظر کا تعلق ہے، آدمی تین طلاق دے یا ہزار ، اس سے طلاق مغلظہ بائنہ نہ پڑے گی ، صرف ایک طلاق پڑے گی، خواہ وہ تین یا ہزار بار دینے کی نیت کرے یا اُس کا مقصود صرف طلاق دینا ہو۔ اوپر جو کچھ عرض کیا گیا ہے اس سے مقصود نہ فتویٰ دینا ہے، نہ بحث و مناظرہ کا دروازہ کھولنا ہے۔ یہ اہل علم کے غور وفکر کے لیے بصد ادب پیش خدمت ہے، شاید اس سے انھیں اس پیچیدہ مسئلے کو حل کرنے کے سلسلے میں کوئی مدد مل سکے۔ (منقول از : ”ایک مجلس کی تین طلاق“)

مولانا مفتی عتیق الرحمن عثمانی (صدر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت) :۔

مسئلہ زیر بحث کے حل کے لیے احمد آباد (بھارت) میں جو مجلس مذاکرہ 1973ء میں منعقد ہوئی تھی، اس کی صدارت حضرت مفتی صاحب مرحوم نے فرمائی تھی۔ آخر میں انھوں نے صدارتی خطبہ تقریر کی صورت میں ارشاد فرمایا جس کا خلاصہ مجموعہ مقالات کے آخر میں دیا گیا ہے۔ اس میں مفتی صاحب موصوف نے واضح طور پر تو کسی ایک رائے کا اظہار نہیں فرمایا لیکن اس میں انھوں نے ایک تو مسئلے کو اختلافی تسلیم کیا ہے۔ دوسرے، حنفی نقطہ نظر کی وجہ سے عوام کو جو پریشانی لاحق ہوتی ہے، اس کا اعتراف کیا ہے۔ تیسرے، اس کا ایسا حل تلاش کرنے پر زور دیا ہے جس سے یہ معاشرتی پیچیدگیاں دور ہوں۔ چوتھے ، اتفاق رائے پیدا کرنے پر زور دیا۔ مذکورہ نکتوں سے ان کا رجحان یہی معلوم ہوتا ہے کہ علمائے احناف کو فقہی جمود کے بجائے وسعت نظر سے کام لیتے ہوئے اس مسئلے کا ضرور معقول حل تلاش کرنا چاہیے۔ ان کے خطبے کے ضروری اقتباسات حسب ذیل ہیں :
اس مذاکرے میں جو مقالات پیش کیے گئے ہیں وہ اپنی خصوصیات کے اعتبار سے بہت ہی اعلیٰ درجے کے مقالے ہیں۔ مقالہ نگار علمائے کرام نے نہایت محققانہ انداز میں طلاق ثلاثہ کے مسئلے پر بحث کی ہے۔ جہاں تک علمائے احناف کا تعلق ہے وہ ان مقالات کو پڑھ کر کیا رائے دیتے ہیں، اُس پر میں اس وقت کچھ کہنے کے موقف میں نہیں ہوں۔ زمانے کی ضرورتوں اور حالات کے تقاضوں سے قطع نظر کر کے غور کیا جائے تو طلاق ثلاثہ کے مسئلے میں دو فقہی مسلک (Schools of thought) ہمارے سامنے آتے ہیں۔ ایک فقہی مکتب وہ ہے جو یکجائی تین طلاقوں کو مغلظہ قرار دیتا ہے۔ لیکن دوسرا ایک کے وقوع کا قائل ہے۔ اوّل الذکر کے سامنے جدید حالات وضروریاتِ زمانہ اور اس سلسلے کی دوسری مشکلات لاکھ بیان کریں لیکن وہ اپنے فیصلے میں تبدیلی نہیں کریں گے۔ وہ کہیں گے کہ شوہر کو کس نے مجبور کیا تھا کہ تین طلاقیں دے۔ لیکن ہمیں اس وقت ان اختلافات سے صرف نظر کرتے ہوئے دیکھنا ہے کہ حکم اصلا اس سلسلے میں کیا ہے۔
طلاق ثلاثہ کے مسئلے پر سیمینار منعقد کرنا ایک نہایت جرات مندانہ اقدام ہے جس کے لیے اسلامک ریسرچ سنٹر کے ارکان قابل مبارک باد ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے اور حالات و زمانے کی تبدیلی کے باعث اس کی وجہ سے مسلم معاشرے میں بڑی پیچیدگیاں پیدا ہورہی ہیں، اس لیے ضرورت تھی کہ اس مسئلے پر مختلف مسالک کے علمائے کرام بیٹھ کر غور کریں اور اُن مشکلات پر قابو پانے کی کوئی سبیل نکالیں جن سے مسلمان دو چار ہیں۔ بمبئی میں جو بے مثال آل انڈیا مسلم پرسنل لاء کنونشن منعقد ہوا تھا اُس کے سامنے بھی یہ مسئلہ کسی نہ کسی حیثیت سے موجود تھا لیکن اُس وقت ہمیں صرف اس بات پر غور کرنا تھا کہ مسلم پرسنل لاء میں حکومت کو مداخلت یا ترمیم و تنسیخ کا حق ہے یا نہیں؟ لیکن اس وقت تین طلاق کا مسئلہ اُبھر کر سامنے آگیا ہے اور جدید حالات کے کچھ تقاضے بھی سامنے آرہے ہیں، ان میں شریعت کا کیا فیصلہ ہے، اس پر غور کرنا چاہیے اور مسائل کا حل ڈھونڈنا چاہیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسلامک ریسرچ سنٹر نے یہ قدم اٹھا کر ایک راستے کی نشاندہی کر دی ہے۔ میری یہ خواہش ہوگی کہ یہاں جو کچھ طے ہو وہ سب اٹھا کر پرسنل لاء بورڈ کے سامنے رکھ دیا جائے۔ اسی طرح اتحاد وتعاون سے کوئی بڑا کام ہوسکتا ہے ورنہ انتشار پیدا کرنا تو آسان ہے، اتفاق و یکجہتی کی فضا بڑی مشکل سے بنتی ہے۔ اس سیمینار میں مختلف مکتب فکر کے لوگ شریک ہیں لیکن کوشش کی جائے تو ایک مشترک نقطہ نظر سامنے آسکتا ہے۔
مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کے زمانے میں کچھ معاشرتی مسائل کھڑے ہو گئے تھے۔ اُس وقت صورت حال یہ تھی کہ مسلم عورتیں اپنے غیر مسلم آشناؤں کے ساتھ اسلام چھوڑ کر چلی جارہی تھیں، اس لیے موصوف نے پیش آمدہ مسائل پر علماء سے مشورہ کیا اور الحیلۃ الناجزۃ کے نام سے ایک کتاب تصنیف فرمائی جس میں ان مسائل کا حل تجویز کیا گیا ہے۔
ہمارے علماء پوتے کی وراثت کے سلسلے میں تو کچھ توسع پیدا کرتے ہیں لیکن تطلیقات ثلاثہ کے باب میں کہا جاتا ہے کہ اس پر اجماع ہے، لہذا ترمیم کی گنجائش نہیں لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے۔ یہ اجماع اس قسم کا نہیں ہے کہ اس کے بعد کلام کی گنجائش نہ ہو بلکہ یہ اجماع سکوتی ہے۔ نئے حالات و مسائل ہی نے فقہ کی تدوین کا احساس دلایا تھا۔ مدینے میں تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو کوئی ضرورت پیش نہیں آئی۔ اُس وقت کے حالات کے لحاظ سے کتاب وسنت کافی تھے، البتہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آگے بڑھے تو کوفہ و بصرہ وغیرہ میں نئے حالات اور نئے مسائل سامنے آئے۔ چنانچہ علمائے مجتہدین نے اس اہم ضرورت کو محسوس کیا اور فقہ کی تدوین کی اور ساتھ ہی مختلف مسائل کی اصل اور نص واضح کی۔ تطلیقات ثلاثہ کے مسئلے میں حنفی نقطہ نظر یہ ہے کہ یکجائی تین طلاقیں تین ہی پڑیں گی۔ لیکن احناف کی کتابوں میں یہ بھی ہے کہ ایک سے زیادہ طلاق اگر تاکید کے لیے ہے یا نیت تین دینے کی نہیں تھی تو تین واقع نہیں ہوں گی۔ فتاوی قاضی خان میں ”فاء“ کی بحث موجود ہے۔ یعنی فأنت طالق کہنے کا طلاق پر کیا اثر پڑتا ہے۔ لوگ جہالت کی وجہ سے تین طلاق دے دیتے ہیں لیکن ان کی نیت تین کی نہیں ہوتی، اس لیے یہ مسئلہ قابلِ غور ہے۔ طلاق بدعی کو اُسوہ حسنہ کی حیثیت نہیں دی جانی چاہیے، جو لوگ تین کے قائل ہیں اُن کے یہاں بھی ایسی شکلیں ہیں کہ ایک کی گنجائش نکل سکتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ یہاں ہم جو بھی فیصلہ کریں ، اتفاق رائے سے کریں۔ ملخص از : ”ایک مجلس کی تین طلاق“ نعمانی کتب خانہ، لاہور

مولانا مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ :۔

یہ تو تھے ہندوستان کے وہ علمائے احناف جنھوں نے اس موضوع پر منعقدہ مذاکرہ علمیه (سیمینار) میں مقالات کے ذریعے سے اپنی رائے کا اظہار فرمایا۔ ان کی رائے آپ نے ملاحظہ فرمالی۔ اب متحدہ ہند کے ایک بڑے عالم اور عظیم مفتی مولانا کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ اور ان کے ایک نائب کا فتوی ملاحظہ فرمائیں۔
ان کا ذکر پہلے بعض مضامین میں آچکا ہے اور ان کا فتویٰ بھی گزر چکا ہے کہ کسی سائل نے اسی طلاق ثلاثہ کے متعلق دریافت کیا تھا، سائل کے گاؤں میں ایک واقعہ ہوا تھا کہ ایک حنفی شخص نے تین طلاقیں دینے کے بعد کسی اہل حدیث عالم سے فتویٰ لے کر رجوع کر لیا۔ اب گاؤں کے لوگوں نے اس کا بائیکاٹ کر دیا۔ مفتی صاحب مرحوم نے حسب ذیل جواب دیا : ایک مجلس میں تین طلاقیں دینے سے تینوں پڑ جانے کا مذہب جمہور علماء کا ہے اور ائمہ اربعہ اس پر متفق ہیں۔ ائمہ اربعہ کے علاوہ بعض علماء اس کے قائل نہیں ہیں کہ اس طرح ایک رجعی طلاق ہوتی ہے اور یہ مذہب اہل حدیث حضرات نے بھی اختیار کیا ہے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی اور طاؤس رحمہ اللہ، عکرمہ رحمہ اللہ اور ابن اسحاق رحمہ اللہ سے منقول ہے، پس کسی اہل حدیث کو اس حکم کی وجہ سے کافر کہنا درست نہیں اور نہ وہ قابل مقاطعہ اور مستحق اخراج از مسجد ہے۔ ہاں! حنفی کا اہل حدیث سے فتویٰ حاصل کرنا اور اس پر عمل کرنا باعتبار فتوئی ناجائز تھا۔ لیکن اگر وہ بھی مجبوری اور اضطرار کی حالت میں اس کا مرتکب ہو تو قابل در گزر ہے۔ اخبار الجمعية دہلی ، 16 دسمبر 1931 ء محمد کفایت اللہ غفر اللہ لہ، مدرسہ امینیہ دہلی

مدرسہ امینیہ دہلی کا ایک اور فتویٰ :۔

اور بعض سلف صالحین اور علمائے متقدمین میں سے اس کے بھی قائل ہیں اگرچہ ائمہ اربعہ میں یہ قول نہیں ہے، لہذا جن مولوی صاحب نے مفتی اہل حدیث پر جو فتویٰ دیا ہے، یہ غلط ہے اور مفتی اہل حدیث پر اس اختلاف کی بنا پر کفر و مقاطعه و اخراج از مسجد کا فتویٰ غیر صحیح ہے۔ بوجہ شدید ضرورت اور خوف مفاسد کے اگر طلاق دینے والا ان بعض علماء کے قول پر عمل کرے گا جن کے نزدیک اس واقعہ مرقومہ میں ایک ہی طلاق ہوتی ہے تو وہ خارج از مذہب حنفی نہ ہوگا کیونکہ فقہائے حنفیہ نے بوجہ شدتِ ضرورت کے دوسرے امام کے قول پر عمل کر لینے کو جائز لکھا ہے۔ دستخط حبیب المرسلین عفی عنہ، مہر دار الافتاء مدرسہ امینیہ دہلی ، کتاب ”ایک مجلس کی تین طلاق“ ص : 31,30 طبع احمد آباد بھارت
غیر منقسم ہندوستان میں مفتی کفایت اللہ دہلوی مرحوم اور ان کے مدرسہ امینیہ کی جو حیثیت احناف کے ہاں تھی ، وہ محتاج تعارف نہیں۔ یہ دو فتوے ہم نے اس لیے نقل کیے ہیں کہ ان سے ایک تو یہ واضح ہو رہا ہے کہ یہ مسئلہ اجماعی نہیں ہے۔ (جیسا کہ دعوی کیا جاتا ہے) بلکہ صحابہ و تابعین میں سے بھی کئی حضرات اس کے قائل تھے۔ دوسرے، اس مذہب کے اختیار کرنے والے پر نقد و جرح صحیح نہیں حتی کہ کوئی حنفی بھی اس پر عمل کرلے تو وہ بھی قابل ملامت نہیں، چہ جائیکہ اہل حدیث حضرات کو اس مسئلے کی بنا پر اجماع امت کا منکر گردان کر انھیں امت اسلامیہ سے خارج کرنے کا فتوی داغ دیا جائے جیسا کہ بہت سے حضرات کرتے ہیں۔
تیسرے، اس فتویٰ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حق صرف ائمہ اربعہ کے اندر منحصر نہیں ہے۔ ان کے علاوہ دوسرے مذاہب بھی صحیح ہیں کیونکہ ان کے مسائل قرآن و حدیث پر مبنی ہیں بالخصوص مذہب اہل حدیث۔

مولا نا عبد الحی لکھنوی رحمہ اللہ :۔

غیر منقسم ہندوستان کی ایک فاضل شخصیت مولانا عبد الحی لکھنوی رحمہ اللہ کی ہوگزری ہے، ان کی ایک رائے عمدۃ الرعایة کے حواشی کے حوالے سے گزر چکی ہے۔ آگے ان کے دو فتوے مولانا پیر کرم شاہ رحمہ اللہ کے مضمون میں آرہے ہیں جس میں انھوں نے شدید ضرورت کے تحت ایک طلاق والے فتوے کے مطابق عمل کرنے کو جائز قرار دیا ہے۔ علاوہ ازیں اس عمل کو تقلید کے منافی بھی ماننے سے انکار کیا ہے۔

مولانا وحید الدین خان (بھارت) کا تجویز کردہ حل :۔

ایک مجلس کی تین طلاقوں کے دو حل مولانا وحید الدین خان صاحب نے بھی پیش کیے ہیں، پہلا حل وہی ہے جو اہل حدیث کا مسلک ہے اور بہت سے علمائے احناف اس کو اپنانے پر زور دے رہے ہیں۔ مولانا وحید الدین صاحب نے بھی اس حل کو تسلیم کیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں : راقم الحروف کے نزدیک موجودہ حالت میں اس معاملے میں ہمارے لیے دو میں سے ایک طریقے کا انتخاب ہے۔ ایک یہ کہ جب ایک شخص فوری جذبہ کے تحت طلاق طلاق طلاق کہہ دے تو اس کو شوہر کی طرف سے غصہ پر محمول کیا جائے ، یعنی یہ سمجھا جائے کہ شوہر نے شدت اظہار کے طور پر اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دیں، حالانکہ اس کا مقصد تکمیلی طلاق دینا نہ تھا بلکہ صرف طلاق دینے کے ارادے کا شدید انداز میں اظہار کرنا تھا۔ یہ تہدید و تشدید کا معاملہ تھا نہ کہ حقیقتا تطلیق ثلاثہ کا۔
اس صورت میں یہ کیا جائے گا کہ شوہر سے یہ کہا جائے گا کہ تمھاری تین طلاقیں عملاً پہلے مہینے کی ایک طلاق قرار دی جاتی ہے۔ اب تم کو یہ اختیار ہے کہ چاہے تو رجوع کر لو اور اگر تم تفریق کے ارادے پر قائم ہو تو قرآنی طریقے کے مطابق اگلے مہینے تم دوسری طلاق دو، اور اگر اس کے بعد بھی تفریق کا ارادہ باقی رہے تو تیسرے مہینے تم طلاق کے عمل کی تکمیل کر کے اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کر سکتے ہو۔
اس معاملے میں دوسرا ممکن طریقہ ہمارے لیے یہ ہے کہ ہم سنت فاروقی کو اپنے زمانے کے لحاظ سے اختیار کریں، یعنی ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین طلاقیں قرار دے کر عورت اور مرد کے درمیان تفریق کرادیں مگر اس صورت میں لازمی طور پر ہمیں سنت فاروقی کے مطابق یہ کرنا ہوگا کہ اس مزاج کی حوصلہ شکنی کے لیے شوہر کو سخت سزا دیں۔ موجودہ قانونی نظام کے تحت غالبا یہ ممکن نہیں کہ ایسے شوہر کو کوڑے مارنے کی سزا دی جائے مگر اس کا ایک بدل یقینی طور پر ممکن ہے اور وہ یہ کہ علمائے ہند نے جس طرح شاہ بانو بیگم کے مشہور کیس میں حکومت ہند سے مطالبہ کر کے پارلیمنٹ سے ایک قانون بنوایا تھا، اسی طرح اس معاملے میں بھی حکومت سے مطالبہ کر کے ہندوستانی پارلیمنٹ سے ایک قانون منظور کرایا جائے۔ اس قانون میں یہ طے کیا جائے کہ جو مسلمان ایک مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے گا تو اس کی طلاق تو واقع کر دی جائے گی مگر اسی کے ساتھ شوہر کو اپنے اس غیر شرعی فعل کی سخت سزا بھی بھگتنی ہوگی۔ راقم الحروف کے نزدیک وہ سزا یہ ہونی چاہیے کہ جس شوہر نے ایک مجلس میں تین طلاقیں دینے کا غیر شرعی فعل کیا ہے، اس سے جرمانے کے طور پر بھاری رقم وصول کی جائے اور یہ پوری رقم مطلقہ عورت کو دے دی جائے۔ بالفرض اگر یہ شوہر نقد رقم دینے کی پوزیشن میں نہ ہو تو اس کو طویل مدت کے لیے قید بامشقت (Imprisonment Rigorous) کی سزادی جائے۔ اس معاملے میں مانع جرم سزا (Punishment deterrent) ضروری ہے۔ اس سے کم کوئی سزا اس معاملے میں مفید نہیں ہوسکتی۔

مولانا سید سلمان الحسینی الندوی (بھارت) :۔

اجتهادی اختلافات میں معاشرتی مصالح کی رعایت : شادی، خانہ آبادی کے لیے کی جاتی ہے، خانہ خرابی یا محض عیاشی اور لذت کوشی کے لیے نہیں، اس لیے بغیر کسی وجہ شرعی کے طلاق دینا فعل حرام ہے۔ طلاق صرف اس وقت دینی چاہیے جب ساتھ رہنا دوبھر ہو جائے اور طلاق نہ دینے میں خطرات اور فتنے کا اندیشہ ہو۔ اس صورت حال کے لیے طلاق جیسی ناپسندیدہ چیز کو حلال قرار دیا گیا ہے۔ لیکن پاکی کی حالت میں صرف ایک طلاق دے دینی چاہیے اور پھر عدت گزر جانے پر دینی چاہیے۔ طلاق غصے میں، اشتعال میں اور جذبات میں نہیں دینی چاہیے، غصے پر قابو پانا چاہیے اور ہر حال میں تعلقات کو خوش گوار رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
تین طلاقیں ایک وقت میں ہرگز نہیں دینی چاہئیں۔ تین طلاقیں اگر ایک مجلس میں دے دی گئیں تو وہ ایک شمار ہوتی ہیں یا تین ہی، ایک اختلافی مسئلہ ہے۔ بعض احادیث اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلے کی روشنی میں ایک مجلس کی تین طلاقوں کو چاروں ائمہ نے تین طلاقیں ہی قرار دیا ہے جن کے بعد حق رجوع نہیں رہتا۔ لیکن اصلاً بہت سے مردوں کی طلاق ثلاثہ کے سلسلے میں غیر محتاط روش کی بنیاد پر تین طلاقوں کو نافذ کر کے ان کو سزا دینا مقصود تھا۔ اس معاشرے میں بیوہ کی شادی کوئی دشوار مسئلہ نہ تھی، نہ لڑکی والوں کو کچھ خرچ کرنا پڑتا تھا، اس لیے اس فیصلے کے نفاذ میں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بحیثیت امیر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی بحیثیت خلیفہ المسلمین فرمایا تھا، مرد کے لیے ایک طرح کی تعزیر (قانونی سزا) تھی۔ دوسری طرف آج مرد کے طلاق ثلاثہ کے گناہ کا زیادہ تر بھگتان عورت کو بھگتنا پڑتا ہے۔ عورت جہیز لاتی ہے، گھر بسانے کا ذریعہ ہے، تقریب نکاح کے موقع پر اس کے یہاں ولیمہ کی طرح دعوت ہوتی ہے، مرد سب کچھ حاصل کرتا ہے، مہر بھی معاف کرالیتا ہے، ایک ولیمے پر لذت کوشی کرتا ہے، پھر غصے اور اشتعال میں تین طلاق دے کر الگ ہو جاتا ہے، دوسری شادی رچا لیتا ہے۔ عورت بیوہ ہو جاتی ہے۔ شادی کی نہ خود ہمت کرتی ہے، نہ معاشرہ اس کی شادی کا فوری انتظام کرتا ہے اور اگر اس کے بچے ہیں تو شادی کا مسئلہ تقریبا ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس کے بچوں کا مستقبل داؤ پر لگ جاتا ہے۔ دین کے بارے میں جزوی حل پیش کرنے والے مفتی فتوی دے کر الگ ہو جاتے ہیں۔ مطلقہ عورت عمر بھر کڑھتی اور اپنے جائز تقاضوں کو دبا کر زندگی گزارتی ہے۔ دین و عفت کی مضبوط حصار ہے تو سینے میں غم اور کسک لے کر جیتی ہے ورنہ دین وعفت سے معافی مانگ لیتی ہے۔
ایسی شکل میں علماء اور اہل افتاء وقضاء کو سوچنا چاہیے کہ عرف، عموم بلوٰی، ضرورت، اضطرار، حاجت، رفع حرج، تیسیر اور رخصت کی ترازو میں تول کر اس کا مسئلہ حل کریں اور ایک نزاعی مسئلے میں جس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام رحمہم اللہ کے درمیان اور بعد کے علمائے امت کے درمیان اختلاف رہا ہے اور جو کفر و ایمان کا مسئلہ نہیں ہے۔ ایک ہی پہلو پر شدت کا مظاہرہ نہ کریں۔ دوسری طرف بعض احادیث اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین عظام رحمہم اللہ اور علمائے امت کے اقوال ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک طلاق مانتے ہیں۔ یہ بھی ایک رائے ہے۔ اہل حدیث حضرات آج اس کے پر زور نمائندے بنے ہوئے ہیں۔ اس میں حرج نہیں کہ علمی اختلاف رکھنے والے اپنے اختلاف کو علمی حدود میں علم کی میز پر بیان کریں، لیکن کسی اختلافی مسئلے کو امت میں تفریق اور گروہ بندی کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بحیثیت خلیفہ المسلمین ایک فیصلہ فرمایا تو مسلمانوں نے ان سے اتفاق کیا۔ جس کو بھی اختلاف ہوا، اس نے اپنے اختلاف کو اپنے تک محدود رکھا۔ آج ہندوستان میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کو ایک وقعت ، وقار اور اعتبار حاصل ہے۔ وہ مسلمانوں کی اجتماعیت کا ایک مظہر اور ان کی اعتباری قوت حاکمہ کا نمائندہ ہے۔ اگر ایک اختلافی مسئلے میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر، ارکان، علماء کی اکثریت کی آراء کی بنیاد پر ایک فیصلہ کرتے ہیں تو مسلمانوں کے اجتماعی نظام کی بقا اور ان کی وحدت کو قائم رکھنے کے لیے ہمیں اس رائے کا ساتھ دینا ہے۔ ہاں! انفرادی طور پر اور خاص واقعات میں ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ عوام کے لیے اور خاص طور پر عورتوں کے طبقے کے لیے شریعت کی دی ہوئی رخصتوں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے اور ایسے معاملات میں اگر کوئی مفتی خود فیصلہ نہیں کر پاتا تو اہل حدیث علماء سے رجوع کرنے کی اجازت دی جائے۔ ماہنامہ الشريعة شماره : 33 – مارچ 2005

کیا ائمہ کا اتفاق ، اجماع امت کے مترادف ہے ؟

دعویٰ : 3

مسئلہ طلاق ثلاثہ میں احناف کا مذہب ائمہ اربعہ کا مذہب ہے جو اجماع امت کے مترادف ہے۔
مسئلہ زیر بحث کی تنقیح کے بعد، اب دو دعووں کا جائزہ لینا باقی رہ گیا ہے۔ ایک یہ کہ کیا کسی مسئلے میں مذاہب اربعہ کا اتفاق اجماع امت کے مترادف ہے؟ دوسرا یہ کہ اس اجماع سے انحراف، کیا شیعوں کی پیروی ہے؟
جہاں تک پہلے دعوے کا تعلق ہے، ہمارے خیال میں یہ دعویٰ بھی بوجوہ ذیل یکسر غلط ہے۔

اولاً :

اجماع کے لیے بوقت انعقاد تمام مجتہدین وقت کا اتفاق ضروری ہے۔ اگر تنزلاً مان لیا جائے کہ تمام مجتہدین کے بجائے صرف ان چار مجتہدین کا اتفاق ہی اجماع کے لیے کافی ہے تب بھی کسی مسئلے میں ان چاروں کا بیک وقت اتفاق کیونکر ثابت کیا جاسکتا ہے؟ جبکہ ان کا زمانہ ہی ایک نہیں ہے، چنانچہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی تاریخ ولادت 80ھ، امام مالک رحمہ اللہ کی 93ھ، امام شافعی رحمہ اللہ کی 150ھ اور امام احمد رحمہ اللہ کی 164ھ ہے اور تاریخ وفات امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی 150ھ، امام مالک رحمہ اللہ کی 179ھ، امام شافعی رحمہ اللہ کی 204ھ اور امام احمد رحمہ اللہ کی 241ھ ہے۔

ثانیاً :

اگر یہ کہا جائے کہ کسی مسئلے میں ان چاروں ائمہ کی رائے کا توافق و توارد ہی کافی ہے، تب بھی بات محل نظر ہے کیونکہ ان مذاہب کی فقہی کتابیں دراصل ان کی اپنی لکھی ہوئی ہی نہیں ہیں بلکہ یہ تو بعد کے لوگوں نے کئی صدیوں بعد مرتب کی ہیں۔ کیا یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ ان کی طرف منسوب سب اقوال و آراء صحیح ہیں؟ یہ عین ممکن ہے کہ کسی قول کی نسبت ہی ان کی طرف صحیح نہ ہو، چنانچہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ اس پہلو کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
باید دانست که از تصانیف ائمہ اربعہ رحمہ اللہ در علم حدیث امروز در دست مردم غیر از موطأ موجود نیست و مسانید ائمہ دیگر کہ در عالم مشهور است خود ایشان به تصنیف آں نہ پرداخته اندر بلکه دیگران بعد از ایشان آمدہ مرویات ایشان راجمع نموده اندو مسند فلانے مسمی کرده و بر ہر عاقل پوشیده نمی ماند که مرویات مشخص از ہر رطب و یابس مجموع و مخلوط می باشد تا وقتیکہ خود آں شخص که اعتقاد بزرگی و فضیلت او داریم آں مخلوط را متمیز نہ کند و بارہا بہ نظر امعان و تعمق مطالعه نہ نماید و شاگردان خود را تعلیم نہ کند محل اعتماد چہ قسم تواند بود۔
یہ جاننا چاہیے کہ اس زمانے میں چاروں اماموں کی تصانیف میں موطأ (امام مالک رحمہ اللہ) کے سوا علم حدیث میں اور کوئی تصنیف موجود نہیں ہے اور دوسرے اماموں کی مسانید جو عالم میں مشہور ہیں، وہ امام خود ان کی تصنیف میں شامل نہیں ہوئے بلکہ دوسرے اشخاص نے جو ان کے بعد آئے ہیں، ان کی مرویات کو جمع کر کے مسند فلان نام رکھ دیا اور یہ امر ہر عقل مند پر پوشیدہ نہیں کہ کسی شخص کی مرویات اس وقت تک رطب و یابس، یعنی صحیح و ضعیف کا مجموعہ رہتی ہیں جب تک وہ شخص جس کی بزرگی و فضیلت کا ہم اعتقاد رکھتے ہیں خود اس مخلوط کو چند دفعہ گہری نظر سے مطالعہ کر کے متمیز نہ کر دے اور جب تک وہ اپنے شاگردوں کو تعلیم نہ دے، کسی قسم کا اعتماد اور بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ بستان المحد ثین، مع اُردو ترجمہ ص : 74-77 طبع کراچی
جب ان کے نام پر منسوب احادیث کے مجموعوں کا یہ حال ہے تو ان مذاہب کی مدونہ کتابیں جن میں ان کے اقوال و آراء اور ان پر تخریج در تخریج فتووں کو جمع کیا گیا ہے، کہ ان مذاہب اربعہ کے اتفاق کو اجماع امت سے تعبیر کیا جا سکے۔

ثالثاً :

یہ دعویٰ غالباً اس معہود ذہنی پر مبنی ہے کہ حق ان چار مذاہب میں منحصر ہے۔ اس سے باہر ضلالت اور گمراہی ہے جیسا کہ احناف میں سے امام طحاوی رحمہ اللہ نے یہ دعویٰ کیا ہے، حالانکہ یہ بھی غلط ہے، حق کو ان چاروں مذاہب میں منحصر کر دینا ایک طرح سے شریعت سازی ہے جو صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ یہ چاروں تقلیدی سلسلے تو ویسے بھی چوتھی صدی ہجری کے بعد قائم ہوئے ہیں جیسا کہ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ اور دیگر علماء نے صراحت کی ہے کہ اگر حق ان ہی میں منحصر سمجھا جائے تو ابتدائی چار صدیوں کے مسلمانوں کے متعلق جن میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم و تابعین و تبع تابعین و ائمہ مجتہدین رحمہ عنہم ہم سب شامل ہیں، کس نوعیت کا فیصلہ کیا جائے گا؟ اگر وہ چاروں مذاہب کے تقلیدی سلسلوں سے الگ رہنے کے باوجود صحیح مسلمان تھے تو بعد کے مسلمان کیوں اسی طرح قرآن و حدیث پر عمل کر کے اہل حق نہیں ہو سکتے؟ ان کو پھر کسی ایک تقلیدی سلسلے کا پابند کرنے کی کونسی معقول دلیل ہے؟ آخر صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین و تبع تابعین رحمہ عنہم کے بعد بھی ہر دور میں محدثین (اہل حدیث) کا ایک عظیم گروہ موجود رہا ہے جنھوں نے تقلید ائمہ سے الگ رہ کر خالص قرآن و حدیث کو اپنا طرز کردار اور شیوہ گفتار بنائے رکھا ہے، انھیں کون اہل حق سے خارج کر سکتا ہے؟ حالانکہ اگر حق کو چار مذاہب میں منحصر سمجھا جائے تو پھر نعوذ باللہ فقہائے محدثین کی جماعت اہل حق سے اپنے آپ ہی خارج ہو جاتی ہے، حالانکہ یہی تو وہ گروہ ہے جن کی بے مثال کاوشوں سے دین اصل صورت میں محفوظ ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل زندگی علمًا و عملًا ایک مرتب شکل میں سامنے آئی۔ جزاهم الله عنا وعن جميع المسلمين أحسن الجزاء
بہر حال یہ تقلیدی سلسلہ ایک امر حادث ہے جس کا وجوب تو کجا سرے سے کوئی حکم ہی شریعت اسلامیہ میں نہیں ہے، حق کو اپنے ان خود ساختہ طریقوں میں محدود کر دینا سراسر حکم اور دھاندلی ہے، چنانچہ ملا علی قاری حنفی لکھتے ہیں :
ومن المعلوم أن الله سبحانه وتعالى ما كلف أحدا أن يكون حنفيا أو مالكيا أو شافعيا أو حنبليا بل كلفهم أن يعملوا بالكتاب والسنة إن كانوا علماء، أو يقلدوا العلماء إن كانوا جهلاء
یہ یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو حنفی، مالکی، شافعی یا حنبلی بننے کی تکلیف نہیں دی بلکہ سب (مسلمانوں) کو اس بات کا مکلف بنایا ہے کہ اگر وہ طبقہ علماء سے ہوں تو (براہ راست) کتاب و سنت پر عمل کریں اور جاہل ہوں تو علماء کی تقلید کریں۔ شرح عین العلم بحواله حقيقة الفقه از مولانا محمد یوسف جے پوری رحمہ اللہ

رابعاً :

اس فلسفے کی بنیاد اگر یہ زعم ہے کہ جو ملکہ اجتہاد ائمہ اربعہ کو حاصل تھا، بعد کے ائمہ اس مقام کو نہیں پہنچ سکتے، لہذا اجتہاد بھی ان پر ختم ہو گیا اور ان کے علاوہ کسی اور کی تقلید بھی ناجائز ہے جیسا کہ بعض لوگوں نے ایسا لکھا بھی ہے تو یہ بھی غلط ہے، خود کئی حنفی علماء نے بھی اس زعم باطل کی تردید کی ہے اور اسے دیگر ائمہ مجتہدین کی بے ادبی اور اللہ تعالیٰ کی قدرت پر طعن قرار دیا ہے، چنانچہ مولانا عبد العلی حنفی (بحر العلوم) تحریر ابن الہمام کی شرح میں فرماتے ہیں :
وأما المجتهدون الذين اتبعوهم بإحسان، فكلهم سواء فى صلاح التقليد بهم، فإن وصل فتوى سفيان بن عيينة أو مالك بن دينار يجوز الأخذ به كما يجوز الأخذ بفتوى الأئمة الأربعة إلا أنه لم يبق عن الأئمة الآخرين نقل صحيح إلا أقل القليل، ولذا منع من التقليد إياهم فإن وجد نقل صحيح منهم فى مسألة فالعمل به والعمل بفتوى الأئمة الأربعة سواء
وہ مجتہدین جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اچھے پیروکار ہیں، وہ سب کے سب صلاحیت تقلید میں برابر ہیں (یعنی ائمہ اربعہ کی تخصیص نہیں) اگر سفیان بن عینیہ رحمہ اللہ یا مالک بن دینار رحمہ اللہ کا فتویٰ مل جائے تو اس پر بھی اسی طرح عمل کیا جا سکتا ہے جس طرح کہ ائمہ اربعہ کے فتوے پر عمل کرنا جائز ہے۔ اتنی بات ضرور ہے کہ ائمہ اربعہ کے علاوہ دیگر ائمہ کے اقوال نقل صحیح کے ساتھ کم تر ہی مہیا ہوتے ہیں، محض اسی وجہ سے بعض لوگوں نے ان کی تقلید سے روکا ہے، تاہم اگر کسی مسئلے میں نقل صحیح کے ساتھ ان کی رائے مل جائے تو اس پر عمل کرنا اور ائمہ اربعہ کے فتوے پر عمل کرنا دونوں برابر ہے۔ اور شرح مسلم میں بھی اسی بات کا رد کرتے ہوئے کہ ائمہ اربعہ کے علاوہ کسی اور کی تقلید جائز نہیں۔ لکھتے ہیں :
ثم فى قوله (يعني ابن الصلاح) خلل آخر إذ المجتهدون الآخرون أيضا بذلوا جهدهم مثل بذل الأئمة الأربعة، وانكار هذا مكابرة وسوء أدب، بل الحق أنه إنما منع من منع تقليد غيرهم لأنه لم يبق رواية مذهبهم محفوظة، حتى لو وجد رواية صحيحة من مجتهد آخر، يجوز العمل بها، ألا ترى؟ أن المتأخرين أفتوا بتحليف الشهود إقامة له موقع التزكية على مذهب ابن أبى ليلى، فافهم
فواتح الرحموت، ص : 63 ، طبع نول کشور :1878
اس میں انھوں نے مذکورہ خیال کو دوسرے ائمہ کی بے ادبی بتلایا ہے اور مذاہب اربعہ سے خروج کی ایک مثال دی ہے اس سے قبل ایک اور جگہ صفحہ 624 پر لکھتے ہیں :
ثم إن من الناس من حكم بوجوب الخلو من بعد العلامة النسفي، واختتم الاجتهاد به، وعنوا الاجتهاد فى المذهب، وأما الاجتهاد المطلق، فقالوا: اختتم بالأئمة الأربعة حتى أوجبوا تقليد واحد من هؤلاء على الأمة، وهذا كله هوس من هوساتهم لم يأتوا بدليل، ولا يعبأ بكلامهم، وإنما هم من الذين حكم الحديث: أنهم أفتوا بغير علم، فضلوا وأضلوا
صحيح البخاري، الاعتصام، باب مايذكر من ذم الرأي… حديث 7307، وصحيح مسلم العلم، باب رفع العلم وقبضه… حدیث : 13-2673
یعنی جن لوگوں نے یہ فیصلہ دے دیا ہے کہ علامہ نسفی رحمہ اللہ کے بعد ”اجتہاد فی المذہب“ بھی ختم ہو گیا ہے جبکہ اجتہاد مطلق تو پہلے ہی ائمہ اربعہ پر ختم ہو چکا ہے، اس لیے اب امت پر انھی ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک کی تقلید واجب ہے تو یہ ان کی خواہشات میں سے ایک خواہش ہے جس کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں۔ دراصل ان کی بات قابل اعتناء ہی نہیں، یہ اس حدیث کا مصداق ہیں : انھوں نے بغیر علم کے فتویٰ دیا سو خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔
اور مولانا نظام الدین لکھنوی رحمہ اللہ اپنی شرح مسلم میں لکھتے ہیں :
اعلم أن بعض المتعصبين قالوا: اختتم الاجتهاد المطلق على الأئمة الأربعة ولم يوجد مجتهد مطلق بعدهم، والاجتهاد فى المذهب اختتم على العلامة النسفي صاحب الكنز ولم يوجد مجتهد فى المذهب بعده، وهذا غلط ورجم بالغيب، فإن سئل من أين علمتم هذا، لا يقدرون على إيراد دليل أصلا، ثم هو إخبار بالغيب وتحكم على قدرة الله تعالى، فمن أين يحصل علم أن لا يوجد إلى يوم القيامة أحد يتفضل الله عليه بنيله مقام الاجتهاد، فاجتنب عن مثل هذه التعصبات
معلوم ہونا چاہیے کہ بعض متعصبین نے جو یہ کہا ہے کہ اجتہاد مطلق ائمہ اربعہ پر ختم ہو گیا ہے اور ان کے بعد کوئی مجتہد مطلق نہیں ہوا۔ اسی طرح اجتہاد فی المذہب علامہ نسفی رحمہ اللہ، صاحب کنز پر ختم ہو گیا اور ان کے بعد کوئی مجتہد فی المذہب نہیں ہوا۔ یہ بالکل غلط اور اٹل پچو ہے۔ اگر ان سے پوچھا جائے تمھیں اس بات کا علم کہاں سے ہوا تو یہ اس پر کوئی دلیل پیش نہیں کر سکیں گے۔ علاوہ ازیں یہ اخبار بالغیب (غیب کی پیش گوئی) اور اللہ کی قدرت پر بے دلیل حکم لگانا ہے۔ ان کو یہ علم کہاں سے حاصل ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ قیامت تک کسی کو بھی اب مقام اجتہاد سے مشرف و مفضل نہیں فرمائے گا۔ ایسے تعصب اور ہٹ دھرمی سے بچ کر رہو۔

خامساً :

وجوب تقلید ائمہ اربعہ کے جھگڑے نے امت مسلمہ میں بہت سے فتنے اور قباحتیں پیدا کی ہیں، مثلاً :
◈ دین حق کو، جو ایک تھا، چار مذہبوں میں تقسیم کر کے مسلمانوں میں فرقہ بندی اور تعصب کو فروغ دیا اور یہ تحزب و تعصب اس حد تک پہنچا دیا کہ خانہ کعبہ کے اندر بھی چار مصلے قائم کر دیے گئے تھے، وہاں ایک دوسرے کے پیچھے نمازیں پڑھنے تک کے روادار نہ تھے۔
دین حق را چہار مذهب ساختند
رخنہ در دین نبی انداختند
◈ حدیثیں گھڑنے کی جسارت کی گئی، چنانچہ ان مقلدین ائمہ اربعہ نے اپنے اپنے اماموں کی فضیلت میں اور اپنے مخالف ائمہ کی قدح میں کئی حدیثیں گھڑیں، کئی من گھڑت حدیثوں سے اپنے مسلک پر استدلال کیا، بعض احادیث میں اپنے مذہب کو صحیح ثابت کرنے کے لیے تحریف کی حتی کہ اثبات تقلید کے جوش میں ہندوستان کے ایک اونچے درجے کے مقلد عالم نے ایک آیت کا ٹکڑا بھی اپنی طرف سے لکھ ڈالا۔ ملاحظہ ہو : إيضاح الأدلة مؤلفہ مولانا محمود الحسن دیوبندی، ص 97، مطبع قاسمی دیوبند : 1330
◈ قرآن و حدیث سے بے اعتنائی اور تقلیدی و فقہی جمود کو فروغ دیا جس کا اعتراف سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ نے بھی تحریک اہل حدیث کی خدمات بیان کرتے ہوئے کیا ہے۔ ملاحظہ ہو : ”تراجم علمائے حدیث“ کا مقدمہ ، ص : 31-33
ان کے علاوہ اور بہت سی قباحتیں ہیں جو تقلید ائمہ کے وجوبی نظریے سے اور مقلدین کے فقہی جمود سے پیدا ہوئیں۔ اس لحاظ سے یہ تقلیدی سلسلہ ہی یکسر اسلام کے خلاف اور امت مسلمہ کے لیے سخت نقصان دہ ہے، چہ جائیکہ اسے تقدس و اہمیت کا یہ درجہ دے دیا جائے کہ جس مسئلے میں یہ چاروں تقلیدی مذاہب متفق ہو جائیں اسے اجماع امت کا مقام مل جائے۔ جسے ذرا بھی دین کی سمجھ ہوگی اور اسلام کی حمیت و غیرت اس کے دل میں جاگزیں ہوگی وہ کبھی اس تقلیدی نظریے کی حمایت نہیں کرے گا۔

شیعوں کے نقش قدم پر کون ہے ؟

دعوی : 4

مسئلہ طلاق ثلاثہ میں اہل حدیث اجماع امت سے ہٹ کر شیعوں کے نقش قدم پر ہیں۔
رہ گیا یہ چوتھا دعویٰ کہ اہل حدیث اجماع امت سے ہٹ کر شیعوں کے نقش قدم پر ہیں اور حضرات خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی پیروی کا جو حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو دیا تھا اس کا رشتہ ان کے ہاتھ سے چھوٹ گیا ہے۔ اختلاف امت اور صراط مستقیم : 33 ، از مولانا محمد یوسف لدھیانوی
دعوائے اجماع کی حقیقت واضح کرتے ہوئے ہم بتلا آئے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تین طلاقوں کو تین ہی شمار کرنے کا جو حکم نافذ کیا تھا، وہ ایک سیاسی اور تدبیری اقدام تھا ورنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عہد رسالت (یعنی تین طلاقوں کو ایک ہی طلاق شمار کرنے) کے قائل تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے عہد خلافت کے ابتدائی دو برسوں میں یہی تعامل رہا، پھر آخر عمر میں بھی انھوں نے اپنے اس اقدام پر اظہار ندامت کیا جو بطور تدبیر انھوں نے اختیار کیا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد میں یہی تعامل رہا اور دیگر کئی صحابہ رضی اللہ عنہم کے علاوہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی اسی کے قائل تھے۔ اب دیکھیے اس مسئلے میں بھی خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کس طرف ہیں، تین طلاقوں کو تین شمار کرنے کی طرف یا تین طلاقوں کو ایک طلاق شمار کرنے کی طرف؟ ظاہر ہے یہ تینوں خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم مذکورہ تصریحات کے مطابق ایک ہی طلاق کے قائل ہیں۔ اب ذرا سوچیے! خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کی عدم پیروی کا اصل مجرم کون ہے؟ اور یوں شیعوں کے پیروکار اہل حدیث ہوئے یا خود مقلدین؟
مزید برآں مقلدین جامدین ہی صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین رحمہ اللہ کے فہم و منہاج سے انحراف کے راستے پر گامزن ہیں۔ تقلید شخصی پر اصرار بجائے خود صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین کی روش سے انحراف ہے جس کی وجہ سے انھیں بہت سی صحیح احادیث سے بھی انکار (بصورت تاویلات رکیکہ یا بذریعہ تحریف یا خود ساختہ اصولوں کی بنیاد پر) کرنا پڑ رہا ہے۔ الحمد للہ اہل حدیث اس زیغ سے محفوظ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے منہج پر قائم ہیں۔
پھر ذرا اس پر بھی غور فرما لیا جائے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو فقیہ اور غیر فقیہ کے خانوں میں کس نے تقسیم کیا ہے۔ اور قیاس کے مقابلے میں غیر فقیہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی روایات کو کس نے ٹھکرایا ہے؟ کیا یہ سب کچھ مقلدین احناف نے نہیں کیا؟ نیز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو غیر فقیہ کہنا اور اپنے قیاس کے مقابلے میں ان کی بیان کردہ روایات حدیث کو ٹھکرا دینا، کیا یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی توہین نہیں؟ کیا یہ شیعیت کی پیروی نہیں؟ ذرا سوچیے کہ شیعوں کے نقش قدم پر کون ہے؟
اور آگے چلیے ! کیا مقلدین قرآن و حدیث کے مقابلے میں اپنے اماموں کے اقوال کو ترجیح نہیں دیتے؟ یقیناً دیتے ہیں جس کا اعتراف بڑے بڑے اکابر علماء نے کیا ہے (طوالت کا ڈر ہے ورنہ ایسے دسیوں حوالے اور واقعات پیش کیے جا سکتے ہیں) کیا اپنے اماموں کو مفترض الطاعة سمجھنا اور قرآن و حدیث کے مقابلے میں ان کے اقوال کو ترجیح دینا، وہی نظریہ امامت معصومہ نہیں جس کے شیعہ قائل ہیں؟ فرق صرف اتنا ہے کہ شیعہ زبان سے اپنے اماموں کو معصوم مانتے ہیں اور مقلدین زبان سے تو نہیں کہتے، تاہم عملاً انھوں نے اپنے اماموں کو معصوم بنا رکھا ہے کہ قرآن و حدیث کو تو چھوڑ دیا جاتا ہے لیکن قول امام چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ خود فیصلہ کر لیجیے، نہیں تو کسی تیسری عدالت سے فیصلہ کر لیجیے کہ شیعوں کے نقش قدم پر کون ہے؟
ہم الزام ان کو دیتے تھے، قصور اپنا نکل آیا
اگر ہماری بات طبع نازک پر گراں گزرے تو ہم شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ کا قول پیش کیے دیتے ہیں جس میں انھوں نے مقلدین کی بابت اسی خیال کا اظہار کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں :
وقد غلا الناس فى التقليد وتعصبوا فى التزام تقليد شخص معين، حتى منعوا الإجتهاد فى مسألة، ومنعوا تقليد غير إمامه فى بعض المسائل، وهذا هي الداء العضال التى أهلكت الشيعة، فهؤلاء أيضا أشرفوا على هلاك إلا أن الشيعة قد بلغوا أقصاها فجوزوا (رد) النصوص بقول من يزعمون تقليده وهؤلاء أخذوا فيها، وأولوا الروايات المشهورة إلى قول إمامهم، والحق تأويل قول الإمام إلى روايات إن قبل وإلا فالترك
تقلید میں لوگوں نے غلو سے کام لیا ہے اور التزام تقلید شخص معین میں بڑا تعصب برتا ہے حتی کہ کسی مسئلے میں اجتہاد تک کی بھی ممانعت کر دی ہے اور بعض مسائل میں اپنے امام کے سوا کسی اور کی تقلید کے بھی روادار نہیں۔ یہی وہ سخت بیماری ہے جس نے شیعوں کو ہلاک کیا، سو یہ (مقلدین) بھی ہلاکت کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ شیعہ ہلاکت کی انتہا کو پہنچ چکے ہیں کیونکہ انھوں نے ان لوگوں کے قول کے مقابلے میں جن کی تقلید کا وہ دم بھرتے ہیں، نصوص کے رد کر دینے کو بھی جائز سمجھا ہے اور ان (مقلدین) کا حال یہ ہے کہ یہ مشہور روایات میں بھی (دور ازکار) تاویلیں کر کے ان کو اپنے امام کی رائے کے مطابق کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ صحیح طرز عمل یہ ہے کہ قول امام کو روایات کے مطابق بنائیں اگر اسے ضرور اپنانا ہی ہے ورنہ (صحیح روایات کے مقابلے میں تو) قول امام چھوڑ ہی دینا چاہیے۔
علاوہ ازیں مسئلہ زیر بحث کے حل کے لیے حنفیہ نے بالخصوص جو حلالہ ملعونہ ایجاد کیا ہے جس کا فتویٰ حنفی فقہاء دیتے آئے ہیں اور اب بھی دیتے ہیں۔ کیا وہ شیعوں کا سا طرز عمل نہیں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تو اسے زناکاری سمجھتے رہے اور عہد صحابہ و تابعین رحمہ اللہ عنہم میں کوئی مسلمان اس ملعون کام کا ارتکاب تو کجا، اس کا تصور تک نہیں کر سکتا تھا۔ کیا ہمارے ان بھائیوں نے صحابہ و تابعین کے تعامل کو نظر انداز کر کے شیعوں کے متعہ کی طرح حلالے کی صورت میں زناکاری کا راستہ نہیں کھول رکھا؟
دوسرے، حنفیہ کے علاوہ، حلالہ مروجہ کے حرام اور لعنتی فعل ہونے پر پوری امت کا اجماع ہے، صحابہ و تابعین اس کی حرمت پر متفق تھے، تمام ائمہ مجتہدین اس پر متفق رہے، مذاہب مدونہ نے بھی اسے حرام سمجھا حتی کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے شاگرد امام محمد رحمہ اللہ و امام ابو یوسف رحمہ اللہ وغیرہ بھی علي وجه التحليل نکاح کو غلط قرار دیتے ہیں۔ پوری امت میں صرف ایک امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ ہیں جنھوں نے بشرط التحلیل کیے ہوئے نکاح کو صحیح قرار دیا اور یوں انھوں نے حلالہ ملعونہ کے جواز کا دروازہ کھولا ہے جس کی بنیاد پر ان کے پیروکار حنفی مقلدین بھی اس کے جواز کا فتویٰ دیتے ہیں۔ اب ہر شخص سوچ لے کہ ایک ایسا ملعون فعل جس کی حرمت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے ثابت ہے اور جس کے حرام ہونے پر پوری امت مسلمہ بھی متفق و مجتمع ہے، اس کا ارتکاب اور اس کے جواز کا اثبات، اجماع امت کا انکار ہے یا نہیں؟ گویا مقلدین ہی شیعوں کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اور اجماع امت کے منکر بھی وہی ہیں۔

حکومت سے گزارش !

آخر میں ہم حکومت سے بھی عرض کریں گے کہ حلالے کے سدباب کے لیے ایک قانون بنایا جائے جس میں حلالے کے مرتکب مرد و عورت کو زناکاری والی سزا دی جائے جیسا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حلالہ کرنے والے مرد و عورت دونوں کو سزائے رجم دینے کا خیال ظاہر فرمایا تھا، اسی طرح حلالے کے جواز کا فتویٰ دینے والے مفتی کے لیے بھی کوئی معقول سزا تجویز کی جائے تا کہ کسی مفتی کو یہ جرات نہ ہو کہ وہ آئندہ ایسے حلالہ مروجہ کے جواز کا فتویٰ دے جو بالکل قرآن و حدیث کے خلاف، صحابہ و تابعین کے تعامل کے برعکس اور اجماع امت کے خلاف ہے۔ فقہی تقلید کی آڑ میں کسی گروہ کو یہ حق دینا یقیناً صحیح نہیں کہ وہ اس طرح کھلم کھلا قرآن و حدیث کی تکذیب، صحابہ و تابعین کے تعامل کی مٹی پلید اور اجماع امت سے انحراف کرے۔
اسی طرح بیک وقت تین طلاقیں دینے پر بھی کوئی تعزیری سزا تجویز کی جائے، بالخصوص عرائض نویسوں اور وکلاء کو پابند کیا جائے کہ وہ صرف ایک طلاق لکھا کریں کیونکہ اس سے بھی مقصود پورا ہو جاتا ہے اگر عدت کے اندر رجوع نہ کیا جائے تو ایک مرتبہ طلاق سے بھی میاں بیوی میں جدائی ہو جاتی ہے اور دونوں آزاد ہو جاتے ہیں۔ اور جو عرضی نویس یا وکیل تین طلاقیں لکھے، اس کو تعزیری سزا دی جائے تا کہ اس غلط رجحان اور رواج کی حوصلہ شکنی ہو۔وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ

گزشتہ مباحث کا خلاصہ :۔

مذکورہ وضاحت اور تفصیل سے درج ذیل باتیں واضح ہوتی ہیں :
◈ بیک وقت دی گئیں تین طلاقوں کو ایک طلاق شمار کرنا، کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے بلکہ عہد رسالت صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے اسے ایک طلاق شمار کیا جا رہا ہے۔
◈ سب سے پہلے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے تیسرے سال میں، جب دیکھا کہ لوگ کثرت سے طلاقیں دینے لگے ہیں، تو لوگوں کو اس سے باز رکھنے کے لیے تعزیری اقدام کے طور پر ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین طلاقیں ہی شمار کرنے کا حکم دیا۔
◈ یہ کوئی شرعی حکم نہیں تھا بلکہ اجتہادی اور تادیبی (تعزیری) اقدام تھا۔
◈ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس سیاسی و تدبیری حکم کے بعد بھی متعدد صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین رحمہم اللہ نے اس سے عملاً اختلاف کیا اور زیر بحث طلاق ثلاثہ کو ایک ہی طلاق شمار کرتے رہے۔
◈ صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین رحمہم اللہ کے بعد بھی بہت سے جلیل القدر ائمہ اسی موقف کے قائل رہے ہیں۔
◈ متعدد مفسرین نے الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ کی تفسیر میں تسلیم کیا ہے کہ ان الفاظ کا تقاضا ہے کہ اکٹھی دو یا تین طلاقوں کو ایک ہی طلاق شمار کیا جائے۔
◈ آج کل کے بہت سے علمائے عرب نے بھی حالات کے پیش نظر اسی مسلک کو اختیار کرنے کی تلقین کی ہے۔
◈ پاک و ہند کے متعدد علمائے احناف نے بھی اعتراف کیا ہے کہ مسلمان عورت کی مشکلات کا حل یہی ہے کہ مسلک اہل حدیث کو اپنایا جائے یا اہل حدیث عالم سے فتوی لے کر رجوع کرنے کو صحیح قرار دیا جائے۔
◈ مروجہ حلالہ لعنتی فعل اور زناکاری ہے، اس حلالے سے مطلقہ عورت اپنے پہلے خاوند کے لیے حلال نہیں ہوگی۔
◈ زیر بحث طلاق ثلاثہ کے تین ہونے پر اجماع کا دعویٰ یکسر غلط اور بے بنیاد ہے۔
◈ اگر کوئی حنفی اہل حدیث عالم سے فتوی لے کر رجوع کر لے تو ایسا کرنا جائز ہے۔
◈ اگر کوئی شخص تاکید کے طور پر طلاق کا لفظ تین مرتبہ دہراتا ہے جبکہ اس کی نیت صرف طلاق دینے کی تھی تو اس کی نیت کا اعتبار کیا جائے گا اور اسے ایک ہی طلاق شمار کیا جائے گا۔ چاروں مذاہب کا یہ متفقہ مسلک ہے۔
◈ ضرورت شدیدہ کے وقت علمائے احناف کے نزدیک بھی کسی دوسری فقہ کے مطابق فتوی دینا اور اس پر عمل کرنا جائز ہے۔
◈ ایک طلاق رجعی کا مطلب ہے کہ خاوند عدت کے اندر رجوع اور عدت گزرنے کے بعد بغیر حلالے کے نکاح کر سکتا ہے۔
◈ عدت تین حیض یا تین مہینے ہیں۔

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے