مرد و عورت کی رزق بندی اور اولاد کا معاملہ: قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

معاشرے میں یہ بات عام سننے کو ملتی ہے کہ اولاد مرد کی قسمت میں اور رزق عورت کی قسمت میں ہوتا ہے، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب :

اللہ تبارک و تعالیٰ پوری کائنات کا خالق اور مالک و مختار ہے، اس نے جس بھی ذی روح چیز کو پیدا کیا ہے اس کے رزق کا بھی بندوبست کیا ہے، حتیٰ کہ اگر کوئی پتھر کی تہہ میں کیڑا ہے تو اس کی قسمت کا رزق بھی وہ اسے پہنچاتا ہے۔ اس نے ہر کسی کے لیے اس کی ضروریات و حاجات بنائی ہیں اور ان کے مطابق وہ عطا بھی کرتا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا ۚ كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ﴾
(ھود: 6)
”زمین میں چلنے پھرنے والے جتنے جاندار ہیں، سب کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے، وہی ان کے رہنے سہنے کی جگہ اور سونے جانے کی جگہ کو جانتا ہے۔ سب کچھ واضح کتاب میں ہے۔“
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ زمین پر چلنے پھرنے والی ہر مخلوق انسان ہو یا جن، چرند ہو یا پرندہ، بری ہو یا بحری، چھوٹی ہو یا بڑی، نر ہو یا مادہ، سیاہ ہو یا سفید، ہر ایک کو اس کی جنسی یا نوعی ضروریات کے مطابق وہ روزی عطا کرتا ہے۔
ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُم مِّنْ إِمْلَاقٍ ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ﴾
(الأنعام: 151)
”اور اپنی اولاد کو بھوک کی وجہ سے مت قتل کرو، ہم تمھیں بھی رزق دیتے ہیں اور انھیں بھی۔“
ارشاد ربانی ہے:
﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ﴾
(الإسراء: 31)
”اور اپنی اولاد کو بھوک کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم انھیں بھی رزق دیتے ہیں اور تمھیں بھی۔“
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَكَأَيِّن مِّن دَابَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾
(العنكبوت: 60)
”اور بہت سے جاندار ایسے ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے، ان سب کو اللہ تعالیٰ رزق دیتا ہے اور تمھیں بھی۔ وہی سننے والا، جاننے والا ہے۔“
الغرض، قرآن حکیم میں اس مفہوم کی بے شمار آیات ہیں، جن میں اللہ تعالیٰ نے واضح کیا ہے کہ ہر مخلوق کی روزی اور خوراک کا بندوبست اللہ تعالیٰ نے کیا ہوا ہے اور وہ ہر کسی کو اس کی قسمت کا رزق عطا کرتا ہے، بلکہ ہر انسان خواہ وہ مذکر ہو یا مونث، یعنی مرد ہو یا عورت، اس کی پیدائش کے وقت اس کی روزی لکھ دی جاتی ہے۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن أحدكم يجمع خلقه فى بطن أمه أربعين يوما ثم يكون علقة مثل ذلك ثم يكون مضغة مثل ذلك ثم يبعث الله ملكا فيؤمر بأربع كلمات ويقال له اكتب عمله ورزقه وأجله وشقي أو سعيد ثم ينفخ فيه الروح
(صحیح البخاري، كتاب بدء الخلق، باب ذكر الملائكة صلوات الله عليهم 3208، صحیح مسلم، كتاب القدر، باب كيفية خلق الآدمي في بطن أمه….. الخ 2643)
”یقیناً تمھاری پیدائش تمھاری ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفہ کی صورت میں کی جاتی ہے، اتنے ہی دنوں تک پھر ایک جمے ہوئے خون کی سی صورت رہتی ہے، پھر اتنے ہی دن گوشت کی بوٹی کی صورت میں اور پھر اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجتا ہے جسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے، اسے کہا جاتا ہے اس کا عمل، اس کا رزق، اس کی مدت زندگی اور یہ کہ بد ہے یا نیک (یہ سب کچھ) لکھ دے، پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے۔“
اس حدیث سے بھی واضح ہوا کہ انسان کی پیدائش کے وقت بھی اس کی روزی لکھ دی جاتی ہے اور ہر کسی کو اس کے مقدر کی روزی ملے گی۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ معاشرے میں جب مرد و زن کا نکاح ہوتا ہے تو بعض عورتیں ہنر مند، کفایت شعار اور سلیقہ مند ہوتی ہیں۔ گھریلو معاملات اچھے طریقے سے ڈیل کرتی ہیں، یا اپنے میکے سے بعض اموال لاتی ہیں، اس وجہ سے مذکورہ جملہ بن گیا ہے، یا اس حدیث کے پیش نظر یہ بات کہی جاتی ہے جسے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تزوجوا النساء يأتينكم بالأموال
(كشف الأستار عن زوائد البزار 149/2 حديث 1402، المستدرك للحاكم 161/2 حديث 2679)
”عورتوں سے شادی کرو، وہ تمھارے پاس اموال لاتی ہیں۔“
امام حاکم فرماتے ہیں کہ یہ حدیث بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور امام ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔
(تاریخ بغداد 147/9، مستند فردوس دیلمی 2290، تاریخ دمشق 39/5، ابن أبي شيبة 127/4، التلخيص الخبير 117/3 تحت حديث 1435)
رہا اولاد کا مسئلہ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَجَعَلَ لَكُم مِّنْ أَزْوَاجِكُم بَنِينَ وَحَفَدَةً وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ﴾
(النحل: 72)
”اور اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے تمھاری جنس سے بیویاں پیدا کیں اور تمھاری بیویوں سے تمھارے لیے تمھارے بیٹے اور پوتے پیدا کیے اور تمھیں پاکیزہ چیزوں میں سے رزق عطا کیا۔“
اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جیسے اللہ نے عورت کو مرد کے لیے بنایا ہے، اس طرح عورت سے جو اولاد عطا کرتا ہے وہ بھی مرد کے لیے ہے اور دوسری جگہ عورت کو کھیتی سے جو تشبیہ دی ہے وہ بھی اس بات کی متقاضی ہے کہ اولاد مرد کے لیے ہے، جو کھیتی میں بیج ہوتا ہے اور اس کے بیج سے پیداوار ہوتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے بیویاں مرد کی خاطر بنائی ہیں تو ان سے جو اولاد پیدا ہوتی ہے وہ بھی مرد کی خاطر ہے۔