محرم الحرام: بدعات، رسومات اور شرعی رہنمائی

تحریر : قاری اسامہ بن عبدالسلام
مضمون کے اہم نکات

محرم الحرام کی بدعات اور غیر اسلامی رسومات

محرم الحرام ایک حرمت والا مہینہ ہے، جس میں کئی عظیم اسلامی واقعات پیش آئے، خصوصاً شہادتِ امام حسین رضی الله عنه۔ لیکن افسوس کہ بہت سے لوگوں نے اس مہینے کو بدعات، غیروں کی نقالی اور غیر اسلامی رسموں کا مہینہ بنا دیا ہے۔

یہاں ہم ان بدعات اور غیروں (خصوصاً روافض/شیعہ و ہندوانہ رسوم) کی نقالیوں کا جائزہ پیش کرتے ہیں جن سے ہر اہلِ سنت و اہلِ اسلام کو مکمل اجتناب کرنا چاہیے:

محرم کی عام بدعات و نقالیاں:

عزاداری، ماتم اور سینہ کوبی

سینہ پیٹنا، ماتم کرنا، زنجیر مارنا (تعزیہ داری)

یہ رسمیں قرآن و سنت کے خلاف ہیں۔

یہ کفار اور غیرمسلموں کی سوگ منانے جیسی رسومات ہیں۔

📖 نبی ﷺ نے فرمایا:

لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الْخُدُودَ، وَشَقَّ الْجُيُوبَ، وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ

(بخاری 1297، مسلم 103)

❝وہ ہم میں سے نہیں جو رخسار پیٹے، گریبان چاک کرے، یا جاہلیت کے طریقے سے بین کرے❞

کالا لباس پہننا بطورِ سوگ

اہلِ تشیع کی علامت کے طور پر محرم میں کالا لباس پہننا بدعت ہے۔

نبی ﷺ، صحابہؓ یا اہلِ بیتؓ سے اس کا کوئی ثبوت نہیں۔

تعزیہ نکالنا / علم اٹھانا

تعزیہ (امام حسین کا قبر نما ماڈل) بنانا ہندوؤں سے ماخوذ رسم ہے۔

یہ اہل بیت کی توہین بھی ہے، کیونکہ ان کے نام پر بتوں جیسی چیزیں بنائی جاتی ہیں۔

نوحہ خوانی / بین کرنا

عورتوں یا مردوں کا اشعار پڑھ کر رونا، چیخنا، جذباتی کرنا۔

یہ نبی ﷺ کے واضح منع کرنے کے باوجود رائج ہے۔

محرم کو منحوس سمجھنا

اس مہینے میں نکاح، کاروبار یا خوشی کو برا سمجھنا خلافِ قرآن ہے۔

قرآن نے مہینوں کو "مقرر اور محترم” قرار دیا ہے (التوبة: 36)

امام حسینؓ کی شہادت کو یک طرفہ غم بنانا

صرف شہادتِ حسینؓ پر رونا اور باقی صحابہؓ و شہداء کو بھول جانا انصاف نہیں۔

بدر، احد، یمامہ میں بھی بڑے بڑے صحابہؓ شہید ہوئے، کیا ان کے لیے بھی نوحہ ہوتا ہے؟

پانی بانٹ کر ثواب سمجھنا (سبیل کو مخصوص عبادت سمجھنا)

محرم میں خاص پانی پلانا، "پانی بند تھا” کے جذبات سے، عبادت بنانا درست نہیں۔

پانی پلانا نیکی ہے، مگر صرف محرم میں رسم بنانا بدعت ہے۔

مخصوص کھانے (حلیم، شیرینی، نیاز)

امام حسینؓ کے نام کی نیاز بنا کر بانٹنا، جو نذر و نیاز کا بدعتی انداز ہے۔

نذر صرف اللہ کے لیے مخصوص ہے۔

📖 نبی ﷺ نے فرمایا:

مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللهَ فَلْيُطِعْهُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللهَ فَلَا يَعْصِه

(بخاری 6696)

❝جس نے اللہ کی اطاعت کی نذر مانی، وہ پوری کرے، اور جس نے گناہ کی نذر مانی، وہ پوری نہ کرے❞

شبیہ، جلوس اور ڈھول تاشے

ہندوانہ اثرات سے متاثرہ جلوس، لباس، اور مخصوص ساز استعمال کرنا۔

یہ شعائرِ اسلام کی توہین اور کفار کی مشابہت ہے۔

✅ اہلِ اسلام کو کیا کرنا چاہیے؟

➊ عاشوراء کا روزہ رکھنا (9 اور 10 محرم) – صحیح مسلم 1132

➋ صبر، تقویٰ، اصلاح اور قربانی کے جذبے کو اپنانا

➌ بدعات و رسومات سے مکمل اجتناب کرنا

➍ شہداء کو یاد کرنا مگر غیر شرعی غم منانے سے بچنا

➎ بچوں، نوجوانوں کو بدعتی ماحول سے دور رکھنا

➏ صحابہ و اہل بیت سب کی محبت کو یکساں رکھنا

🔒 خلاصہ:

محرم کے نام پر رائج اکثر رسمیں بدعت ہیں جو روافض، ہندو اور غیر مسلم اقوام سے لی گئی ہیں۔ ان سے بچنا فرض ہے۔

📌 قانونی اور شرعی موقف:

ہر وہ کام جو نبی ﷺ اور صحابہؓ سے ثابت نہیں، دین میں عبادت یا رسم بنا دیا جائے، وہ بدعت ہے، اور بدعت گمراہی ہے۔

كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ – مسلم 867

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے