مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا مؤذن اذان وامامت کی اجرت لے سکتا ہے؟

فونٹ سائز:
تحریر : فتاویٰ سعودی فتویٰ کمیٹی

مؤذن کا اجرت لینے کا حکم
عثمان بن ابو العاص سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ آخری عہد لیا کہ میں ایسے شخص کو مؤذن بناؤں جو اپنی اذان پر اجرت نہ لے۔“ [سنن التر مذي، رقم الحديث 209]
یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ مؤذن اذان کی اجرت نہ لے، اگر کوئی ایسا شخص نہ ملے جو رضا کارانہ طور پر اذان کہنے کے لیے تیار ہو تو اس میں کوئی رکاوٹ نہیں کہ حاکم وقت بیت المال سے اس کی روزی لگا دے۔ امام احمد سے مروی ہے کہ وہ اسے جائز سمجھتے تھے، اور امام مالک نے بھی اس کی رخصت دی ہے کیونکہ یہ ایک معلوم کام ہے اور دیگر تمام کاموں کی طرح اس سے رزق کمانا جائز ہے۔
[اللجنة الدائمة: 20388]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔