مضمون کے اہم نکات
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله وحده والصلاة والسلام على من لا نبي بعده، أما بعد:
ہمارے معاشرے میں بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو عیدین کی شب خصوصی عبادت کا اہتمام کرتے ہیں، جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ فلاں فلاں کتاب میں لکھا ہے یا فلاں فلاں عالم نے کہا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
① جس نے عیدین کی دونوں راتوں اور نصف شعبان کی رات کو زندہ کیا (یعنی بیدار ہو کر عبادت کی) تو جس دن دلوں کو موت آئے گی، اس دن اس کا دل نہیں مرے گا۔
② جس نے عید الاضحیٰ کی رات دو رکعت نماز پڑھی (اس طرح سے کہ) ہر رکعت میں پندرہ (15) بار سورۃ الفاتحہ، پندرہ (15) بار سورۃ الاخلاص، پندرہ (15) بار سورۃ الفلق اور پندرہ (15) بار سورۃ الناس پڑھے، جب سلام پھیر دے تو آیت الکرسی تین بار اور پندرہ (15) بار بخشش طلب کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت والوں میں سے کر دیتا ہے، اس کے پوشیدہ اور علانیہ گناہ کو بخش دیتا ہے، ہر آیت کے بدلے جو اس نے (نماز میں) پڑھی ہے ایک حج اور ایک عمرہ کا ثواب لکھ دیتا ہے گویا کہ اس نے اولاد اسماعیل میں سے ساٹھ (60) غلام آزاد کر دیا ہے، اگر وہ اس دن سے لے کر آنے والے جمعہ کے درمیان میں مر گیا تو وہ شہید کی موت مرے گا۔
③ جو شخص چار راتوں کو (عبادت کرتے ہوئے) بیدار رہا تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی:
● لیلۃ الترویہ (یعنی آٹھ ذی الحجہ کی رات)۔
● لیلۃ العرفہ (یعنی نو ذی الحجہ کی رات)۔
● لیلۃ النحر (یعنی دس ذی الحجہ، عید الاضحیٰ کی رات)۔
● لیلۃ الفطر (یعنی یکم شوال، عید الفطر کی رات) وغیرہ۔
راقم ایسے لوگوں کی خدمت میں باادب عرض کرتا ہے کہ آپ جن کتابوں کا حوالہ دے رہے ہیں ان میں ان احادیث پر صحت وضعف کے اعتبار سے کوئی حکم نہیں لگایا گیا ہے اور جن جن عالموں نے آپ کی ان احادیث کی طرف رہنمائی کی ہے، انہوں نے یا تو آپ سے ان احادیث کی حقیقت کو چھپایا ہے یا ان کی حقیقت سے وہ خود نا آشنا ہیں۔ والله اعلم و علمه اتم
میرے اسلامی بھائیو! اس تعلق سے جتنی روایتیں مروی ہیں وہ سب کی سب سخت ضعیف، منکر، موضوع اور من گھڑت ہیں جیسا کہ راقم نے اللہ کے فضل و کرم سے اس رسالے میں ثابت کیا ہے لہٰذا آپ حضرات سے گزارش ہے کہ ان دونوں راتوں میں خصوصی عبادت کا اہتمام نہ کریں۔
نیز آپ حضرات سے مؤدبانہ التماس کرتا ہوں کہ اس رسالے کو بغور انصاف کی نظر سے پڑھیں، ان شاء اللہ العزیز حق آپ کے سامنے واضح ہو جائے گا۔ والله ولي التوفيق
موضع ہذا میں دو باتیں اور بتا دینا مناسب سمجھتا ہوں:
(1) ہو سکتا ہے کوئی آپ سے کہے کہ فضائل اعمال کے باب میں ضعیف حدیث پر عمل کرنا جائز ہے تو آپ ان کی خدمت میں با ادب عرض کریں کہ میرے بھائی! مسئلہ ہذا سے متعلق جتنی روایتیں مروی ہیں وہ سب کی سب ضعیف نہیں بلکہ سخت ضعیف، منکر، موضوع اور من گھڑت ہیں اور فضائل کے باب میں بھی اس طرح کی احادیث پر عمل نہیں کیا جاتا ہے۔
(2) ہو سکتا ہے کوئی آپ سے کہے کہ جماعت اہل حدیث لوگوں کو اعمال سے دور کرنے کی کوشش کرتی ہے، انہیں اعمال صالحہ کو انجام دینے سے روکتی ہے تو آپ ان کی خدمت میں با ادب عرض کریں کہ میرے بھائی! جماعت اہل حدیث لوگوں کو اعمال صالحہ کرنے سے نہیں روکتی ہے بلکہ ان کو:
● ان اعمال سے روکتی ہے جن کو وہ شریعت کا حصہ سمجھ کر کرتے ہیں جبکہ وہ شریعت کا حصہ نہیں ہوتے ہیں۔
● ان کو بدعات سے روکتی ہے۔
● ان کو ان اعمال صالحہ کی طرف دعوت دیتی ہے جو احادیث صحیحہ وحسنہ سے ثابت ہوتے ہیں۔ وغیرہم
❀ سبب تالیف:
محترم قارئین! لیلۃ الفطر سے پہلے مختلف لوگوں نے راقم سے عید الفطر کی شب خصوصی عبادت سے متعلق مختلف طرح سے سوال کیا، راقم نے اللہ کے فضل و کرم سے ان سب کا جواب بھی دیا لیکن ان میں سے ایک سائل سے راقم نے کہا کہ ان شاء اللہ العزیز عید الاضحیٰ سے پہلے اس تعلق سے جتنی روایتیں مروی ہیں ان سب کی مفصل تحقیق آپ کی خدمت میں پیش کروں گا۔
اور آج اللہ کی توفیق و فضل و کرم سے میں نے ان تمام مرویات کی مفصل تحقیق کر دی ہے، اب بس اس سائل کی خدمت میں پیش کرنا باقی ہے۔
❀ ایک اہم گزارش:
محترم علماء کرام! راقم نے اپنے علم کی حد تک مسئلہ ہذا سے متعلق جتنی روایتیں تھیں، ان سب کی مفصل تحقیق اس رسالے میں پیش کر دی ہے۔ اگر کوئی روایت چھوٹ گئی ہو تو آپ سے گزارش ہے کہ برائے مہربانی مجھے باخبر کریں۔
نیز اس رسالے میں کہیں کوئی غلطی نظر آئے تو احسن طریقے سے اس ناچیز کو باخبر کریں۔ اللہ آپ کو اجر جزیل سے نوازے گا۔ والله الموفق
❀ كلمات تشكر:
سب سے پہلے راقم اللہ کا شکر گزار ہے جس کی توفیق اور فضل و کرم سے یہ رسالہ پائے تکمیل کو پہنچا۔ والحمد لله الذى بنعمته تتم الصالحات
بعدہ راقم درج ذیل علماء کرام کا بھی شکر گزار ہے جنہوں نے اس رسالے پر نظر ثانی کی اور مجھے قیمتی مشوروں سے نوازا:
◈ وکتور وصی اللہ عباس حفظہ اللہ
◈ فضیلۃ الشیخ محمد جعفر الہندی المدنی حفظہ اللہ
◈ فضیلۃ الشیخ عبد الشکور المدنی حفظہ اللہ
بارك الله فى علمهم ومالهم وكثر من أمثالهم
اور اخیر میں اسلامک انفارمیشن سینٹر مبئی، میرے والد محترم، شیخ عبد العظیم سلفی حفظہ اللہ اور دیگر معاونین کا بھی شکر گزار ہوں جن کے تعاون سے یہ رسالہ منظر عام پر آ رہا ہے۔
❀ دعائيه كلمات:
اخیر میں رب العالمین سے دعا گو ہوں کہ وہ اس رسالے کو عوام کی اصلاح و ہدایت کا ذریعہ اور خواص کے لیے مفید بنائے اور مؤلف اور اس کے والدین و اساتذہ، ناشر اور دیگر تمام معاونین کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین۔
تقبل يا رب العالمين
(حافظ اکبر علی اختر علی سلفی)
اسلامک انفارمیشن سینٹر، اندھیری ممبئی
⟐ سنہری قول:
امام محمد بن ابوبکر، المعروف بابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ (المتوفی: 751ھ) فرماتے ہیں:
ولا صح عنه فى إحياء ليلتي العيدين شيء
” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عیدین کی رات کو زندہ کرنے (یعنی ان میں جاگ کر بطور خاص عبادت کرنے) سے متعلق کوئی چیز ثابت نہیں ہے۔“ (زاد المعاد في هدي خير العباد بتحقيق شعيب وعبد القادر الأرنؤوط: 228/2)
عیدین کی شب خصوصی عبادت سے متعلق جملہ روایات کا تحقیقی جائزہ
◈مرفوع روایتیں
① سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی روایت
امام ابو القاسم علی بن الحسن، المعروف بابن عساکر رحمہ اللہ (المتوفی: 571ھ) فرماتے ہیں:
أخبرنا أبو الحسن الخشاب نا نصر بن إبراهيم بن نصر لفظا ببيت المقدس فى شهر رمضان سنة سبعين وأربعمائة ، أنا أبو جعفر محمد بن أحمد الأنماطي، أنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد المطهري، أنا أبو محمد عبد الله بن أبى يحيى الإمام، نا أبو يعقوب البحري الجرجاني، نا على بن نصير نا سويد بن سعيد، حدثني عبد الرحيم بن زيد العمي، عن أبيه ، عن وهب بن منبه ، عن معاذ بن جبل، عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: من أحيا الليالي الأربع، وجبت له الجنة : ليلة التروية وليلة عرفة وليلة النحر وليلة الفطر
[ترجمہ] سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص چار راتوں کو (عبادت کرتے ہوئے) بیدار رہا تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی:
● لیلۃ الترویہ (یعنی آٹھ ذی الحجہ کی رات)۔
● لیلۃ العرفہ (یعنی نو ذی الحجہ کی رات)۔
● لیلۃ النحر (یعنی دس ذی الحجہ عید الاضحیٰ کی رات)۔
● لیلۃ الفطر (یعنی یکم شوال عید الفطر کی رات)۔
[تخريج] تاریخ دمشق لابن عساكر بتحقيق عمرو بن غرامة العمروي: 93/43 ت: 4987 والعلل المتناهية في الأحاديث الواهية بتحقيق إرشاد الحق الأثري: 77/2 ح: 934 والترغيب والترهيب للأصبهاني بتحقيق أيمن بن صالح بن شعبان: 248/1 ح: 374 وغيرهم
[حكم الحديث] هذا حديث منكر و اسناده ضعيف جدا و منقطع یہ حدیث منکر ہے اور اس کی سند سخت ضعیف اور منقطع ہے۔
✿ امام ابو الفرج عبد الرحمن بن علی الجوزی رحمہ اللہ (المتوفی: 597ھ): هذا حديث لا يصح یہ حدیث ثابت نہیں ہے۔
[سبب] روایت ہذا میں تین علتیں ہیں:
➊ عبد الرحيم بن زيد بن الحواري العمي یہ متروک راوی ہے، اس نے اپنے والد سے منکر اور موضوع روایتیں بیان کی ہیں۔
ائمہ کرام کے اقوال پیش خدمت ہیں:
✿ امام ابو زکریا یحي بن معین رحمہ اللہ (المتوفى : 233ھ ) : ليس بشئ ( الجرح و التعديل لابن ابی حاتم بتحقيق المعلمی : 340/5 ت: 1603 واسنادہ صحیح)
✿ امام محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ (المتوفی : 256 ھ ) : ترکوه محدثین نے اسے ترک کر دیا ہے۔ (التاريخ الكبير بحواشی محمود خليل: 104/6، ت: 1844)
✿ امام ابوزرعہ الرازی رحمہ اللہ (المتوفی: 264 ھ ) : واهي ضعيف الحديث (الجرح والتعديل لا بن ابی حاتم بتحقيق المعلمي : 340/5، ت: 1603)
✿ امام ابو حاتم محمد بن ادریس الرازی رحمہ اللہ ( المتوفى : 277 ) : ترك حديثه ، كان يفسد اباه يحدث عنه بالطامات اس کی حدیث ترک کر دی گئی ہے، اس نے اپنے والد کی احادیث کو برباد کر دیا تھا، ان سے موضوع روایتیں بیان کرتا تھا۔ (الجرح والتعديل لابن ابی حاتم بتحقيق المعلمي : 340/5، ت: 1603)
✿ امام ابو عبد الرحمن احمد بن شعیب النسائی رحمہ اللہ (المتوفى : 303 ھ ) : متروك (الضعفاء والمتروكون بتحقيق محمود إبراهيم زايد ،ص: 68 ت: 368 ) ليس بثقة ، ولا يكتب حديثه وہ ثقہ نہیں ہے اور اس کی حدیث نہیں لکھی جائے گی۔ (اکمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال للمغلطائي بتحقيق عادل و اسامة : 260/8، ت: 3283 وقد نقله المؤلف من كتابه )
✿ امام ابویحیی زکریا بن یحي الساجی رحمہ اللہ ( التوفى : 307 ) : عنده مناكير اس کے پاس منکر روایتیں ہیں۔ (تهذیب التهذيب للحافظ : 306/6، ت: 602و إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال للمغلطاني بتحقيق عادل و اسامة : 260/8 ت 3283)
✿ امام ابو حاتم محمد بن حبان البستی المعروف بابن حبان رحمہ اللہ (المتوفی 354ھ) : يروي عن أبيه العجائب، لا يشك من الحديث صناعته أنها معمولة أو مقلوبة كلها يروي عن أبيه اس نے اپنے والد سے عجیب عجیب چیزیں روایت کی ہیں جن کے موضوع یا مقلوب ہونے میں ماہرین حدیث کو شک نہیں ہو سکتا ہے ، وہ سب کی سب اس نے اپنے والد سے روایت کیا ہے ۔ (المجروحين بتحقیق محمود إبراهيم: 161/2، ت: 784)
✿ امام ابونعیم احمد بن عبد الله الاصبہانی رحمہ اللہ (المتوفى : 430 ) : عن أبيه أحاديث منكرة اس نے اپنے والد سے منکر احادیث بیان کی ہیں۔ (الضعفاء بتحقيق فاروق حمادة ص: 110، ت: 144)
✿ امام ذہبی رحمہ اللہ (المتوفى: 748ھ ) : أحد المتروكين (سير أعلام النبلاء بتحقيق محمد نعیم : 358/8 ت : 102)
✿ امام حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (المتوفی : 852ھ) : متروك كذبه ابن معين متروک ہے ، امام ابن معین رحمہ اللہ نے اس کی تکذیب کی ہے۔ (تقریب التهذیب بتحقيق محمد عوامة ص: 354 ت: 4053)
تفصیل کے لئے دیکھیں : (تهذیب الکمال في أسماء الرجال للمزى بتحقيق بشار عواد 34/18 ت : 3406) وغيره
اور روایت ہذا کو اس نے اپنے والد سے ہی روایت کیا ہے۔
➋ زيد بن الحواري العقي البصريضعیف راوی ہیں۔
ائمہ کرام کے اقوال پیش خدمت ہیں:
✿ امام ابوعبد الله محمد بن سعد البغدادی رحمہ اللہ (المتوفى : 230ھ ) : وكان ضعيفا فى الحديث وہ حدیث میں ضعیف تھا ۔ (الطبقات الكبرى بتحقيق محمد عبد القادر 178/7، ت : 3170)
✿ امام ابوالحسن علی بن عبد اللہ المدینی رحمہ اللہ (المتوفى : 234ھ ): كان ضعيفا عندنا ہمارے نزدیک ضعیف تھا۔ (سؤالات محمد بن عثمان بن أبي شيبة لعلي بن المديني بتحقيق موفق عبد الله ص: 54 ت : 15)
✿ امام حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (المتوفی : 852ھ ) : ضعيف (تقريب التهذيب بتحقيق محمد عوامة، ص : 223 ت : 2131)
تفصیل کے لئے دیکھیں: (تهذيب الكمال في أسماء الرجال للمزى بتحقيق بشار عواد 56/10 ت : 2102) وغيره
➌ روایت میں وهب بن منبه رحمہ اللہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کر رہے ہیں جبکہ وہب رحمہ اللہ کی پیدائش 34ھ میں اور ابن جبل رضی اللہ عنہ کی وفات 18ھ میں ہے لہٰذا سند منقطع ہے۔
⟐ اب چند باتیں بطور تنبیہ پیش خدمت ہیں:
[تنبیہ نمبر : 1] امام ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قال يحيي : ليس بشيء وقال مرة : كذاب امام یحیی بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عبد الرحیم کچھ نہیں ہے اور ایک مرتبہ فرمایا: یہ کذاب ہے۔ (الضعفاء والمتروكون بتحقيق عبد الله القاضي : 102/2، ت: 1915)
یہی بات امام مغلطائی اور حافظ ابن حجر رحمہما اللہ نے بھی امام عقیلی رحمہ اللہ کے حوالے سے نقل کی ہے۔ دیکھیں: (إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال للمغلطائي بتحقيق عادل واسامة: 260/8 ت: 3283 وتهذيب التهذيب للحافظ : 306/6 ت : 602)
راقم با ادب عرض کرتا ہے کہ الضعفاء الکبیر للعقیلی میں عبدالرحیم کا ترجمہ موجود ہے لیکن وہاں مصنف نے اپنی سند کے ساتھ امام ابن معین رحمہ اللہ کا دو قول نقل کیا ہے:
● ليس بشيء
● تركوه
لیکن کذاب خبیث کا قول نقل نہیں کیا ہے۔ تلاش بسیار کے باوجود مجھے امام ابن معین رحمہ اللہ سے ، صحیح یا حسن سند کے ساتھ یا ان کی کسی مطبوعہ کتاب میں عبد الرحیم کی بابت کذاب خبیث کی جرح نہیں مل سکی۔ واللہ اعلم
[تنبيه نمبر : 2] زیر بحث روایت الترغیب والترہیب للاصبھانی میں اس طرح ہے:
✿ امام ابوالقاسم اسماعیل بن احمد، الملقب بقوام السنۃ رحمہ اللہ (المتوفى : 535ھ ) فرماتے ہیں:
أخبرنا أبو الفتح الصحاف، أنا أبو سعيد النقاش الحافظ، أنا أبو ذر: الحسين بن الحسن بن على الكندي بالكوفة ، ثنا الحسين بن أحمد المالكي، ثنا سويد بن سعيد ثنا عبد الرحمن بن زيد، عن أبيه، عن وهب بن منبه ، عن معاذ بن جبل – رضى الله عنه – قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أحيا الليالي الخمس وجبت له الجنة، ليلة التروية، وليلة عرفة، وليلة النحر، وليلة النصف من شعبان
اس کے متعلق چند باتیں پیش خدمت ہیں
● سند میں عبد الرحمن بن زید ہے جبکہ صحیح عبد الرحیم بن زید ابھی ہے جیسا کہ دوسری کتابوں میں ہے۔
● المكتبة الوقفیہ میں یہ کتاب پی ڈی ایف (PDF) میں موجود ہے، اس میں وہب بن منبہ لکھا ہوا ہے جو کہ صحیح نہیں ہے لیکن مکتبہ شاملہ میں وهب بن منبه لکھا ہوا ہے اور یہی صحیح ہے۔
● متن میں اجمالا پانچ راتوں کا ذکر ہے پھر تفصیلا چار راتوں کا ذکر ہے جبکہ دوسری کتابوں میں (جن کا حوالہ راقم نے تخریج میں دیا ہے ) اجمالا اور تفصیلا دونوں طرح سے چار راتوں کا ذکر ہے۔ نیز دوسری کتابوں میں نصف شعبان کی رات کا ذکر نہیں ہے بلکہ عید الفطر کی رات کا ذکر ہے۔
پھر میرے ذہن میں یہ بات آئی کہیں ایسا تو نہیں کہ ”ليلة النحر“ اور ”ليلة النصف من شعبان “ کے درمیان میں سے ”ليلة الفطر “حذف ہو گیا ہے۔
پھر میں نے الترغیب والترہیب للمنذری دیکھی جس میں انہوں نے زیر بحث روایت کو امام اصبہانی رحمہ اللہ کی کتاب سے ہی اس طرح نقل کیا ہے : وروي عن معاذ بن جبل رضى الله عنه قال : قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم – : من أحيا الليالي الخمس وجبت له الجنة : ليلة التروية، وليلة عرفة، وليلة النحر، وليلة الفطر، وليلة النصف من شعبان رواه الأصبهاني.
بتحقيق الالباني (ضعيف الترغيب ) : 334/1، ح : 667
جس سے مجھے یہ بات معلوم ہوئی کہ میرے ذہن میں جو بات آئی تھی وہ صحیح تھی۔ والحمد لله على ذلك
② سیدنا کردوس رضی اللہ عنہ کی روایت
امام ابوالفرج عبد الرحمن بن علی الجوزی رحمہ اللہ (المتوفى: 571 ھ ) فرماتے ہیں:
أنا أبو بكر محمد بن عبيد الله الزاغوني، قال : نا طراد ابن محمد، قال: أخبرنا هلال بن محمد فيما أذن لنا أن نرويه عنه أن على بن محمد المصري حدثهم قال: حدثنا يحيى بن عثمان هو ابن صالح، قال : نا يحيى بن بكر ، قال : نا المفضل بن فضالة ، عن عيسى بن إبراهيم القرشي، عن سلمة بن سليمان الجزري، عن مروان بن سالم، عن ابن كردوس، عن أبيه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أحيا ليلتي العيد وليلة النصف من شعبان ، لم يمت قلبه يوم تموت فيه القلوب
[ترجمہ] سیدنا کردوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس نے عیدین کی دونوں راتوں اور نصف شعبان کی رات کو زندہ کیا (یعنی بیدار ہو کر عبادت کی ) تو جس دن دلوں کو موت آئے گی ، اس دن اس کا دل نہیں مرے گا۔
[ تخريج ] العلل المتناهية في الأحاديث الواهية بتحقيق ارشاد الحق الاثرى: 71/2 ح:924 و معجم ابن الأعرابي بتحقيق عبد المحسن : 1047/3 ، ح : 2252 ومعرفة الصحابة لابی نعیم بتحقيق عادل بن يوسف العزازي : 2414/5، ح : 5908 وغيرهم
[حكم حديث ] هذا حديث منكر و اسناده واه بمرة ( یہ حدیث منکر ہے اور اس کی سند سخت ضعیف ہے)۔
✿ امام ابو الفرج عبد الرحمن بن علی الجوزی رحمہ اللہ (المتوفى : 597 ) : ”هذا حديث لا يصح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم “ ” یہ حدیث اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے “۔
✿ امام شمس الدین محمد بن احمد الذہبی رحمہ الله ( المتوفى : 748ھ ) : ”وهذا حديث منكر مرسل “ ” یہ حدیث منکر اور مرسل ہے“۔ (میزان الاعتدال بتحقيق البجاوي : 308/3، ت 6546)
[سبب ] روایت ہذا میں تین علتیں ہیں:
➊ عيسى بن إبراهيم القرشي الهاشمي : یہ سخت ضعیف منکر الحدیث راوی ہے۔
ائمہ کرام کے اقوال پیش خدمت ہیں:
✿ امام ابوزکریا یحیی بن معین رحمہ اللہ (المتوفى : 233 ھ ) : ”ليس بشيء “ (تاريخ ابن معين (رواية الدوري) بتحقيق احمد محمد : 161/4 ت : 3713) ”ليس حديثه بشيء “ اس کی حدیث کچھ نہیں ہے۔ (تاريخ ابن معين (رواية الدوري) بتحقيق احمد محمد : 208/4 ت: 3990)
✿ امام ابو عبد اللہ احمد بن حنبل رحمہ اللہ ( المتوفى : 241ھ ) : ”ليس بشيء “ (سؤالات المروذي: 276 و موسوعة أقوال الإمام أحمد بن حنبل : 134/3، ت: 2076)
✿ امام محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ (المتوفی : 256ھ ) : ” منكر الحديث “ ( التاريخ الكبير بحواشی محمود خليل: 407/6 ت: 2802)
✿ امام ابو حاتم محمد بن ادریس الرازی رحمہ اللہ ( المتوفى: 277 ھ ) : ” متروك الحديث “ (الجرح والتعديل لابن ابی حاتم بتحقيق المعلمى : 272/6، ت: 1505)
✿ امام ابو عبد الرحمن احمد بن شعیب النسائی رحمہ اللہ (المتوفى : 303 ھ ) : ” منكر الحديث “ ( الضعفاء والمتروكون بتحقيق محمود إبراهيم زايد، ص: 76، ت: 426)
✿ امام ابو حفص عمر بن احمد، المعروف بابن شاہین رحمہ اللہ (المتوفی : 385 ھ ) : ”ليس حديثه بشيء “ ” اس کی حدیث کچھ نہیں ہے“۔ (تاريخ أسماء الضعفاء والكذابين بتحقيق عبد الرحيم محمد أحمد القشقري ص : 145، ت: 464)
تفصیل کے لئے دیکھیں :( لسان الميزان للحافظ بتحقيق ابي غدة: 257/6، ت: 5915) وغيره
➋ مروان بن سالم الجزري : یہ متروک اور منکر الحدیث راوی ہے اور بعض ائمہ نے اسے کذاب اور وضاع کہا ہے۔
ائمہ کرام کے اقوال پیش خدمت ہیں:
✿ امام محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ (المتوفی : 256ھ ) : ” منكر الحديث “ ( التاريخ الكبير بحواشی محمود خليل: 373/7 ت: 1602)
✿ امام ابو حاتم محمد بن ادریس الرازی رحمہ اللہ (المتوفى: 277ھ ) : ” منكر الحديث جدا، ضعيف الحديث ليس له حديث قائم، قلت: يترك حديثه؟ قال: لا، بل يكتب حديثه “ ” سخت منكر الحديث ضعیف الحدیث ہے، اس کی کوئی بھی حدیث درست نہیں ہے۔ (امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :) میں نے (اپنے والد سے) کہا: اس کی حدیث ترک کر دی جائے گی ؟ انہوں نے فرمایا : نہیں بلکہ لکھی جائے گی“۔( الجرح والتعديل لابن ابی حاتم بتحقيق المعلمى : 275/8 ت : 1255)
✿ امام یعقوب بن سفیان الفسوی رحمہ اللہ ( المتوفى : 277ھ ) : ” منكر الحديث، لا يحتج بروايته ولا يكتب أهل العلم حديثه الا للمعرفة “ ” منكر الحدیث ہے، اس کی روایت سے احتجاج نہیں کیا جائے گا، اہل علم اس کی حدیث کو فقط معرفت کے لئے لکھتے ہیں“۔ (المعرفة و التاريخ بتحقيق أكرم ضياء العمري: 42/3)
✿ امام ابو عبد الرحمن احمد بن شعیب النسائی رحمہ اللہ (المتوفى : 303 ھ ) : ”متروك الحديث “ ( الضعفاء والمتروكون بتحقيق محمود إبراهيم زايد، ص: 96 ت : 558)
✿ امام ابوحي زکریا بن يحي الساجی رحمہ اللہ ( المتوفى: 307ھ ) : ”كذاب، يضع الحديث “ ” جھوٹا تھا اور حدیث گھڑتا تھا“۔ (اكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال للمغلطائي بتحقيق عادل واسامة : 133/11، ت: 4491)
✿ امام ابو حاتم محمد بن حبان البستی ، المعروف بابن حبان رحمہ اللہ (المتوفی : 354ھ ) : ”كان ممن يروي المناكير عن المشاهير ويأتي عن الثقات ما ليس من حديث الأثبات فلما كثر ذلك فى روايته بطل الاحتجاج بأخباره “ یہ مشهور رواۃ سے منکر روایتیں بیان کرتا تھا اور ثقہ رواۃ سے ایسی ایسی چیزیں روایت کرتا تھا جو ان کی احادیث میں سے نہیں ہوتی تھیں ۔ جب اس کی مرویات میں اس کی کثرت ہوگئی تو اس کی احادیث سے احتجاج کرنا باطل ہو گیا“۔ (المجروحين بتحقيق محمود إبراهيم :13/3 ت 1042)
✿ امام ابو الحسن علی بن عمر البغدادی الدار قطنی رحمہ اللہ ( المتوفى : 385 ھ ) : ”متروك الحديث“ (العلل الواردة في الأحاديث النبوية بتحقيق محفوظ الرحمن زين الله السلفي : 137/5، رقم السوال : 773)
✿ امام ابونعیم احمد بن عبد الله الاصبہانی رحمہ اللہ (المتوفى : 430 ) : ” منكر الحديث “ (الضعفاء بتحقيق فاروق حمادة ص: 146، ت: 238)
✿ امام شمس الدین محمد بن احمد الذہبی رحمہ اللہ (المتوفى: 748ھ ) : ”أجمعوا على ضعفه “ ” محدثین نے اس کے ضعف پر اجماع کیا ہے“۔ (سیر أعلام النبلاء بتحقیق مجموعة من المحققين : 35/9 ، ت: 8)
✿ امام حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (المتوفى : 852ھ ) : ”متروك ورماه الساجي وغيره بالوضع “ ” متروک ہے اور امام ساجی وغیرہ نے اسے متہم بالوضع قرار دیا ہے“۔ (تقريب التهذيب بتحقيق محمد عوامة ص: 526 ت: 6570)
تفصیل کے لئے دیکھیں : (تهذيب الكمال في أسماء الرجال للمزى بتحقيق بشار عواد :392/27 ت: 5873) و غیره
➌ ابن كردوس : یہ غیر معروف راوی ہے۔
✿ امام حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (المتوفى :852ھ ) : ”لا يعرف اسمه ولاله “ ” اس کا نام اور یہ دونوں نہیں جانا جاتا ہے“۔ (الفتوحات الربانية بتحقيق عبد المنعم خليل: 164/4)
[فائدہ نمبر: 1] زیر بحث سند میں اور بھی علتیں ہیں لیکن انہیں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
[فائده نمبر : 2] امام ذہبی رحمہ اللہ نے روایت ہذا کو مرسل کیوں کہا؟ اس کی وجہ میں نہیں جان سکا ۔ واللہ اعلم
③ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی روایت
✿ امام ابو شجاع شیرویہ بن شہر دار بن شیر و یہ الدیلمی رحمہ اللہ (المتوفی: 509 ) فرماتے ہیں:
”أخبرنا أبي، أخبرنا الميداني، أخبرنا أبو إسحاق [إبراهيم بن ] محمد بن جعدويه المعبر ،بقزوين، أخبرنا أبو على الحسن بن محمد النجار أخبرنا محمد بن الحسين المذكر ، حدثنا أحمد بن محمد بن جعفر الهمداني، حدثنا إسماعيل بن الفضل، حدثنا سختويه بن شبيب الباهلي ، حدثنا عاصم عن إسماعيل بن أبى زياد عن سليمان التيمي، عن أبى عثمان النهدي، عن سلمان رفعه: ( ما من عبد يصلي ليلة العيد ست ركعات إلا شفع فى أهل بيته كلهم قد وجب لهم النار“.
(قال الامام السيوطي رحمه الله:)”إسماعيل كذاب“
[ترجمه ] سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی بندہ عید کی رات چھ رکعات پڑھے گا تو اس کی سفارش قبول کی جائے گی ، اس کے ایسے گھر والوں کے حق میں جن پر جہنم واجب ہو گئی تھی۔
امام سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسماعیل کذاب ہے۔
[حواله ] (الزيادات على الموضوعات للسيوطى بتحقیق رامز خالد: 473/1، ح : 519 والفردوس بمأثور الخطاب بتحقيق السعيد بن بسيوني : 10/4 ، ح : 6027) وغيرهم
[حكم حديث ] هذا حديث موضوع بلا ريب ( یہ حدیث بلا شبہ موضوع ہے)۔
[موضوع ہونے کی وجہ ] روایت ہذا کی سند میں ”إسماعيل بن أبي زياد الشامي “ ہے جو کہ متروک ، کذاب اور وضاع راوی ہے۔
ائمہ کرام کے اقوال پیش خدمت ہیں:
✿ امام ابو الحسن علی بن عمر البغدادی الدار قطنی رحمہ اللہ (المتوفى : 385ھ ) : ”متروك يضع الحديث “ ” متروک ہے اور حدیث گھڑتا تھا“۔ (سؤالات البرقائي للدارقطني بتحقيق عبد الرحيم القشقري ص : 13، ت: 4) ” يضع ، كذاب، متروك“ (الضعفاء و المتروكون بتحقيق عبدالرحيم محمد القشقري : 256/1 ت: 83)
✿ امام شمس الدین محمد بن احمد الذہبی رحمہ اللہ ( المتوفى: 748ھ ) : ”كذاب“ (دیوان الضعفاء بتحقيق حماد الأنصاري ص : 33، ت: 404)
✿ امام حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (المتوفی : 852 ) : متروك كذبوه متروک ہے، محدثین نے اسے کذاب قرار دیا ہے۔ (تقريب التهذيب بتحقيق محمد عوامة، ص : 107، ت:446)
نیز دیکھیں: (المتفق والمفترق للخطيب البغدادي بتحقيق الدكتور محمد صادق : 362/1 ت: 149-375/1، ت: 158 و 1727/3، ت: 1104 و تهذيب التهذيب لابن حجر: 298/1 ت: 552- الناشر: مطبعة دائرة المعارف النظامية الهند وتهذيب الكمال للمزى بتحقيق الدكتور بشار عواد : 96/3 ت : 446) و غيرهم
④ سیدنا ابوامامہ الباہلی رضی اللہ عنہ کی روایتیں (پہلی روایت)
✿ امام ابو القاسم علی بن الحسن المعروف بابن عساکر رحمہ اللہ (المتوفى : 571 ) فرماتے ہیں:
”أخبرنا أبو الفتح نصر الله بن محمد، حدثنا نصر بن إبراهيم ، أنبأنا أبو سعيد بندار بن عمر الروياني، أنبأنا أبو محمد عبد الله بن جعفر الخبازي، أنبأ أبو على الحسن بن على بن محمد بن بشار الزاهد بهمذان قراءة عليه من أصل سماعه، أنبأنا على بن محمد القزويني، حدثنا إبراهيم بن محمد بن برة ،الصنعاني ، حدثنا عبد القدوس، حدثنا إبراهيم بن أبى يحيى، عن أبى قعنب، عن أبى أمامة الباهلي، قال: قال رسول الله (صلى الله عليه وسلم) : خمس ليال لا ترد فيهن الدعوة: أول ليلة من رجب وليلة النصف من شعبان، وليلة الجمعة ، وليلة الفطر وليلة النحر “
[ترجمه ] سیدنا ابوامامہ الباہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں دعا رد نہیں ہوتی:
● رجب کی پہلی رات۔
● نصف شعبان کی رات۔
● جمعہ کی رات ۔
● عید الفطر کی رات۔
● عید الاضحی کی رات۔
[تخريج] (تاریخ دمشق لابن عساکر بتحقيق عمرو بن غرامة العمروي : 408/10 ت: 968 و أحاديث أبي عمران موسى بن هارون البزاز – مخطوط ص: 108، ح : 111)
[حكم حديث ] هذا حديث موضوع بلا شك (یہ حدیث بلا شبہ موضوع ہے)۔
✿ علامہ البانی رحمہ الله : ”موضوع“ (الضعيفة: 649/3، ح :1452)
[موضوع ہونے کی وجہ ] روایت ہذا کی سند میں دو علتیں ہیں:
➊ إبراهيم بن محمد بن أبى يحيى – واسمه سمعان – الأسلمي: یہ متروك الحدیث اور کذاب راوی ہے۔
ائمہ کرام کے اقوال پیش خدمت ہیں:
✿ امام محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ (المتوفی: 256 ھ ) : ” تركه ابن المبارك، و الناس “ ” امام ابن المبارک رحمہ اللہ اور دوسرے لوگوں نے اسے ترک کر دیا ہے“۔ (التاريخ الكبير بحواشی محمود خليل: 323/1، ت: 1013)
✿ امام ابو الحسن علی بن عمر البغدادی الدار قطنی رحمہ اللہ (المتوفی : 385 ھ ) : ”ضعيف الحديث ضعيف الدين، رافضي، قدري “ ” یہ ضعیف الحديث ، ضعیف الدین، رافضی اور قدری ہے“۔ (سؤالات السلمي للدار قطني بتحقيق فريق من الباحثين، ص: 90 ت :11) ”متروك الحديث “ (سنن الدار قطني بتحقيق الأرنووط ور فقاله: 156/4 ح 3259)
✿ امام ابو عبد الرحمن احمد بن شعیب النسائی رحمہ اللہ ( المتوفى : 303ھ ) : ” متروك الحديث مدني “ ( الضعفاء والمتروكون بتحقيق محمود إبراهيم زايد، ص: 11، ت:5)
✿ امام ابونعیم احمد بن عبد الله الاصبہانی رحمہ اللہ (المتوفى : 430ھ ) :كان يرى القدر ترك حديثه لكذبه ووهائه لا لفساد مذهبه یہ قدری تھا، اس کی حدیث اس کے جھوٹ اور ضعف کی وجہ سے ترک کر دی گئی تھی نہ کہ اس کے مذہب کے فساد کی وجہ سے ۔ (الضعفاء بتحقيق فاروق حمادة ص: 56 ، ت: 1)
✿ امام ابو عبد الله محمد بن سعد البغدادی المعروف بابن سعد رحمہ اللہ (المتوفی : 230 ھ ) : وكان كثير الحديث. ترك حديثه ليس يكتب یہ کثیر الحدیث تھا، اس کی حدیث ترک کر دی گئی تھی لکھی نہیں جائے گی۔ (الطبقات الكبرى بتحقيق محمد عبد القادر : 493/5، ت : 1446)
✿ امام ابو زکریا یحیی بن معین رحمہ اللہ (المتوفى : 233ھ ) : ” كان كذابا وكان رافضيا “ یہ رافضی اور کذاب تھا ۔ (تاریخ ابن معين (رواية الدوري) بتحقيق احمد محمد:165/3، ت: 721)
✿ امام ابو حاتم محمد بن ادریس الرازی رحمہ اللہ (المتوفى: 277ھ ) : ”كذاب متروك ،الحديث، ترك ابن المبارك حديثه “ ” یہ کذاب متروک الحدیث ہے، اس کی حدیث کو امام ابن المبارک رحمہ اللہ نے ترک کر دیا ہے“۔ (الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم بتحقيق المعلمي : 126/2، ت: 390)
✿ امام ابوالحسن علی بن عبداللہ المدینی البصری رحمہ اللہ ( المتوفى : 234ھ ) : ” كذاب“ (سؤالات محمد بن عثمان بن أبي شيبة لعلي بن المديني ص: 124، ت: 153)
مزید اقوال کے لئے دیکھیں:( تهذيب الکمال في أسماء الرجال للمزى بتحقيق بشار عواد : 189،57/1) و غيره
➋ أبو قعنب: اس کا ترجمہ مجھے نہیں مل سکا۔
علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” لم اعرفه “ ” میں اس کو جرح و تعدیل کے اعتبار سے نہیں جانتا ہوں“۔ (الضعيفة: 649/3)
◈ اب چند باتیں بطور فائدہ پیش خدمت ہیں:
[فائده نمبر: 1] زیر بحث روایت کی سند میں اور بھی علتیں ہیں لیکن انہیں نظر انداز کیا جارہا ہے۔
[فائدہ نمبر:2] حافظ ابن حجر رحمہ اللہ التلخیص الحبیر میں رقم طراز ہیں :
وفيه حديث ذكره صاحب ” مسند الفردوس “ من طريق إبراهيم بن أبى يحيى، عن أبى معشر عن أبى أمامة هو ابن سهل مرفوعا نحوه
اس سلسلے میں (یعنی پانچ راتوں میں دعاء مانگنا مستحب ہے ) ایک حدیث ہے جس کو صاحب مسند الفردوس نے ابراہیم بن ابی یحیی عن ابی معشر عن ابی امامہ بن سہل کے طریق سے مرفوعا نقل کیا ہے۔ (التلخيص الحبير بتحقيق الدكتور محمد الثاني: 1073/3)
راقم با ادب عرض کرتا ہے کہ اس سند میں بھی ابراہیم الاسم الکذاب موجود ہے، نیز نحبیح ابو معشر المدنی بھی موجود ہیں جو کہ ضعیف راوی ہیں ۔ دیکھیں : (تهذيب الكمال للمزى بتحقيق الدكتور بشار عواد : 322/29 ت : 6386) و غیره
④ سیدنا ابوامامہ الباہلی رضی اللہ عنہ کی روایتیں (دوسری روایت)
✿ امام ابوالفرج عبد الرحمن بن علی الجوزی رحمہ اللہ (المتوفی: 597ھ ) فرماتے ہیں:
أنبأنا محمد بن ناصر، أنبأنا محمد بن على بن ميمون، أنبأنا أبو عبد الله محمد بن على بن عبد الرحمن، أنبأنا محمد بن على بن الحسين بن أبى الجراح القطواني، أنبأنا أبي، حدثنا إسحاق بن أحمد بن عبد الله، حدثنا أحمد بن محمد بن غالب حدثنا الوليد بن مسلم، عن عبد الرحمن بن يزيد عن القاسم بن عبد الرحمن، عن أبى أمامة الباهلي قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ” من صلى ليلة النحر ركعتين يقرأ فى كل ركعة بفاتحة الكتاب خمس عشرة مرة وقل هو الله أحد خمس عشرة مرة وقل أعوذ برب الفلق خمس عشرة مرة وقل أعوذ برب الناس خمس عشرة مرة ، فإذا سلم قرأ آية الكرسي ثلاث مرات ويستغفر الله خمس عشرة مرة جعل الله اسمه فى أصحاب الجنة وغفر له ذنوب السر وذنوب العلانية وكتب له بكل آية قرأها حجة وعمرة وكأنما أعتق ستين رقبة من ولد إسماعيل فإن مات فيما بينه وبين الجمعة الأخرى مات شهيدا“.
[ترجمہ] سیدنا ابوامامہ الباہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے عید الاضحی کی رات دو رکعت نماز پڑھی (اس طرح سے کہ ) ہر رکعت میں پندرہ (15) بار سورۃ الفاتحہ، پندرہ (15) بار سورۃ الاخلاص ، پندرہ (15) بار سورۃ الفلق اور پندرہ (15) بار سورۃ الناس پڑھے، جب سلام پھیر دے تو آیت الکرسی تین بار اور پندرہ (15) بار بخشش طلب کرے تو اللہ تعالی اس کو جنت والوں میں سے کر دیتا ہے، اس کے پوشیدہ اور علانیہ گناہ کو بخش دیتا ہے، ہر آیت کے بدلے جو اس نے (نماز میں ) پڑھی ہے ایک حج اور ایک عمرہ کا ثواب لکھ دیتا ہے، گویا کہ اس نے اولاد اسماعیل میں سے ساٹھ (60) غلام آزاد کر دیا ہے ، اگر وہ اس دن سے لیکر آنے والے جمعہ کے درمیان میں مر گیا تو وہ شہید کی موت مرے گا۔
[ تخريج ] (الموضوعات بتحقيق عبد الرحمن محمد عثمان: 134/2)
[حكم حديث ] هذا حديث موضوع من غير شك ولا ريبة (یہ بلاشبہ موضوع ہے)۔
✿ امام ابو الفرج عبدالرحمن بن علی الجوزی رحمہ اللہ (المتوفى: 597 ه ) : ” هذا حديث لا يصح “ یہ حدیث ثابت نہیں ہے ۔
[موضوع ہونے کی وجہ ] روایت ہذا کی سند میں ”أحمد بن محمد بن غالب، غلام الخليل “ ہے جو کہ کذاب و وضاع ہے۔
ائمہ کرام کے اقوال پیش خدمت ہیں:
✿ امام ابو احمد بن عدي الجرجانی رحمہ اللہ (المتوفى : 365ھ ) : ” سمعت أبا عبد الله النهاوندي بحران فى مجلس أبى عروبة يقول : قلت لغلام الخليل: هذه الأحاديث الرقائق التى تحدث بها؟ قال: وضعناها لنرقق بها قلوب العامة “ ” میں نے مقام حران میں ، امام ابو عروبہ رحمہ اللہ کی مجلس میں ابو عبد اللہ النہاوندی رحمہ اللہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے خلیل کے غلام سے کہا: یہ رقائق کی جو احادیث ہیں ، اس کو آپ بیان کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ان تمام احادیث کو ہم عوام کے دلوں کو نرم کرنے کے لئے گھڑا ہے“۔ (الكامل فی ضعفاء الرجال بتحقیق عادل أحمد ورفقاءه: 322/1 ت: 38)
امام ابو الحسن علی بن عمر البغدادی الدار قطنی رحمہ اللہ (المتوفى : 385ھ ) : ” يضع الحديث، متروك “ متروک الحدیث ہے اور حدیث گھڑتا تھا۔ (سؤالات الحاکم النيسابوري للدار قطني بتحقيق الدكتور موفق بن عبد الله ، ص : 89، ت: 15) ”كذاب متروك “ ” کذاب اور متروک ہے “۔ (سؤالات السلمي للدارقطني بتحقيق فريق من الباحثين ، ص: 127، ت:64)
✿ امام شمس الدین محمد بن احمد الذہبی رحمہ اللہ ( المتوفى : 748ھ ) : ” كذاب“ (تلخیص كتاب الموضوعات للذهبي بتحقيق أبو تميم ياس ص: 187 ، ح: 442 وسير أعلام النبلاء بتحقيق مجموعة من المحققين : 282/13 ت : 136)
مزید اقوال کے لئے دیکھیں: (تاریخ بغداد للبغدادي بتحقيق الدكتور بشار عواد : 245/6 ت : 2735 ولسان الميزان للحافظ بتحقيق ابي غدة : 617/1 ،ت: 767) و غیره
④ سیدنا ابوامامہ الباہلی رضی اللہ عنہ کی روایتیں (تیسری روایت)
✿ امام ابو عبد الله محمد بن یزید القزوینی، المعروف بابن ماجہ رحمہ اللہ (المتوفی : 273 ) فرماتے ہیں:
حدثنا أبو أحمد المرار بن حموية قال: حدثنا محمد بن المصفى قال: حدثنا بقية بن الوليد، عن ثور بن يزيد ، عن خالد بن معدان، عن أبى أمامة ، عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: من قام ليلتي العيدين محتسبا لله ، لم يمت قلبه يوم تموت القلوب
[ترجمه ] سیدنا ابوامامہ الباہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے عیدین کی رات اجر و ثواب کی نیت کرتے ہوئے قیام کیا تو اس دن اس کا دل نہیں مرے گا جس دن دلوں کی وفات ہو جائے گی۔
[ تخريج ] (سنن ابن ماجه بتحقيق شعيب و رفقائه: 658/2، ح : 1782)
[حكم حديث ] هذا حديث موضوع و اسناده ضعيف مضطرب (یہ حدیث موضوع ہے اور اس کی سند ضعیف اور مضطرب ہے )۔
✿ علامہ البانی رحمہ الله :”موضوع“ (في تحقيق ابن ماجة، ح : 1782)
[سبب ] روایت ہذا کی سند میں ” بقية بن الوليد بن صائد الحميري “ ہیں جو کہ ثقہ صدوق راوی تو ہیں لیکن مجہول ، ضعیف ، متروک اور کذاب راویوں سے کثرت سے تدلیس کرتے تھے۔
ائمہ کرام کے اقوال پیش خدمت ہیں:
✿ امام شمس الدین محمد بن احمد الذہبی رحمہ اللہ (المتوفى: 748ھ ) : ”ثقة فى نفسه، لكنه يدلس عن الكذابين “ فی نفسہ ثقہ ہیں لیکن کذاب راویوں سے تدلیس کرتے تھے ۔ (ديوان الضعفاء بتحقيق حماد الأنصاري، ص: 50 ت : 619) ثقة فى نفسه ، يأتى بالعجائب عن المتروكين والمجهولين ويدلس الأسماء ويغرب كثيرا عن الثقات فی نفسہ ثقہ ہیں، متروکین اور مجہولین سے عجیب عجیب روایتیں بیان کی ہیں ، ناموں میں تدلیس کرتے تھے اور ثقات سے بکثرت غریب روایتیں بیان کی ہیں ۔( ذیل دیوان الضعفاء والمتروكين بتحقيق حماد بن محمد الأنصاري، ص: 25 ت :81) وثقه الجمهور فيما سمعه من الثقات جمہور ائمہ نے ان کی توثیق کی ہے ان حدیثوں میں جو انہوں نے ثقات سے براہ راست سنی ہیں۔ (الكاشف بتحقیق محمد عوامة وغيره: 273/1، ت: 619)
✿ امام ابوسعید صلاح الدین خلیل بن کیکلدی العلائی رحمہ اللہ ( المتوفى: 761ھ ) : مشهور به (اى بالتدليس) مكثر له عن الضعفاء يعاني التسوية آپ تدلیس میں مشہور تھے، ضعیف راویوں سے زیادہ تدلیس کرتے تھے، نیز تدلیس تسویہ کے بھی مرتکب تھے ۔ (جامع التحصيل في أحكام المراسيل بتحقيق حمدى السلفي: 105)
✿ امام حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (المتوفی : 852ھ ) : ” صدوق كثير التدليس عن الضعفاء“ ”صدوق ہیں، ضعیف راویوں سے کثرت سے تدلیس کرتے تھے “۔ (تقريب التهذيب بتحقيق محمد عوامة ص: 126، ت: 734) وكان كثير التدليس عن الضعفاء والمجهولين ” آپ ضعفاء اور مجہولین سے کثرت سے تدلیس کرتے تھے“۔ (تعريف اهل التقديس بمراتب الموصوفين بالتدليس بتحقيق الدكتور عاصم، ص :49، ت: 117)
مزید اقوال کے لئے دیکھیں : (تهذيب الكمال في أسماء الرجال للمزى بتحقيق بشار عواد : 192/4، ت: 738) و غيره
روایت ہذا میں بقیہ نے سماع کی صراحت نہیں کی ہے لہذا یہ سند ضعیف ہے۔
[فائدہ] زیر بحث سند میں ایک اور علت بیان کی جاتی ہے لیکن اس کے متعلق راقم کی تحقیق جاری ہے۔
رہا مسئلہ سند میں اضطراب کا تو وہ اس طرح ہے :
روایت ہذا کو ثور بن یزید رحمہ اللہ سے (4) چار لوگوں نے روایت کیا ہے:
➊ عمر بن ہارون البلخی
یہ متروک الحدیث اور کذاب راوی ہے۔ اس نے روایت کو تین طرح سے روایت کیا ہے:
✿ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مرفوعا۔ دیکھیں: (المعجم الأوسط بتحقیق طارق وعبد المحسن : 57/1، ح : 159)
✿ سیدنا ابو امامہ الباہلی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا۔ دیکھیں: (الترغيب والترهيب للاصبهانی بتحقيق أيمن بن صالح بن شعبان: 248/1، ح : 373)
✿ تیسری صورت آگے آرہی ہے۔
➋ ابراہیم بن محمد الاسلمی
یہ بھی متروک اور کذاب راوی ہے۔
اس نے روایت ہذا کو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے موقوفا روایت کیا ہے۔ دیکھیں: (الأم 264/1 الناشر: دار المعرفة – بيروت)
➌ جریر بن عبد الحمید الضبی
یہ ثقہ راوی ہیں۔ انہوں نے روایت ہذا کو ابو امامہ الباہلی رضی اللہ عنہ سے موقوفا روایت کیا ہے۔
پھر جریر الضبی سے کئی لوگوں نے اسے موقوفا ہی بیان کیا ہے لیکن عمر بن ہارون نے اسے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مرفوعا بیان کر دیا ہے جسے امام دار قطنی رحمہ اللہ نے غیر درست قرار دیا ہے۔ دیکھیں: (العلل الواردة في الأحاديث النبوية بتحقيق محمد بن صالح :269/12، رقم السؤال : 2703)
➍ بشر بن رافع الحارثی
یہ ضعیف منکر الحدیث راوی ہے۔ دیکھیں: (تهذيب الكمال في أسماء الرجال للمزى بتحقيق بشار عواد: 118/4، ت: 687)
اس نے روایت ہذا کو عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے موقوفا بیان کیا ہے۔ دیکھیں: (التلخيص الحبير بتحقيق الدكتور محمد الثاني : 1072/3 ، ح : 2121)
رہا مسئلہ حدیث کے موضوع ہونے کا تو :
اس کی وجہ یہ ہے کہ زیر بحث روایت کو عمر بن ہارون البلخی اور بقیہ بن ولید دونوں نے ثور سے روایت کیا ہے لیکن بقیہ نے نور سے روایت کرتے ہوئے سماع کی صراحت نہیں کی ہے اور بقیہ متروک اور کذاب راویوں سے تدلیس کرتے تھے جیسا کہ ائمہ کرام نے بیان کیا ہے۔ اس وجہ سے موضع ہذا میں اس بات کی قوی امید ہے کہ بقیہ نے زیر بحث روایت عمر بن ہارون سے ہی سنی ہو پھر ابن ہارون کو ساقط کر کے ڈائریکٹ ثور بن یزید رحمہ اللہ سے روایت کر دیا ہو۔
اور اسی طرح کی بات علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی کہی ہے ۔ دیکھیں: (الضعيفة :11/2، ح : 521)
اب عمر بن ہارون البلخی کی روایت پر تفصیلی بحث پیش خدمت ہے:
✿ امام ابوالقاسم اسماعیل بن احمد ، الملقب بقوام السنۃ رحمہ اللہ (المتوفى :535ھ ) فرماتے ہیں:
”أخبرنا محمد بن أحمد بن هارون، أنا أبو بكر بن مردويه ، ثنا أحمد بن محمد عثمان الصيدلاني الكوفي، ثنا المنذر بن محمد بن المنذر ، ثنا أحمد بن موسى الأسدي، ثنا عمر بن هارون البلخي، عن ثور بن يزيد عن خالد بن معدان عن أبى أمامة الباهلي – رضى الله عنه – قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ((من أحيا ليلتي العيد إيمانا واحتسابا، لم يمت قلبه حين تموت القلوب “
[ترجمه ] سیدنا ابوامامہ الباہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ایمان کی حالت میں اور اجر و ثواب کی نیت کرتے ہوئے عیدین کی رات ( عبادت کرتے ہوئے ) بیدار رہتا ہے تو اس کا دل نہیں مرے گا جب دل مرجائیں گے۔
[تخريج] (الترغيب والترهيب للاصبهاني بتحقيق أيمن بن صالح : 248/1، ح : 373 و ترتيب الأمالي الخميسية للشجري بتحقيق محمد حسن محمد : 69/2، ح :1617)
[حكم حديث] هذا حديث موضوع ( یہ حدیث موضوع ہے)۔
✿ علامہ البانی رحمہ الله : ”موضوع “ (الضعيفة: 268/11، ح 5163)
[موضوع ہونے کی وجہ ] روایت ہذا میں ”عمر بن هارون بن يزيد بن جابر بن سلمة الثقفي “ ہے جو کہ متروک اور کذاب راوی ہے۔
ائمہ کرام کے اقوال پیش خدمت ہیں:
✿ امام ابراہیم بن موسی بن یزید ابو اسحاق الرازی رحمہ اللہ (المتوفى : 220 ھ ) : ” الناس تركوا حديث “ ” لوگوں نے اس کی حدیث کو ترک کر دیا ہے“۔ (الجرح والتعديل لابن أبي حاتم بتحقيق المعلمى : 141/6، ت: 765 و اسناده صحيح)
✿ امام ابو عبد الله محمد بن سعد البغدادی المعروف بابن سعد رحمہ اللہ (المتوفى: 230 ھ ) : ” وقد كتب الناس عنه كتابا كبيرا وتركوا حديثه “ ” لوگوں نے اس سے بڑی کتاب لکھی ہے اور اس کی حدیث کو ترک کر دیا ہے“۔ (الطبقات الكبرى بتحقيق محمد عبد القادر: 264/7، ت: 3649)
✿ امام ابوزکریا یحیی بن معین رحمہ اللہ (المتوفی: 233 ھ ) : كذاب یہ کذاب ہے “۔ (الجرح والتعديل لابن أبي حاتم بتحقيق المعلمي : 141/6، ت: 765 و اسناده صحيح) ”ليس بشئ “ ( المصدر السابق، واسناده صحيح ايضا)
✿ امام ابو عبد الرحمن احمد بن شعیب النسائی رحمہ اللہ ( المتوفى : 303ھ ) : ”متروك الحديث بصري “ ( الضعفاء والمتروكون بتحقيق محمود إبراهيم زايد، ص: 84، ت :475)
✿ امام ابو حاتم محمد بن حبان البستی ، المعروف بابن حبان رحمہ اللہ (المتوفی: 354ھ ) : وكان ممن يروي عن الثقات المعضلات ويدعى شيو خالم يرهم ” یر ثقات سے معضل روایتیں بیان کرتا تھا اور ایسے لوگوں کو اپنا شیخ کہتا تھا جن کو اس نے دیکھا بھی نہیں ہے“۔ (المجروحين بتحقیق محمود إبراهيم: 902/2،ت: 655)
✿ امام ابونعیم احمد بن عبد اللہ الاصبہانی رحمہ اللہ (المتوفى: 430ھ ) : ” عن ابن جريج والأوزاعي وشعبة المناكير، لا شي “ اس نے امام ابن جریج ، امام اوزاعی اور امام شعبہ رحمہم اللہ سے منکر روایتیں بیان کی ہیں ۔ یہ کچھ نہیں ہے۔ (الضعفاء بتحقیق فاروق حمادة ، ص : 113، ت: 152)
✿ امام شمس الدین محمد بن احمد الذہبی رحمہ اللہ (المتوفى : 748ھ ) : ”تركوه“ محدثین نے اسے ترک کر دیا ہے۔ (العبر في خبر من غبر بتحقيق محمد السعيد بن بسيوني زغلول: 246/1) ” واه، اتهمه بعضهم “ ” سخت ضعیف ہے، بعض محدثین نے اسے متہم قرار دیا ہے“۔ (الكاشف بتحقيق محمد عوامة وغيره: 70/2، ت: 4118) تركوه، وكذبه بعضهم ” محدثین نے اسے ترک کر دیا ہے اور بعض نے اسے کذاب کہا ہے“۔ (المغني في الضعفاء بتحقيق الدكتور نور الدين: 475/2، ت :4568)
✿ امام حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (المتوفی : 852ھ ) : متروك وكان حافظا متروك اور حافظ تھا۔ (تقريب التهذيب بتحقيق محمد عوامة، ص: 417، ت: 4979)
تفصیل کے لئے دیکھیں : (تهذیب الکمال في أسماء الرجال للمزى بتحقيق بشار عواد 520/21، ت: 4317 و تاريخ بغداد بتحقيق بشار عواد : 15/13، ت: 5852 وإكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال للمغلطائى بتحقيق عادل واسامة ، ت: 4048) و غيرهم.
[ تنبيه بليغ ] امام ابو العباس احمد بن ابو بکر البوصیری رحمہ اللہ (المتوفى: 840ھ ) بقیہ بن ولید کی حدیث کے تحت فرماتے ہیں:
هذا إسناد ضعيف لتدليس بقية ورواته ثقات لكن لم ينفرد به بقية عن ثور بن يزيد فقد رواه الأصبهاني فى كتاب الترغيب من طريق عمر بن هارون البلخي وهو ضعيف عن ثور به وله شاهد من حديث عبادة بن الصامت رواه الطبراني فى الأوسط والكبير والأصبهاني من حديث معاذ بن جبل فيقوى بمجموع طرقه
” یہ سند بقیہ بن ولید کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے اور اس کے رواۃ ثقہ ہیں لیکن بقیہ ثور سے روایت کرنے میں منفرد نہیں ہے بلکہ عمر بن ہارون البلخی ۔ جو کہ ضعیف ہے۔ نے بھی ثور سے روایت کیا ہے جس کی تخریج امام اصبہانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الترغیب والترہیب میں کی ہے۔ اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی روایت اس کی شاہد ہے جسے امام طبرانی رحمہ اللہ نے معجم الاوسط اور معجم الکبیر میں روایت کیا ہے اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی روایت بھی اس کی شاہد ہے جسے امام اصبہانی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے لہذا یہ اپنے مجموع طرق کی وجہ سے قوی ہو جاتی ہے“۔ (مصباح الزجاجة في زوائد ابن ماجة بتحقيق محمد المنتقى الكشناوي : 85/2 ح:644)
راقم با ادب عرض کرتا ہے کہ :
✿ اس روایت کو بیان کرنے میں عمر بن ہارون البلخی منفرد ہے نہ کہ بقیہ، بقیہ نے تو اس روایت میں تدلیس کی ہے۔
✿ عمر بن ہارون البلخی یہ ضعیف نہیں بلکہ متروک اور کذاب راوی ہے ۔ كما مضي تفصيلا
✿ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی روایت موضوع ہے۔ كما مر آنفا – لہذا شاہد بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہے۔ نیز اسے۔ میرے علم کی حد تک – امام طبرانی رحمہ اللہ نے المعجم الکبیر میں روایت نہیں کیا ہے۔ واللہ اعلم
✿ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی روایت بھی شاہد بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہے کیونکہ اس کی سند بھی سخت ضعیف اور منقطع ہے جیسا کہ تفصیل گزر چکی ہے۔ لہذا زیر بحث روایت قوی نہیں ہے۔
امام محمد بن مفلح المقدسی رحمہ اللہ (المتوفى : 763 ھ ) فرماتے ہیں: ” رواية بقية عن أهل بلده جيدة، وهو حديث حسن إن شاء الله تعالى “ بقیہ کی اپنے شہر والوں سے روایت اچھی ہے اور یہ حدیث ان شاء اللہ حسن ہے۔ (کتاب الفروع بتحقیق عبدالله التركي : 408/2)
راقم با ادب عرض کرتا ہے کہ یہ حکم درست نہیں ہے جیسا کہ تفصیل گزشتہ سطور میں گزر چکی ہے۔
⑤ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی روایت
✿ امام ابو القاسم سلیمان بن احمد الطبرانی رحمہ اللہ (المتوفی: 360ھ) فرماتے ہیں:
حدثنا أحمد بن يحيى بن خالد بن حيان، قال : نا حامد بن يحيى البلخي، قال : نا جرير بن عبد الحميد، عن رجل وهو: عمر بن هارون البلخي، عن ثور بن يزيد، عن خالد بن معدان ، عن عبادة بن الصامت ، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من صلى ليلة الفطر والأضحى لم يمت قلبه يوم تموت القلوب
لم يرو هذا الحديث عن ثور إلا غتر بن هارون تفرد به: جرير
[ترجمہ] سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس نے عیدین کی دونوں راتوں کو نماز پڑھی تو جس دن دلوں کو موت آئے گی ، اس دن اس کا دل نہیں مرے گا۔
(امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ) اس حدیث کو ثور سے صرف عمر بن ہارون نے روایت کیا ہے، جریر بن عبد الحمید اس کو بیان کرنے میں منفرد ہے۔
[ تخريج ] (المعجم الأوسط بتحقيق طارق و عبد المحسن : 57/1، ح : 159 و ترتيب الأمالي الخميسية للشجري بتحقيق محمد حسن محمد : 73/2، ح : 1636)
[حكم حديث ] هذا حديث موضوع مضطرب الاسناد ( یہ حدیث موضوع ہے اور اس کی سند میں اضطراب ہے)۔
✿ امام حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (المتوفى : 852ھ ) : ”هذا حديث غريب مضطرب الاسناد و عمرو بن هارون ضعيف وقد خولف فى صحابيه وفي رفعه“ ”یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند میں اضطراب ہے ۔ عمر بن ہارون ضعیف ہے ، اس حدیث کے صحابی میں اور اس کے مرفوع ہونے میں (اس سے) اختلاف کیا گیا ہے“۔
(الفتوحات الربانية بتحقيق عبد المنعم خليل : 164/4)
✿ علامہ البانی رحمہ الله : ” موضوع“ (الضعيفة: 11/2، ح : 520)
[سبب ] روایت ہذا میں ” عمر بن هارون بن يزيد بن جابر الثقفي “ ہے جو کہ متروک اور کذاب راوی ہے جیسا کہ اس کی بابت ائمہ کرام کے اقوال گزر چکے ہیں۔
اضطراب کی تفصیل گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے۔
[ تنبيه] الفتوحات الربانیہ میں عمرو بن ہارون لکھا ہے جو کہ صحیح نہیں ہے ،صحیح عمر بن ہارون ہے۔
⑥ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت
امام ابو الفرج عبد الرحمن بن علی الجوزی رحمہ اللہ (المتوفى : 597ھ) فرماتے ہیں:
”أخبرنا ابن ناصر ، أنبأنا على بن محمد بن أبى طيب، أنبأنا ابن رزقويه ، أنبأنا ابن عبدك، أنبأنا أحمد بن محمد الرازي ، أنبأنا عثمان بن هارون، أنبأنا أبو عمرو القناد، أنبأنا ابن أبى عمر المكي، أنبأنا عطاء عن ابن عباس رضي الله عنهما، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليلة جمع تعدل ليلة القدر“
[ترجمه ] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عید الاضحی کی رات لیلۃ القدر کی رات کے برابر ہے۔
[ تخريج ] (مثير العزم الساكن إلى أشرف الأماكن بتحقيق مرزوق علي : 274/1، ح : 157 واللفظ له والترغيب والترهيب للأصبهاني بتحقيق أيمن بن صالح بن شعبان: 246/1 ح: 369)
[حکم حدیث] اسنادہ مظلم (اس کی سند تاریک ہے)۔
[وجه ضعف ] روایت ہذا کی سند میں تین راوی ایسے ہیں جن کا ترجمہ مجھے نہیں مل سکا۔
● عثمان بن ہارون
●ابو عمر والقناد
● ابن ابی عمر المکی
[فائدہ] زیر بحث روایت الترغیب والترہیب للاصبہانی رحمہ اللہ ۔ میں مذکورہ سند کے ساتھ اس طرح ہے: ”كل يوم من أيام العشر يعدل صومه صوم سنة ، وعرفة سنتين، وعاشوراء سنة، وليلة جمع تعدل بليلة القدر “ ” عشرہ ذی الحجہ کے ہر دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر ہے ، عرفہ کا روزہ دو سال کے روزوں کے برابر ہے، عاشوراء کا ایک سال کے روزوں کے برابر ہے اور مزدلفہ کی رات ( یعنی عید الاضحیٰ کی رات ) لیلۃ القدر کی رات کے برابر ہے“۔
⟐ اب چند باتیں بطور تنبیہ پیش خدمت ہیں:
[تنبيہ نمبر: 1] مثير العزم میں: ”ثنا أبو عمرو القناد، قال: ثنا ابن أبى عمر المكي“ ہے جبکہ الترغيب للاصبھانی میں : ”ثنا حفص بن عمر القتاد، ثنا يونس بن أبى عمرة المكي “ ہے ۔ دونوں میں سے کون صحیح ہے؟ مجھے اس کا علم نہیں ہے۔ والله اعلم بالصواب
[تنبیہ نمبر : 2] مثیر العزم کے محقق زیر بحث روایت کی بابت فرماتے ہیں : ”لم أقف على هذا الحديث بعد تتبع وهو على اى حال مرسل “ تتبع کے بعد بھی میں اس حدیث پر واقف نہیں ہو سکا، بہر حال یہ حدیث مرسل ہے۔
راقم با ادب عرض کرتا ہے کہ یہ روایت مرسل نہیں ہے کیونکہ عطاء سے مراد عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ ہیں جیسا کہ الترغیب للاصبھانی میں ہے ، نہ کہ عطاء الخراسانی رحمہ اللہ ہیں جیسا کہ محقق حفظہ اللہ نے سمجھا ہے اور اسی وجہ سے اس کو مرسل کہا ہے۔
◈ روایت ہذا کی ایک شاہد بھی ہے لیکن وہ بھی ناقابل التفات ہے:
تفصیل پیش خدمت ہے:
امام ابو عیسی محمد بن عیسی الترمذی رحمہ اللہ (المتوفی : 279ھ ) فرماتے ہیں:
حدثنا أبو بكر بن نافع البصري قال: حدثنا مسعود بن واصل، عن نهاس بن قهم، عن قتادة، عن سعيد بن المسيب، عن أبى هريرة، عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : ما من أيام أحب إلى الله أن يتعبد له فيها من عشر ذي الحجة ، يعدل صيام كل يوم منها بصيام سنة، وقيام كل ليلة منها بقيام ليلة القدر ( فأكثروا من التسبيح والتهليل وذكر الله)
هذا حديث غريب، لا نعرفه إلا من حديث مسعود بن واصل، عن النهاس
[ترجمہ] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذی الحجہ کے (ابتدائی) دس دنوں سے بڑھ کر کوئی دن ایسا نہیں جس کی عبادت اللہ کو زیادہ محبوب ہو۔ عشرہ ذی الحجہ کے ہر دن کا روزہ ایک سال کے روزے کے برابر ہے اور اس کے ہر رات کا قیام لیلتہ القدر کے قیام کے برابر ہے لہذا کثرت سے تسبیح و تہلیل اور اللہ کا ذکر کرو۔
(امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ) یہ حدیث غریب ہے ، ہم اس کو مسعود بن واصل عن النہاس کے طریق سے ہی جانتے ہیں۔
[تخريج] ( سنن الترمذي بتحقيق بشار عواد : 123/2، ح 758 واللفظ له و الترغيب والترهيب للأصبهاني بتحقيق أيمن بن صالح بن شعبان : 246/1، ح : 368 و الزيادة له وسنن ابن ماجه بتحقيق الارنووط ورفقائه: 621/2، ح : 1729 و شعب الإيمان بتحقيق الدكتور عبد العلي : 311/5، ح : 3480 وفضائل الأوقات له بتحقيق عدنان عبد الرحمن ، ص: 345، ح : 174 و معجم ابن الأعرابي بتحقيق عبد المحسن الحسيني : 484/2، ح : 938 و مستخرج أبي عوانة بتحقيق أيمن بن عارف الدمشقي : 245/2، ح : 3021 و شرح السنة للبغوى بتحقيق شعيب الأرنؤوط و محمد زهير الشاويش : 4/354 ، ح : 1126 و ميزان الاعتدال بتحقيق البجاوي : 4/100، ت: 8478) و غيرهم
[حكم حديث] اسناده ضعيف جدا (اس کی سند سخت ضعیف ہے)۔
✿ علامہ البانی رحمہ الله : ”ضعيف بهذا التمام“ (الضعيفة: 242/11، ح : 5142)
[وجه ضعف] روایت ہذا کی سند میں تین علتیں ہیں:
➊ مسعود بن واصل العقدي البصري الأزرق : یہ لین الحدیث راوی ہیں۔
ائمہ کرام کے اقوال پیش خدمت ہیں:
✿ امام ابوداود سلیمان بن اشعث السجستانی رحمہ اللہ (المتوفى : 275 ھ ) : ”ليس بذاك“ (سؤالات أبي عبيد الآجري أبا داود بتحقيق عبد العليم البستوى: 63/2، ت : 1139)
✿ امام ابوالحسن علی بن عمر البغدادی الدار قطنی رحمہ اللہ (المتوفى: 385 ھ ) : ”ضعفه أبو داود الطيالسي“ ”امام ابو داؤد الطیالسی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے“۔ (العلل الواردة في الأحاديث النبوية بتحقيق محفوظ الرحمن زين الله السلفى: 200/9، رقم السؤال : 1719)
✿ امام حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (المتوفى : 852ھ ) : ”لين الحديث“ (تقريب التهذيب بتحقيق محمد عوامة، ص : 528 ت: 6614)
➋ النهاس بن قهم أبو الخطاب القيسي البصري : یہ ضعیف قصہ گو راوی ہے۔
ائمہ کرام کے اقوال پیش خدمت ہیں:
✿ امام ابو زکریا یحیی بن معین رحمہ اللہ (المتوفى : 233 ھ) : ”كان النهاس بن قهم قاصا، ليس بشيء“ ”نہاس قصہ گو تھا اور یہ کچھ نہیں ہے“۔ (سؤالات ابن الجنيد لأبي زکریا یحیی بن معين بتحقيق أحمد محمد نور سيف ص: 443 ت : 666)
✿ امام ابو عبد اللہ احمد بن حنبل رحمہ اللہ (المتوفى: 241ھ ) : ”قاص وكان يحيى يضعف حديثه“ ”قصہ گو ہے ، امام یحیی اس کی حدیث کو ضعیف قرار دیتے تھے“۔ (العلل ومعرفة الرجال بتحقيق وصی الله بن محمد عباس : 497/2 ت : 3280)
✿ امام ابو عبد الرحمن احمد بن شعیب النسائی رحمہ اللہ (المتوفى : 303ھ ) : ”ضعيف“ (الضعفاء والمتروكون بتحقيق محمود إبراهيم زايد، ص: 102، ت: 598)
✿ امام ابوالحسن علی بن عمر البغدادی الدار قطنی رحمہ اللہ (المتوفى: 385ھ ) : ”مضطرب الحديث ، تركه يحيى القطان“ ”مضطرب الحدیث ہے، امام یحیی القطان رحمہ اللہ نے اسے ترک کر دیا تھا“۔ (العلل الواردة في الأحاديث النبوية بتحقيق محفوظ الرحمن زين الله السلفي: 200/9، رقم السؤال : 1719)
✿ امام شمس الدین محمد بن احمد الذہبی رحمہ اللہ (المتوفى: 748 ھ ) : ”ضعفوه“ ”محدثین کرام نے اسے ضعیف قرار دیا ہے“۔ (الکاشف بتحقيق محمد عوامة وغيره: 326/2، ت: 5883)
✿ امام حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (المتوفى : 852ھ ) : ”ضعيف“ (تقريب التهذيب بتحقيق محمد عوامة ص : 566 ت : 7197)
مزید اقوال کے لئے دیکھیں : تهذيب الكمال في أسماء الرجال للمزى بتحقيق بشار عواد: 28/30 ت: 6482 و غيره
➊ قتادة بن دعامة بن قتادة السدوسي : آپ حافظ العصر ، قدوة المفسرين والمحدثین ہیں لیکن تیسرے طبقے کے مشہور مدلس بھی ہیں۔
ائمہ کرام کے اقوال پیش خدمت ہیں:
✿ امام شمس الدین محمد بن احمد الذہبی رحمہ اللہ (المتوفى : 748ھ ) : ”حافظ العصر قدوة المفسرين والمحدثين وهو حجة بالإجماع إذا بين السماع، فإنه مدلس معروف بذلك“ ”حافظ العصر اور قدوۃ المفسرين والمحدثین ہیں۔ موصوف بالا جماع حجت ہیں جب سماع کی صراحت کریں کیونکہ آپ معروف مدلس ہیں“۔ (سیر أعلام النبلاء بتحقيق مجموعة من المحققين : 271/5، ت: 132)
✿ امام ابو سعید صلاح الدین خلیل بن کیکلدی العلائی رحمہ اللہ (المتوفى: 761ھ ) : ”مشهور بالتدليس“ (جامع التحصيل في أحكام المراسيل بتحقيق حمدى السلفي : 108)
✿ امام حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (المتوفى : 852 ھ) : ”كان حافظ عصره وهو مشهور بالتدليس“ ”آپ اپنے زمانے کے حافظ تھے اور مشہور مدلس تھے“۔ (تعريف أهل التقديس بمراتب الموصوفين بالتدليس بتحقيق عاصم بن عبد الله القريوتي ، ص: 43، ت : 92 وقد ذكره في المرتبة الثالثة)
موصوف رحمہ اللہ نے روایت ہذا میں — میرے علم کی حد تک — سماع کی صراحت نہیں کی ہے۔ واللہ اعلم
◈ عثمان بن عبد اللہ نے ابن قیم کی متابعت کی ہے لیکن وہ بھی نا قابل التفات ہے۔
تفصیل پیش خدمت ہے:
✿ امام ابوالقاسم اسماعیل بن احمد ، الملقب بقوام السنۃ رحمہ اللہ (المتوفى : 535ھ ) فرماتے ہیں :
”أخبرنا أبو القاسم عبد الواحد بن على بن فهد ببغداد، ثنا أبو الفتح بن أبى الفوارس أنا أبو إسحاق: إبراهيم بن محمد بن حمدان البخاري قدم علينا، ثنا عثمان بن عبد الله، عن قتادة عن سعيد بن المسيب، عن أبى هريرة – رضى الله عنه – قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ((أحب الأعمال إلى الله -عز وجل- ما عمل فى عشر ذي الحجة العمل يضاعف فيها ما لا يضاعف فى غيرها، صيام يوم منها يعدل صيام سنة وقيام ليلة منها يعدل قيام ليلة القدر))“
[ترجمہ] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کے نزدیک سب سے محبوب اعمال وہ ہیں جو عشرہ ذی الحجہ میں کئے جاتے ہیں ۔ ان میں (نیک) عمل کا ثواب جس قدر بڑھایا جاتا ہے اتنا کسی اور دن میں نہیں بڑھایا جاتا ہے ۔ ان ایام کے ہر دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر ہے اور ان کی ہر رات کا قیام لیلتہ القدر کے قیام کے برابر ہے۔
[تخريج] الترغيب والترهيب للأصبهاني بتحقيق أيمن بن صالح بن شعبان : 248/1، ح: 372
[حکم حدیث] اسناده ضعيف جدا (اس کی سند سخت ضعیف ہے)۔
[وجه ضعف] روایت ہذا کی سند میں تین علتیں ہیں:
➊ أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن حمدان البخاري
➋ عثمان بن عبد الله
راقم کو ان دونوں کا ترجمہ نہیں مل سکا۔
علامہ البانی رحمہ اللہ عثمان بن عبد اللہ کی بابت فرماتے ہیں: ”لم اعرفه“ ”میں اس کو جرح و تعدیل کے اعتبار سے نہیں جانتا ہوں“۔ (الضعيفة: 243/11)
➌ قتادة بن دعامة بن قتادة بن عزیز السدوسي : آپ حافظ العصر ، قدوة المفسرين والمحدثین ہیں لیکن تیسرے طبقے کے مشہور مدلس بھی ہیں جیسا کہ ان کی بابت ائمہ کے اقوال گزر چکے ہیں۔ اور موضع ہذا میں انہوں نے سماع کی صراحت نہیں کی ہے۔
[نوٹ] علامہ البانی رحمہ اللہ نے روایت ہذا کو الضعیفہ (243/11) میں اس طرح نقل کیا ہے : ”أخرجه الأصبهاني فى ”الترغيب“ (ص 100-101 مصورة الجامعة الإسلامية ) من طريق إسماعيل بن بشر : أخبرنا مقاتل بن إبراهيم: أخبرنا عثمان بن عبد الله عن قتادة عن سعيد بن المسيب عن أبى هريرة به . لكن مقاتلا هذا و عثمان بن عبد الله لم أعرفهما“
اور امام ابن ناصر الدمشقی رحمہ اللہ نے بھی اپنی کتاب ”جزء فى فضل يوم عرفة“ میں اسی طرح نقل کیا ہے۔ دیکھیں: (جزء في فضل يوم عرفة بتحقيق عادل بن سعد ص: 31)
راقم با ادب عرض کرتا ہے کہ ہمارے سامنے جو الترغیب للاصبھانی موجود ہے، اس میں زیر بحث روایت مذکورہ طریق سے نہیں مروی ہے، واللہ اعلم ۔ خیر ! دونوں میں سے کوئی بھی طریق حدیث کے لئے نفع بخش نہیں ہے کیونکہ دونوں طریق سخت ضعیف ہیں۔
[فائدہ] حدیث کا پہلا ٹکڑا اور ”فأكثروا فيهن“ والا جملہ درج ذیل احادیث کی وجہ سے صحیح ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ما من أيام العمل الصالح فيها أحب إلى الله من هذه الأيام يعني أيام العشر قالوا: يا رسول الله، ولا الجهاد فى سبيل الله؟ قال: ولا الجهاد فى سبيل الله إلا رجل خرج بنفسه وماله، فلم يرجع من ذلك بشيء“ ”اللہ تعالی کو کوئی نیک عمل کسی دن میں اس قدر پسندیدہ اور محبوب نہیں ہے جتنا کہ ان دنوں میں پسندیدہ اور محبوب ہوتا ہے یعنی ذوالحجہ کے پہلے عشرہ میں ۔ صحابہ کرام نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں ؟ آپ نے فرمایا: جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں مگر کوئی شخص اپنی جان ومال لے کر نکلا اور کچھ واپس لے کر نہ آیا“۔ (صحیح البخاری: 969 و سنن ابو داؤد بتحقيق الأرنؤوط ورفقائه: 102/4 ، ح : 2438 واللفظ له)
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ما من أيام أعظم عند الله، ولا أحب إليه من العمل فيهن من هذه الأيام العشر فأكثروا فيهن من التهليل، والتكبير، والتحميد“ ”اللہ کے نزدیک کوئی بھی دن عشرہ ذی الحجہ سے زیادہ عظیم نہیں ہے اور نہ ہی ان ایام میں کئے گئے اعمال سے زیادہ کوئی عمل محبوب ہے لہذا ان ایام میں کثرت سے تہلیل (یعنی لا الہ الا اللہ)، تکبیر (یعنی اللہ اکبر)، اور تحمید (یعنی الحمد للہ) کرو“۔ (مسند الإمام أحمد بن حنبل بتحقيق الأرنؤوط ورفقائه : 323/9، ح : 5446 و اللفظ له والأمالي المطلقة للحافظ ابن حجر بتحقيق حمدي السلفی ص: 14، ح : 74 و صححه الأرنؤوط ورفقائه وقال الحافظ : حديث حسن)
⑦ سید نا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کی روایت
✿ امام جلال الدین عبد الرحمن بن ابی بکر السیوطی رحمہ اللہ (المتوفى: 911ھ ) رقم طراز ہیں :
”الديلمي : أخبرنا أبي، أخبرنا الميداني، أخبرنا إبراهيم بن محمد بن جعدويه حدثنا الحسن بن محمد النجار، حدثنا محمد بن الحسين المذكر، حدثنا محمد بن على بن الربيع، حدثنا عطاء بن محمد، حدثنا الهيثم بن يمان، حدثنا أبو الأحوص، عن عبيد الله بن عمر، عن إسحاق بن طلحة بن عبيد الله ، عن أبيه رفعه : ليلة الفطر ليلة رحمة يعتق الله فيها الرقاب، فمن سجد فى تلك الليلة سجدتين كتب الله له من الثواب كمن صام رمضان من صغير أو كبير ذكر أو أنثى، ويعطيه الغد ثواب من صلى يوم الفطر فى الجبانة من المشرق إلى المغرب“
[ترجمہ] سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عید الفطر کی رات رحمت کی رات ہے، اللہ تعالی اس میں لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے۔ جو اس رات میں دو سجدے کرے گا تو اسے چھوٹے ، بڑے ، مرد اور عورت (سب کے ) رمضان کے رکھے ہوئے روزوں کے مثل ثواب ملے گا اور کل عید الفطر کے دن جو لوگ مشرق سے لیکر مغرب تک عید گاہ میں نماز عید پڑھنے آئیں گے ، ان کے ثواب کے مثل اس کو ثواب ملے گا۔
[حوالہ] الزيادات على الموضوعات بتحقيق رامز خالد حاج حسن : 436/1، ح : 518
[حكم حديث] هذا حديث موضوع و اسناده مظلم ( یہ حدیث موضوع ہے اور اس کی سند تاریک ہے)۔
[سبب] روایت ہذا کی سند میں دو راوی ایسے ہیں جن کا ترجمہ مجھے نہیں مل سکا۔
● محمد بن علی بن الربيع
● عطاء بن محمد
[فائدہ] زیر بحث روایت کی سند میں عطاء بن محمد سے مراد اگر عطاء بن محمد الہجري ہے تو اس کی بابت :
✿ امام ابو احمد بن عدي الجرجانی رحمہ اللہ (المتوفى: 366ھ ) رقم طراز ہیں :
”سمعت ابن حماد يقول : قال البخاري عطاء بن محمد الهجري، عن أبيه لم يصح حديثه وعطاء بن محمد هذا ليس بمعروف“
”میں نے امام ابن حماد الدولابی رحمہ اللہ سے سنا، وہ فرماتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس نے اپنے والد سے روایت کیا ہے، اس کی حدیث صحیح نہیں ہے ۔ اور یہ عطاء بن محمد معروف نہیں ہے“۔ (الكامل في ضعفاء الرجال بتحقيق عادل أحمد ورفقاءه : 80/7 ت: 1525)
اگر یہ الہجری نہیں ہے تو اس کا ترجمہ مجھے نہیں مل سکا۔
[تنبیہ] امام نور الدین علی بن محمد المعروف بابن عراق رحمہ اللہ (المتوفى : 963ھ ) فرماتے ہیں: ”وفيه محمد بن عطاء و محمد بن على بن الربيع لم أعرفهما و الله تعالى أعلم“اس میں محمد بن عطاء اور محمد بن علی یہ دونوں ایسے راوی ہیں جن کو میں نہیں جانتا ہوں ۔ واللہ اعلم
راقم با ادب عرض کرتا ہے کہ سند میں محمد بن عطاء نہیں ہے بلکہ عطاء بن محمد ہے۔
⑧ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت
✿ امام ابوالفرج عبد الرحمن بن علی الجوزی رحمہ اللہ (المتوفی 597 ھ ) فرماتے ہیں:
أنبأنا محمد بن ناصر، أنبأنا أبو غالب أحمد بن عبيد الله الدلال، أنبأنا أبو محمد الحسن بن محمد الخلال أجازه، قال : قرأت على أبى الفتح يوسف بن عمر بن مسروق القواص حدثنا عمر بن محمد بن الصباح البزاز، حدثنا أبوزكريا يحيى بن القاسم، حدثنا محمد بن أبى صالح، عن سعيد بن سعيد، عن أبى طيبة ، عن كرز بن وبرة، عن الربيع بن خيثم عن عبد الله بن مسعود قال: قال النبى صلى الله عليه وسلم : ”والذي بعثني بالحق إن جبريل عليه السلام أخبرني عن إسرافيل، عن ربه عز وجل: أنه من صلى ليلة الفطر مائة ركعة، يقرأ فى كل ركعة الحمد مرة وقل هو الله أحد عشر مرات ويقول فى ركوعه وسجوده عشر مرات سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر، فإذا فرغ من صلاته استغفر مائة مرة، ثم يسجد، ثم يقول : يا حي يا قيوم يا ذا الجلال والإكرام يا رحمن الدنيا والآخرة ورحيمهما يا أرحم الراحمين يا إله الأولين والآخرين اغفر لي ذنوبي وتقبل صومي وصلاتي، والذي بعثني بالحق إنه لا يرفع رأسه من السجود حتى يغفر الله عز وجل له ويتقبل منه شهر رمضان ويتجاوز عن ذنوبه وإن كان قد أذنب سبعين ذنبا كل ذنب أعظم من جميع النار ويتقبل من كورته شهر رمضان. قال قلت: يا جبريل يتقبل منه خاصة ومن جميع أهل بلده عامة . قال : والذي بعثني بالحق ما من مصل هذه الصلاة واستغفر هذا الاستغفار فإن الله عز و جل يتقبل صلاته وصيامه لأن الله عز و جل قال فى كتابه (استغفروا ربكم إنه كان غفارا ) ثم قال: (توبوا إليه يمتعكم متاعا حسنا إلى أجل مسمى) وقال : ( واستغفروا الله إن الله غفور رحيم) وقال: واستغفره إنه كان توابا) وقال النبى صلى الله عليه وسلم هذه لأمتي الرجال والنساء، لم يعطها من كان قبلي“.
[ترجمہ] سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے ، جبرئیل علیہ السلام نے مجھے اسرافیل کے واسطے سے بتایا کیا ، وہ اللہ رب العالمین سے روایت کرتے ہیں کہ جس نے عید الفطر کے دن سو (100) رکعت نماز پڑھی۔ (اس طرح سے کہ ) ہر رکعت میں ایک مرتبہ سورۃ الفاتحہ اور دس (10) مرتبہ سورۃ الاخلاص پڑھے اور اس کے رکوع و سجود میں دس (10) مرتبہ یہ دعاء : ”سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر“ پڑھے۔ پھر جب اپنی نماز سے فارغ ہو جائے تو سو (100) بار استغفار کرے پھر سجدے میں جا کر کہے : اے زندہ جاوید ! اے ہمیشہ قائم رہنے والے! اے جلال و اکرام والے ! اے دنیا اور آخرت میں رحم کرنے والے! اے ارحم الرحمین! اے اولین و آخرین کے رب ! میرے گناہوں کو بخش دے، میرے روزے اور میری نماز کو قبول فرما ۔ اس ذات کی قسم! جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے ، وہ سجدے سے اپنے سر کو نہیں اٹھائے گا حتی کہ اللہ تعالی اس کو بخش دے گا، اس کے رمضان کے مہینے کو قبول فرمائے گا، اس کے گناہوں سے درگزر کرے گا، گرچہ اس نے ستر گناہ کیا ہو اور ہر گناہ جہنم کی پوری آگ سے زیادہ بڑا ہو اور اس کے شہر والوں سے بھی شہر رمضان کو قبول فرمائے گا۔
میں نے کہا : اے جبرئیل علیہ السلام ! کیا اس کی جانب سے بطور خاص اور اس کے تمام شہر والوں کی جانب سے عمومی طور پر قبول کیا جائے گا ؟ ۔ انہوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے! کوئی بھی نمازی اس طرح سے نماز پڑھے پھر اس طرح سے استغفار کرے تو اللہ اس کی نماز اور اس کے روزوں کو قبول فرماتا ہے کیونکہ اللہ اپنی کتاب میں کہتا ہے کہ تم اپنے رب سے بخشش طلب کرو وہ بخشنے والا ہے۔ پھر کہا: تم اس سے توبہ کرو، وہ تم کو وقت مقررہ تک اچھا سامان (زندگی) دے گا۔ اور کہا: اللہ سے بخشش طلب کرو، بلاشبہ وہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ اور کہا: اس سے بخشش طلب کرو، وہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میری امت کے مرد و عورت کے لئے ہے، جو لوگ مجھ سے پہلے تھے انہیں یہ (نماز) نہیں دی گئی تھی۔
[تخريج] الموضوعات بتحقيق عبدالرحمن محمد عثمان: 130/2
[حكم حديث] هذا حديث موضوع من غير شك ولا ريبة (یہ حدیث بلا شبہ موضوع ہے)۔
✿ امام ابو الفرج عبد الرحمن بن علی الجوزی رحمہ اللہ (المتوفى : 597ھ ) :
”هذا حديث لا نشك فى وضعه، وفيه جماعة لا يعرفون أصلا“
”اس حدیث کے موضوع ہونے میں ہمیں شک نہیں ہے اور اس میں ایک جماعت ہے جو سرے سے نہیں جانے جاتے ہیں“۔
✿ امام شمس الدین محمد بن احمد الذہبی رحمہ اللہ (المتوفى: 748ھ ) :
”رواه أبو الفتح [القواس] ، ثنا عمر بن محمد الصباح، ثنا يحيى بن قاسم، ثنا محمد بن أبى صالح، عن (سعد بن سعد) ، فلا أدري من وضعه منهم“
”اس حدیث کو ابو الفتح نے عمر بن محمد الصباح سے ، اس نے یحیی بن القاسم سے ، اس نے محمد بن ابی صالح سے، وہ سعد بن سعد سے روایت کیا ہے۔ اور میں نہیں جانتا کہ ان میں سے کس نے اس حدیث کو گھڑا ہے“۔
✿ امام جلال الدین عبد الرحمن بن ابی بکر السیوطی رحمہ اللہ (المتوفى : 911 ھ ) :
”موضوع فيه جماعة لا يعرفون“ ”یہ حدیث موضوع ہے، اس میں ایک جماعت ہے جو غیر معروف ہیں“۔ (اللالي المصنوعة في الأحاديث الموضوعة بتحقيق صلاح بن محمد : 51/2)
✿ امام محمد بن علی الشوکانی رحمہ اللہ (المتوفى: 1250 ھ ) :
”هو موضوع ورواته مجاهيل“ ”حدیث موضوع ہے اور اس کے رواۃ مجہول ہیں۔“ (الفوائد المجموعة في الأحاديث الموضوعة بتحقيق المعلمی ص : 52، ح : 107)
[موضوع ہونے کی وجہ] روایت ہذا کی سند میں کئی راوی ایسے ہیں جو نا معلوم ہیں جیسا کہ ائمہ کرام نے کہا ہے۔
● أبو الفتح يوسف بن عمر بن مسروق القواص
● عمر بن محمد بن الصباح البزاز
● أبوزكريا يحيى بن القاسم
● محمد بن أبي صالح
یہ سب کے سب نامعلوم راوی ہیں۔
◈ اب چند باتیں بطور تنبیہ پیش خدمت ہیں:
[تنبیہ نمبر: 1] الالى المصنوعہ السيوطى میں : ”عن أبى ظبية ، عن“ لکھا ہوا ہے جو کہ صحیح نہیں ہے بلکہ ”عن أبى طيبة ، عن“ ہے۔
[تنبیہ نمبر : 2] اللالى المصنوعہ للسیوطی میں : ”محمد بن أبى صالح، عن سعد بن سعد“ ہے اور الموضوعات میں : ”سعيد بن سعيد“ ہے۔
راقم با ادب عرض کرتا ہے کہ شاید یہ دونوں غلط لکھا ہوا ہے، صحیح سعد بن سعید (الجرجانی) ہے کیونکہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے ابو طیبہ عیسی بن سلیمان الجرجانی رحمہ اللہ کے ترجمے میں فرمایا: ”وعنه : ابناه أحمد وعبد الواسع، وسعد بن سعيد، وغيرهم“. (تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام بتحقيق بشار عواد: 262/4 ت: 458)
امام ذہبی رحمہ اللہ کے اس بات کی تصدیق الکامل لابن عدى (بتحقيق عادل أحمد ورفقاءہ: 453/6 ت : 1403) سے واضح طور پر ہو جاتی ہے۔ والحمد لله على ذلك
اور یہ غیر معروف راوی نہیں ہے بلکہ معروف راوی ہیں، نیک آدمی تھے لیکن صاحب الغرائب ہیں۔ اس کے ترجمے کے لئے دیکھیں : (الكامل في ضعفاء الرجال بتحقيق عادل أحمد و رفقاءه : 396/4، ت : 800) و غیره
[تنبیہ نمبر : 3] الموضوعات اور الالى المصنوعہ کے متن میں دو اختلاف ہیں۔
● پہلا اختلاف : الالى المصنوعہ میں ہے : ”ويتجاوز عن ذنوبه وكان قد أذنب سبعين ذنبا كل ذنب أعظم من جميع أهل بلده عامة، قال: والذي بعثني بالحق إن كرامته على الله أعظم منزلة منهم ويتقبل من جميع أهل المشرق والمغرب صلاتهم ويستجيب لهم دعاءهم والذي بعثني بالحق من صلى هذه الصلاة“.
جبکہ الموضوعات میں اس طرح ہے: ”ويتجاوز عن ذنوبه وإن كان قد أذنب سبعين ذنبا كل ذنب أعظم من جميع النار ويتقبل من كورته شهر رمضان قال قلت: يا جبريل يتقبل منه خاصة ومن جميع أهل بلده عامة . قال : والذي بعثني بالحق ما من مصل هذه الصلاة“.
راقم با ادب عرض کرتا ہے کہ دونوں میں سے کون صحیح ہے؟ اس کا فیصلہ الموضوعات کے مخطوطے کو سامنے رکھ کر ہی کیا جا سکتا ہے اور فی الحال اس کے مخطوطے تک میری رسائی نہیں ہے۔
● دوسرا اختلاف : الموضوعات لابن الجوزی میں حدیث کے اخیر میں لکھا ہوا ہے: ”لمن يعطها لمن كان قبلي“.
راقم با ادب عرض کرتا ہے کہ شاید یہ صحیح نہیں ہے صحیح عبارت جیسا کہ سیاق و سباق سے واضح ہوتا ہے۔ الالى المصنوعہ میں ہے اور وہ یہ ہے: ”لم يعطها من كان قبلي“.
اسی کو میں نے متن میں اختیار کیا ہے۔
⑨ سیدہ عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کی روایت
✿ امام ابوالحسن علی بن عمر البغدادی الدار قطنی رحمہ اللہ (المتوفى : 385ھ ) فرماتے ہیں:
”حدثنا أحمد بن محمد بن إسحاق قال : حدثنا أحمد بن كعب الواسطي، حدثنا محمد بن عبد الوهاب بن مرزوق الواسطي، حدثنا سعيد بن عيسى، حدثنا مالك، عن هشام بن عروة، عن عمرة، عن عائشة مرفوعا: ينسخ الله فى أربع ليال الآجال والأرزاق: فى ليلة النصف من شعبان والأضحى والفطر وليلة عرفة“.
[ترجمہ] عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی چار راتوں میں رزق اور عمروں کے فیصلے کرتا ہے:
● نصف شعبان کی رات میں۔
● عید الاضحی کی رات میں۔
● عید الفطر کی رات میں۔
● عرفہ کی رات میں۔
[تخريج] (غرائب مالك بحوالہ لسان الميزان بتحقيق ابي غدة: 582/1، ت : 715 و مثير العزم الساكن لابن الجوزى بتحقيق مرزوق علي : 242/1، ح : 119، هناک لفظ آخر)
[حکم حدیث] اسناده ضعيف جدا (اس کی سند سخت ضعیف ہے)۔
✿ امام دار قطنی رحمہ الله : ”لا يصح“ یہ حدیث ثابت نہیں ہے۔
[وجه ضعف] روایت ہذا کی سند میں تین علتیں ہیں:
● سعيد بن عيسى بن معن المكي
● محمد بن عبد الوهاب بن مرزوق الواسطي
● أحمد بن محمد بن صالح بن كعب أبو الحسن الذراع الواسطي
مذکورہ تینوں راوی ضعیف ہیں ۔
امام ابو الحسن علی بن عمر البغدادی الدار قطنی رحمہ اللہ (المتوفى : 385ھ ) زیر بحث روایت کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ”لا يصح ومن دون مالك ضعفاء“ ”یہ حدیث ثابت نہیں ہے اور امام مالک سے نیچے جتنے راوی ہیں (سوائے احمد بن محمد بن اسحاق رحمہ اللہ کے ) سب ضعیف ہیں“۔ (غرائب مالك بحوالہ لسان الميزان بتحقيق ابي غدة : 582/1 ت : 715)
نیز ابوالحسن ابن کعب الواسطی کے لئے دیکھیں : (إرشاد القاصي والداني إلى تراجم شيوخ الطبراني ، ص : 164، ت: 184)
[فائدہ] امام دار قطنی رحمہ اللہ کے شیخ ثقہ ہیں جیسا کہ خود امام دار قطنی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے۔ دیکھیں: (الدليل المغني لشيوخ الإمام أبي الحسن الدارقطني ، ص: 114 ، ت : 75)
◈ اب چند باتیں بطور تنبیہ پیش خدمت ہیں:
[تنبیہ نمبر: 1] الفردوس بماثور الخطاب کے محقق فرماتے ہیں:
”اسناد هذا الحديث فى زهر الفردوس : 270/4، قال أخبرنا بنجير اخبرنا جعفر الابهرى ، حدثنا محمد بن المظفر، حدثنا أحمد بن كعب الواسطي، حدثنا سعيد بن عبده ابن ،معن حدثنا مالك بن انس، عن هشام بن عروة، عن عمرة، عن عائشة مرفوعا “
اس حدیث کی سند زہر الفردوس میں اس طرح ہے۔۔۔ (274/5 تحت الحدیث : 8165)
راقم با ادب عرض کرتا ہے کہ امام ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ لسان المیزان میں رقم طراز ہیں:
”وأخرج الخطيب فى الرواة عن مالك من طريق أبى الحسين بن المظفر والدارقطني فى "غرائب مالك”، حدثنا أحمد بن محمد بن إسحاق قالا: حدثنا أحمد بن كعب الواسطي، حدثنا محمد بن عبد الوهاب بن مرزوق الواسطي، حدثنا سعيد بن عيسى، حدثنا مالك، عن هشام بن عروة، عن عمرة عن عائشة مرفوعا“ (لسان الميزان بتحقيق ابي غدة: 582/1 ت : 715)
اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ زہر الفردوس میں جو سند ہے اس میں ابن کعب الواسطی اور ابن معن کے درمیان میں سے محمد الواسطی ساقط ہو گیا ہے۔ والحمد لله على ذلك
[تنبیہ نمبر : 2] مثير العزم میں : ”ثنا سعيد بن عيسى عن معن“ ہے اور زہر الفردوس میں : ”سعيد بن عبده ابن معن“ ہے۔
راقم با ادب عرض کرتا ہے کہ دونوں صحیح نہیں ہے، صحیح : ”ثنا سعيد بن عيسي ابن معن“ ہے کیونکہ معن سعید کے دادا کا نام ہے اور عیسی ان کے والد کا نام ہے۔ میرے علم کی حد تک کسی بھی محدث نے ان کے والد کا نام عبدہ نہیں بتلایا ہے۔ راویوں نے بعض دفعہ سعید بن معن یا سعید بن معن المدنی کہا ہے۔ دیکھیں:( لسان المیزان بتحقیق ابی غدة : 75/4 ت : 3488)
⑩ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی روایت
✿ امام محمد بن ابو بکر عبد اللہ ، المعروف بابن ناصر الدین الدمشقی رحمہ اللہ (المتوفى : 842 ھ) فرماتے ہیں:
”وقال سفيان بن زياد البلدى ، حدثنا عبد الله بن أبى علاج ، حدثنا هشام بن الغاز عن عبادة بن نسى ، عن ابن غنم ، عن معاذ بن جبل – رضى الله عنه – قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : الخير يفرغ فى ليلة الاضحى وليلة الفطر و ليلة النصف من شعبان وليلة عاشوراء“.
[ترجمہ] سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عید الاضحی کی رات عید الفطر کی رات ، نصف شعبان کی رات اور عاشوراء کی رات میں بھلائی انڈیلی جاتی ہے۔
[حوالہ] مجموع فيه رسائل للحافظ ابن ناصر الدين الدمشقى بتحقيق مشعل المطيرى ص: 65 اللفظ المكرم بفضل عاشوراء المحرم
[حکم حديث] هذا حديث موضوع (یہ حدیث موضوع ہے)۔
[موضوع ہونے کی وجہ] روایت ہذا کی سند میں ”عبد الله بن أيوب بن أبي علاج الموصلي“ ہے جو کہ کذاب اور وضاع راوی ہے۔
ائمہ کرام کے اقوال پیش خدمت ہیں:
✿ امام ابو حاتم محمد بن حبان البستی ، المعروف بابن حبان رحمہ اللہ (المتوفى : 354ھ) : ”يروي عن يونس بن يزيد ومالك بن أنس ما ليس من أحاديثهم لا يشك المستمع لها إذا كان ذلك صناعته أنه كان يضعها“ اس نے یونس بن یزید اور امام مالک رحمہ اللہ سے ایسی چیزیں روایت کی ہیں جو ان کی احادیث میں سے نہیں ہیں ۔ جب فن حدیث کا ماہر ان کو سنے گا تو وہ شک نہیں کرے گا کہ ان کو اس نے گھڑا تھا۔ (المجروحين بتحقيق محمود إبراهيم: 37/2،ت: 570)
✿ امام ابو الحسن علی بن عمر البغدادی الدار قطنی رحمہ اللہ (المتوفى: 385ھ ) : ”يضع الحديث“ ”حدیث گھڑتا تھا“۔ (لسان الميزان للحافظ بتحقيق ابي غدة: 438/4 ت : 4167 وقد نقله المؤلف من كتابه)
✿ امام ابوالفضل محمد بن طاہر الشیبانی ، المعروف بابن قیسر انی رحمہ اللہ (المتوفى : 507 ھ ) : ”وعبد الله هذا كذاب“ ”عبدالله یہ کذاب ہے“۔ (تذکرۃ الحفاظ بتحقیق حمدی السلفی، ص: 140 ، ح : 327)
✿ امام شمس الدین محمد بن احمد الذہبی رحمہ اللہ (المتوفى: 748 ھ) : ”متهم بالوضع كذاب، مع أنه من كبار الصالحين“ ”یہ کبار صالحین میں سے ہونے کے باوجود متہم بالوضع اور کذاب ہے“۔ (ميزان الاعتدال بتحقيق البجاوي: 394/2، ت: 4217)
مزید اقوال کے لئے دیکھیں : لسان الميزان للحافظ بتحقيق ابي غدة: 438/4، ت : 4167 وغيره
خلاصة القول : عیدین کی شب خصوصی عبادت ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔ جتنی روایتیں اس تعلق سے مروی ہیں وہ سب کی سب سخت ضعیف ، منکر اور موضوع ہیں۔
موقوف روایتیں
① سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت
✿ امام ابوبکر احمد بن الحسین البیہقی رحمہ اللہ (المتوفی : 458ھ ) فرماتے ہیں:
”وفيما أنبأني أبو عبد الله الحافظ إجازة، وحدثنا به عنه الإمام أبو عثمان إسماعيل بن عبد الرحمن، أخبرنا أبو عبد الله محمد بن على بن عبد الحميد، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرني من سمع ابن البيلماني يحدث عن أبيه، عن ابن عمر، قال : خمس ليال لا يرد فيهن الدعاء: ليلة الجمعة، وأول ليلة من رجب، وليلة النصف من شعبان، وليلة العيد وليلة التحر“.
[ترجمہ] سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں دعاء رد نہیں ہوتی ہے:
● جمعہ کی رات
● رجب کی پہلی رات
● نصف شعبان کی رات
● عید الفطر کی رات
● عید الاضحی کی رات
[تخريج] شعب الإيمان للبيهقى بتحقيق الدكتور عبدالعلي: 288/5، ح : 3440 و اللفظ له و مصنف عبد الرزاق بتحقيق حبيب الرحمن الأعظمي : 317/4، ح : 7927 و فضائل الأوقات له بتحقيق عدنان عبد الرحمن ، ص: 311، ح : 149 وغيرهم
[حکم حديث] هذا حديث منكر او موضوع (یہ حدیث منکر یا موضوع ہے)۔
[منكر یا موضوع ہونے کی وجہ] روایت ہذا کی سند میں دو علتیں ہیں:
➊ اس میں ایک ایسا راوی ہے جس کا نام نہیں لیا گیا ہے۔
امام عبد الرزاق رحمہ اللہ نے یہ حدیث کس سے سنی ، اس کا نام نہیں لیا ہے۔
➋ محمد بن عبد الرحمن ابن البيلماني الكوفي النحوي : یہ ضعیف منکر الحدیث راوی ہے، اس نے اپنے والد سے منکر اور موضوع روایتیں بیان کی ہیں۔
ائمہ کرام کے اقوال پیش خدمت ہیں:
✿ امام محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ (المتوفی : 256ھ ) : ”منكر الحديث“ (التاريخ الكبير بحواشی محمود خليل: 163/1، ت: 484)
✿ امام ابو حاتم محمد بن ادریس الرازی رحمہ اللہ (المتوفى : 277 ھ ) : ”هو منكر الحديث ، ضعيف الحديث، مضطرب الحديث“ ”یہ منکر الحدیث ، ضعیف الحدیث اور مضطرب الحدیث ہے“۔ (الجرح والتعديل لابن ابی حاتم بتحقيق المعلمی : 311/7، ت : 1694)
✿ امام ابو بکر احمد بن عمر و العلمى ، المعروف بالبزار رحمہ اللہ (المتوفى: 292ھ ) : ”أحاديث محمد بن عبد الرحمن، عن أبيه، عن ابن عمر كثيرة وهى كثيرة المناكير … ضعيف الحديث عند أهل العلم“ ”محمد بن عبد الرحمن کی احادیث اپنے والد سے ، وہ ابن عمر سے زیادہ ہیں اور ان میں اکثر و بیشتر منکر ہیں۔۔۔ وہ اہل علم کے نزدیک ضعیف الحدیث ہے“۔ (مسند البزار بتحقيق عادل بن سعد : 33/12 ، ح : 5411)
✿ امام ابو عبد الرحمن احمد بن شعیب النسائی رحمہ اللہ (المتوفى : 303 ھ ) : ”منكر الحديث“ (الضعفاء والمتروكون بتحقيق محمود إبراهيم زايد، ص: 92، ت : 526)
✿ امام ابوجعفر محمد بن عمر العقیلی رحمہ اللہ (المتوفى : 322ھ ) : ”وصالح بن عبد الجبار هذا يحدث عن ابن البيلماني نسخة فيها مناكير وكذلك محمد بن الحارث حدث عنه بمناكير“ ”صالح بن عبد الجبار نے ابن بیلمانی سے ایک نسخہ بیان کیا جس میں منکر روایتیں ہیں اور اسی طرح محمد بن الحارث نے بھی اس سے منکر روایتیں بیان کی ہیں“۔ (الضعفاء الكبير بتحقيق عبد المعطي: 101/4، ت: 1654)
✿ امام ابو حاتم محمد بن حبان البستی المعروف بابن حبان رحمہ اللہ (المتوفی: 354ھ ) : ”حدث عن أبيه بنسخة شبيها بمائتي حديث كلها موضوعة ، لا يجوز الاحتجاج به ، ولا ذكره فى الكتب إلا على جهة التعجب“ ”اس نے اپنے والد سے تقریبا دو سو (200) احادیث کا ایک نسخہ بیان کیا ہے ، وہ سب کی سب احادیث موضوع ہیں، اس سے احتجاج کرنا اور کتابوں میں اس کا ذکر کرنا جائز نہیں ہے مگر تعجب کے طور پر“۔ (المجروحين بتحقیق محمود إبراهيم : 264/2، ت : 948)
✿ امام ابو احمد بن عدي الجرجانی رحمہ اللہ (المتوفى : 365ھ ) : ”وكل ما روي عن ابن البيلماني فالبلاء فيه من بن البيلماني، وإذا روى عن ابن البيلماني محمد بن الحارث هذا فجميعا ضعيفان، محمد بن الحارث وابن البيلماني والضعف على حديثهما بين“ ”ہر وہ چیز جو ابن بیلیمانی سے روایت کی گئی ہے، ان میں جو بلاء ہے وہ ابن بیلمانی کی جانب سے ہے اور جب محمد بن الحارث ابن بیلیمانی سے روایت کرے تو دونوں ضعیف ہیں اور ان دونوں کی احادیث پر ضعف واضح ہے“۔ (الكامل في ضعفاء الرجال بتحقيق عادل أحمد ورفقاءه: 388/7 ،ت: 1661)
امام ابوعبد الله محمد بن عبد اللہ الحاکم رحمہ الله (المتوفى: 405ھ ) : ”يروي عن أبيه عن ابن عمر المعضلات“ ”اس نے اپنے والد سے ، وہ ابن عمر سے معضل روایتیں بیان کی ہیں“۔ (المدخل إلى الصحيح بتحقيق الدكتور ربيع هادي: 197/1، ت: 174)
✿ امام ابونعیم احمد بن عبد الله الاصبہانی رحمہ اللہ (المتوفى 430ھ ) : ”منكر الحديث“ (الضعفاء بتحقيق فاروق حمادة ص: 140، ت: 216)
✿ امام شمس الدین محمد بن احمد الذہبی رحمہ اللہ (المتوفى : 748ھ ) : ”ضعفوه“ ”محدثین نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے“۔ (المغني في الضعفاء بتحقيق الدكتور نور الدين : 603/2، ت: 5725)
✿ امام حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (المتوفى : 852ھ ) : ”ضعيف وقد اتهمه ابن عدي و ابن حبان“ ”ضعیف ہے، امام ابن عدی اور ابن حبان رحمہما اللہ نے اسے متہم قرار دیا ہے“۔ (تقريب التهذيب بتحقيق محمد عوامة ص: 492، ت: 6067)
تفصیل کے لئے دیکھیں : (تهذيب الكمال في أسماء الرجال للمزى بتحقيق بشار عواد : 594/25 ت: 5392) و غيره
[تنبیہ] فضائل الاوقات میں ”سمع ابن السلماني“ لکھا ہوا ہے اور مصنف عبد الرزاق میں ”سمع البيلماني“ لکھا ہوا ہے، دونوں کے دونوں صحیح نہیں ہے، صحیح ”سمع ابن البيلماني“ ہے۔
② سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کی روایت
✿ امام ابو عبد الله محمد بن ادریس الشافعی القرشی رحمہ اللہ (المتوفى: 204ھ) فرماتے ہیں : ”أخبرنا إبراهيم بن محمد، قال : أخبرنا ثور بن يزيد، عن خالد بن معدان، عن أبى الدرداء قال : من قام ليلة العيد محتسبا ، لم يمت قلبه حين تموت القلوب“.
[ترجمہ] سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس نے اجر و ثواب کی نیت کرتے ہوئے عید کی رات قیام کیا تو جس وقت دلوں کو موت آئے گی ، اس کا دل نہیں مرے گا۔
[تخريج] (الأم : 264/1 الناشر: دار المعرفة – بيروت وشعب الإيمان بتحقيق الدكتور عبد العلي : 287/5، ح: 3438) و غيرهم
[حکم حديث] هذا حديث موضوع بلا ريب و اسناده منقطع (یہ حدیث بلا شبہ موضوع ہے اور اس کی سند منقطع ہے)۔
[سبب] روایت ہذا کی سند میں دو علتیں ہیں :
➊ إبراهيم بن محمد بن أبى يحيي – واسمه سمعان – الأسلمي: یہ متروک الحدیث اور کذاب راوی ہے۔ اس کی بابت ائمہ کرام کے اقوال گزر چکے ہیں۔
➋ خالد بن معدان رحمہ اللہ نے ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا ہے۔
ائمہ کرام کے اقوال پیش خدمت ہیں:
✿ امام ابو عبد اللہ احمد بن حنبل رحمہ اللہ (المتوفى : 241ھ ) : ”أما خالد بن معدان فلم يسمع منه يعني من أبى الدرداء“ ”خالد بن معدان رحمہ اللہ نے ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا ہے“۔ (المراسيل بتحقيق شكر الله نعمة الله ص: 52، ت: 71 و اسناده صحیح)
✿ امام ابو الحجاج یوسف بن عبد الرحمن المزی رحمہ اللہ (المتوفى : 742 ھ ) : ”لم يذكر سماعا منه“ ”خالد نے ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے سماع کی صراحت نہیں کی ہے“۔ (تهذيب الكمال في أسماء الرجال للمزى بتحقيق بشار عواد : 168/8، ت: 1653)
✿ امام شمس الدین محمد بن احمد الذہبی رحمہ اللہ (المتوفى : 748 ھ) : ”وأرسل عن : معاذ بن جبل ، وأبي الدرداء، وعائشة وغيرهم“ ”خالد رحمہ اللہ نے معاذ بن جبل، ابوالدرداء، عائشہ رضی اللہ عنہم وغیرہم سے ارسال کیا ہے“۔ (سیر أعلام النبلاء بتحقیق مجموعة من المحققين: 537/4 ت : 216)
⟐ اب چند باتیں بطور تنبیہ پیش خدمت ہیں:
[تنبیہ نمبر: 1] ابراہیم الاسلمی الکذاب کہتا ہے کہ : ”رأيت مشيخة من خيار أهل المدينة يظهرون على مسجد النبى – صلى الله عليه وسلم – ليلة العيد فيدعون ويذكرون الله حتى تنضي ساعة من الليل“ ”میں نے اہل مدینہ کے چند اچھے شیوخ کو دیکھا کہ وہ عید کی رات میں مسجد نبوی تشریف لاتے اور (وہاں) دعاء کرتے اور اللہ کا ذکر کرتے حتی کہ رات کا ایک حصہ ختم ہو جاتا“۔ (الأم : 264/1 الناشر: دار المعرفة – بيروت)
راقم با ادب عرض کرتا ہے کہ :
➊ وہ چند مشائخ کون ہیں؟ اس کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے۔
➋ تابعین کے عمل سے کوئی عبادت ثابت نہیں ہوتی ہے۔
➌ تابعین کا عمل حجت نہیں ہوتا ہے۔
➍ اس کو بیان کرنے والا ایک جھوٹا انسان ہے لہذا اس کی بات کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔
[تنبیہ نمبر : 2] امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”وبلغنا أنه كان يقال : إن الدعاء يستجاب فى خمس ليال فى ليلة الجمعة، وليلة الأضحى، وليلة الفطر، وأول ليلة من رجب، وليلة النصف من شعبان“ ”ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ کہا جاتا ہے کہ پانچ راتوں میں دعا قبول کی جاتی ہے:
(1) جمعہ کی رات ۔ (2) عید الاضحی کی رات۔ (3) عید الفطر کی رات۔ (4) رجب کی پہلی رات۔ (5) نصف شعبان کی رات“۔ (الأم : 264/1 الناشر: دار المعرفة – بيروت)
راقم با ادب عرض کرتا ہے کہ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام میں سے کسی سے ثابت نہیں ہے ۔ والله اعلم بالصواب لہذا یہ قول نا قابل التفات ہے۔
[تنبیہ نمبر : 3] امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”وبلغنا أن ابن عمر كان يحيي ليلة جمع“ ”ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ عید الاضحی کی رات کو زندہ (یعنی بیدار ہو کر عبادت کرتے تھے“۔ (الأم : 264/1 الناشر: دار المعرفة – بيروت)
راقم با ادب عرض کرتا ہے کہ — میرے علم کی حد تک — یہ چیز ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے۔ والله اعلم بالصواب. لہذا اس سے حجت نہیں پکڑی جاسکتی ہے۔
[تنبیہ نمبر : 4] امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”وأنا أستحب كل ما حكيت فى هذه الليالي من غير أن يكون فرضا“ ”ان راتوں کی بابت جو کچھ بیان کیا گیا ہے میں ان کو مستحب قرار دیتا ہوں لیکن وہ فرض نہیں ہے“۔ (الأم : 264/1 الناشر: دار المعرفة – بيروت)
راقم با ادب عرض کرتا ہے کہ امام صاحب نے جن چیزوں کو سامنے رکھ کر یہ بات کہی ہے وہ نا قابل اعتماد اور غیر ثابت شدہ ہیں لہذا امام صاحب کا مستحب کہنا درست نہیں ہے اللہ ان پر رحم فرمائے اور ان کی قبر کو نور سے بھر دے۔ آمین۔
خلاصة القول : عیدین کی شب خصوصی عبادت صحابہ کرام میں سے کسی سے ثابت نہیں ہے۔ اس تعلق سے جتنی روایتیں مروی ہیں وہ سب کی سب موضوع ہیں۔
ایک مقطوع روایت
◈جناب خالد بن معدان رحمہ اللہ کی روایت
✿ امام ابو محمد الحسن بن محمد البغدادی الخلال رحمہ اللہ (المتوفی : 439ھ ) فرماتے ہیں:
”حدثنا عمر بن أحمد بن هارون المقرئ ، ثنا أحمد بن الحسن الفقيه، ثنا الحسن بن علي، ثناسويد بن سعيد ثنا سلمة بن موسى الأنصاري بالشام ، عن أبى موسى الهلالي، عن خالد بن معدان قال : خمس ليال فى السنة من واظب عليهن رجاء ثوابهن وتصديقا بوعد من أدخله الله الجنة : أول ليلة من رجب يقوم ليلها ويصوم ،نهارها وليلة النصف من شعبان يقوم ليلها ويصوم ،نهارها وليلة الفطر يقوم ليلها ويصوم نهارها وليلة الأضحى يقوم ليلها ويصوم نهارها، وليلة عاشوراء يقوم ليلها ويصوم نهارها“.
[ترجمہ] جناب خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سال میں پانچ راتیں ایسی ہیں کہ جو شخص ثواب کی امید اور وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے ان پر (عبادت کرتے ہوئے) مداومت کرے گا تو اللہ تعالی اس کو جنت میں داخل کرے گا:
➊ رجب کی پہلی رات میں قیام کرے اور اس کے دن میں روزہ رکھے۔
➋ نصف شعبان کی رات میں قیام کرے اور اس کے دن میں روزہ رکھے۔
➌ عید الفطر کی رات میں قیام کرے اور اس کے دن میں روزہ رکھے۔
➍ عید الاضحی کی رات میں قیام کرے اور اس کے دن میں روزہ رکھے۔
➎ عاشوراء کی رات میں قیام کرے اور اس کے دن میں روزہ رکھے۔
[تخريج] (فضائل شهر رجب بتحقيق أبي يوسف عبد الرحمن، ص: 75، ح : 17)
[حکم حديث] اسناده ضعيف جدا (اس کی سند سخت ضعیف ہے)۔
[وجه ضعف] روایت ہذا کی سند میں دو علتیں ہیں:
➊ سلمة بن موسى الأنصاري : ان کی بابت جرح و تعدیل کا کوئی کلمہ مجھے نہیں مل سکا۔
ان کے ترجمے کے لئے دیکھیں:
◈ تاریخ دمشق لابن عساكر بتحقيق عمرو العمروي : 132/22، ت : 2626
◈ تعجيل المنفعة بزوائد رجال الأئمة الأربعة لابن حجر بتحقيق الدكتور إكرام الله : 605/1 ت: 408 و غیره
➋ أبو موسى الهلالي : یہ مجہول ہیں۔
ائمہ کرام کے اقوال پیش خدمت ہیں:
✿ امام ابو حاتم محمد بن ادریس الرازی رحمہ اللہ (المتوفى : 277 ھ ) : ”مجهول“ (الجرح والتعديل لابن أبي حاتم بتحقيق المعلمي : 438/9، ت: 2197)
✿ امام شمس الدین محمد بن احمد الذہبی رحمہ اللہ (المتوفى : 748 ھ ) : ”مجهول“ (المغني في الضعفاء بتحقيق الدكتور نور الدين: 810/2 ت: 7763)
لیلة الجائزہ والی روایت کی تحقیق
بعض حضرات عید الفطر کی رات کو ”لیلتہ الجائزہ“ کہتے ہیں اور بطور دلیل درج ذیل روایت پیش کرتے ہیں لیکن یہ روایت سخت ضعیف ہے۔ تفصیل پیش خدمت ہے:
✿ امام ابو الفرج عبد الرحمن بن علی الجوزی رحمہ اللہ (المتوفى : 597 ھ ) فرماتے ہیں:
”أخبرنا محمد بن ناصر وسعد الخير بن محمد، قالا: نا نصر بن أحمد بن البطر قال : نا أبو الحسن محمد بن أحمد بن رزقويه قال : نا عثمان بن أحمد الدقاق قال: أخبرنا أبو القاسم إسحاق بن إبراهيم بن سنين الختلي قال : نا العلاء بن عمرو الخراساني أبو عمرو قال : نا عبد الله بن الحكم البجلي قال : أبو عمر و فشككت فى شيء من هذا الحديث فكتبته من الحسن بن يزيد وكنت سمعته والحسن عن عبد الله بن الحكم قال : نا القاسم بن الحكم العرني ، عن الضحاك، عن ابن عباس، أنه سمع النبى صلى الله عليه وسلم يقول : فإذا كانت ليلة الفطر سميت ليلة الجائزة فإذا كانت غداة الفطر بعث الله تبارك وتعالى الملائكة فى كل ملا فيهبطون إلى الأرض فيقومون على أفواه السكك فينادون بصوت يسمعه جميع من خلق الله إلا الجن والإنس فيقولون يا أمة محمد اخرجوا إلى رب كريم يغفر العظيم…“
[ترجمہ] سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:۔۔۔۔۔ جب عید الفطر کی رات ہوتی ہے جسے لیلتہ الجائزہ (یعنی انعام کی رات) کہا جاتا ہے اور جب عید کی صبح ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتا ہے ، وہ زمین پر اتر کر تمام گلیوں میں ، راستوں کے سروں پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور پکارتے ہیں ، ان کی آواز جنوں اور انسانوں کے علاوہ تمام مخلوق سنتی ہے ۔ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ! اس کریم رب کی طرف چلو جو بڑے سے بڑے قصور کو معاف کرنے والا ہے۔۔۔۔
[تخريج] (العلل المتناهية في الأحاديث الواهية بتحقيق إرشاد الحق الأثري : 45/2 ح: 880 والترغيب والترهيب للاصبهاني بتحقيق أيمن بن صالح بن شعبان : 358/2 ح: 1768) و غيرهم
[حکم حديث] هذا حديث موضوع و اسناده ضعيف جدا منقطع (یہ حدیث موضوع ہے اور اس کی سند سخت ضعیف منقطع ہے)۔
✿ امام ابو الفرج عبد الرحمن بن علی الجوزی رحمہ اللہ (المتوفى : 597ھ ) : ”وهذا حديث لا يصح“ یہ حدیث ثابت نہیں ہے۔
✿ علامہ البانی رحمہ الله : ”موضوع“ (ضعيف الترغيب والترهيب : 300/1، ح : 594)
[سبب] روایت ہذا میں چار علتیں ہیں:
➊ أبو عمرو العلاء بن عمرو الخراساني : راقم کو اس کا ترجمہ نہیں مل سکا۔
➋ الحسن بن يزيد : راقم کو اس کا بھی ترجمہ نہیں مل سکا۔
➌ عبد الله بن الحكم البجلي : راقم کو اس کا بھی ترجمہ نہیں مل سکا۔
(4) الضحاك بن مزاحم الهلالي، أبو القاسم : آپ ثقہ صدوق راوی ہیں لیکن آپ نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کچھ نہیں سنا ہے۔
ائمہ کرام کے اقوال پیش خدمت ہیں:
✿ امام ابو عبد اللہ احمد بن حنبل رحمہ اللہ (المتوفى: 241 ھ ) : ”ثقة مأمون“ (العلل ومعرفة الرجال بتحقيق وصی الله بن محمد عباس : 309/2 ت: 2375)
✿ امام ابوزرعہ الرازی رحمہ اللہ (المتوفی : 264ھ ) : امام ابو محمد عبد الرحمن بن ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ (المتوفی: 327ھ) فرماتے ہیں: ”سئل أبو زرعة عن الضحاك سمع من ابن عباس، قال: لا ، قيل له : ولا شيئا، قال: ولا شيئا“ ”امام ابوزرعہ رحمہ اللہ سے ضحاک رحمہ اللہ کے متعلق سوال کیا گیا کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں۔ ان سے کہا گیا: کچھ بھی نہیں سنا ہے؟ فرمایا: کچھ بھی نہیں“۔ (المراسيل بتحقيق شكر الله نعمة الله ص: 96 ت : 346)
✿ امام ابو حاتم محمد بن حبان البستی ، المعروف بابن حبان رحمہ اللہ (المتوفى : 354 ھ ) : ”لم يسمع من ابن عباس ولا من أحد من الصحابة شيئا“ ”آپ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما اور کسی بھی صحابی سے کچھ نہیں سنا ہے“۔ (مشاهير علماء الأمصار وأعلام فقهاء الأقطار بتحقيق مرزوق على ابراهيم ص: 308 ت : 1562)
✿ امام ابو الحسن علی بن عمر البغدادی الدار قطنی رحمہ اللہ (المتوفى : 385ھ ) : ”ثقة لم يسمع من ابن عباس شيئا“ ”ثقہ ہیں ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کچھ نہیں سنا ہے۔“(سؤالات البرقاني للدار قطني بتحقيق عبد الرحيم القشقري ص: 38 ت : 236)
✿ امام شمس الدین محمد بن احمد الذہبی رحمہ اللہ (المتوفى : 748 ھ ) : ”وهو حسن الحديث“ ”یہ حسن الحدیث ہیں“۔ (دیوان الضعفاء بتحقيق حماد الأنصاري ص : 198، ت: 1984) ”وهو صدوق فى نفسه“ ”یہ فی نفسہ صدوق ہیں“۔ (سیر أعلام النبلاء بتحقيق مجموعة من المحققين : 598/4 ت: 238)
مزید اقوال کے لئے دیکھیں: (تهذيب الكمال للمزى بتحقيق الدكتور بشار عواد : 291/13 ت : 2928) و غیره
⟐ اب چند باتیں بطور تنبیہ پیش خدمت ہیں:
[تنبیہ نمبر : 1] امام ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”وقال ابن حبان: لا يجوز الاحتجاج بالعلاء بن عمرو“ ”امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں : علاء بن عمرو سے احتجاج نہیں کیا جائے گا“۔ (العلل المتناهية في الأحاديث الواهية بتحقيق إرشاد الحق الأثري: 46/2، ح:880)
راقم با ادب عرض کرتا ہے کہ جس علاء کے بارے میں امام ابن حبان رحمہ اللہ نے یہ بات کہی ہے وہ ”أبو محمد العلاء بن عمرو الحنفي الكوفي“ ہے، نہ کہ ابو عمرو الخراسانی جو یہاں سے معروف ہے۔
[تنبیہ نمبر : 2] امام ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”قال أبو حاتم الرازي : والقاسم بن الحكم مجهول“ ”امام ابو حاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قاسم بن الحکم مجہول ہے“۔
راقم با ادب عرض کرتا ہے کہ امام ابو حاتم رحمہ اللہ نے ابن الحکم کو مجہول نہیں کہا ہے بلکہ آپ نے یہ کہا کہ : ”محله الصدق، يكتب حديثه، ولا يحتج به“ ”یہ صدوق ہے ، اس کی حدیث لکھی جائے گی لیکن اس سے احتجاج نہیں کیا جائے گا“۔ (الجرح والتعديل لابن ابی حاتم بتحقيق المعلمي : 109/7، ت: 629)
◈ حماد بن سلیمان السدوسي نے قاسم بن الحکم العرني کی متابعت کی ہے لیکن وہ بھی ناقابل التفات ہے۔
تفصیل پیش خدمت ہے:
✿ امام ابو محمد عبد العزيز بن احمد الكتاني الدمشقی رحمہ اللہ (المتوفى 597 ھ ) فرماتے ہیں:
”أخبرنا أبو على الحسن بن على بن إبراهيم بن يزداد الفارسي، ثنا أبو حفص عمر بن داود بن سلمون الأنطرسوسي، نا محمد بن الحسين أبى الذيال الأصبهاني المعروف بالجوازلي، نا محمد بن إسحاق الشقار نا سلمة بن شبيب، نا القاسم بن الحكم نا هشام بن الوليد، نا حماد بن سليمان السدوسي عن الضحاك بن مزاحم عن ابن عباس سمع النبى صلى الله عليه وسلم فى حديث ذكره فى فضل شهر رمضان، فقال: ((إذا كان فى ليلة الفطر سقيت تلك الليلة: ليلة الجائزة، فإذا كان غداة الفطر بعث الله عز وجل الملائكة فى كل البلاد…))“
[تخريج] (مسلسل العيدين بتحقيق مجدي فتحي السيد، ص: 40، ح : 22)
[حکم حديث] هذا حديث موضوع و اسناده هالك منقطع
✿ شیخ مجدی حفظه الله : ”حديث باطل و اسناده موضوع“.
[سبب] روایت ہذا کی سند میں علتوں کی کثرت ہے۔
ان میں سے چند درج ذیل ہیں :
➊ عمر بن داود بن سلمون، أبو حفص الأنطرطوسي الأطرابلسي : یہ متہم اور موضوع روایتیں بیان کرنے والا راوی ہے۔
✿ امام شمس الدین محمد بن احمد الذہبی رحمہ اللہ (المتوفى: 748ھ ) : ”متهم، يأتى بالموضوعات“ (ذيل ديوان الضعفاء والمتروكين بتحقيق حماد بن محمد الأنصاري، ص: 51، ت: 300)
نیز دیکھیں: (لسان الميزان للحافظ بتحقیق ابي غدة: 95/6، ت: 5611)
➋ محمد بن الحسين بن أبى الذيال الأصبهاني
➌ محمد بن إسحاق الشقار
راقم کو ان دونوں کا ترجمہ نہیں مل سکا۔
مسلسل العیدین کے محقق ان کی بابت فرماتے ہیں: ”لم اقف عليهما“ ”میں ان دونوں سے واقف نہیں ہو سکا“۔
➍ حماد بن سليمان السدوسي : یہ یا تو مجہول ہے یا ان راویوں میں سے ہے جن کا ترجمہ راقم کو نہیں مل سکا۔
✿ امام ابوبکر احمد بن الحسین البیہقی رحمہ اللہ (المتوفى: 458ھ) اپنی کتاب السنن الکبری میں ایک روایت کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ”حماد بن سليمان هذا مجهول“ ”حماد بن سلیمان مجہول ہے“۔ (السنن الكبرى بتحقيق محمد عبد القادر عطا : 34/10 ، ح : 19769)
➎ انقطاع : ضحاک رحمہ اللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کچھ نہیں سنا ہے۔ اس کی بابت ائمہ کرام کے اقوال گزر چکے ہیں۔
کیا عید الفطر کا دن ”یوم الجوائز“ ہے؟
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفا ایک روایت مروی ہے جس میں عید الفطر کے دن کو ”یوم الجوائز“ کہا گیا ہے لیکن وہ بھی نا قابل التفات ہے۔
تفصیل پیش خدمت ہے:
✿ امام ابومحمد عبد العزیز بن احمد الکتانی الدمشقی رحمہ اللہ (المتوفی: 597ھ) فرماتے ہیں:
”أخبرنا أبو محمد عبد الرحمن بن عثمان بن القاسم بن أبى نصر، أنا عتي أبو على محمد بن القاسم، نا أحمد بن على بن سعيد القاضي، ثنا محمد بن حرب، نا شجاع بن الوليد نا زياد بن خيثمة، عن بلال بن قيس، عن عكرمة، عن ابن عباس قال : يوم الفطر يوم الجوائز، إذ خرجوا إلى المصلى أعطوا جوائزهم“.
[ترجمہ] سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: یوم الفطر یوم الجوائز ہے۔ جب لوگ عید گاہ کی طرف نکلتے ہیں تو ان کے انعامات ان کو دیئے جاتے ہیں۔
[تخريج] (مسلسل العيدين بتحقيق مجدي فتحي السيد، ص: 39، ح : 21)
[حکم حديث] هذا حديث موقوف و اسناده ضعيف جدا (یہ حدیث موقوف ہے اور اس کی سند سخت ضعیف ہے)۔
✿ شیخ مجدی حفظه الله : ”اسناده ضعيف جدا و الحديث مرسل“.
[وجه ضعف] روایت ہذا کی سند میں دو علتیں ہیں۔
➊ أبو على محمد بن القاسم الدمشقي : انہوں نے احمد بن علی المروزی رحمہ اللہ سے ان کی اکثر کتابوں کو روایت کیا ہے اور ان میں وہ متہم ہیں ۔
ائمہ کرام کے اقوال پیش خدمت ہیں :
✿ امام ابومحمد عبد العزیز بن احمد الکتانی الدمشقی رحمہ اللہ (المتوفى: 597 ھ ) : ”حدث عن أبى بكر أحمد بن على بن سعيد القاضي المروزي بأكثر كتبه اتهم فى ذلك ، وذكر أن أكثرها إجازة“ ”انہوں نے ابو بکر احمد بن علی المروزی رحمہ اللہ سے ان کی اکثر کتابوں کو روایت کیا ہے، ان میں وہ متہم ہیں اور یہ ذکر کیا گیا ہے کہ اس کا اکثر حصہ اجازت ہے“۔ (تاريخ دمشق لابن عساكر بتحقيق عمرو بن غرامة العمروي : 104/55 ، ت: 6915)
✿ امام شمس الدین محمد بن احمد الذہبی رحمہ اللہ (المتوفى : 748ھ ) : ”له جزء سمعناه وقد اتهم فى إكثاره، عن أبى بكر أحمد بن علي“ ”اس کے ایک جزء کو جو ابو بکر احمد بن علی سے ہے، ہم نے سنا ہے اس کی اکثر و بیشتر احادیث میں وہ متہم ہے“۔ (ميزان الاعتدال بتحقيق البجاوي: 14/4، ت: 8076)
➋ بلال بن قيس : راقم کو اس کا ترجمہ نہیں مل سکا۔
مسلسل العیدین کے محقق – حفظہ اللہ فرماتے ہیں: ”لم اقف عليه“ ”میں اس سے واقف نہیں ہو سکا“.
[تنبیہ] شیخ مجدی حفظہ اللہ نے زیر بحث روایت کو مرسل کہا ہے۔ اس کی وجہ میں نہیں جان سکا ۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے شاید شیخ کو وہم ہو گیا ہے ۔ والله اعلم بالصواب.
وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين
حافظ اکبر علی اختر علی سلفی
اسلامک انفارمیشن سینٹر ، اندھیری ممبئی