قیامت کی نشانی : مساجد میں زیب وزینت اور فخر و مباہات کیا جائے گا
عن أنس رضى الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا تقوم الساعة حتى يتباهى الناس فى المساجد
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم نہ ہو گی حتی کہ لوگ مسجدوں میں فخر و مباہات کریں گے۔“
[احمد (170/3 – 183 – 290 – 309) ابو داؤد (449) ابن ماجه (724) ترمذی (1408) ابن خزیمہ (322) ابن حبان (1614) شرح السنہ (113/2) صحیح الجامع (174/6)]
ایک روایت میں ہے کہ قیامت کی علامات سے ہے کہ لوگ مسجدوں کو سجایا کریں گے۔
[ابن خزیمہ (1322) شرح السنہ (466) نسائی (690) صحیح الجامع الصغیر (213/5)]
عن أبى الدرداء رضى الله عنه قال: إذا زوقتم مساجدكم وحليتم مصاحفكم فالدمار عليكم
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب تم لوگ مسجدوں کو سجانے لگو اور قرآن کو مزین کرنے لگو تو تمہاری بربادی ہے۔“
[صحیح الجامع (220/1) الزهد لابن المبارک (797) السلسلة الصحيحة (337/3) وحکم بلمرفوع شرح السنہ(250/1)]
نیز حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جب مسجد کی تعمیر نو فرمائی تو (معمار سے) کہا: ”سرخ و زرد (چونے گیج) نہ کرنا مبادا کہ لوگ فتنے میں مبتلا ہو جائیں۔“
[بخاری: کتاب الصلوٰۃ: باب بنیان المساجد]
فوائد
(1) مساجد کو سجانا (Decoration) قیامت کی ایک نشانی ہے۔
(2) مساجد میں اپنے دنیاوی کارناموں کو فخر سے بیان کرنا بھی اس میں شامل ہے۔
(3) یہ نشانی عرصہ دراز سے شروع ہو چکی ہے اور بتدریج شدت پکڑ رہی ہے۔ حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ ”عبد الملک بن مروان (11ھ) نے اپنے دور خلافت میں بیت المقدس کو سونے اور چاندی وغیرہ سے اس قدر مزین (Decorated) کر دیا کہ لوگ اسے حرمین پر ترجیح دینے لگے اور ہمارے زمانے تک اس کے اثرات مندمل نہیں ہوئے۔“
[البدایہ والنہایہ (383/8)]
(4) بقدر ضرورت مسجد کو وسیع کرنا، ضروری سہولیات مہیا کرنا، قالین وغیرہ پاک صاف رکھنا جائز ہی نہیں ضروری بھی ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ”محلوں میں مسجدیں بناؤ اور انہیں پاک صاف رکھو۔“
[ابو داؤد: کتاب الصلوٰۃ: باب اتخاذ المساجد فی الدور (51) ترمذی (594) احمد]
(5) مسجدوں میں بلا ضرورت قندیلیں لٹکانا، موم بتیاں جلانا، جھنڈیاں لگانا اور اس طرح کے بلا مقصد جملہ امور قیامت کی نشانیوں میں سے ہیں۔
(6) نافرمان لوگ یہ اقدام ضرور کریں گے جیسا کہ عام مشاہدے سے ثابت ہے مگر کوشش کی جائے کہ ان نافرمانوں کی فہرست میں کہیں ہم داخل نہ ہو جائیں۔
(7) مساجد کی بلا ضرورت زیب و زینت یہود و نصاریٰ کی روش ہے جن کی مخالفت مسلمانوں پر لازم ہے۔
(8) مسجد کے آداب کا خیال رکھتے ہوئے شور و غل مچانا، کاروبار کرنا، دنیاوی باتیں کرنا یا گمشدہ چیزوں کا اعلان وغیرہ کرنا بھی درست نہیں۔