قیامت کی نشانی : جھوٹے نبیوں اور دجالوں کا ظہور

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانی : جھوٹے نبیوں اور دجالوں کا ظہور

عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا تقوم الساعة حتى يبعث دجالون كذابون ، قريب من ثلاثين ، كلهم يزعم أنه رسول الله ، وفي رواية ، كلهم يكذب على الله عز وجل ورسوله صلى الله عليه وسلم
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک کہ تیس کے قریب دجال اور جھوٹے نہ ظاہر ہو جائیں جن میں سے ہر ایک رسول ہونے کا دعویٰ کرے گا۔“
بخاری : کتاب المناقب : باب علامات النبوة في الاسلام :3609 مسلم : 157 ابو داؤد : 434 احمد : 311/2 ترمذی : 2218 : ابن حبان : 6651/15
ایک روایت میں ہے کہ ہر ایک اللہ عزوجل اور اس کے رسول (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بہتان باندھے گا۔
وعن جابر بن سمرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن بين يدي الساعة كذابين فاحذروهم
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت سے پہلے جھوٹے لوگ ظاہر ہوں گے ان سے محتاط رہو۔“
مسلم : کتاب الفتن : باب لا تقوم الساعة حتى يمر الرجل : 2923 احمد : 122/5 دلائل النبوة : 480/4
عن ابن عمر رضي الله عنهما عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : ليكونن قبل المسيح الدجال كذابون ثلاثون أو أكثر ، وفي رواية ، قبل يوم القيامة
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مسیح دجال یا قیامت سے پہلے تیس یا اس سے کچھ زیادہ دجال اور کذاب ظاہر ہوں گے۔“
احمد : 128/2 -139 مجمع الزوائد : 642/7 مسند ابی یعلی : 57006 السلسلة الصحيحة : 251/4
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”آخری زمانے میں میری امت میں کچھ لوگ ایسے ظاہر ہوں گے جو تمہیں ایسی حدیثیں (خود گھڑ کے) سنائیں گے جو تم نے سنی ہیں نہ تمہارے آباؤ اجداد نے، اپنے آپ کو ان لوگوں سے بچا کر رکھنا۔“
مسلم : المقدمه : باب النهي عن الرواية عن الضعفاء : 6 احمد : 423/2 – 460 ابن حبان : 168/15 دلائل النبوة : 550/6 مشکل الآثار : 397/7
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دین قائم رہے گا حتی کہ قریش سے بارہ خلفاء ہوں گے۔ پھر قیامت سے پہلے جھوٹے ظاہر ہوں گے۔ مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت کسری کے سفید خزانے حاصل کر لے گی۔“
مسلم : کتاب الامارة : باب الناس تبع لقریش والخلافة في قریش : 1822 احمد : 9/5 – 118 طبرانی کبیر : 218/2 ابو داؤد : 3279
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے ہاتھوں میں سونے کے وہ کنگن ہیں جنہیں دیکھ کر مجھے بڑی پریشانی لاحق ہوئی تو مجھے کہا گیا کہ ان میں پھونکیں۔ میں نے پھونکا تو وہ تائب ہو گئے میں نے اس (خواب) کی یہ تعبیر کی ہے کہ دو جھوٹے ظاہر ہوں گے ایک تو مسیلمہ کذاب ہے اور دوسرا (اسود) عنسی کذاب ہے۔“
بخاری : کتاب المناقب : باب علامات النبوة : 374 – 3620 مسلم : 2274 احمد : 446/2 – 453 ترمذی : 2292 ابن ماجة : 3969
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ثقیف (قبیلہ) سے دو کذاب نکلیں گے۔ دوسرا پہلے سے زیادہ خطرناک ہوگا اور وہ مہلک ثابت ہوگا۔“
مسلم : کتاب فضائل الصحابہ : باب ذکر کذاب ثقیف و مبیرها 2545 احمد : 6/6 – 395 حاکم : 571/4 دلائل النبوة : 381/6
حضرت عبید اللہ بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : مسیلمہ کذاب مدینے میں بنت حارث کے گھر آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس کے پاس گئے۔ آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی جس پر ٹیک لگا کر آپ نے اس سے گفتگو کی۔ مسیلمہ نے کہا کہ اگر آپ اپنے بعد سیادت و قیادت میرے لیے چھوڑ دیں (تو میں صلح کر لیتا ہوں)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو یہ چھڑی بھی مجھ سے مانگے تو میں تجھے ہرگز نہ دوں، مجھے تو تیرا انجام خواب میں دکھا دیا گیا ہے۔ یہ ثابت بن قیس میری طرف سے تجھے (باقی سوالوں کے) جواب دے گا۔“ یہ کہہ کر آپ پلٹ آئے۔
بخاری : کتاب المغازی : باب قصة الاسود العنسی : 4378
فوائد :
(1) قیامت سے پہلے دجالوں، کذابوں اور جھوٹے مدعیان نبوت کا ظہور قیامت کی ایک نشانی ہے۔
(2) اس نشانی کا ظہور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور مبارک سے شروع ہو کر قیامت تک جاری رہے گا اور دجال اکبر اسی سلسلے کی آخری کڑی ہے۔
(3) جھوٹے مدعی نبوت کم و بیش تیس (30) ہوں گے۔
حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ جن روایات میں تیس سے زیادہ تعداد بتائی گئی ہے ان میں سے کوئی بھی سند صحیح ثابت نہیں۔ اگر فی الواقع انہیں صحیح تسلیم بھی کر لیا جائے تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ نبوت کا دعوی کرنے والے تقریباً تیس ہوں گے جبکہ باقی محض کذاب ہوں گے۔
فتح الباری : 93/13
(4) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں دو بندوں نے نبوت کا دعوی کیا: مسیلمہ اور اسود عنسی۔ مؤخر الذکر تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں ہی صحابہ رضی اللہ عنہم کے ہاتھوں مارا گیا جبکہ مقدم الذکر (مسیلمہ کذاب) کو عہد صدیقی میں جنگ یمامہ میں کیفر کردار تک پہنچایا گیا۔ اسی طرح سجاح بنت حارث نامی عورت نے نبوت کا دعوی کیا پھر مسیلمہ کذاب سے شادی رچالی اور بطور مہر اپنی قوم کے لیے فجر و عشاء کی نمازیں معاف کروائیں مگر جب مسیلمہ مارا گیا تو یہ عورت تائب ہو گئی۔ علاوہ ازیں طلیحہ بن خویلد اسدی نے بھی نبوت کا دعوی کیا مگر بعد میں اس نے توبہ کی اور اسلام کی طرف لوٹ آیا پھر مرتے دم تک اسلام سے مخلص رہا۔
مختار بن ابی عبید ثقفی اہل بیت سے محبت کا لبادہ اوڑھ کر اور خون حسین کا مطالبہ لے کر ظاہر ہوا جب اسے خوب شہرت ہو گئی تو اس نے نبوت کا دعوی کر دیا بالآخر بری موت سے جہنم واصل ہوا۔ حارث کذاب نے عبد الملک بن مروان کے دور خلافت میں دعوی کیا اور مقتول ہوا۔ عہد عباسیہ میں بھی کئی کذاب ظاہر ہوئے اور انجام بد کو پہنچے۔
[تفصیل کے لیے دیکھئے : فتح الباری : 617/6 – 714 البدایة والنہایة : 311/6 – 277/8 منہاج السنة : 226/3 بقیة المرتاد : 486 لابن تیمیہ شرح مسلم للنووی : 100/15
(5) امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ قبیلہ ثقیف کے ”کذاب“ سے مراد مختار ثقفی ہے جبکہ ”مہلک“ سے مراد حجاج بن یوسف ہے۔
النبوات ص : 441
یہی بات حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے حجاج بن یوسف سے کہی تھی۔
مسلم کتاب فضائل الصحابہ : باب ذکر کذاب ثقیف ومبیرها : 2545
(6) حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق کئی کذاب دجال تو تاریخ میں ظاہر ہو کر اپنے اپنے حصے کی ذلت و رسوائی حاصل کر چکے ہیں جبکہ کئی ابھی قیامت تک قعر مذلت میں گرنے کے لیے باقی ہیں۔
(7) مرزا غلام احمد قادیانی بھی جھوٹے نبیوں کی فہرست میں داخل ہے جس نے گرگٹ کی طرح کئی روپ دھارے مگر توبہ نہ کرنے کی وجہ سے زندگی میں ہی بدنام زمانہ ثابت ہوا۔
(8) پیر ریاض احمد المعروف گوہر شاہی بھی اس فہرست میں نام لکھوانے کے لیے پر تول رہا ہے جو تا حیات ہے اسے چاہیے کہ گذشتہ رسوا ہونے والوں سے سامان عبرت لے اور بلا تاخیر توبہ کر کے اسلام کے ساتھ مخلص ہو کر مرے، جس طرح طلیحہ بن خویلد کی مثال موجود ہے۔
(9) کچھ لوگ نبوت کا دعوی تو نہیں کریں گے مگر اپنے کذب و فریب اور دجل و دمکر سے اسلام کی حقیقی صورت کو مسخ کر کے حدیث نبوی کے مصداق اور عذاب جہنم کے حقدار بنتے رہیں گے۔ حافظ ابن حجر کے نزدیک عالی و باطنی شیعہ اور وحدت الوجود اور حلول کے قائل صوفیا بھی اسی زمرے میں شامل ہیں۔ (اللهم لا تجعلنا منهم)
فتح الباری : 93/13
(10) دجال اکبر تمام کذابوں، دجالوں اور جھوٹے نبیوں کا لیڈر ہوگا جس کا ظہور قیامت سے متصل پہلے ہوگا اور وہ فی الواقع دجل و فریب کے گذشتہ تمام ریکارڈ توڑ دے گا۔