قومِ نوح میں شرک کیسے شروع ہوا؟ حدیث کی روشنی میں جواب
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال:

نوح علیہ السلام کی قوم جن پانچ خداؤں کی عبادت کرتی تھی، وہ بت تھے یا قوم کے نیک لوگ؟

جواب:

اس سوال کا جواب سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے صراحتاً صحیح بخاری میں موجود ہے کہ وہ قومِ نوح کے نیک بندوں کے نام ہیں۔ جب وہ فوت ہو گئے تو شیطان نے ان کی قوم کے دلوں میں یہ بات ڈال دی کہ اپنی بیٹھکوں میں ان کے مجسمے بنا کر رکھ لو۔ انھوں نے ایسے ہی کیا، جب یہ مجسمے بنانے والے مر گئے تو ان کے بعد والی نسل نے ان کی تصویروں اور مجسموں کی عبادت شروع کر دی۔
(بخاری، کتاب التفسیر، سورۃ نوح، باب ودًا ولا سواعًا ولا يغوث ويعوق 1920)
اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ مشرکینِ عرب کا شرک بھی ایسا ہی تھا کہ انھوں نے نیک بندوں کی وفات کے بعد انھیں مشکل کشا حاجت روا سمجھ لیا اور ان کے نام پر نذر و نیاز دینا شروع کر دی۔ ورنہ خالقِ حقیقی وہ بھی اللہ ہی کو مانتے تھے، جیسا کہ سورۂ عنکبوت کی آیت (65) میں ہے کہ جب وہ کشتیوں میں سوار ہو جاتے تو خالص اللہ ہی کو پکارتے تھے۔ سورۂ بنی اسرائیل کی آیت (67) میں بھی یہی مضمون بیان ہوا ہے۔ اس مسئلہ کی تفصیل راقم نے اپنی کتاب ”کل شرک گو“ میں بیان کر دی ہے۔ اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو شرک جیسے گھناؤنے عقیدہ سے دل سے نجات دے۔ (آمین)

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے