مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

قسطوں پر بیع عینہ کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
مؤلف : ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمٰن اعظمی رحمہ اللہ

قسطوں پر حرام بیع کی ایک اور صورت

جب انسان کوئی چیز قسطوں پر ادھار خرید لے، پھر جس سے خرید لے اسے ہی نقد بیچ دے، اسے بیع عینہ کہا جاتا ہے جو جائز نہیں، لیکن اگر کسی دوسرے کو بیچ دے تو اس میں کوئی حرج نہیں، جیسے اس نے قسطوں پر گاڑی خریدی، پھر وہ گاڑی کسی دوسرے کو نقدی دی تاکہ شادی کرے، یا اپنے قرض ادا کر لے، یا گھر خرید لے تو اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن گاڑی یا کوئی اور چیز قسطوں پر خرید کر اس شخص کو نقد بیچ دینا عینہ کہلاتا ہے کیونکہ زیادہ ادھار درہموں (پیسوں) کے بدلے کم نقد درہم حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
[ابن عثيمين: نور على الدرب: 13/19]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔