یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔
سوال:
کیا اس طرح کی کوئی حدیث ہے کہ قرض دو طرح کا ہوتا ہے؟ (بینوا تو جروا)
جواب:
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے طبرانی میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرض دو قسم کا ہے، ① جو شخص مر گیا اور وہ اپنا قرض ادا کرنے کی نیت رکھتا تھا تو میں اس کا ولی (ذمہ دار) ہوں اور ② جو اس حال میں مرا کہ وہ قرض کی ادائیگی کی نیت نہیں رکھتا تھا تو یہ وہ آدمی ہے جس کی نیکیاں لی جائیں گی، اس دن جس دن دینار و درہم نہ ہوگا۔“
شیخ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
(صحیح الجامع 3418)، أحكام الجنائز (5)
لہٰذا قرض کو ادا کرنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے، بلکہ حتی الوسع قرض لینے ہی سے بچا جائے۔ اللہ تعالیٰ تمام مقروض لوگوں کو قرض سے نجات دلائے۔ (آمین!)