صرف 3 دن قربانی سے متعلق شیخ زبیر علی زئی کے دلائل اور شیخ شریف شاکر صاحب کے معروضات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب قربانی کے احکام و مسائل سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

جمہور صحابہ کرام اور ایام قربانی

قربانی کے تین دن ہیں یا چار؟ اس بارے میں علمائے اہلِ حدیث کے درمیان اختلاف ہے۔ اس سلسلے میں ایک مرفوع روایت بیان کی جاتی ہے کہ ایام تشریق ذبح کے دن ہیں، لیکن یہ روایت اپنی تمام سندوں کے ساتھ ضعیف ہے، جیسا کہ راقم الحروف نے تحقیق کر کے ثابت کر دیا ہے۔
(دیکھئے میری کتاب توضیح الاحکام ج 2 ص 177-179، قربانی کے تین دن ہیں)
اس روایت کو شیخ البانی، حافظ الیاس اثری اور ڈاکٹر محمد شریف شاکر وغیرہم میں سے کوئی بھی باسند صحیح ثابت نہیں کر سکا، بلکہ سب ناکام رہے ہیں۔
روایت کے ضعیف و مردود ہونے کے بعد عرض ہے کہ سلف صالحین میں قربانی کے دنوں میں اختلاف رہا ہے، جس کا مختصر تذکرہ درج ذیل ہے:
➊ جمہور صحابہ کرام یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے کہ قربانی کے تین دن ہیں۔
(احکام القرآن للطحاوی: 205/2 ح 1571، وسندہ حسن، دیکھئے الحدیث حضرو: 44 ص 10)
صحابہ کرام میں سے کسی ایک صحابی سے بھی باسند صحیح یا حسن لذاتہ یہ ثابت نہیں کہ قربانی کے چار دن ہیں۔ اس سلسلے میں حافظ الیاس اثری اور ڈاکٹر محمد شریف وغیرہما جو آثار صحابہ پیش کرتے ہیں، وہ سارے کے سارے بے سند اور غیر ثابت ہونے کی وجہ سے مردود کے حکم میں ہیں۔
ان کے مقابلے میں صرف سیدنا ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے آخری ذوالحجہ تک قربانی کرنے کا قول آیا ہے۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی 297-298/9، وسندہ صحیح)
یہ قول جمہور صحابہ اور خصوصاً خلیفہ راشد سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے خلاف ہونے کی وجہ سے مرجوح ہے۔
تابعین میں سے امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ، امام عطاء بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ اور امام عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ سے قربانی کے چار دن ثابت ہیں۔
➋ تابعین کرام کے یہ آثار چونکہ صحابہ کرام کے آثار کے خلاف ہیں، لہذا ان کے مقابلے میں صحابہ کرام کے آثار کو ہی ترجیح حاصل ہے۔
اس تمہید کے بعد عرض ہے کہ محمد شریف شاکر صاحب کا ایک مضمون: ”قربانی کے چار دن“ ہفت روزہ اہل حدیث لاہور میں شائع ہوا ہے۔
(ج 41 شمارہ 46 ص 21-2 نومبر تا دسمبر 2010ء) ہمارے اس مضمون میں شاکر صاحب کے اعتراضات ”ش ش“ کے مخفف سے اور ان کے جوابات پیش خدمت ہیں:

ش ش (1):

”موصوف کا یہ جواب نامکمل ہے کیونکہ آپ نے بہت کچھ نظر انداز کر دیا۔“ (ص 21)
عرض ہے کہ میرا جواب بحمد اللہ مکمل ہے اور میں نے وہی باتیں نظر انداز کی ہیں جن کا اصل موضوع کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

ش ش (2):

”میرے مضمون میں یہ عبارت: کیا کوئی صاحب علم کسی منسوخ حدیث کو بطور دلیل پیش کر سکتا ہے؟ موصوف نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔“ (ص 21)

الجواب:

یہ موضوع سے غیر متعلقہ بات ہے، کیونکہ میری دلیل سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول اور آثار صحابہ ہیں، جبکہ مشار الیہ حدیث کو تو توضیح الاحکام میں سائل کے سوال کا جواب لکھنے کے بعد آخر میں بطور فائدہ ذکر کیا گیا تھا اور ساتھ یہ بھی وضاحت کر دی گئی تھی کہ بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا۔ (دیکھئے الحدیث حضرو: 44 ص 11)
ماہنامہ الحدیث کا یہی تو وہ شاندار منہج ہے کہ قارئین کے سامنے دونوں رخ پیش کر دیئے جاتے ہیں اور اس منہج کے جواب سے تمام آل تقلید اور آل دیوبند عاجز و ساکت اخرس ہیں۔ والحمد للہ
کوئی صاحب علم بھی منسوخ حدیث کو منسوخ شدہ مسئلے کے جواز کے لئے بطور دلیل پیش نہیں کر سکتا اور نہ راقم الحروف نے کسی منسوخ حدیث کو کسی منسوخ شدہ مسئلے کے جواز کے لئے بطور دلیل کبھی پیش کیا ہے۔ رہی تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے والی منسوخ روایت تو منسوخ کی صراحت کے ساتھ اسے آخر میں بطور فائدہ ذکر کر کے یہ لکھ دیا تھا کہ اس ساری تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ سے صراحتاً اس باب میں کچھ بھی ثابت نہیں ہے اور آثار میں اختلاف ہے، لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور جمہور صحابہ کرام کا یہی قول ہے کہ قربانی کے تین دن (عید الاضحی اور دو دن بعد) ہیں، ہماری تحقیق میں یہی راجح ہے اور امام مالک وغیرہ نے بھی اسے ہی ترجیح دی ہے۔ واللہ اعلم (2/مئی 2007ء) (الحدیث: 44)
یہ وہ عبارت ہے جس نے ”شش“ اور ان جیسے لوگوں کو پریشان و سرگردان کر رکھا ہے اور بے چارے جھنجھوڑیاں کھا رہے ہیں۔

ش ش (3):

”موصوف کی پیش کردہ منسوخ حدیث کے جواب میں علامہ ابن قیم“ (ص 21)

الجواب:

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قول اور آثار صحابہ کا جواب دیں، جو کہ راقم الحروف کے اعتراف و صراحت کے ساتھ پہلی دلیل ہیں۔ (دیکھئے میری کتاب تحقیقی مقالات 263/3) کیا آپ اور آپ کے تمام مؤیدین کسی ایک صحابی سے بھی یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ قربانی کے چار دن ہیں؟ رہی منسوخ حدیث اور حافظ ابن القیم وغیرہ کا کلام تو یہ میری اصل دلیل ہی نہیں بلکہ اسے بطور فائدہ ذکر کیا تھا اور اصل مسئلے میں وجہ اعتراض نہ ملنے کی وجہ سے مخالفین اسی فائدے پر سینہ آزمائی کر رہے ہیں، حالانکہ یہ ذیلی دلیل صرف میرا استدلال نہیں بلکہ مجھ سے پہلے ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی یہی استدلال کیا ہے۔ (دیکھئے المغنی 359/9 مسئلہ: 7883) ابن قدامہ سے پہلے ابو الولید الباجی (متوفی 494ھ) نے بھی اسی حدیث سے یہی استدلال کیا ہے۔ دیکھئے الاستقی شرح الموطا للباجی (194/4)
قاضی عیاض مالکی (متوفی 544ھ) نے بھی اپنے بعض مشائخ سے یہی استدلال نقل کیا ہے۔ دیکھئے إعلام الموقعین (433/6)
رہا حافظ ابن القیم کا یہ قول کہ یہ حدیث قربانی کرنے والے کو اپنی قربانی ذبح کرنے کے آغاز سے تین دن سے زائد گوشت ذخیرہ کی ممانعت پر دلالت کرتی ہے۔ الخ
عرض ہے کہ حافظ ابن القیم نے اس بات کی کوئی صریح دلیل ذکر نہیں کی اور حافظ ابوالعباس القرطبی (متوفی 656ھ) نے لکھا ہے:
”واختلف فى أول الثلاثة الأيام التى كان الإدخار جائزا فيها. فقيل: أولها يوم النحر فمن ضحى فيه جاز له أن يمسك يوم النحر ويومين بعده. ومن ضحى بعده أمسك ما بقي له من الثلاثة الأيام من يوم النحر“
اور تین دنوں میں سے پہلے دن کے بارے میں اختلاف ہے، جس میں (گوشت کو) ذخیرہ کرنا جائز تھا، پس کہا گیا ہے کہ نحر والا دن (10 ذوالحجہ) پہلا دن ہے، لہذا اس میں ذبح کرے تو اس کے لئے جائز ہے کہ اس دن اور اس کے بعد دو دن (گوشت) ذخیرہ کر لے۔ اور جو شخص اس (پہلے) دن کے بعد ذبح کرے تو تین دنوں میں سے جو باقی رہ گئے ہیں ان میں (گوشت) روک سکتا ہے۔ (المهم لما اشکل من تلخیص کتاب مسلم ج 5 ص 376-377)
اس کا مطلب یہ ہے کہ قربانی کے دوسرے دن ذبح کرنے والا دو دن تک گوشت رکھ سکتا تھا اور تیسرے دن ذبح کرنے والا صرف اسی دن ہی استعمال کر سکتا تھا۔ امام قرطبی نے دوسرا قول (حافظ ابن القیم کے مفہوم والا) بھی ذکر کیا ہے اور اسے ظاہر قرار دیا ہے لیکن ان دونوں اقوال سے معلوم ہوا کہ حدیث کے مفہوم میں دونوں احتمال پائے جاتے ہیں، لہذا بغیر کسی صریح دلیل کے صرف حافظ ابن القیم والے قول کو مستدل بنانا محل نظر ہے۔ واللہ اعلم

ش ش (4):

چار دن قربانی کرنے کے جواز میں جو میں نے امام شافعی کا درج ذیل قول ذکر کیا۔ حافظ زبیر علی زئی صاحب نے اس کا جواب نہیں دیا ”لانها أيام النسك“ الخ (ص 21)

الجواب:

راقم الحروف نے لکھا تھا: ”امام شافعی اور عام اہل حدیث علماء کا یہی فتویٰ ہے کہ قربانی کے چار دن ہیں۔“ (الحدیث: 44 ص 11)
اور یہ ظاہر ہے کہ اس مسئلے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور جمہور صحابہ کرام کے مقابلے میں امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ علماء کے اقوال مرجوح و نا قابل استدلال ہیں۔ چونکہ سنت میں اس مسئلے کے بارے میں کوئی صریح راہنمائی موجود نہیں، لہذا آثار سلف صالحین (یعنی آثار صحابہ) کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔

ش ش (5):

”تو عرض ہے کہ کیا موصوف محترم کو اپنے ماہ نامہ الحدیث حضرو کے شمارہ نمبر 44 ماہ جنوری 2008ء میں اپنے بلا سند پیش کردہ آٹھ اقوال نظر نہیں آئے۔ دیکھیں اور بار بار دیکھیں! شاید اس شمارہ کے کسی کونے میں پڑی سندیں مل جائیں!!“ (ص 21)

الجواب:

راقم الحروف نے الحدیث حضرو نمبر 44 سارا دیکھ لیا ہے اور بار بار دیکھا ہے، لیکن اس میں ڈاکٹر اور پروفیسر صاحب مذکور کے مزعومہ بلا سند آٹھ اقوال کہیں نظر نہیں آئے، لہذا مؤدبانہ عرض ہے کہ انہوں نے کذب و افتراء اور تہمت و بہتان کے راستوں پر گامزن لوگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے صریح غلط بیانی، جھوٹ اور بہتان سے کام لیا ہے اور اگر وہ اپنے آپ کو جھوٹ اور بہتان کے الزام سے بچانا چاہتے ہیں تو وہ بے سند آٹھ اقوال مع متون و حوالہ پیش کریں، جن سے ( الحدیث: 44)میں استدلال کیا گیا ہے!
اس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے جو ملمع سازی اور کشیدہ کاری کی ہے، اس کا جواب انہیں اللہ تعالیٰ کی عدالت میں دینا پڑے گا۔ ان شاء اللہ

ش ش (6):

”قواعد حدیث کے مطابق صحیح سند کے مقابلہ میں حسن سند مرجوح ہوتی ہے۔“ (ص 22)

الجواب:

ہم نے قواعد حدیث یا اصول حدیث میں کہیں نہیں پڑھا کہ ”صحیح سند کے مقابلہ میں حسن سند مرجوح ہوتی ہے“۔ بلکہ حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ ”وهو فى الاحتجاج به كالصحيح عند الجمهور“ اور جمہور کے نزدیک وہ حجت ہونے میں صحیح کی طرح (یعنی حجت) ہے۔
(اختصار علوم الحدیث مع الباعث الحثیث ص 46 نوع 2، دوسرا نسخہ مع تعلیق البانی ج 1 ص 139)
یعنی حسن لذاتہ روایت (وسند) حجت ہونے کے لحاظ سے صحیح کی طرح حجت ہے۔
نیز دیکھئے اختصار علوم الحدیث (مترجم اردو ص 27، از راقم الحروف)
❀ علامہ نووی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے:
”ثم الحسن كالصحيح فى الاحتجاج به وإن كان دونه فى القوة ولهذا أدرجته طائفة فى نوع الصحيح. والله أعلم“
پھر یہ کہ صحیح کی طرح حسن قابل حجت ہے اور اگرچہ قوت میں اس سے کم تر ہے اور اس وجہ سے ایک جماعت نے اسے صحیح کی قسم میں شامل کیا ہے۔ واللہ اعلم (التقریب والتيسير في اصول الحدیث ص 4)
درجے میں کم ہونے سے مراد یہ ہے کہ جس طرح صحیح حدیث کا درجہ قرآن مجید سے کم ہے اور دونوں یکساں حجت ہیں، صحیح غریب کا درجہ متواتر سے کم ہے اور دونوں یکساں حجت ہیں، اسی طرح حسن حدیث کا درجہ صحیح حدیث سے کم ہے اور دونوں یکساں حجت ہیں۔ یاد رہے کہ یہاں حسن سے ہماری مراد وہ حسن لذاتہ حدیث ہے جو نہ شاذ ہے اور نہ معلول بلکہ محفوظ ہے۔
اللهم باعد بيني وبين دعاء الاستفتاح صحیح لذاتہ حدیث سے ثابت ہے۔ (دیکھئے صحیح بخاری: 744، صحیح مسلم: 598)
اور سبحانك اللهم والی دعائے استفتاح حسن لذاتہ اور صحیح لغیرہ حدیث سے ثابت ہے۔ (دیکھئے اصل صفۃ صلوۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم للبانی ج 1 ص 252-257)
اور دونوں پر عمل کرنا بالکل صحیح ہے۔
اصول حدیث کی بحث کے بعد عرض ہے کہ قربانی کے دنوں کے بارے میں صحابہ کرام کے آثار درج ذیل ہیں:
➊ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے (تین دن ہیں) اس کی سند صحیح ہے۔
➋ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے (تین دن ہیں) اس کی سند حسن ہے۔
➌ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے (تین دن ہیں) [احکام القرآن للطحاوی 206/2 ح 1576] اس کی سند صحیح ہے۔
➍ علی رضی اللہ عنہ نے (تین دن ہیں) اس کی سند حسن ہے۔
صحابہ میں سے کسی ایک صحابی سے بھی قربانی کے چار دن ثابت نہیں اور ابن قدامہ نے لکھا ہے: ”ولا مخالف لهم إلا رواية عن علي“ اور علی سے ایک روایت کے علاوہ ان کا کوئی مخالف (صحابہ میں سے) نہیں ہے۔ (المغنی ج 9 ص 359)
عرض ہے کہ مخالفت والی روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے صحیح یا حسن سند کے ساتھ ثابت نہیں ہے۔ صرف صحابی صغیر سیدنا ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے آخری ذوالحجہ یعنی یکم محرم سے پہلے تک قربانی کی روایت ثابت ہے۔ [دیکھئے یہی کتاب حاشیہ ص 19]
تابعین کے آثار درج ذیل ہیں:
➊ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ (چار دن ہیں) اس کی سند صحیح ہے۔
➋ عطاء بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ (چار دن ہیں) اس کی سند حسن ہے۔
➌ عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ (چار دن ہیں) اس کی سند حسن ہے۔
ڈاکٹر صاحب نے امین اوکاڑوی پارٹی کی طرح یہ چالاکی کی ہے کہ سیدنا حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے اثر اور سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی روایتوں کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی روایتوں سے ٹکرا دیا ہے، حالانکہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے قول و فعل کو صحابہ کرام کے آثار سے ٹکرانا اور مقابلہ کرا دینا اصولاً غلط ہے۔ کہاں صحابہ اور کہاں تابعین؟!
رہی سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی روایت تو عام اہل حدیث علماء کا اس کے مطابق نہ فتویٰ ہے اور نہ عمل ہے، ورنہ پھر ابن حزم کی طرح آخری ذوالحجہ تک قربانی کے جواز کا فتویٰ دیں اور چار دن کی تخصیص سے دست بردار ہو جائیں۔
یاد رہے کہ یہاں صحیح اور حسن کا مقابلہ ہی نہیں بلکہ آثار صحابہ (صحيح عن ابن عمر و صحيح عن انس) اور آثار تابعین کے درمیان مقابلہ ہے۔ ہمارے نزدیک آثار صحابہ کو آثار تابعین پر ترجیح حاصل ہے۔

ش ش (7):

”موصوف سے سوال ہے کہ قواعد حدیث کے مطابق صحیح سند کے مقابلہ میں حسن سند مرجوح ہوتی ہے؟ تو آپ نے صحیح سند کے مقابلہ میں حسن سند کو کس اصول کے تحت راجح قرار دیا ہے؟ کیا آپ قواعد حدیث کے انکاری ہیں؟“ (ص 22)

الجواب:

ہم قواعد حدیث کے انکاری نہیں، لیکن آپ کو سمجھنا چاہئے کہ آپ کا مذکورہ قاعدہ قواعد حدیث یعنی اصول حدیث میں ہمیں سرے سے نہیں ملا، لہذا اپنے خود ساختہ اور من گھڑت قاعدے کا ثبوت پیش کر دیں۔ ہم نے صحیح کے مقابلے میں حسن کو نہیں بلکہ آثار تابعین کے مقابلے میں آثار صحابہ اور خصوصاً سیدنا علی رضی اللہ عنہ (خلیفہ راشد) کے قول کو ترجیح دی ہے اور سنۃ الخلفاء الراشدین کی اتباع کا بھی یہی تقاضا ہے۔

ش ش (8):

”لیکن موصوف نے یہ بات تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوئے لکھی ہے۔“ (ص 22)

الجواب:

راقم الحروف نے لکھا تھا: ”امام شافعی اور عام اہل حدیث علماء کا یہی فتویٰ ہے کہ قربانی کے چار دن ہیں۔“ (الحدیث: 44 ص 11، یہ حوالہ پہلے بھی گزر چکا ہے۔)
اور ان کے برعکس جمہور صحابہ سے تین دن والا قول ثابت ہے، لہذا ڈاکٹر صاحب کا یہ دعویٰ باطل ہے کہ چار دن والا مسلک اہل حدیث کا متفق علیہ مسلک ہے۔

ش ش (9):

ڈاکٹر صاحب نے بغیر کسی صحیح سند کے لکھا ہے: ”ایام قربانی عید الاضحی اور اس کے بعد تین دن ہیں: اس کے قائل حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں اور“ (ص 22)

الجواب:

ڈاکٹر صاحب کی یہ بات بے سند ہونے کی وجہ سے خلاف واقعہ اور غلط ہے۔ اگر ان میں ہمت ہے تو قواعد حدیث کو مد نظر رکھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اپنا مذکورہ حوالہ باسند صحیح یا باسند حسن ثابت کر دیں اور اگر وہ اس میں کامیاب ہو گئے تو ہم انہیں اختصار علوم الحدیث (مترجم اردو) کے دس نسخے بطور تحفہ دیں گے اور اگر ناکام رہے تو پھر غلط بیانی سے اجتناب کریں۔
انہوں نے نیل الاوطار سے کچھ بے سند اقوال نقل کئے ہیں، جن کی علمی میدان میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔
میری طرف سے ”ش ش“ اور ان کے ساتھیوں سے مطالبہ ہے کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ یا کسی ایک صحابی سے صحیح وحسن سند کے ساتھ قربانی کے چار دنوں والا قول ثابت کر دیں اور اگر نہ کر سکے تو جمہور صحابہ کو ترجیح دینے والوں کے خلاف پروپیگنڈا نہ کریں۔
آخر میں عرض ہے کہ درج ذیل علمائے اہلِ حدیث سے ثابت ہے کہ قربانی کے تین دن ہیں:
➊ سیدنا علی رضی اللہ عنہ
➋ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما
➌ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ
➍ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما
➎ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ (دیکھئے الموطا تحقیق الہلالی 99/3 روایت ابن زیاد)
➏ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ (مسائل احمد و اسحاق، روایت اسحاق بن منصور الکوجی 367/2 فقرہ: 2836)
➐ امام اسحاق بن راہویہ رحمۃ اللہ علیہ (ایضا ص 367)
نیز عرض ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:
”قربانی کے دن کے بعد دو دن قربانی ہے اور افضل قربانی نحر والے (یعنی پہلے) دن ہے۔“ (احکام القرآن للطحاوی 205/2 ح 1571، وسندہ حسن لذاتہ)
قارئین کرام کی خدمت میں عرض ہے کہ ایام قربانی کے بارے میں راقم الحروف کے دو مضمون درج ذیل ہیں:
➊قربانی کے تین دن ہیں (ایک سوال کا جواب، دیکھئے الحدیث: 44)
➋ قربانی کے چار یا تین دن؟ (مقالات ج 3 ص 261-263)
ان مضامین کا مطالعہ کریں تو حافظ الیاس اثری صاحب اور ڈاکٹر محمد شریف شاکر صاحب وغیرہما کے شبہات و اعتراضات کا کمزور اور بے بنیاد ہونا خود بخود واضح ہو جائے گا۔ ان شاء اللہ
(16/نومبر 2010ء)
مقالات 4/ 340 تا 348