قربانی کے وجوب کے دلائل اور ان کا جائزہ
قربانی کے وجوب کے دلائل حسب ذیل ہیں :
① فرمان باری تعالی ہے :
﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾
”اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی دیجیے۔“
الکوثر:2
فوائد:
① علی بن ابی طلحہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾ سے مراد یہ ہے کہ یوم نحر کو قربانی ذبح کی جائے ۔
تفسیر طبری : 654/24۔ علی بن ابی طلحہ کا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں اور یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرسل روایات بیان کرتے ہیں۔ تقریب التهذیب۔
② سید نا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾ کی تفسیر بیان کرتے ہیں کہ نماز سے فرض نماز اور نحر سے عید الاضحی کے دن قربانی ذبح کرنا مقصود ہے۔
ضعيف جدا : تفسیر طبری : 653/24 –
یہ روایت مسلسل بالضعفاء ہے:
① محمد بن سعد بن محمد بن حسن بن عطیہ۔ ضعیف
② سعد بن محمد بن حسن بن عطیہ۔ متساہل
③ حسین بن حسن بن عطیہ ۔ بالا تفاق ضعیف
④ حسن بن عطیہ عوفی ۔ ضعیف
⑤ عطیہ بن سعد بن جنادہ ۔ ضعیف مدلس
اس آیت سے قربانی کا وجوب متعین کرنے کی کوئی واضح نص نہیں ۔ البتہ اس آیت سے یہ مفہوم کشید کرنا کہ اس آیت میں قربانی وغیرہ خالصتا اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ذبح کی جائے یہ حکم بہتر اور قرین صواب معلوم ہوتا ہے۔
① شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں : وجوب کے قائلین مذکورہ آیت سے قربانی کے وجوب پر استدلال کرتے ہیں کہ امر وجوب کے متقاضی ہے۔ اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ (اس امر سے قربانی کی فرضیت مقصود نہیں بلکہ ) اس سے مقصود قربانی کو رب تعالیٰ کے لیے خاص کرنا ہے، بتوں کے لیے نہیں، سو امر کا رخ اس اہم مسئلہ کی طرف ہے اور نماز اور قربانی کو اللہ تعالیٰ کے لیے خاص کرنے کے وجوب میں کوئی شک نہیں ہے۔
نيل الأوطار : 118/5 –
② محمد بن كعب القرظی رحمہ اللہ اس آیت ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾ کی تفسیر بیان کرتے ہیں : ”لوگ ( مشرکین ) غیر اللہ کے لیے نماز پڑھتے اور غیر اللہ کے لیے جانور ذبح کرتے تھے ، سو اے محمد ! جب ہم نے آپ کو کوثر عطا کی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اور قربانی فقط میرے (یعنی رب تعالی کے ) لیے ہونی چاہیے۔“
حسن : تفسیر طبری : 654/24۔
ابو صخر حمید بن زیاد الخراط صدوق راوی ہے اور باقی تمام راوی ثقہ ہیں۔
③ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں :
اس آیت میں بھی ﴿قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ کی مثل حکم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز اور قربانی خالص اللہ تعالیٰ کے لیے انجام دیں۔ چونکہ مشرکین غیر اللہ کی عبادت کرتے اور غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کرتے تھے۔ سو ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین کی مخالفت کرنے اور ان کے باطل طریقے سے انحراف کا حکم دیا ہے اور عبادت و قربانی میں اخلاص و للہیت پیدا کرنے پر زور دیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر۔
④ حافظ ابن جریر طبری رحمہ اللہ تمام تفسیری اقوال نقل کرنے کے بعد بیان کرتے ہیں :
ان تفسیری اقوال میں سے راجح قول یہ ہے کہ اس آیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالی نے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیش قیمت انعام اور خیر کثیر سے نوازا ہے، اس کا شکر ادا کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جھوٹے خداؤں اور معبودانِ باطلہ کے سوا خالص رب تعالیٰ کے لیے نمازیں پڑھیے اور بتوں کے بجائے محض اللہ تعالیٰ کے لیے قربانی کیجیے۔
تفسیر طبری : 655/24۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من كان له سعة ولم يضح، فلا يقربن مصلانا
”جس کے پاس قربانی کی طاقت ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب ہرگز نہ پھٹکے۔“
ضعيف : مسند أحمد : 321/2- سنن ابن ماجه، كتاب الأضاحي، باب الأضاحي واجبة هي ام لا : 3123- مستدرك حاكم : 232/4۔ عبداللہ بن عیاش قتبانی ضعیف ہے۔
یہی روایت سنن دار قطنی میں ایک دوسری سند سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من وجد سعة فلم يضح فلا يقربن مصلانا
”جو طاقت رکھے اور قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ پھٹکے ۔“
ضعيف جدا : سنن دار قطنی۔ اس سند میں عمرو بن حصین عقیلی متروک ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں : اس حدیث کے موقوف و مرفوع ہونے میں اختلاف ہے اور طحاوی وغیرہ کا قول ہے کہ اس روایت کا موقوف ہونا راجح ہے، بالفرض اگر اسے صحیح بھی تسلیم کر لیا جائے ، تب بھی یہ قربانی کے وجوب کی صریح دلیل نہیں ہے۔ (بلکہ یہ قربانی کی تاکید پر دلالت کرتی ہے )۔
فتح البارى: 6/10۔
③ سیدنا مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
يا أيها الناس : على كل أهل بيت فى كل عام أضحية وعتيرة
”لوگو ! ہر سال ہر گھرانے پر قربانی اور عتیرہ (رجب کے مہینے جانور ذبح کرنا) فرض ہے۔“
ضعيف : سنن أبى داؤد، كتاب الضحايا، باب ما جاء فى إيجاب الأضاحي : 2788 – جامع ترمذي، أبواب الأضاحي باب الأضحية في كل عام : 1518۔ سنن ابن ماجه، کتاب الأضاحي باب الأضاحى واجبة أم لا : 3125- مسند أحمد : 76/5۔ عامر ابو رملتہ مجہول راوی ہے۔
④ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن العتيرة، وكانت ذبيحة يذبحونها فى رجب، فنهاهم عنها، وأمرهم بالأضحية
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عتیرہ سے منع فرمایا۔ عتیرہ ایک ذبیحہ تھا جسے لوگ رجب میں ذبح کرتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (عتیرہ) سے منع کیا اور انھیں قربانی کا حکم دیا۔
ضعيف : مسند بزار : 7832۔ عبداللہ بن لہیعہ مختلط اور مدلس راوی ہے۔
⑤ سید نا مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
على أهل كل بيت أن يذبحوا شاة فى كل رجب، و فى كل أضحى شاة
”ہر گھرانے پر لازم ہے کہ وہ ہر رجب میں ایک بکری ذبح کریں اور ہر عید قربان میں ایک بکری ہے۔“
ضعيف جدا : مصنف عبد الرزاق : 8001۔ مسند أحمد طبرانی کبیر : 740۔
عبد الکریم بن ابی المخارق متروک اور حبیب بن مخفف مجہول راوی ہے۔