مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

قرآن کریم کی قسم اٹھانا کیسا ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

قرآن کریم کی قسم اٹھانا کیسا ہے؟

جواب:

قرآن کریم کی قسم اٹھانا جائز ہے، کیونکہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا علم اور اس کا کلام ہے، مخلوق نہیں۔
❀ حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ (463ھ) لکھتے ہیں:
”اس پر اجماع ہے کہ جس نے اللہ، اللہ کے کسی نام، اس کی کسی صفت، قرآن کریم یا اس کے کسی حصے کی قسم اٹھائی اور نبھا نہ سکا، تو اس پر قسم کا وہ کفارہ واجب ہے، جو اللہ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے۔ اہل فرع کے ہاں اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ اہل علم کا اجماع ہے کہ اللہ کی قسم کی تصریح ان الفاظ میں ہے: باللہ، تاللہ، واللہ۔“
(التمهيد لما في المؤطأ من المعاني والأسانيد: 369/14)
❀ امام ابو جعفر احمد بن سنان واسطی رحمہ اللہ (259ھ) فرماتے ہیں:
”جس کا یہ عقیدہ ہو کہ قرآن دو ہیں یا موجودہ قرآن حکایت ہے، تو وحدہ لا شریک اللہ کی قسم! وہ زندیق ہے۔ یہ قرآن وہی ہے، جو اللہ نے جبریل کے ذریعے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا، اس میں تغیر و تبدل نہیں ہو سکتا کہ باطل اس میں نہ سامنے سے آسکتا ہے، نہ پیچھے سے۔ یہ حکمت والے اور تعریف کیے گئے (رب) کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے۔ اللہ کا فرمان ہے:﴿قُلْ لَئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ﴾ (الإسراء: 88) (کہہ دیجئے کہ جن و انس اگر اس لیے جمع ہو جائیں کہ اس قرآن جیسا کلام لے آئیں گے، تو ایسا ممکن نہیں۔)
ایک شخص قسم اٹھا لے کہ آج کوئی بات نہیں کرے گا، پھر نماز پڑھ لے یا قرآن پڑھ لے یا نماز میں سلام کہہ دے، تو قسم کا کفارہ لازم نہیں ہوگا، کیونکہ قرآن کو کسی دوسرے کلام پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن اللہ کا کلام ہے، اسی سے ابتدا اور اسی پر انتہا ہے۔ اللہ کے اسماء، اس کی صفات یا اس کا علم کوئی بھی مخلوق نہیں ہے۔“
(اختصاص القرآن بعودة الرحمن الرحيم للضياء المقدسي، ص 32، وسنده صحيح)
❀ امام شافعی رحمہ اللہ (204ھ) فرماتے ہیں:
من حلف باسم من أسماء الله فحنث، فعليه الكفارة؛ لأن اسم الله غير مخلوق، ومن حلف بالكعبة أو بالصفا والمروة، فليس عليه الكفارة، لأنه مخلوق، وذاك غير مخلوق.
”جس نے اللہ کے کسی نام کی قسم کھائی اور اسے نبھا نہ سکا، اس پر کفارہ ہے، کیونکہ اللہ کے نام مخلوق نہیں ہیں۔ جس نے کعبہ یا صفا و مروہ کی قسم اٹھائی، اس پر کفارہ نہیں ہے، کیونکہ یہ مخلوق ہیں اور اللہ کا نام مخلوق نہیں ہے۔“
(آداب الشافعي ومناقبه لابن أبى حاتم، ص 193، حلية الأولياء لأبي نعيم: 113/9، السنن الكبرى للبيهقي: 28/10، مناقب الشافعي للبيهقي: 405/1، وسنده صحيح)
❀ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ (241ھ) فرماتے ہیں:
أسماء الله فى القرآن، والقرآن من علم الله، فمن زعم أن القرآن مخلوق فهو كافر، ومن زعم أن أسماء الله مخلوقة فقد كفر.
”قرآن میں اللہ کے نام ہیں اور قرآن اللہ کا علم ہے۔ جس کا یہ عقیدہ ہو کہ قرآن مخلوق ہے، وہ کافر ہے۔ جس کا یہ عقیدہ ہو کہ اللہ کے نام مخلوق ہیں، وہ بھی کافر ہے۔“
(المحنة لأبي الفضل صالح بن أحمد بن حنبل، ص 69)
❀ صاحب ہدایہ رحمہ اللہ (593ھ) لکھتے ہیں:
من حلف بغير الله لم يكن حالفا كالنبي والكعبة وكذا إذا حلف بالقرآن لأنه غير متعارف.
”جو غیر اللہ کی قسم اٹھائے، اس کی قسم بے اثر ہے، مثلاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا کعبہ کی قسم اٹھانا۔ قرآن کی قسم بھی غیر متعارف ہے، اس لیے نہیں اٹھانی چاہیے۔“
(الهداية: 318/2)
❀ علامہ ابن ہمام رحمہ اللہ (861ھ) لکھتے ہیں:
”مخفی نہیں کہ قرآن کی قسم اٹھانا اب متعارف ہو چکا ہے، اب اسے مقسم تصور کیا جائے گا، جیسا کہ ائمہ ثلاثہ کا مذہب ہے۔ صاحب ہدایہ نے جو کہا کہ قرآن کی قسم اٹھانا درست نہیں، اس کی یہ علت بیان کرنا جائز نہیں کہ قرآن اللہ کا غیر ہے، قرآن مخلوق ہے۔ غیر مخلوق تو کلام نفسی ہے، گو یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اللہ کی طرف سے نازل ہونے والا قرآن تو صرف وہ حروف ہیں، جن کا اپنا وجود تو عالم اسباب میں نہیں، البتہ موجودہ قرآن میں استعمال ہونے والے حروف پر دلالت کناں ضرور ہیں۔ سو اگر موجودہ حروف ہی کو کلام اللہ مان لیا جائے، تو حقیقی کلام الہیہ کو معدوم کہنا ناممکن ہو جائے گا۔ (ثابت ہوا کہ موجودہ حروف مخلوق ہی ہیں) لیکن اگر عوام سے کہا جائے کہ قرآن مخلوق ہے، تو وہ یہی سمجھیں گے کہ مطلقاً کلام اللہ ہی کو مخلوق کہا جا رہا ہے، (اس لیے نہیں کہتے)۔ اب رہا مسئلہ قرآن کی قسم کا، تو یہ قسم اٹھاتے وقت عرف پر محمول کرنا واجب ہوگا۔“
(فتح القدير: 69/5، البحر الرائق لابن نجيم: 311/4)
❀ علامہ ابن ابی العز رحمہ اللہ (792ھ) لکھتے ہیں:
”قرآن کی قسم اٹھانا جائز ہے، جیسا کہ ائمہ ثلاثہ کا موقف ہے، کیونکہ یہ ہمارے زمانے میں متعارف ہو چکا ہے۔ اس کی بات قابل التفات نہیں، جو کہتا ہے کہ قرآن کی قسم نہیں اٹھائی جاسکتی کہ یہ مخلوق ہے، قرآن کو مخلوق کہنا معتزلہ کا مذہب ہے اور یہ کفر ہے، کیونکہ معلوم ہے کہ قرآن اللہ کی مخلوق نہیں بلکہ کلام ہے۔“
(التنبيه على مشكلات الهداية : 86/4-87)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔